TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

The chapters on marriage - نکاح کے احکام و مسائل - Book 11 of Sunnan Ibn e Maja with Urdu and English Translation

Book 11 of Sunnan Ibn e Maja, with 63 chapters and 171 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

171 Hadith · 63 Chapters
بچے کا حقدار بستر والا (شوہر) ہے اور پتھر کا مستحق زانی
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِالْوَلَدِ لِلْفِرَاشِ .
It was narrated from 'Umar that: the Messenger of Allah ruled that the child belonged to the bed.
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلیاللہ علیہ وسلم نے صاحب فراش کے لیے بچے کا فیصلہ کیا ہے ۱؎۔
Takhreej
تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۰۶۷۲)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۱/۲۵)
Explanation
«فراش» سے مراد صاحب فراش یعنی شوہر یا مولیٰ ہے کیونکہ یہ دونوں عورت کو بستر پر لٹاتے اور اس کے ساتھ سوتے ہیں «وللعاهرالحجر»یعنی زانی کے لیے ناکامی و نامرادی ہے، بچے میں اس کا کوئی حق نہیں، اور ایک قول یہ بھی ہے کہ «حجر» (پتھر) سے مراد یہ ہے کہ اسے سنگسار کیا جائے گا، مگر یہ قول کمزور و ضعیف ہے کیونکہ سنگسار صرف شادی شدہ زانی کو کیا جائے گا۔ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ عورت جب بچے کو جنم دے گی تو وہ جس کی بیوی یا لونڈی ہو گی اسی کی طرف بچے کے نسب کا الحاق ہو گا اور وہ اسی کا بچہ شمار کیا جائے گا، میراث اور ولادت کے دیگر احکام ان کے درمیان جاری ہوں گے خواہ کوئی دوسرا اس عورت کے ساتھ ارتکاب زنا کا دعویٰ کرے، اور یہ بھی دعوی کرے کہ یہ بچہ اس کے زنا سے پیدا ہوا ہے، اس بچے کی مشابہت بھی اسی کے ساتھ ہو، اور صاحب فراش کے مشابہ نہ ہو، اس ساری صورتحال کے باوجود بچے کا الحاق صاحب فراش کے ساتھ کیا جائے گا، اس میں زانی کا کوئی حق نہیں ہو گا، اور یہ اس صورت میں ہے جب صاحب فراش اس کی نفی نہ کرے اور اگر اس نے اس کی نفی کر دی تو پھر بچے کا الحاق ماں کے ساتھ ہو گا، اور وہ بچہ ماں کے ساتھ منسوب ہو گا،زانی سے منسوب نہیں ہو گا۔
2005
Sahih
بچے کا حقدار بستر والا (شوہر) ہے اور پتھر کا مستحق زانی
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ .
It was narrated from Abu Hurairah that: the Prophet said: The child is for the bed (i.e., belongs to the husband) and the fornicator gets nothing!'
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بچہ صاحب فراش کا ہے اور زانی کے لیے پتھر ہے ۔
Takhreej
صحیح مسلم/الرضاع ۱۰ (۱۴۵۸)، سنن الترمذی/الرضاع ۸ (۱۱۵۷)، سنن النسائی/الطلاق ۴۸ (۳۵۱۲)،(تحفة الأشراف:۱۳۱۳۴)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الفرائض ۱۸ (۶۷۴۹)، مسند احمد (۲/۲۳۹،۲۸۰،۳۸۶،۴۰۹،۴۶۶،۴۷۵،۴۹۲)، سنن الدارمی/النکاح ۴۱ (۲۲۸۱)
2006
Sahih
بچے کا حقدار بستر والا (شوہر) ہے اور پتھر کا مستحق زانی
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا شُرَحْبِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ الْبَاهِلِيَّ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:‏‏‏‏ الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ .
Shurahbil bin Muslim said: I heard Abu Um Amah Al-Bahili say: 'I heard the Messenger of Allah say: The child is for the bed and the fornicator gets nothing.
ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: بچہ صاحب فراش کا ہے، اور زانی کے لیے پتھر ہے ۱؎۔
Takhreej
تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۴۸۸۵، ومصباح الزجاجة:۷۱۳)
Explanation
«وللعاهرالحجر» یعنی زانی کے لیے ناکامی و نامرادی ہے، بچے میں اس کا کوئی حق نہیں، اور ایک قول یہ بھی ہے کہ «حجر» (پتھر) سے مراد یہ ہے کہ اسے سنگسار کیا جائے گا، مگر یہ قول کمزور و ضعیف ہے کیونکہ سنگسار صرف شادی شدہ زانی کو کیا جائے گا۔
2007
Sahih
میاں بیوی میں سے کوئی دوسرے سے پہلے مسلمان ہو تو اس کے حکم کا بیان
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ جُمَيْعٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سِمَاكٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عِكرِمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَأَسْلَمَتْ فَتَزَوَّجَهَا رَجُلٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَجَاءَ زَوْجُهَا الْأَوَّلُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏إِنِّي قَدْ كُنْتُ أَسْلَمْتُ مَعَهَا وَعَلِمَتْ بِإِسْلَامِي، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَانْتَزَعَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ زَوْجِهَا الْآخَرِ وَرَدَّهَا إِلَى زَوْجِهَا الْأَوَّلِ .
It was narrated from Ibn 'Abbas that: a woman came to the Prophet and became Muslim, and a man married her. Then her first husband came and said: O Messenger of Allah, I became Muslim with her, and she knew that I was Muslim. So the Messenger of Allah took her away from her second husband and returned her to her first husband.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک عورت نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر اسلام قبول کیا، اور اس سے ایک شخص نے نکاح کر لیا، پھر اس کا پہلا شوہر آیا اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! میں اپنی عورت کے ساتھ ہی مسلمان ہوا تھا، اور اس کو میرا مسلمان ہونا معلوم تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کو دوسرے شوہر سے چھین کر پہلے شوہر کے حوالے کر دیا۔
Takhreej
سنن ابی داود/الطلاق ۲۳ (۲۲۳۸،۲۲۳۹)، سنن الترمذی/النکاح ۴۲ (۱۱۴۴)،(تحفة الأشراف:۶۱۰۷)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۱/۲۳۲،۳۲۳)
2008
Zaeef
میاں بیوی میں سے کوئی دوسرے سے پہلے مسلمان ہو تو اس کے حکم کا بیان
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ، ‏‏‏‏‏‏ وَيَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ‏‏‏‏‏‏أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عِكْرِمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَدَّ ابْنَتَهُ عَلَى أَبِي الْعَاصِ بْنِ الرَّبِيعِ بَعْدَ سَنَتَيْنِ بِنِكَاحِهَا الْأَوَّلِ .
It was narrated from Ibn 'Abbas that: the Messenger of Allah returned his daughter to Abul-'As bin Rabi' after two years, on the basis of the first marriage contract.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹی زینب رضی اللہ عنہا کو ابوالعاص بن ربیع رضی اللہ عنہ کے پاس دو سال کے بعد اسی پہلے نکاح پر بھیج دیا ۱؎۔
Takhreej
سنن ابی داود/الطلاق ۲۴ (۲۲۴۰)، سنن الترمذی/النکاح ۴۲ (۱۱۴۳)،(تحفة الأشراف:۶۰۷۳)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۱/۲۱۷،۲۶۱،۳۵۱)
Explanation
چونکہ ابوالعاص بن ربیع رضی اللہ عنہ نے صلح حدیبیہ (سن ۶ ہجری) سے پہلے اسلام قبول کر لیا تھا اس لیے زینب رضی اللہ عنہا کی واپسی کے لیے نئے نکاح کی ضرورت نہیں پڑی، مشرکین پر مسلمان عورتوں کو حرام قرار دینے کا ذکر صلح حدیبیہ کے مکمل ہونے کے بعد نازل ہونے والی آیت میں کیا گیا ہے، لہذا اس مدت کے دوران نکاح فسخ نہیں ہوا کیونکہ اس بارے میں کوئی شرعی حکم تھا ہی نہیں، اور جب نکاح فسخ نہیں ہوا تو نئے نکاح کی ضرورت پڑے گی ہی نہیں، رہی«عمرو بن شعیب عن أبیہ عن جدہ» والی روایت جو آگے آ رہی ہے تو وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی اس حدیث کا معارضہ نہیں کر سکتی کیونکہ وہ حجاج بن أرطاۃ کی وجہ سے ضعیف ہے، یہاں یہ واضح رہے کہ زینب رضی اللہ عنہا نے ۲ ھ میں یا ۳ ھ کی ابتداء میں ہجرت کی، اور ان کی وفات ۸ ھ کے شروع میں ہوئی ہے، اس طرح ان کی ہجرت اور وفات کے درمیان کل پانچ برس چند ماہ کا وقفہ ہے، لہذا ابوالعاص بن ربیع رضی اللہ عنہ کا قبول اسلام اور زینب رضی اللہ عنہا کی ان کو واپسی اسی مدت کے دوران عمل میں آئی، اور صحیح یہی معلوم ہوتا ہے کہ ان کا قبول اسلام صلح حدیبیہ سے پہلے کا ہے، رہا یہ مسئلہ کہ زینب کی واپسی کتنے سال بعد ہوئی تو اس سلسلہ میں روایتیں مختلف ہیں، بعض میں دو سال، بعض میں تین سال اور بعض میں چھ سال کا ذکر ہے، لیکن صحیح ترین روایت یہ ہے کہ ان کی واپسی تین سال بعد ہوئی تھی، تین سال مکمل تھے اور کچھ مہینے مزید گزرے تھے۔
2009
Zaeef
میاں بیوی میں سے کوئی دوسرے سے پہلے مسلمان ہو تو اس کے حکم کا بیان
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ حَجَّاجٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَدِّهِ، ‏‏‏‏‏‏ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَدَّ ابْنَتَهُ زَيْنَبَ عَلَى أَبِي الْعَاصِ بْنِ الرَّبِيعِ بِنِكَاحٍ جَدِيدٍ .
It was narrated from 'Amr bin Shu'aib, from his father, from his grand father, that: the Messenger of Allah, returned his daughter Zainab to Abul-As bin Rabi', with a new marriage contract.
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹی زینب رضی اللہ عنہا کو ابوالعاص بن ربیع رضی اللہ عنہ کے پاس نئے نکاح پر بھیج دیا۔
Takhreej
«سنن الترمذی/النکاح ۴۲ (۱۱۴۲)،(تحفة الأشراف:۸۶۷۲)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۲/۲۰۷)
Explanation
صحیح یہی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ان دونوں کو پہلے نکاح پر برقرار رکھا، اور دارقطنی نے کہا کہ یہ حدیث ثابت نہیں ہے، اور صواب ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث ہے کہ نبی کریم ﷺ نے زینب رضی اللہ عنہا کو ابوالعاص کے پاس پہلے نکاح ہی سے لوٹا دیا۔ اور امام ترمذی کتاب العلم میں کہتے ہیں کہ میں نے بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو آپ نے کہا کہ اس باب میں ابن عباس کی حدیث عمرو بن شعیب کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے، علامہ ابن القیم فرماتے ہیں: تعجب ہے کہ اس ضعیف حدیث کو اصل بنا دیں اور اس سے صحیح حدیث کو رد کر دیں اور کہیں کہ وہ اصول کے خلاف ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث کی طرف صحابہ کی ایک جماعت گئی ہے «ومن بعدہم»، ابن القیم اعلام الموقعین میں کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ اسلام قبول کرنے والے آدمی اور اس کے ساتھ اس کی اسلام نہ لانے والی بیوی کے درمیان جدائی نہ کراتے، بلکہ جب دوسرا اسلام لاتا تو نکاح اپنے حال پر رہتا، جب تک وہ عورت دوسرا نکاح نہ کر لے، اور یہ سنت معلومہ اور مشہورہ ہے۔ امام شافعی کہتے ہیں کہ ابوسفیان نے مرالظہران میں جو خزاعہ کا علاقہ ہے، اسلام قبول کیا، اور وہاں فتح مکہ سے پہلے مسلمان تھے، تو وہ دارالاسلام ٹھہرا، اور ابوسفیان مکہ واپس چلے گئے، اور ان کی بیوی ہندہ جو مسلمان نہیں ہوئی تھی، مکہ میں تھی، اس نے ابوسفیان کی داڑھی پکڑ کر کہا اس بوڑھے گمراہ کو قتل کر دو، پھر اس کے کافی دنوں بعد ہندہ نے اسلام قبول کیا، وہ دارالحرب میں مقیم تھی، اور کافر تھی، جب کہ ابوسفیان مسلمان تھے، اور عدت گزر جانے کے بعد ہندہ مسلمان ہوئی، لیکن دونوں کا نکاح قائم رہا، کیونکہ درحقیقت اس کی عدت نہیں گزری، یہاں تک کہ وہ مسلمان ہو گئی، اور اسی طرح حکیم بن حزام کا حال گزرا، صفوان بن امیہ اور عکرمہ بن ابوجہل دونوں کی بیویاں مکہ میں مسلمان ہوئیں اور مکہ دارالاسلام ہو گیا، اور نبی کریم ﷺکی حکومت وہاں قائم ہو گئی، اور عکرمہ یمن کی طرف بھاگے وہ دارالحرب تھا، اور صفوان بھی دارالحرب چل دیئے، پھر صفوان مکہ میں لوٹے تو وہ دارالاسلام تھا، اور جنگ حنین میں حاضر ہوئے، لیکن اس وقت تک کافر تھے، اس کے بعد مسلمان ہوئے اور ان کی بیوی پہلے ہی نکاح سے ان کے پاس رہیں، کیونکہ درحقیقت ان کی عدت نہیں گزری تھی، اور اہل مغازی نے لکھا ہے کہ ایک انصاری عورت مکہ میں ایک شخص کے پاس تھی، پھر وہ مسلمان ہو گئی اور اس نے مدینہ کی طرف ہجرت کی، اس کے بعد اس کا شوہر آیا وہ عدت میں تھی، تو اپنے پرانے نکاح ہی پر شوہر سے جا ملی۔ (الروضہ الندیہ)۔
2010
Zaeef
مدت رضاعت میں بیوی سے جماع کرنے کا بیان
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ الْقُرَشِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُرْوَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جُدَامَةَ بِنْتِ وَهْبٍ الْأَسَدِيَّةِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهَا قَالَتْ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:‏‏‏‏ قَدْ أَرَدْتُ أَنْ أَنْهَى عَنِ الْغِيَالِ فَإِذَا فَارِسُ وَالرُّومُ يُغِيلُونَ فَلَا يَقْتُلُونَ أَوْلَادَهُمْ وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ:‏‏‏‏ وَسُئِلَ عَنِ الْعَزْلِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ هُوَ الْوَأْدُ الْخَفِيُّ .
It was narrated that Judamah bint Wahb Al-Asadiyyah said: I heard the Messenger of Allah say: 'I wanted to forbid intercourse with a nursing mother, but then (I saw that) the Persians and the Romans do this, and it does not kill their children.' And I heard him say/when he was asked about coitus interruptus: 'It is the disguised form of b.rryirg children alive.
جدامہ بنت وہب اسدیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: میں نے ارادہ کیا کہ بچہ کو دودھ پلانے والی بیوی سے جماع کرنے کو منع کر دوں، پھر میں نے دیکھا کہ فارس اور روم کے لوگ ایسا کر رہے ہیں، اور ان کی اولاد نہیں مرتی اور جس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے «عزل»کے متعلق پوچھا گیا تھا، تو میں نے آپ کو فرماتے سنا: وہ تو «وأدخفی» ( خفیہ طور زندہ گاڑ دینا ) ہے ۱؎۔
Takhreej
صحیح مسلم/النکاح ۲۴ (۱۴۴۲)، سنن ابی داود/الطب ۱۶ (۳۸۸۲)، سنن الترمذی/الطب ۲۷ (۲۰۷۶،۲۰۷۷)، سنن النسائی/النکاح ۵۴ (۳۳۲۸)،(تحفة الأشراف:۱۵۷۸۶)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الرضاع ۳ (۱۶)، مسند احمد (/۳۶۱،۴۳۴)، سنن الدارمی/النکاح ۳۳ (۲۲۶۳)
Explanation
زمانہ رضاعت میں بیوی سے جماع کرنے کا نام «غیل» ہے، عربوں کا عقیدہ تھا کہ یہ بچے کے لیے نقصان دہ ہے، اس سے اس کے اعصاب کو نقصان پہنچتا ہے، اور یہ نقص اس میں پوری زندگی رہتا ہے، جس کے نتیجہ میں بسا اوقات انسان گھوڑے سے نیچے گر پڑتا ہے، اور گھوڑے کی پیٹھ پر ثابت نہیں رہ پاتا، اس حدیث میں عربوں کے اسی عقیدے کا ابطال ہے۔ «عزل» یہ ہے مرد عورت سے جماع کرے اور جب انزال کے قریب پہنچے تو عضو تناسل کو عورت کی شرمگاہ سے باہر نکال کر انزال کرے۔ «وأدخفی» کا مطلب یہ ہے کہ یہ حقیقۃً تو قبر میں نہیں دفناتا لیکن اس کے مشابہ ہے کیونکہ اس میں بھی حمل کو روکنے اور ضائع کرنے کی کوشش ہوتی ہے، لیکن چونکہ یہ حقیقی زندہ بچے کو نہیں مارتا اس لیے یہ حقیقی طور پر زندہ گاڑنا نہیں ہے۔
2011
Sahih
مدت رضاعت میں بیوی سے جماع کرنے کا بیان
حدثنا هشام بن عمار حدثنا يحيى بن حمزة عن عمرو بن مهاجر أنه سمع أباه المهاجر بن أبي مسلم يحدث عن أسماء بنت يزيد بن السكن وكانت مولاته أنها سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «لا تقتلوا أولادكم سرا فوالذي نفسي بيده إن الغيل ليدرك الفارس على ظهر فرسه حتى يصرعه».
It was narrated from Muhajir bin Abu Muslim, from Asma' bint Yazid bin Sakary who was his freed slave womary that: she heard the Messenger of Allah say: Do not kill your children secretly, for by the One in Whose Hand is my soul, intercourse with a breastfeeding woman catches up with people when they are riding their horses (in battle) and wrestles them to the ground.
اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: اپنی اولاد کو خفیہ طور پر قتل نہ کرو، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے «غیل» سوار کو گھوڑے کی پیٹھ پر سے گرا دیتا ہے ۔
Takhreej
سنن ابی داود/الطب ۱۶ (۳۸۸۱)،(تحفة الأشراف:۱۵۷۷۷)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۶/۴۵۳،۴۵،۴۵۸)
2012
Zaeef
شوہر کو ستانے والی عورت کا بیان
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْأَعْمَشِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةٌ مَعَهَا صَبِيَّانِ لَهَا قَدْ حَمَلَتْ أَحَدَهُمَا وَهِيَ تَقُودُ الْآخَرَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ حَامِلَاتٌ وَالِدَاتٌ رَحِيمَاتٌ لَوْلَا مَا يَأْتِينَ إِلَى أَزْوَاجِهِنَّ دَخَلَ مُصَلِّيَاتُهُنَّ الْجَنَّةَ .
It was narrated that Abu Umamah said: A woman came to the Prophet with two of her children, carrying one and leading the other. The Messenger of Allah said: 'They carry children and give birth to them and are compassionate. If they do not annoy their husbands, those among them who perform prayer will enter Paradise. '
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک عورت آئی، اس کے ساتھ دو بچے تھے، ایک کو وہ گود میں اٹھائے ہوئی تھی اور دوسرے کو کھینچ رہی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بچوں کو اٹھانے والی، انہیں جننے والی، اور ان پر شفقت کرنے والی عورتیں اگر اپنے شوہروں کو تکلیف نہ دیتیں تو جو ان میں سے نماز کی پابند ہیں جنت میں جاتیں ۔
Takhreej
تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۴۸۶۵، ومصباح الزجاجة:۷۱۴)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۵/۲۵۲،۲۵۷،۲۶۸)
2013
Zaeef
شوہر کو ستانے والی عورت کا بیان
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ الضَّحَّاكِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْكَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَا تُؤْذِي امْرَأَةٌ زَوْجَهَا، ‏‏‏‏‏‏إِلَّا قَالَتْ زَوْجَتُهُ:‏‏‏‏ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ لَا تُؤْذِيهِ قَاتَلَكِ اللَّهُ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّمَا هُوَ عِنْدَكِ دَخِيلٌ أَوْشَكَ أَنْ يُفَارِقَكِ إِلَيْنَا .
It was narrated from Mu'adh bin Jabal that: the Messenger of Allah said: No woman annoys her husband but his wife among houris (of Paradise) safs: 'Do not annoy him, may Allah destroy you, for he is just a temporary guest with you and soon he will leave you and join us. '
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی عورت اپنے شوہر کو تکلیف دیتی ہے تو حورعین میں سے اس کی بیوی کہتی ہے: اللہ تجھے ہلاک کرے، اسے تکلیف نہ دے، وہ تیرے پاس چند روز کا مہمان ہے، عنقریب تجھے چھوڑ کر ہمارے پاس آ جائے گا ۱؎۔
Takhreej
سنن الترمذی/الرضاع ۱۹ (۱۱۷۴)،(تحفة الأشراف:۱۱۳۵۶)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۵/۲۴۲)
Explanation
سچ ہے دنیا کی قرابت اور رشتہ داری سب چند روزہ ہے، حقیقت میں ہماری بیوی وہی ہے جو اللہ تعالی نے جنت میں ہمارے لئے رکھی ہے۔
2014
Sahih
حرام کام حلال کو حرام نہیں کرتا
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُعَلَّى بْنِ مَنْصُورٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَرْوِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ نَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ لَا يُحَرِّمُ الْحَرَامُ الْحَلَالَ .
It was narrated from Ibn 'Umar that: the Prophet, said: What is Haram does not make what is Halal into what is Haram.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حرام کام حلال کو حرام نہیں کرتا ۔
Takhreej
تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۷۷۳۶، ومصباح الزجاجة:۷۱۵)
2015
Zaeef

Chapters

63
01
نکاح (شادی بیاہ) کی فضیلت کا بیان
3 Hadith
02
کنوارا رہنا منع ہے۔
2 Hadith
03
شوہر پر بیوی کے حقوق کا بیان۔
2 Hadith
04
بیوی پر شوہر کے حقوق کا بیان۔
3 Hadith
05
بہترین عورت کا بیان۔
3 Hadith
06
نیک اور دیندار عورت سے شادی کرنے کا بیان۔
2 Hadith
07
کنواری لڑکیوں سے شادی کرنے کا بیان۔
2 Hadith
08
آزاد اور جننے والی عورتوں سے شادی کرنے کا بیان۔
2 Hadith
09
جس عورت سے شادی کرنی ہو اس کو دیکھنے کا بیان۔
3 Hadith
10
مسلمان بھائی کے شادی کے پیغام پر پیغام نہ دے۔
3 Hadith
11
کنواری اور غیر کنواری دونوں سے شادی کی اجازت لینے کا بیان۔
3 Hadith
12
باپ بیٹی کا نکاح اس کی رضا مندی کے بغیر کر دے تو اس کے حکم کا بیان
3 Hadith
13
باپ نابالغ بچیوں کا نکاح کر سکتا ہے
2 Hadith
14
نابالغ لڑکی کا نکاح باپ کے علاوہ کوئی اور کرائے تو اس کے حکم کا بیان
1 Hadith
15
بغیر ولی کے نکاح جائز نہ ہونے کا بیان
4 Hadith
16
نکاح شغار کی ممانعت
3 Hadith
17
عورتوں کے مہر کا بیان
5 Hadith
18
ایک شخص نے شادی کی لیکن عورت کا مہر مقرر کرنے سے پہلے ہی مر گیا تو اس عورت کا حکم کیا ہو گا؟
1 Hadith
19
خطبہ نکاح کا بیان
3 Hadith
20
نکاح کے اعلان کرنے کا بیان
2 Hadith
21
(شادی بیاہ میں) گانے اور دف بجانے کا بیان
5 Hadith
22
ہیجڑوں کا بیان
3 Hadith
23
نکاح پر مبارک باد دینے کا بیان
2 Hadith
24
ولیمہ کا بیان
6 Hadith
25
(ولیمہ کی) دعوت قبول کرنے کا بیان
3 Hadith
26
کنواری اور غیر کنواری کے پاس رہنے کی مدت
2 Hadith
27
بیوی سے پہلی ملاقات پر کون سی دعا پڑھے؟۔
2 Hadith
28
جماع کے وقت پردہ کرنے کا بیان
3 Hadith
29
عورتوں سے دبر میں جماع کرنے کی ممانعت۔
3 Hadith
30
عزل کا بیان
3 Hadith
31
بھتیجی اور پھوپھی یا بھانجی اور خالہ کو نکاح میں جمع کرنے کی حرمت
3 Hadith
32
ایک آدمی نے اپنی عورت کو تین طلاق دی، اس نے دوسرے سے شادی کر لی پھر دوسرے شوہر نے جماع سے پہلے اسے طلاق دیدی تو کیا اب وہ پہلے شوہر سے نکاح کر سکتی ہے؟
2 Hadith
33
حلالہ کرنے والے اور جس کے لیے حلالہ کیا جائے دونوں پر وارد وعید کا بیان
3 Hadith
34
رضاعت (دودھ پلانے) سے وہی رشتے حرام ہوتے ہیں جو نسب سے حرام ہوتے ہیں
3 Hadith
35
ایک بار یا دو بار دودھ چوسنے سے حرمت ثابت نہیں ہوتی
3 Hadith
36
بڑے آدمی کے دودھ پینے سے حرمت کے حکم کا بیان
2 Hadith
37
دودھ چھٹنے کے بعد پھر رضاعت ثابت نہیں ہے
3 Hadith
38
دودھ مرد کی طرف سے ہے
2 Hadith
39
آدمی اگر اسلام لائے اور اس کے نکاح میں دو سگی بہنیں ہوں تو کیا کرے؟۔
2 Hadith
40
آدمی اگر اسلام لائے اور اس کے نکاح میں چار سے زائد عورتیں ہوں تو کیا کرے؟۔
2 Hadith
41
نکاح میں شرط کا بیان
2 Hadith
42
آدمی لونڈی کو آزاد کرے پھر اس سے شادی کر لے
3 Hadith
43
غلام کا نکاح مالک کی اجازت کے بغیر ناجائز ہے
2 Hadith
44
نکاح متعہ منع ہے
3 Hadith
45
حالت احرام میں نکاح کا حکم۔
3 Hadith
46
(شادی میں) کفو کا بیان
2 Hadith
47
عورتوں کے درمیان باری مقرر کرنے کا بیان
3 Hadith
48
عورت کا اپنی باری سوکن کو ہبہ کرنے کا بیان
3 Hadith
49
نکاح کرانے کے لیے سفارش کا بیان
2 Hadith
50
عورتوں سے اچھے سلوک کے ساتھ زندگی بسر کرنے کا بیان
6 Hadith
51
عورتوں کو مارنے پیٹنے کے حکم کا بیان
4 Hadith
52
بالوں کو جوڑنے اور گودنا گودنے والی عورتوں پر وارد وعید کا بیان
3 Hadith
53
دلہن کی رخصتی کا بہتر وقت کون سا ہے؟۔
2 Hadith
54
مرد اپنی بیوی کے پاس جائے اور اس کو کوئی چیز ہدیہ نہ کی ہو اس کا بیان
1 Hadith
55
جن چیزوں میں برکت اور نحوست کی بات کہی جاتی ہے ان کا بیان
3 Hadith
56
غیرت کا بیان
4 Hadith
57
جس عورت نے اپنے آپ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہبہ کیا اس کا بیان
2 Hadith
58
آدمی کا اپنے لڑکے میں شک کرنے کا بیان
2 Hadith
59
بچے کا حقدار بستر والا (شوہر) ہے اور پتھر کا مستحق زانی
4 Hadith
60
میاں بیوی میں سے کوئی دوسرے سے پہلے مسلمان ہو تو اس کے حکم کا بیان
3 Hadith
61
مدت رضاعت میں بیوی سے جماع کرنے کا بیان
2 Hadith
62
شوہر کو ستانے والی عورت کا بیان
2 Hadith
63
حرام کام حلال کو حرام نہیں کرتا
1 Hadith
No chapter matched that.

Turn any verse into a post or a reel

Pick a verse, and get a ready Quran image or a short vertical video for YouTube Shorts, Instagram and Facebook Reels, TikTok and WhatsApp Status — Arabic with English and Urdu translation, free on WizTools123.