حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، قَالَ: سَمِعْتُ مُطَرِّفًا يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَمَرَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ، ثُمَّ قَالَ: مَا لَهُمْ وَلِلْكِلَابِ، ثُمَّ رَخَّصَ لَهُمْ فِي كَلْبِ الصَّيْدِ.
It was narrated from ‘Abdullah bin Mughaffal that the Messenger of Allah (ﷺ) commanded that dogs be killed, then he said:
“What do they use dogs for?” Then he permitted them to keep hunting dogs.
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتوں کے مار ڈالنے کا حکم دیا، پھر آپ نے فرمایا: انہیں کتوں سے کیا مطلب ؟ پھر آپ نے انہیں شکاری کتے رکھنے کی اجازت دے دی ۱؎۔
Takhreej
«صحیح مسلم/الطہارة ۲۷ (۲۸۰)، سنن ابی داود/الطہارة ۳۷ (۷۴)، سنن النسائی/الطہارة ۵۳ (۶۷)، المیاہ ۷ (۳۳۷،۳۳۸)،(تحفة الأشراف:۹۶۶۵)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۴/۸۶،۵/۵۶)، سنن الدارمی/الصید ۲ (۲۰۴۹)
Explanation
کتوں سے کیا مطلب یعنی کتا پالنا بے فائدہ ہے بلکہ وہ نجس جانور ہے، اندیشہ ہے کہ برتن یا کپڑے کو گندہ کر دے،لیکن کتوں کا قتل صحیح مسلم کی حدیث سے منسوخ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتوں کے قتل سے منع کیا، اس کے بعد اور فرمایا: کالے کتے کو مار ڈالو وہ شیطان ہے (انجاح)۔
3200
Sahih