TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل۔ - زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل۔ - The book of the sunnah - Sunnan Ibn e Maja with Urdu and English Translation

Chapter 15 of The book of the sunnah in Sunnan Ibn e Maja. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 15 of 45 · 3 Hadith
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَابِرٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ قُرَيْظَةَ:‏‏‏‏ مَنْ يَأْتِينَا بِخَبَرِ الْقَوْمِ ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ الزُّبَيْرُ:‏‏‏‏ أَنَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ مَنْ يَأْتِينَا بِخَبَرِ الْقَوْمِ ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ الزُّبَيْرُ:‏‏‏‏ أَنَا ثَلَاثًا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيٌّ وَإِنَّ حَوَارِيَّ الزُّبَيْرُ .
It was narrated that Jabir said: The Messenger of Allah said on the Day of Quraizah: 'Who will bring us news of the people?' Zubair said: 'I will.' The Prophet said: 'Who will bring us news of the people?' Zubair said: 'I will,' three times. Every Prophet has a Hawari (sincere supporter or disciple) and my Hawari is Zubair.'
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ قریظہ پر حملے کے دن فرمایا: کون ہے جو میرے پاس قوم ( یعنی یہود بنی قریظہ ) کی خبر لائے؟، زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ہوں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کون ہے جو میرے پاس قوم کی خبر لائے؟ ، زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں، یہ سوال و جواب تین بار ہوا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر نبی کے حواری ( خاص مددگار ) ہوتے ہیں، اور میرے حواری ( خاص مددگار ) زبیر ہیں ۱؎۔
Takhreej
صحیح البخاری/الجہاد ۴۱ (۲۸۴۶)، صحیح مسلم/فضائل الصحابہ ۶ (۲۴۱۵)، سنن الترمذی/المنا قب ۲۵ (۳۸۴۵)، (تحفة الأشراف: ۳۰۲۰)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۱/۸۹، ۱۰۲، ۳/۳۰۷)
Explanation
یہ واقعہ غزوہ احزاب کا ہے جو سن (۵) ہجری میں واقع ہوا، جب کفار قریش قبائل عرب اور خیبر کے یہودی سرداروں کے ساتھ دس ہزار کی تعداد میں مدینہ پر چڑھ آئے، نبی اکرم ﷺ نے سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے مشورہ سے خندق کھدوائی، اس لئے اس غزوہ کو غزوہ خندق بھی کہا جاتا ہے، مسلمان بڑی کس مپرسی کے عالم میں تھے، اور یہود بنی قریظہ نے بھی معاہدہ توڑ کر کفار مکہ کا ساتھ دیا، ایک دن بہت سردی تھی، نبی اکرم ﷺ نے صحابہ سے یہ چاہا کہ کوئی اس متحدہ فوج کی خبر لائے جن میں بنی قریظہ بھی شریک تھے، لیکن سب خاموش رہے، اور اس مہم پر زبیر رضی اللہ عنہ گئے، اور ان کو سردی بھی نہ لگی، اور خبر لائے کہ اللہ تعالیٰ نے ان حملہ آوروں پر بارش اور ٹھنڈی ہوا بھیج دی ہے جس سے ان کے خیمے اکھڑ گئے، ہانڈیاں الٹ گئیں، اور لوگ میدان چھوڑ کر بھاگ گئے ہیں، زبیر رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کی پھوپھی صفیہ رضی اللہ عنہا کے بیٹے تھے۔
122
Sahih
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الزُّبَيْرِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَقَدْ جَمَعَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَوَيْهِ يَوْمَ أُحُدٍ .
It was narrated that Zubair said: The Messenger of Allah named his parents together for me on the Day of Uhud.
زبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ احد ۱؎ کے دن میرے لیے اپنے ماں باپ دونوں کو جمع کیا ۲؎۔
Takhreej
«صحیح البخاری/فضائل الصحابة ۱۳ (۳۷۲۰)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ۶ (۲۴۱۶)، سنن الترمذی/المناقب ۲۳ (۳۷۴۳)، (تحفة الأشراف: ۳۶۲۲)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۱/۱۶۴، ۱۶۶)
Explanation
تخریج میں مذکورہ مراجع میں یہ ہے کہ واقعہ غزوہ احزاب خندق کا ہے، اس لئے احد کا ذکر یہاں خطا اور وہم کے قبیل سے ہے۔ ۲؎: یعنی کہا: میرے ماں باپ تم پر فدا ہوں ، یہ زبیر رضی اللہ عنہ کے حق میں بہت بڑا اعزاز ہے، آگے حدیث میں یہ فضیلت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو بھی حاصل ہے، لیکن وہاں پر علی رضی اللہ عنہ نے اس فضیلت کو صرف سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے ساتھ خاص کر دیا ہے، اس میں تطبیق کی صورت اس طرح ہے کہ یہ علی رضی اللہ عنہ کے علم کے مطابق تھا، ورنہ صحیح احادیث میں یہ فضیلت دونوں کو حاصل ہے، واضح رہے کہ ابن ماجہ میں زبیر رضی اللہ عنہ کی یہ بات غزوہ احد کے موقع پر منقول ہوئی ہے، جب کہ دوسرے مراجع میں یہ غزوہ احزاب کی مناسبت سے ہے، اور آگے آ رہا ہے کہ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے لئے آپ ﷺ نے یہ غزوہ احد کے موقع پر فرمایا تھا
123
Sahih
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ‏‏‏‏‏‏ وَهَدِيَّةُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَتْ عَائِشَةُ:‏‏‏‏ يَا عُرْوَةُ كَانَ أَبَوَاكَ مِنْ الَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِنْ بَعْدِ مَا أَصَابَهُمُ الْقَرْحُ سورة آل عمران آية 172:‏‏‏‏ أَبُو بَكْرٍ وَالزُّبَيْرُ .
It was narrated from Hisham bin 'Urwah that his father said: ''Aishah said to me: 'O 'Urwah, your two fathers were of those who answered (the Call of) Allah and the Messenger (Muhammed) after being wounded, (they were) Abu Bakr and Zubair.''
عروہ کہتے ہیں کہ مجھ سے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: عروہ! تمہارے نانا ( ابوبکر ) اور والد ( زبیر ) ان لوگوں میں سے ہیں جن کے بارے میں یہ آیت کریمہ نازل ہوئی: «الذين استجابوا لله والرسول من بعد ما أصابهم القرح» جن لوگوں نے زخمی ہونے کے باوجود اللہ اور اس کے رسول کی پکار پر لبیک کہا ( سورة آل عمران: 172 ) ، یعنی ابوبکر اور زبیر بن عوام رضی اللہ عنہما۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ۱۶۹۳۹)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/المغازي ۱۶ (۴۰۷۷)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ۶ (۲۴۱۸)، مسند احمد (۱/۱۶۴، ۱۶۶)
Explanation
پوری آیت یوں ہے: «الذين استجابوا لله والرسول من بعد مآ أصابهم القرح للذين أحسنوا منهم واتقوا أجر عظيم» یعنی: جن لوگوں نے زخمی ہونے کے بعد اللہ اور رسول کا کہنا مانا، جو لوگ ان میں نیک و صالح اور پرہیز گار ہوئے ان کو بڑا ثواب ہے (سورة آل عمران: 172)۔ اس آیت کا شان نزول امام بغوی نے یوں ذکر کیا ہے کہ جب ابو سفیان اور کفار مکہ جنگ احد سے واپس لوٹے، اور مقام روحا میں پہنچے تو اپنے لوٹنے پر نادم و شرمندہ ہوئے اور ملامت کی، اور کہنے لگے کہ ہم نے محمد کو نہ قتل کیا، نہ ان کی عورتوں کو قید کیا، پھر ان لوگوں نے یہ طے کیا کہ دوبارہ واپس چل کر مسلمانوں کا کام تمام کر دیا جائے، جب یہ خبر نبی اکرم ﷺ کو پہنچی تو آپ ﷺ نے اپنی طاقت کے اظہار کے لئے صحابہ کرام کی ایک جماعت اکٹھا کی، اور ابوسفیان اور کفار مکہ کے تعاقب میں روانہ ہونا چاہا، اور اعلان کر دیا کہ ہمارے ساتھ غزوہ احد کے شرکاء کے علاوہ اور کوئی نہ نکلے، جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے اجازت طلب کی تو آپ نے ان کو ساتھ چلنے کی اجازت دے دی، نبی کریم ﷺ، ابوبکر، عثمان، علی، طلحہ، زبیر، سعد، سعید، عبدالرحمن بن عوف، عبداللہ بن مسعود، حذیفہ بن الیمان، اور ابوعبیدہ بن جراح وغیرہم کی معیت میں ستر آدمیوں کو لے کر روانہ ہوئے، اور حمراء الأسد (مدینہ سے بارہ میل (۱۹ کلومیٹر) کے فاصلے پر ایک مقام) پر پہنچے، اس کے بعد بغوی رحمہ اللہ نے یہی روایت ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کی ہے، غرض وہاں معبد خزاعی نامی ایک آدمی تھا جو نبی کریم ﷺ سے محبت رکھتا تھا، اور وہاں کے بعض لوگ ایمان لا چکے تھے تو معبد نے نبی کریم ﷺ سے عرض کیا کہ ہم کو آپ کے اصحاب کے زخمی ہونے کا بہت رنج ہوا،غرض وہ وہاں سے ابوسفیان کے پاس آیا، اور ان کو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی شجاعت کی خبر دی، ابوسفیان اور ان کے ساتھی اس خبر کو سن کر ٹھنڈے ہو گئے، اور مکہ واپس لوٹ گئے، غرض اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام کی فضیلت میں یہ آیت نازل فرمائی
124
Sahih

Chapters

45
01
اتباع سنت کا بیان
11 Hadith
02
حدیث نبوی کی تعظیم و توقیر اور مخالفین سنت کے لیے سخت گناہ کی وعید
11 Hadith
03
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث کی روایت میں احتیاط
7 Hadith
04
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جان بوجھ کر جھوٹ گھڑنے پر سخت گناہ (جہنم) کی وعید
8 Hadith
05
: جان بوجھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جھوٹی حدیث روایت کرنے والے کی مذمت۔
4 Hadith
06
ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت کی اتباع
3 Hadith
07
: بدعات اور جدال (بے جا بحث و تکرار) سے اجتناب و پرہیز
7 Hadith
08
رائے اور قیاس سے اجتناب و پرہیز
5 Hadith
09
: ایمان کا بیان
19 Hadith
10
قضا و قدر (تقدیر) کا بیان
17 Hadith
11
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فضائل و مناقب ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل
9 Hadith
12
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل
7 Hadith
13
عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے فضائل و مناقب۔
5 Hadith
14
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل
8 Hadith
15
زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل۔
3 Hadith
16
طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل۔
4 Hadith
17
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل
4 Hadith
18
عشرہ مبشرہ رضی اللہ عنہم کے فضائل و مناقب
2 Hadith
19
ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل
2 Hadith
20
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل
3 Hadith
21
عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل
2 Hadith
22
علی رضی اللہ عنہ کے بیٹوں حسن و حسین رضی اللہ عنہما کے مناقب و فضائل
4 Hadith
23
عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل۔
3 Hadith
24
سلمان، ابوذر اور مقداد رضی اللہ عنہم کے مناقب و فضائل۔
1 Hadith
25
بلال رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل۔
3 Hadith
26
خباب رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل۔
3 Hadith
27
ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل۔
1 Hadith
28
سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل۔
2 Hadith
29
جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل۔
1 Hadith
30
اہل بدر کے مناقب و فضائل۔
3 Hadith
31
انصار رضی اللہ عنہم کے فضائل و مناقب۔
3 Hadith
32
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے مناقب و فضائل
1 Hadith
33
خوارج کا بیان۔
10 Hadith
34
جہمیہ کا انکار صفات باری تعالیٰ
26 Hadith
35
(دین میں) اچھے یا برے طریقہ کے موجد کا انجام
6 Hadith
36
مردہ سنت کو زندہ کرنے والے کا ثواب
2 Hadith
37
قرآن سیکھنے اور سکھانے والوں کے فضائل و مناقب
9 Hadith
38
علماء کے فضائل و مناقب اور طلب علم کی ترغیب و تشویق
10 Hadith
39
علم دین کے مبلغ کے مناقب و فضائل
7 Hadith
40
خیر کی کنجی والی شخصیت کا بیان
2 Hadith
41
لوگوں کو خیر و بھلائی سکھانے والے کا ثواب۔
5 Hadith
42
اس کا ذکر جس کو یہ ناپسند ہو کہ لوگ اس کے پیچھے پیچھے چلیں
3 Hadith
43
طالبان علم کی وصیت
3 Hadith
44
علم سے نفع اٹھانے اور اس پر عمل کرنے کا بیان
11 Hadith
45
علم چھپانے پر وارد وعید کا بیان
6 Hadith
No chapter matched that.

Turn any verse into a post or a reel

Pick a verse, and get a ready Quran image or a short vertical video for YouTube Shorts, Instagram and Facebook Reels, TikTok and WhatsApp Status — Arabic with English and Urdu translation, free on WizTools123.