Abu Hurairah narrated that:
The Prophet said: Leave me as I have left you (Don't ask me the minor things that I have avoided to tell you). For those who came before you were doomed because of their questions and differences with their Prophets. If I commanded you to do something, then do as much of it as you can, and if I forbid you from doing something, then refrain from it.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو چیز میں نے تمہیں نہ بتائی ہو اسے یوں ہی رہنے دو ۱؎، اس لیے کہ تم سے پہلے کی امتیں زیادہ سوال اور اپنے انبیاء سے اختلاف کی وجہ سے ہلاک ہوئیں، لہٰذا جب میں تمہیں کسی چیز کا حکم دوں تو طاقت بھر اس پر عمل کرو، اور جب کسی چیز سے منع کر دوں تو اس سے رک جاؤ ۔
Takhreej
: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ۱۲۳۶۱)، الحدیث أخرجہ من طریق الأعمش: صحیح مسلم/الحج ۷۳ (۱۳۳۷)، الفضائل ۳۷ (۱۳۱)، سنن الترمذی/العلم ۱۷ (۶۲۷۹)، مسند احمد (۲/۴۹۵)، وقد أخرجہ من طرق أخری: صحیح البخاری/الاعتصام ۲ (۷۲۸۸)، صحیح مسلم/الفضائل
Explanation
«ذروني ما تركتكم» میں «ما» مصدریہ ظرفیہ ہے، یعنی جب تک میں تمہیں چھوڑے رکھوں، مطلب یہ ہے کہ جس چیز کے بارے میں میں تم سے کچھ نہ کہوں اس کے بارے میں تم مجھ سے غیر ضروری سوالات کرنے سے بچو۔
Abu Hurairah narrated that:
The Prophet said: Whoever obeys me, obeys Allah; and whoever disobeys me, disobeys Allah.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی، اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی ۱؎۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رسول اکرم ﷺ کی اطاعت دراصل اللہ تعالیٰ ہی کی اطاعت ہے، اور ان کی نافرمانی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: «من يطع الرسول فقد أطاع الله» جو اطاعت کرے رسول کی وہ اطاعت کر چکا اللہ کی (سورة النساء: 80)۔
Abu Darda' said:
The Messenger of Allah (ﷺ) came out to us when we were speaking of poverty and how we feared it. He said: 'Is it poverty that you fear? By the One in Whose Hand is my soul, (the delights and luxuries of) this world will come to you in plenty, and nothing will cause the heart of anyone of you to deviate except that. By Allah, I am leaving you upon something like Bayda (white, bright, clear path) the night and day of which are the same.'
ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے، ہم اس وقت غربت و افلاس اور فقر کا تذکرہ کر رہے تھے، اور اس سے ڈر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم لوگ فقر سے ڈرتے ہو؟ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، ضرور تم پر دنیا آئندہ ایسی لائی جائے گی کہ اس کی طلب مزید تمہارے دل کو حق سے پھیر دے گی ۱؎، قسم اللہ کی! میں نے تم کو ایسی تابناک اور روشن شریعت پر چھوڑا ہے جس کی رات ( تابناکی میں ) اس کے دن کی طرح ہے ۔ ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قسم اللہ کی! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا، قسم اللہ کی! آپ نے ہم کو ایک تابناک اور روشن شریعت پر چھوڑا، جس کی رات ( تابناکی میں ) اس کے دن کی طرح ہے ۲؎۔
Takhreej
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ۱۰۹۲۹، ومصباح الزجاجة: ۱)
Explanation
«إلا هيه» میں «ھی» کی ضمیر دنیا کی طرف لوٹ رہی ہے، اور اس کے آخر میں «ھا» ھائے سکت ہے۔ ۲؎: اس کا ایک مفہوم یہ بھی ہو سکتا ہے کہ میں نے تمہیں ایک ایسے حال پر چھوڑا ہے کہ تمہارے دل پاک و صاف ہیں، ان میں باطل کی طرف کوئی میلان نہیں، اور اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ سے تنگی و خوشحالی کوئی بھی چیز انہیں پھیر نہیں سکتی۔
Mu'awiyah bin Qurrah narrated that his father said:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: A group of my Ummah will continue to prevail and they will never be harmed by those who forsake them, until the Hour begins.
قرہ بن ایاس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں سے ایک گروہ کو ہمیشہ قیامت تک اللہ تعالیٰ کی مدد حاصل رہے گی ۱؎، اور جو اس کی تائید و مدد نہ کرے گا اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا ۔
Takhreej
سنن الترمذی/کتاب الفتن ۲۷ (۲۱۹۲)، ۵۱ (۲۲۲۹)، (تحفة الأشراف: ۱۱۰۸۱)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۳/۴۳۶ ۴/۹۷، ۱۰۱)
Explanation
«طائفة» کا لفظ نکرہ استعمال ہوا ہے جس سے قلت مراد ہے، یعنی یہ ایک ایسا گروہ ہو گا جو تعداد میں کم ہو گا، یا تعظیم کے لئے ہے یعنی یہ ایک بڑے رتبے والا گروہ ہو گا، امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ اس گروہ کے بار ے میں فرماتے ہیں کہ اگر اس سے مراد اہل حدیث نہیں ہیں تو میں نہیں جانتا کہ پھر اس سے مراد کون ہوں گے، اس حدیث میں نبی کریم ﷺ نے عاملین بالحدیث کو یہ بشارت دی ہے کہ کسی کی موافقت یا مخالفت اس کو نقصان نہ پہنچا سکے گی، اس لئے کہ وہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی حفاظت و امان میں ہیں، اس لئے متبع سنت کو اس حدیث کی روشنی میں یہ طریقہ اختیار کرنا چاہئے کہ حدیث رسول کے ثابت ہو جانے کے بعد سلف صالحین کے فہم و مراد کے مطابق اس پر بلا خوف و خطر عمل کرے اور اگر ساری دنیا بھی اس کی مخالف ہو تو اس کی ذرہ برابر پرواہ نہ کرے، اس لئے کہ آپ ﷺ کی لائی ہوئی شریعت اللہ کا آخری دین ہے، اور اسی پر چل کر ہمارے لئے نجات ہے۔
Abu Hurairah narrated that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: A group of my Ummah will continue to adhere steadfastly to the command of Allah and those who oppose them will not be able to harm them.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں ایک گروہ ہمیشہ اللہ کے حکم ( دین ) پر قائم رہنے والا ہو گا، اس کی مخالفت کرنے والا اس کا کچھ نہ بگاڑ سکے گا ۔
Takhreej
تفرد بہ ابن ماجہ (تحفة الأشراف: ۱۴۲۷۸، ومصباح الزجاجة: ۳)، وقد أ خرجہ: مسند احمد (۳/۴۳۶، ۴/۹۷)
Abu 'Inabah Al-Khawlani said that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: Allah will continue to plant new people in this religion and use them in His obedience.
ابوعنبہ خولانی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھی تھی، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: اللہ ہمیشہ اس دین میں نئے پودے اگا کر ان سے اپنی اطاعت کراتا رہے گا ۱؎ ۔
Takhreej
ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ۱۲۰۷۵، ومصباح الزجاجة: ۴)، مسند احمد (۴/۲۰۰)
Explanation
۱؎: نئے پودے اگانے کا مطلب یہ ہے کہ وہ نئے نئے لوگوں کو پیدا فرمائے گا، جو اس کی اطاعت و فرمانبرداری کریں گے۔
Amr bin Shu'aib narrated that:
His father said: Mu'awiyah stood up to deliver a sermon and said: 'Where are your scholars? Where are your scholars? For I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: The Hour will not begin until a group of my Ummah will prevail over the people, and they will not care who lets them down and who supports them.
شعیب کہتے ہیں کہ معاویہ رضی اللہ عنہ خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور کہا: تمہارے علماء کہاں ہیں؟ تمہارے علماء کہاں ہیں؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: قیامت تک میری امت میں سے ایک گروہ لوگوں پر غالب رہے گا، کوئی اس کی مدد کرے یا نہ کرے اسے اس کی پرواہ نہ ہو گی ۔
Takhreej
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ۱۱۴۱۹)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/فرض الخمس ۷ (۳۱۱۶)، المناقب ۲۸ (۳۶۴۰)، الاعتصام ۱۰ (۷۳۱۱)، التوحید ۲۹ (۷۴۵۹)، صحیح مسلم/الإمارة ۵۳ (۱۹۲۳)، مسند احمد (۴/۹۳)
It was narrated from Thawban that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: A group among my Ummah will continue to follow the truth and prevail, and those who oppose them will not be able to harm them, until the command of Allah comes to pass.
ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں سے ایک گروہ ہمیشہ نصرت الٰہی سے بہرہ ور ہو کر حق پر قائم رہے گا، مخالفین کی مخالفت اسے ( اللہ کے امر یعنی: ) ۱؎ قیامت تک کوئی نقصان نہ پہنچا سکے گی ۔
Takhreej
صحیح مسلم/الإمارة ۵۳ (۱۹۲۰)، الفتن ۵ (۲۸۸۹)، سنن الترمذی/الفتن ۱۴ (۲۱۷۶)، ۵۱ (۲۲۲۹)، (تحفة الأشراف: ۲۱۰۲)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الفتن ۱ (۴۲۵۲)، مسند احمد (۵/۳۴، ۳۵)، سنن الدارمی/الجہاد ۳۸ (۲۴۷۶) (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: ۳۹۵۲)
Explanation
امر اللہ سے مراد وہ ’’ ہوا ‘‘ ہے جو سارے مومنوں کی روحوں کو قبض کرے گی۔
Jabir bin 'Abdullah said that:
We were with the Prophet (ﷺ), and he drew a line (in the sand), then he drew two lines to its right and two to its left. Then he put his hand on the middle line and said : 'This is the path of Allah. Then he recited the Verse: And verily, this (i.e. Allah's Commandments) is My straight path, so follow it and follow not (other) paths, for they will separate you from His path...
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے، آپ نے ایک لکیر کھینچی اور دو لکیریں اس کے دائیں جانب اور دو بائیں جانب کھینچیں، پھر اپنا ہاتھ بیچ والی لکیر پر رکھا اور فرمایا: یہ اللہ کا راستہ ہے ، پھر اس آیت کی تلاوت کی: «وأن هذا صراطي مستقيما فاتبعوه ولا تتبعوا السبل فتفرق بكم عن سبيله» یہی میرا سیدھا راستہ ہے پس تم اسی پر چلو، اور دوسرے راستوں پر نہ چلو ورنہ یہ تمہیں اللہ تعالیٰ کے راستہ سے بھٹکا دیں گے ( سورۃ الانعام: ۱۵۳ ) ۱؎۔
Takhreej
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ۲۳۵۷، ومصباح الزجاجة: ۵)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۱/۲۹۳، ۳۱۶، ۳۲۲، ۳۸۵)
Explanation
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سیدھا راستہ اللہ تعالیٰ کا بتایا ہوا راستہ ہے، اور اللہ تعالیٰ نے یہی فرمایا کہ یہ قرآن جو میں نے تمہارے واسطے بھیجا، اور جو رویہ اور طریقہ اس میں تمہارے چلنے کو مقرر فرمایا ہے، یہی میری رضا مندی اور میری طرف پہنچنے کا سیدھا راستہ ہے، اسی پر چلو اور اس کے علاوہ دیگر راستے تم کو نجات کے راستہ سے بہکا دیں گے، کیونکہ وہ سب شیطان کے راستے ہیں، اور نبی اکرم ﷺ نے بھی بکمال رأفت و رحمت یہ سب طریقے صاف طور پر ہر آدمی کے لئے واضح فرما دیئے ہیں۔
Miqdam bin Ma'dikarib Al-Kindi narrated that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: Soon there will come a time that a man will be reclining on his pillow, and when one of my Ahadith is narrated he will say: 'The Book of Allah is (sufficient) between us and you. Whatever it states is permissible, we will take as permissible, and whatever it states is forbidden, we will take as forbidden.' Verily, whatever the Messenger of Allah (ﷺ) has forbidden is like that which Allah has forbidden.
مقدام بن معدیکرب کندی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قریب ہے کہ کوئی آدمی اپنے آراستہ تخت پر ٹیک لگائے بیٹھا ہو اور اس سے میری کوئی حدیث بیان کی جائے تو وہ کہے: ہمارے اور تمہارے درمیان اللہ کی کتاب کافی ہے، ہم اس میں جو چیز حلال پائیں گے اسی کو حلال سمجھیں گے اور جو چیز حرام پائیں گے اسی کو حرام جانیں گے ، تو سن لو! جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام قرار دیا ہے وہ ویسے ہی ہے جیسے اللہ نے حرام قرار دیا ہے ۔
Takhreej
الترمذی/العلم ۱۰ (۲۶۶۴)، (تحفة الأشراف: ۱۱۵۵۳)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/السنة ۶ (۴۶۰۴)، مسند احمد (۴/۱۳۲)، سنن الدارمی/المقدمة ۴۹، (۶۰۶)
It was narrated from Ubaidullah bin Abu Rafi from his father, that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: I do not want to find anyone of you reclining on his pillow, and when bad news comes to him of something that I have commanded or forbidden, he says, 'I do not know, whatever we find in the Book of Allah, we will follow.
ابورافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تم میں سے کسی کو ہرگز اس حال میں نہ پاؤں کہ وہ اپنے آراستہ تخت پر ٹیک لگائے ہو، اور اس کے پاس جن چیزوں کا میں نے حکم دیا ہے، یا جن چیزوں سے منع کیا ہے میں سے کوئی بات پہنچے تو وہ یہ کہے کہ میں نہیں جانتا، ہم نے تو اللہ کی کتاب میں جو چیز پائی اس کی پیروی کی ۔
Takhreej
: سنن ابی داود/السنة ۶ (۴۶۰۵)، سنن الترمذی/العلم ۱۰ (۲۶۶۳)، (تحفة الأشراف: ۱۲۰۱۹)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۳/۳۶۷)
Aishah narrated that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: Whoever innovates something in this matter of ours (i.e. Islam) that is not part of it, will have it rejected.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے ہمارے اس دین میں کوئی ایسی نئی چیز ایجاد کی جو اس میں سے نہیں ہے، تو وہ قابل رد ہے ۱؎ ۔
Takhreej
صحیح البخاری/الصلح ۵ (۲۶۹۷)، صحیح مسلم/الأقضیة ۸ (۱۷۱۸)، سنن ابی داود/السنة ۶ (۴۶۰۶)، (تحفة الأشراف: ۱۷۴۵۵)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۶/۷۳، ۱۴۶، ۱۸۰، ۲۴۰، ۲۵۶، ۲۷۰)
Explanation
یہ ایک اہم شرعی ضابطہ ہے، اس سے معلوم ہوا کہ جس کام پر کتاب اور سنت صحیحہ کی کوئی دلیل نہ ہو، اور صحابہ و تابعین اور خیر القرون کے تعامل سے وہ محروم ہو تو وہ بدعت ہے۔
It was narrated from Urwah bin Zubair that 'Abdullah bin Zubair told him that:
A man from the Ansar had a dispute with Zubair in the presence of the Messenger of Allah (ﷺ) concerning a stream in the Harrah which they used to irrigate the date-palm trees. The Ansari said: Let the water flow but Zubair refused. So they referred that dispute to the Messenger of Allah (ﷺ) who said: Irrigate (your land), O Zubair., and then let the water flow to your neighbor. The Ansari became angry and said O Messenger of Allah, is it because he is your cousin? The face of the Messenger of Allah (ﷺ) changed color (because of anger) and he said: O Zubair, irrigate (your land) then block the water until it flows back to the walls around the date-palm trees. Zubair said: By Allah, I think that this verse was revealed concerning this matter. ' But no, by your Lord, they can have no Faith, until they make you (O Muhammad) judge in all disputes between them, and find in themselves no resistance against your decisions, and accept (them) with full submission.'
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک انصاری نے زبیر رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مقام حرہ کی اس نالی کے بارے میں جھگڑا کیا جس سے لوگ کھجور کے باغات کی سینچائی کرتے تھے، انصاری نے زبیر رضی اللہ عنہ سے کہا: پانی چھوڑ دو تاکہ میرے کھیت میں چلا جائے، زبیر رضی اللہ عنہ نے انکار کیا، ان دونوں نے اپنا مقدمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پیش کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زبیر! تم اپنا کھیت سینچ لو! پھر اپنے پڑوسی کی طرف پانی چھوڑ دو ، انصاری غضبناک ہو کر بولا: اللہ کے رسول! یہ اس وجہ سے کہ وہ آپ کے پھوپھی کے بیٹے ہیں؟ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک متغیر ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زبیر! تم اپنا باغ سینچ لو، پھر پانی روکے رکھو یہاں تک کہ وہ مینڈوں تک پہنچ جائے ، عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: زبیر نے کہا: قسم اللہ کی! میرا خیال ہے کہ یہ آیت اسی سلسلہ میں نازل ہوئی ہے: «فلا وربك لا يؤمنون حتى يحكموك فيما شجر بينهم ثم لا يجدوا في أنفسهم حرجا مما قضيت ويسلموا تسليما» قسم ہے آپ کے رب کی! یہ مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ آپس کے سارے اختلافات اور جھگڑوں میں آپ کو حاکم نہ مان لیں، پھر جو فیصلہ آپ ان میں کر دیں اس سے اپنے دل میں کسی طرح کی تنگی اور ناخوشی نہ پائیں، اور فرمانبرداری کے ساتھ قبول کر لیں ( سورة النساء: 65 ) ۔
Takhreej
صحیح البخاری/الشرب المساقاة ۶ (۲۳۵۹)، ۸ (۲۳۶۲)، تفسیر القرآن ۱۲ (۳۰۲۷)، صحیح مسلم/الفضائل ۳۶ (۲۳۵۷)، سنن ابی داود/الأقضیة ۳۱ (۳۶۳۷)، سنن الترمذی/الأحکام ۲۶ (۱۳۶۳)، تفسیر القرآن سورة النساء (۳۰۲۷)، سنن النسائی/آداب القضاة ۲۶ (۵۴۱۸)، (تحفة الأشراف: ۵۲۷۵)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۱/۱۶۵، ۴/۵)، (یہ حدیث مکرر ہے دیکھئے: ۲۴۸۰)
It was narrated from Ibn Umar that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: Do not prevent the female slaves of Allah from praying in the mosque. A son of his said: We will indeed prevent them! He got very angry and said: I tell you a Hadith from the Messenger of Allah (ﷺ) and you say, we will indeed prevent them?!
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اللہ کی بندیوں ( عورتوں ) کو مسجد میں نماز پڑھنے سے نہ روکو ، تو ان کے ایک بیٹے نے ان سے کہا: ہم تو انہیں ضرور روکیں گے، یہ سن کر ابن عمر رضی اللہ عنہما سخت ناراض ہوئے اور بولے: میں تم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کر رہا ہوں اور تم کہتے ہو کہ ہم انہیں ضرور روکیں گے؟ ۱؎۔
۱؎: گویا تم اپنے آپ کو رسول اللہ ﷺ کے مدمقابل لا رہے ہو، مسند احمد (۲/۶۳) میں ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے زندگی بھر اس لڑکے سے بات نہیں کی۔
It was narrated from Sa'eed bin Jubair that :
Abdullah bin Mughaffal was sitting beside a nephew of his, the nephew hurled a pebble and he told him not to do that, and he said: The Messenger of Allah (ﷺ) had forbidden that. He (the Prophet) said: 'It cannot be used for hunting and it cannot harm an enemy, but it may break a tooth or put an eye out. He said. His nephew hurled another pebble and he ( Abdullah bin Mughaffal) said: 'I tell you that the Messenger of Allah forbade that (and you go hurl another pebble)? I will never speak to you again.'
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کا ایک بھتیجا ان کے بغل میں بیٹھا ہوا تھا، اس نے دو انگلیوں کے درمیان کنکری رکھ کر پھینکی، تو انہوں نے اسے منع کیا اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کام سے روکا ہے اور فرمایا ہے کہ: یہ کنکری نہ تو کوئی شکار کرتی ہے، اور نہ ہی دشمن کو زخمی کرتی ہے، البتہ یہ دانت توڑ دیتی ہے اور آنکھ پھوڑ دیتی ہے ۔ سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ ان کا بھتیجا دوبارہ کنکریاں پھینکنے لگا تو انہوں نے کہا: میں تم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کرتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کام سے روکا ہے اور تم پھر اسے کرنے لگے، میں تم سے کبھی بات نہیں کروں گا۔
Takhreej
صحیح مسلم/الذبائح ۱۰ (۱۹۵۴)، (تحفة الأشراف: ۹۶۵۷)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/تفسیر سورة الفتح ۵ (۴۸۴۱)، والذبائح ۵ (۵۴۷۹)، والأدب ۱۲۲ (۶۲۲۰)، سنن ابی داود/الدیات ۲۱ (۴۵۷۸)، سنن النسائی/القسامة ۳۳ (۴۸۱۹)، مسند احمد (۴/۸۶، ۵/۴۶، ۵۴، ۵۵، ۵۶)، سنن الدارمی/المقدمة ۴۰ (۴۵۲)، (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: ۳۲۲۶، ۳۲۲۷)
It was narrated from Ishaq bin Qabisah from his father that :
Ubadah bin Samit Al-Ansari, head of the army unit, the Companion of the Messenger of Allah (ﷺ), went on a military campaign with Mu'awiyah in the land of the Byzantines. He saw people trading pieces of gold for Dinar and pieces of silver for Dirham. He said: O people, you are consuming Riba (usury)! For I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: 'Do not sell gold for gold unless it is like for like; there should be no increase and no delay (between the two transactions).' Mu'awiyah said to him: O Abu Walid, I do not think there is any Riba involved in this , except in cases where there is a delay. 'Ubadah said to him: I tell you a Hadith from the Messenger of Allah (ﷺ) and you tell me your opinion! If Allah brings me back safely I will never live in a land in which you have authority over me. When he returned, he stayed in Al-Madinah, and 'Umar bin Khattab said to him: What brought you here, O Abu Walid? So he told him the story, and what he had said about not living in the same land as Mu'awiyah. 'Umar said: Go back to your land, O Abu Walid, for what a bad land is the land from where you and people like you are absent. Then he wrote to Mu'awiyah and said: You have no authority over him; make the people follow what he says , for he is right.
قبیصہ سے روایت ہے کہ عبادہ بن صامت انصاری رضی اللہ عنہ نے ( جو کہ عقبہ کی رات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کرنے والے صحابی ہیں ) معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ سر زمین روم میں جہاد کیا، وہاں لوگوں کو دیکھا کہ وہ سونے کے ٹکڑوں کو دینار ( اشرفی ) کے بدلے اور چاندی کے ٹکڑوں کو درہم کے بدلے بیچتے ہیں، تو کہا: لوگو! تم سود کھاتے ہو، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: تم سونے کو سونے سے نہ بیچو مگر برابر برابر، نہ تو اس میں زیادتی ہو اور نہ ادھار ۱؎ ، تو معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: ابوالولید! میری رائے میں تو یہ سود نہیں ہے، یعنی نقدا نقد میں تفاضل ( کمی بیشی ) جائز ہے، ہاں اگر ادھار ہے تو وہ سود ہے، عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں آپ سے حدیث رسول بیان کر رہا ہوں اور آپ اپنی رائے بیان کر رہے ہیں، اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے یہاں سے صحیح سالم نکال دیا تو میں کسی ایسی سر زمین میں نہیں رہ سکتا جہاں میرے اوپر آپ کی حکمرانی چلے، پھر جب وہ واپس لوٹے تو مدینہ چلے گئے، تو ان سے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ابوالولید! مدینہ آنے کا سبب کیا ہے؟ تو انہوں نے ان سے پورا واقعہ بیان کیا، اور معاویہ رضی اللہ عنہ سے ان کے زیر انتظام علاقہ میں نہ رہنے کی جو بات کہی تھی اسے بھی بیان کیا، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ابوالولید! آپ اپنی سر زمین کی طرف واپس لوٹ جائیں، اللہ اس سر زمین میں کوئی بھلائی نہ رکھے جس میں آپ اور آپ جیسے لوگ نہ ہوں ، اور معاویہ رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ عبادہ پر آپ کا حکم نہیں چلے گا، آپ لوگوں کو ترغیب دیں کہ وہ عبادہ کی بات پر چلیں کیونکہ شرعی حکم دراصل وہی ہے جو انہوں نے بیان کیا۔
Abdullah bin Mas'ud said:
When I tell you of a Hadith from the Messenger of Alllah (ﷺ), then think of the Messenger of Allah (ﷺ) as being the best, the utmost rightly guided and the one with the utmost Taqwa (piety, righteousness).
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب میں تم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث بیان کروں تو تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق یہی ( خیال و گمان ) رکھو کہ آپ کی بات سب سے زیادہ عمدہ، اور ہدایت و تقویٰ میں سب سے بڑھی ہوئی ہے۔
Takhreej
بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ۹۵۳۲، ومصباح الزجاجة: ۷)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۱/۴۱۵)، سنن الدارمی/المقدمة ۵۰ (۶۱۲)
It was narrated that Ali bin Abu Talib said :
When I narrate a Hadith from the Messenger of Allah (ﷺ), to you, then think of him as being the best, the most rightly guided and the one with the utmost Taqwa (piety, righteousness)
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے کہ جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی حدیث بیان کروں تو تم یہی ( خیال گمان ) رکھو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سب سے زیادہ عمدہ، اور ہدایت و تقویٰ میں سب سے بڑھی ہوئی ہے ۱؎۔
Takhreej
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ۱۰۱۷۷، ومصباح الزجاجة: ۸)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۱/۱۲۲، ۱۳۰)، سنن الدارمی/المقدمة ۵۰ (۶۱۲)
Explanation
یعنی حدیثوں کو صحیح محمل پر رکھو اور مناسب موقع پر فٹ کرو، اور اس میں تعارض اور تناقض کا خیال نہ کرو، اور جو حدیث کا منطوق ہو اسی کو تقوی اور ہدایت جانو، اور اس کے خلاف کو مطلقاً بہتر اور ہدایت نہ سمجھو۔
Pick a verse, and get a ready Quran image or a short vertical video for
YouTube Shorts, Instagram and Facebook Reels, TikTok and WhatsApp Status —
Arabic with English and Urdu translation, free on
WizTools123.