It was narrated that Abu Minhal said:
“I heard Iyas bin 'Abd Muzani say - when he saw people selling water: 'Do not sell water, for I heard the Messenger of Allah (ﷺ) forbidding selling of water.' ”
ابومنہال کہتے ہیں کہ میں نے ایاس بن عبداللہ مزنی رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کچھ لوگوں کو پانی بیچتے ہوئے دیکھا تو کہا: پانی نہ بیچو اس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی بیچنے سے منع کیا ہے ۱؎۔
یہ جب ہے کہ پانی کسی قدرتی دریا یا چشمہ میں موجود ہو تو وہ کسی کی ملکیت نہیں، اس کا بیچنا ناجائز ہے، لیکن اگر کوئی پانی بھر کر لائے اور گھڑے یا مشک یا بوتل وغیرہ میں رکھے تو اس کا استعمال بغیر اس کی اجازت کے درست نہیں ہے، اور اس کا بیچنا جائز ہے، کیونکہ نبی کریم ﷺ نے عثمان رضی اللہ عنہ کو بئر رومہ خریدنے کے لئے فرمایا، اور آپ ﷺ نے ایک عورت سے پانی لیا جو اونٹ پر لائی تھی پھر لوگوں سے اس کی قیمت دلائی
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (ﷺ) said:
“No one of you should withhold surplus water from common pastureland.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص ضرورت سے زائد پانی اس مقصد سے نہ روکے کہ وہاں کی گھاس بھی روکے رکھے ۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۳۷۲۵)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/المساقاة ۲ (۲۳۵۳)، صحیح مسلم/المساقاة ۸ (۲۵۶۶)، موطا امام مالک/الأقضیة ۲۶ (۳۲)، مسند احمد (۲/۲۴۴،۴۶۳)
It was narrated from Aishah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
“Surplus water should not be withheld, and neither should surplus water from a well.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ضرورت سے زائد پانی سے اور کنوئیں میں بچے ہوئے پانی سے کسی کو نہ روکا جائے ۱؎۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۷۸۸۶، ومصباح الزجاجة:۸۷۲)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۶/۲۵۲،۲۶۸)
Explanation
اس لئے کہ کنویں سے پانی نکالنے میں اپنا نقصان نہیں اور دوسرے کا فائدہ ہے، اور اس سے کنویں کا پانی زیادہ صاف اور عمدہ ہو جاتا ہے اور اس میں اور تازہ پانی بھر آتا ہے، اور بعضوں نے اس کا یہ مطلب بتایا ہے کہ جو پانی اپنی ضرورت سے زیادہ ہو اس کا بیچنا منع ہے جب کوئی اس کو پینا چاہے یا اپنے جانوروں کو پلانا چاہے لیکن اگر باغ یا درختوں کو سینچنا چاہے تو اس کا بیچنا درست ہے، اور کنویں کا پانی بھی روکنا درست نہیں ہے اس سے جو اس کو پینا چاہے یا اپنے جانوروں کو پلانا چاہے۔
It was narrated from 'Abdullah bin Zubair that :
a man from among the Ansar had a dispute with Zubair in the presence of the Messenger of Allah (ﷺ) concerning the streams of the Harrah with which he irrigated his palm trees. The Ansari said: “Let the water flow,” but he refused. So they referred their dispute to the Messenger of Allah (ﷺ). The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Irrigate (your trees) O Zubair, then let the water flow to your neighbor.” The Ansari became angry and said: “O Messenger of Allah (ﷺ), is it because he is your cousin (son of your paternal aunt)?” The expression of the Messenger of Allah (ﷺ) changed, then he said: “O Zubair, irrigate (your trees) then retain the water until it reaches the walls.” Zubair said: “I think this Verse was revealed concerning that: “But no, by your Lord, they make you (O Muhammad) judge in all disputes between them, and find in themselves no resistance against your decisions, and accept (them) with full submission [1].'” (Sahih) [1] An-Nisa 4.65
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک انصاری ۱؎ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حرہ کے نالے کے سلسلے میں جس سے لوگ کھجور کے درخت سیراب کرتے تھے، ( ان کے والد ) زبیر رضی اللہ عنہ سے جھگڑا کیا، انصاری کہہ رہا تھا: پانی کو چھوڑ دو کہ آگے بہتا رہے، زبیر رضی اللہ عنہ نہیں مانے ۲؎بالآخر دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس معاملہ لے گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زبیر ( پانی روک کر ) اپنے درختوں کو سینچ لو پھر اپنے پڑوسی کے لیے پانی چھوڑ دو، انصاری نے یہ سنا تو ناراض ہو گیا اور بولا: اللہ کے رسول! وہ آپ کی پھوپھی کے بیٹے ہیں نا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سنا تو آپ کے چہرے کا رنگ بدل گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زبیر! اپنے درختوں کو سینچ لو اور پانی روک لو یہاں تک کہ وہ مینڈوں تک بھر جائے ۔ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم، میں سمجھتا ہوں کہ آیت کریمہ: «فلا وربك لا يؤمنون حتى يحكموك فيما شجر بينهم ثم لا يجدوا في أنفسهم حرجا مما قضيت ويسلموا تسليما» ( سورة النساء: 65 ) سو قسم ہے تیرے رب کی! یہ مومن نہیں ہو سکتے، جب تک کہ تمام آپس کے اختلافات میں آپ کو حاکم نہ مان لیں، پھر جو فیصلے آپ ان میں کر دیں ان سے اپنے دل میں کسی طرح کی تنگی اور ناخوش نہ پائیں اور فرمانبرداری کے ساتھ قبول کر لیں ، اسی معاملہ میں اتری ہے۔
Takhreej
«انظر حدیث رقم:(۱۵)
Explanation
انصاری کا نام اطب تھا، انہوں نے ناسمجھی کی بنیاد پر نبی اکرم ﷺ کی شان میں ایسی بات کہہ دی، کہ اگر کوئی شخص جان بوجھ کر ایسا گستاخانہ جملہ نبی اکرم ﷺ کی شان میں کہے تو وہ کافر ہو جائے گا، بعض لوگوں کا خیال ہے کہ وہ مسلمان نہیں بلکہ کافر تھا، لیکن یہ قول مرجوح ہے، واللہ اعلم ۲؎: کیونکہ ان کا باغ نہر کی جانب اونچائی پر تھا اور انصاری کا ڈھلان پر جس سے زبیر رضی اللہ عنہ کے باغ سے سارا پانی بہہ کر نکل جا رہا تھا۔
It was narrated that Tha'labah bin Abu Malik said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) ruled concerning the stream of Mahzur that the higher ground took precedence over the lower, so the higher ground should be irrigated until the water reached the ankles, then it should be released to those who were lower.
ثعلبہ بن ابی مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وادی مہزور کے نالہ کے سلسلہ میں یہ فیصلہ کیا کہ اوپری حصہ نچلے حصہ سے برتر ہے، جس کا کھیت اونچائی پر ہو، پہلے سینچ لے، اور ٹخنوں تک پانی اپنے کھیت میں بھر لے، پھر پانی کو اس شخص کے لیے چھوڑ دے جس کا کھیت نشیب ( ترائی ) میں ہو ۱؎۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۲۰۷۴، ومصباح الزجاجة:۸۷۳)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الأقضیة ۳۱ (۳۶۳۹)
Explanation
وہ بھی اپنے کھیت میں اتنا ہی پانی بھر کر تیسرے کی طرف چھوڑ دے جو اس سے نیچے علاقہ میں ہو،اسی طرح اخیر کیفیت تک عمل کیا جائے۔
It was narrated from 'Amr bin Shu`aib, from his father, from his grandfather, that :
the Messenger of Allah (ﷺ) ruled concerning the stream of Mahzur that the water should be retained until it reached the ankles, then released.
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وادی مہزور کے نالے کے متعلق یہ فیصلہ کیا کہ پانی ٹخنوں تک روک لیا جائے، پھر اسے چھوڑ دیا جائے۔
It was narrated from 'Ubadah bin Samit that :
the Messenger of Allah (ﷺ) ruled concerning the irrigation of palm trees from streams, that the higher ground should be irrigated before the lower, and that the water should be allowed to reach the ankles, then released to flow the nearest lower ground, and so on, until all the fields were watered or until the water ran out.
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کھجور کے درختوں کو نالہ سے سینچنے کے سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ کیا کہ جس کا باغ اونچائی پر ہو، پہلے وہ اپنے باغ کو ٹخنوں تک پانی سے بھر لے، پھر پانی کو نیچے کی طرف جو اس کے قریب ہے اس کے لیے چھوڑ دے، اسی طرح سلسلہ بہ سلسلہ سیراب کیا جائے، یہاں تک کہ باغات سینچ کر ختم ہو جائیں یا پانی ختم ہو جائے۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۵۰۶۶، ومصباح الزجاجة:۸۷۴)
It was narrated from Kathir bin 'Abdullah bin 'Amr bin 'Awf Al-Muzani, from his father, that his grandfather said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Start with the horses on the day that you bring (the animals to drink).' ”
عمرو بن عوف مزنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب گھوڑے اپنی باری کے دن پانی پلانے کے لیے لائے جائیں تو الگ الگ لائے جائیں ۔
Takhreej
تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۰۷۸۳، ومصباح الزجاجة:۸۷۵)
It was narrated from Ibn `Abbas that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
“Every division that was allocated according to (the rules of) the Ignorance days, stands as it is, and every division that was allocated according to (the rules of) Islam, stands according to the rules of Islam.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زمانہ جاہلیت میں جو تقسیم ہو چکی ہے وہ اسی طرح باقی رہے گی جیسی وہ ہوئی ہے، اور جو تقسیم زمانہ اسلام میں ہوئی ہے وہ اسلام کے اصولوں کے مطابق ہو گی ۔
It was narrated from 'Abdullah bin Mughaffal that the Prophet (ﷺ) said:
“Whoever digs a well, is entitled to forty forearms' length surrounding it is as a resting place for his flocks.”
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کنواں کھودے تو اس کے گرد چالیس ہاتھ تک کی زمین اس کی ہو گی، اس کے جانوروں کو پانی پلانے اور بٹھانے کے لیے ۱؎۔
یعنی کنویں کی ہر جانب چالیس ہاتھ تک اس کا علاقہ ہو گا کیونکہ عادتاً اتنی جگہ جانوروں کے لئے کافی ہو جاتی ہے، اور بعضوں نے کہا یہ جب ہے کہ کنویں کی گہرائی چالیس ہاتھ ہو اگر اس سے زیادہ ہو تو اتنے ہی ہاتھ ہر طرف جگہ ملے گی۔
It was narrated from Abu Sa'eed Al-Khudri that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
“The land around a well (that is considered to be part of it) is the length of the well rope (in all directions).”
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کنویں کی چوحدی اس کی رسی کی لمبائی کے برابر ہو گی ۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۴۳۸۶، ومصباح الزجاجة:۸۷۷)
It was narrated from 'Ubadah bin Samit that :
the Messenger of Allah (ﷺ) ruled concerning one, two or three date palms belonging to a man among other palm trees - when they differ concerning entitlement to the surrounding land. He ruled that the land around each of those trees, as far as their leaves reach, measured from the bottom of the tree, belongs to the owner of the tree.
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ باغ میں کسی شخص کے ایک یا دو یا تین درخت ہوں، پھر لوگ اختلاف کریں کہ کتنی زمین پر ان کا حق ہے؟ تو اس بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا: ہر درخت کے لیے نیچے کی اتنی زمین ہے جہاں تک اس کی ڈالیاں پھیلی ہیں، وہی اس درخت کی چوحدی ہے ۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۵۰۶۷، ومصباح الزجاجة:۸۷۸)
It was narrated from Ibn 'Umar that the Messenger of Allah Said:
“The land around a date-palm tree, as far as its branches reach, belongs to the owner of the tree.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کھجور کے درخت کی چوحدی اس کی ڈالیوں کی لمبائی کے برابر ہے ۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۶۶۶۵، ومصباح الزجاجة:۸۷۹)
It was narrated that Sa'eed bin Huraith said:
“I heard the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Whoever sells a house or property and does not use the money for something similar, deserves not to be blessed therein.' ”
سعید بن حریث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جو کوئی گھر یا غیر منقولہ جائیداد بیچے اور پھر ویسی ہی جائیداد اس کی قیمت سے نہ خریدے، تو وہ اس لائق ہے کہ اس میں اس کو برکت نہ دی جائے ۱؎۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۴۴۵۳، ومصباح الزجاجة:۸۸)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۳/۴۶۷،۴/۳۰۷)، سنن الدارمی/البیوع ۸۱ (۲۶۶۷)
Explanation
سبحان اللہ یہ حدیث دنیاداروں کے لئے بڑی نصیحت ہے، نقد پیسہ ہمیشہ صرف ہو جاتا ہے کبھی چوری ہو جاتا ہے یا لٹ جاتا ہے، برخلاف جائیداد غیر منقولہ کے، تو آپ ﷺ نے جائیداد بیچنے کو مکروہ جانا جب اس کے بدل دوسری جائیداد نہ خریدے، کیونکہ نقد پیسہ رکھنے سے تو یہی بہتر تھا کہ جائیداد اپنے پاس رہنے دیتا۔
It was narrated from Hudhaifah bin Yaman that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
“Whoever sells a house and does not use the money for something similar, will not to be blessed therein.' ”
حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی گھر بیچے اور پھر اس کی قیمت سے ویسا ہی دوسرا گھر نہ خریدے، تو اس میں اس کو برکت نہیں ہو گی ۱؎۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۳۳۹۴، ومصباح الزجاجة:۸۸۲)
Explanation
بلکہ نقد پیسہ اٹھا اٹھا کر ختم کر دے گا، اور ایک رہنے کا آسرا بھی ہاتھ سے جاتا رہے گا۔