حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ لِلثَّيِّبِ ثَلَاثًا، وَلِلْبِكْرِ سَبْعًا .
It was narrated from Anas:
that the Messenger of Allah said: “Three days for a previously-married woman and seven days for a virgin.”
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: غیر کنواری ( شوہر دیدہ ) کے لیے تین دن، اور کنواری کے لیے سات دن ہیں، ( پھر باری تقسیم کر دیں ) ۱؎۔
Takhreej
صحیح البخاری/النکاح ۱۰۰ (۵۲۱۴)، صحیح مسلم/الرضاع ۱۲ (۱۴۶۱)، سنن ابی داود/النکاح ۳۵ (۲۱۲۴)، سنن الترمذی/النکاح ۴۰ (۱۱۳۹)،(تحفة الأشراف:۹۴۴)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/النکاح ۵ (۱۵)، سنن الدارمی/النکاح ۲۷ (۲۲۵۵)
Explanation
باب کا مطلب یہ ہے کہ جب ایک شخص کے پاس پہلے سے بیوی ہو، اب ایک نئی شادی اور کر لے تو اگر نئی بیوی کنواری ہو تو سات دن تک اس کے پاس رہے، اور اگر ثیبہ ہو تو تین دن تک، پھر دونوں بیویوں کے پاس باری باری ایک ایک روز رہا کرے، اور اس سے غرض یہ ہے کہ نئی دلہن کا دل ملانا ضروری ہے، اگر پہلے سے ہی باری باری رہے تو اس کو وحشت ہو جانے کا ڈر ہے، اور کنواری کا دل ذرا دیر میں ملتا ہے، اس لئے سات دن اس کے لئے رکھے، اور ثیبہ کا دل جلدی مل جاتا ہے، تین دن اس کے لئے رکھے، اور اس باب میں صحیح حدیثیں وارد ہیں۔
1916
Sahih