It was narrated from ‘Abdullah bin Mughaffal that the Messenger of Allah (ﷺ) commanded that dogs be killed, then he said:
“What do they use dogs for?” Then he permitted them to keep hunting dogs.
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتوں کے مار ڈالنے کا حکم دیا، پھر آپ نے فرمایا: انہیں کتوں سے کیا مطلب ؟ پھر آپ نے انہیں شکاری کتے رکھنے کی اجازت دے دی ۱؎۔
Takhreej
«صحیح مسلم/الطہارة ۲۷ (۲۸۰)، سنن ابی داود/الطہارة ۳۷ (۷۴)، سنن النسائی/الطہارة ۵۳ (۶۷)، المیاہ ۷ (۳۳۷،۳۳۸)،(تحفة الأشراف:۹۶۶۵)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۴/۸۶،۵/۵۶)، سنن الدارمی/الصید ۲ (۲۰۴۹)
Explanation
کتوں سے کیا مطلب یعنی کتا پالنا بے فائدہ ہے بلکہ وہ نجس جانور ہے، اندیشہ ہے کہ برتن یا کپڑے کو گندہ کر دے،لیکن کتوں کا قتل صحیح مسلم کی حدیث سے منسوخ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتوں کے قتل سے منع کیا، اس کے بعد اور فرمایا: کالے کتے کو مار ڈالو وہ شیطان ہے (انجاح)۔
It was narrated from ‘Abdullah bin Mughaffal that the Messenger of Allah (ﷺ) commanded that dogs be killed, then he said:
“What do they use dogs for?” Then he permitted them to keep farming dogs and dogs of ‘Ein. Bundar said: “The ‘Ein refers to the walls of Al-Madinah.”
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتوں کے قتل کا حکم دیا، پھر فرمایا: لوگوں کو کتوں سے کیا مطلب ہے ؟ پھر آپ نے کھیت اور باغ کی رکھوالی کرنے والے کتوں کی اجازت دے دی۔ بندار کہتے ہیں: «عین» سے مراد مدینہ کے باغات ہیں۔
Takhreej
انظر ما قبلہ
Explanation
مسلم اور نسائی کی روایت میں ہے: «ثم رخص في كلب الصيد والغنم» اس لئے ابن ماجہ کا لفظ تصحیف ہے، صواب «الغنم» ہے۔ (ملاحظہ ہو: حیاۃ الحیوان للدمیری)۔ جو کتے کھیت اور باغ کی حفاظت کے لئے پالے جاتے ہیں ان کا پالنا جائز ہے، دوسری روایت میں ریوڑ یعنی جانوروں کی حفاظت کے لئے بھی پالنا آیا ہے، شریعت سے صرف تین ہی کتوں کا جواز ثابت ہے، ایک شکاری کتا، دوسرے باغ یا کھیت کی حفاظت کا، تیسرے ریوڑ کا، اور اس پر قیاس کر کے دوسری ضرورتوں کے لیے کتوں کو بھی پالا جا سکتا ہے، جیسے جنگل میں چور سے حفاظت کے لئے، اور آج کل جاسوسی کے لیے، امید ہے کہ یہ بھی جائز ہو، لیکن بلاضرورت کتا پالنا ہماری شریعت میں جائز نہیں، بلکہ اس سے اجر اور ثواب میں نقصان پڑتا ہے، جیسے دوسری حدیث میں وارد ہے،اور ایک حدیث میں ہے کہ فرشتے اس مکان میں نہیں جاتے جہاں مورت ہو،یا کتا یعنی رحمت کے فرشتے۔
It was narrated from Salim that his father said:
“I heard the Messenger of Allah (ﷺ) raising his voice and commanding that dogs be killed, and dogs were killed, except for hunting dogs or dogs kept for herding livestock.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلند آواز سے کتوں کے قتل کا حکم فرماتے ہوئے سنا: اور کتے قتل کئیے جاتے تھے بجز شکاری اور ریوڑ کے کتوں کے۔
It was narrated that Abu Hurairah said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Whoever keeps a dog, one Qirat will be deducted from him (good) deeds every day, except a dog for farming or herding livestock.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کتا پالے گا اس کے عمل میں سے ہر روز ایک قیراط کم ہو گا، سوائے کھیت یا ریوڑ کے کتے کے ۔
Takhreej
«صحیح مسلم/المساقاة ۱۰ (۱۵۷۵)،(تحفة الأشراف:۱۵۳۹۰)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحرث ۳ (۲۳۲۳)، بدء الخلق ۱۷ (۳۳۲۴)، سنن ابی داود/الصید ۱ (۲۸۴۴)، سنن الترمذی/الصید ۱۷ (۱۴۹۰)، سنن النسائی/الصید ۱۴ (۴۲۹۴)، مسند احمد (۲/۲۶۷،۳۴۵)
Explanation
دوسری روایت میں روزانہ دو قیراط کی کمی کا ذکر ہے، تطبیق کی صورت یہ ہے شاید کتوں کی دو قسمیں ہیں، ایک قسم وہ ہے جس میں ایک قیراط کی کمی ہوتی ہے، اور دوسری وہ ہے جس میں دو قیراط کی کمی ہوتی ہے، بعض لوگوں نے اختلاف مقامات کا اعتبار کیا ہے، اور کہا کہ اگر بے ضرورت مکہ یا مدینہ میں کتا پالے تو دو قیراط کی کمی ہو گی اور اس کے علاوہ دیگر شہروں میں ایک قیراط کی کمی ہو گی کیونکہ مکہ اور مدینہ کا افضل اور اعلی مقام ہے، وہاں کتا پالنا زیادہ غیرمناسب ہے۔
It was narrated from ‘Abdullah bin Mughaffal that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
“Were it not that dogs form one of the communities (or nations – of creatures), I would have commanded that they be killed. But kill those that are all black. There are no people who keep a dog, except for dogs used for herding livestock, hunting or farming, but two Qirat will be deducted from their reward each day.”
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر کتے اللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں سے ایک مخلوق نہ ہوتے، تو میں یقیناً ان کے قتل کا حکم دیتا، پھر بھی خالص کالے کتے کو قتل کر ڈالو، اور جن لوگوں نے جانوروں کی حفاظت یا شکاری یا کھیتی کے علاوہ دوسرے کتے پال رکھے ہیں، ان کے اجر سے ہر روز دو قیراط کم ہو جاتے ہیں ۱؎۔
Takhreej
«سنن ابی داود/الصید ا (۲۸۴۵مختصراً)، سنن الترمذی/الأحکام ۳ (۱۴۸۶مختصراً) سنن النسائی/الصید ۱۰ (۴۳۸۵)،(تحفة الأشراف:۹۶۴۹)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۴/۸۵،۸۶،۵/۵۴،۵۶،۵۷، سنن الدارمی/الصید ۲ (۲۰۴۹)
Explanation
امام نووی فرماتے ہیں کہ کاٹنے والے کتوں کو قتل کر دینے پر اجماع ہے، امام الحرمین کہتے ہیں کہ پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب کتوں کے مارنے کا حکم دیا، پھر یہ منسوخ ہو گیا، اور کالا سیاہ اسی حکم پر باقی رہا، بعد اس کے یہ ٹھہرا کہ جب تک وہ نقصان نہ پہنچائے کسی قسم کا کتا نہ مارا جائے یہاں تک کالا بھجنگ بھی، اور ثواب کم ہونے کا سبب یہ ہو گا کہ فرشتے اس کے گھر میں نہیں جا سکتے جس کے پاس کتا ہوتا ہے، اور بعضوں نے کہا کہ اس وجہ سے کہ لوگوں کو اس کے بھونکنے اور حملہ کرنے سے ایذا ہوتی ہے اور یہ جو فرمایا: اگر مخلوق نہ ہوتی مخلوقات میں سے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ کتا بھی کائنات کی مخلوقات میں سے ایک ایسی مخلوق ہے جس ختم کرنا ممکن نہیں، اس لئے قتل کا حکم دینا بے کار ہے، کتنے ہی قتل کرو لیکن جب تک دنیا باقی ہے، دنیا میں کتے ضرور باقی رہیں گے، آپ دیکھئے کہ سانپ، بچھو، شیر اور بھیڑئیے، لوگ سیکڑوں اور ہزاروں سال سے جہاں پاتے ہیں مار ڈالتے ہیں، مگر کیا یہ حیوانات دنیا سے مٹ گئے؟ ہرگز نہیں۔
It was narrated that Sufyan bin Abu Zuhair said:
“I heard the Prophet (ﷺ) say: ‘Whoever keeps a dog that he does not need for farming or herding, one Qirat will be deducted from his (good) deeds each day.’”
سفیان بن ابی زہیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جو شخص کتا پالے اور وہ اس کے کھیت یا ریوڑ کے کام نہ آتا ہو تو اس کے عمل ( ثواب ) سے ہر روز ایک قیراط کم ہوتا رہتا ہے ، لوگوں نے سفیان رضی اللہ عنہ سے پوچھا: آپ نے خود اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں قسم ہے اس مسجد کے رب کی۔
Takhreej
«صحیح البخاری/الحرث ۳ (۲۳۲۳)، بدء الخلق ۱۷ (۳۳۲۵)، صحیح مسلم/المساقاة ۱۰ (۱۵۷۶)، سنن النسائی/الصید ۱۲ (۴۲۹۰)،(تحفة الأشراف:۴۴۷۶)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الإستئذان ۵ (۱۲)، مسند احمد (۵/۲۱۹،۲۲۰)، سنن الدارمی/الصید ۲ (۲۰۴۸)
It was narrated that Abu Tha’labah Al-Khushani said:
“I came to the Messenger of Allah (ﷺ) and said: ‘O Messenger of Allah, we live in a land of the People of the Book and we eat from their vessels. And we live in a land (where there is) game, so I hunt with my bow and with my trained dog and with my untrained dog.’ The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘As for what you say about living in a land of the People of the Book, do not eat from their vessels unless you can find no alternative. If you can fidn no alternative then wash them and eat from them. With regard to what you say about hunting, whatever you catch with your bow, say the Name of Allah over it and eat. Whatever you catch with your trained dog, say the Name of Allah over it and eat. But whatever you catch with your untrained dog, then catch it, slaughter it, then eat.’”
ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم اہل کتاب ( یہود و نصاری ) کے ملک میں رہتے ہیں، کیا ہم ان کے برتنوں میں کھا سکتے ہیں؟ اور ہم اس ملک میں رہتے ہیں جہاں شکار بہت ہے، میں اپنی کمان اور سدھائے ہوئے کتوں سے شکار کرتا ہوں، اور ان کتوں سے بھی جو سدھائے ہوئے نہیں ہوتے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رہی یہ بات جو تم نے ذکر کی کہ ہم اہل کتاب کے ملک میں رہتے ہیں تو تم ان کے برتنوں میں نہ کھاؤ، اِلا یہ کہ کوئی چارہ نہ ہو، اگر اس کے علاوہ تم کوئی چارہ نہ پاؤ تو پھر انہیں دھو ڈالو، اور ان میں کھاؤ، رہا شکار کا معاملہ جو تم نے ذکر کیا تو جو شکار تم اپنے کمان سے کرو اس پر اللہ کا نام لے کر شکار کرو اور کھاؤ، اور جو شکار سدھائے ہوئے کتے سے کرو تو کتا چھوڑتے وقت اللہ کا نام لو اور کھاؤ، اور جو شکار ایسے کتے کے ذریعہ کیا گیا ہو جو سدھایا ہوا نہ ہو تو اگر تم اسے ذبح کر سکو تو کھاؤ ( ورنہ نہیں ) ۱؎۔
Takhreej
«صحیح البخاری/الصید ۴ (۵۴۷۸)،۱۰ (۵۴۸۸)،۱۴ (۵۴۹۶)، صحیح مسلم/الصید ۱ (۱۹۳۰)، سنن ابی داود/الصید ۲ (۲۸۵۵)، سنن الترمذی/والسیر ۱۱ (۱۵۶۰)، سنن النسائی/الصید ۴ (۴۲۷۱)،(تحفة الأشرف:۱۱۸۷۵)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۴/۱۹۳،۱۹۴،۱۹۵)، سنن الدارمی/السیر ۵۶ (۲۵۴۱)
Explanation
اہل حدیث کے نزدیک جو جانور ہتھیار سے شکار کیا جائے (جیسے تیر تلوار، برچھا، بھالا، بندوق وغیرہ سے) یا ان جانوروں کے ذریعہ سے جو زخمی کرتے ہیں (جیسے کتا،چیتا، بازہجری، عقاب وغیرہ) تو حلال ہے، اگرچہ شکار کا جانور ذبح کرنے سے پہلے مر جائے، بشرطیکہ مسلمان شکار کرے، اور جانور یا ہتھیار کو شکار پر چلاتے وقت بسم اللہ کہے، یہی جمہور علماء اور فقہا کی رائے ہے۔
It was narrated that ‘Adi bin Hatim said:
“I asked the Messenger of Allah (ﷺ): ‘We are people who hunt with these dogs.’ He said: ‘If you send out your trained dogs and mention the Name of Allah over them, then eat whatever they catch even if they kill it, unless the dog has eaten any of it. If the dog has eaten any of it then do not eat it, for I fear that it will have caught it for itself. And if another dog joins it, then do not eat it.’”
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: ہم ایک ایسی قوم ہیں جو کتوں سے شکار کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم سدھائے ہوئے کتوں کو «بسم الله» کہہ کر چھوڑو، تو ان کے اس شکار کو کھاؤ جو وہ تمہارے لیے روکے رکھیں، چاہے انہیں قتل کر دیا ہو، سوائے اس کے کہ کتے نے اس میں سے کھا لیا ہو، اگر کتے نے کھا لیا تو مت کھاؤ، اس لیے کہ میں ڈرتا ہوں کہ کہیں کتے نے اسے اپنے لیے پکڑا ہو، اور اگر اس سدھائے ہوئے کتوں کے ساتھ دوسرے کتے بھی شریک ہو گئے ہوں تو بھی مت کھاؤ ۱؎۔ ابن ماجہ کہتے ہیں کہ میں نے علی بن منذر کو کہتے سنا کہ میں نے اٹھاون حج کیے ہیں اور ان میں سے اکثر پیدل چل کر۔
Takhreej
«صحیح البخاری/الوضو ۳۳ (۱۷۵)، البیوع ۳ (۲۰۵۴)، الصید ۱ (۵۴۷۵)،۲ (۵۴۷۶)،۳ (۵۴۷۷)،۷ (۵۴۸۳)،۹ (۵۴۸۴)،۱۰ (۵۴۸۵)، صحیح مسلم/الصید ۱ (۱۹۲۹)، سنن ابی داود/الصید ۲ (۲۸۴۸)،(تحفة الأشراف:۹۸۵۵)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصید ۱ (۱۴۵۶)، سنن النسائی/الصید ۲ (۴۲۶۹)، مسند احمد (۴/۲۵۶،۲۵۷،۲۵۸،۳۷۷،۳۷۹،۳۸۰)، سنن الدارمی/الصید ۱ (۲۰۴۵)
Explanation
اس حدیث سے کئی مسئلے معلوم ہوئے: (۱) سدھائے ہوئے کتے کا شکار مباح اور حلال ہے، (۲) کتا مُعَلَّم ہو یعنی اسے شکار کی تعلیم دی گئی ہو، (۳) اس سدھائے ہوئے کتے کو شکار کے لیے بھیجا گیا ہو پس اگر وہ خود سے بغیر بھیجے شکار کر لائے تو اس کا کھانا حلال نہیں ہے، یہی جمہور علماء کا قول ہے، (۴) کتے کو شکار پر بھیجتے وقت «بسم الله» کہا گیا ہو، (۵) معلّم کتے کے ساتھ کوئی دوسرا کتا شکار میں شریک نہ ہو، اگر دوسرا شریک ہے تو حرمت کا پہلو غالب ہو گا، اور یہ شکار حلال نہ ہو گا، (۶) کتا شکار میں سے کچھ نہ کھائے بلکہ اپنے مالک کے لیے محفوظ رکھے، تب یہ شکار حلال ہو گا ورنہ نہیں۔
It was narrated that Abu Dharr said:
“I asked the Messenger of Allah (ﷺ) about the all-black dog and he said: ‘(It is) a devil.’”
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خالص سیاہ کتے کے متعلق سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ شیطان ہے ۔
It was narrated that ‘Adi bin Hatim said:
“I said: ‘O Messenger of Allah, we are people who shoot (arrows).’ He said: ‘If you shoot and pierce (the game), then eat what you pierced.’”
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم تیر انداز لوگ ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تیر مارو اور وہ ( شکار کے جسم میں ) گھس جائے، تو جس کے اندر تیر پیوست ہو جائے اسے کھاؤ ۔
Takhreej
«تفرد ابن ماجة بھذاالسیاق (تحفة الأشراف:۹۸۶۸، ومصباح الزجاجة:۱۱۰۴)، قد أخرجہ: صحیح البخاری/البیوع ۳ (۲۰۵۴)، الذبائح ۳ (۵۴۷۷)، صحیح مسلم/الصید ۱ (۱۹۲۹)، سنن ابی داود/الصید ۲ (۲۸۴۷)، سنن الترمذی/الصید ۱ (۱۴۶۵)،۳ (۱۴۶۷)، سنن النسائی/الصید ۳ (۴۲۷۰)، مسند احمد (۴،۲۵۶،۲۵۸،۳۸۰)، سنن الدارمی/الصید ۱ (۲۰۴۶)
It was narrated that ‘Adi bin Hatim said:
“I said: ‘O Messenger of Allah, what if I shoot the game but it vanishes at night?’ He said: ‘If you find your arrow in it and you do not find anything else, then eat it.’”
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ میں شکار کرتا ہوں اور شکار مجھ سے پوری رات غائب رہتا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم اس شکار میں اپنے تیر کے علاوہ کسی اور کا تیر نہ پاؤ تو اسے کھاؤ ۔
It was narrated that ‘Adi bin Hatim said:
“I asked the Messenger of Allah (ﷺ) about hunting with Mi’rad. He said: ‘Whatever it struck with its sharp edge, then eat it, but what is struck with its side is something that has been killed by a violent blow.’”
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہتھیار کی چوڑان سے شکار کے متعلق سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو تیر کی نوک سے مرے اسے کھاؤ، اور جو اس کے عرض ( چوڑان ) سے مرے وہ مردار ہے ۔
It was narrated that ‘Adi bit Hatim said:
“I asked the Messenger of Allah (ﷺ) about Mi’rad. He said: ‘Do not eat unless you pierce (the game).’”
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہتھیار کی چوڑان سے شکار کے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شکار میں تیر پیوست ہوا ہو صرف اسی کو کھاؤ ۔
Takhreej
«صحیح البخاری/الصید ۳ (۵۴۷۷)، التوحید ۱۳ (۷۳۹۷)، صحیح مسلم/الصید ۱ (۱۹۲۹)، سنن الترمذی/الصید ا (۱۴۶۵)، سنن النسائی/الصید ۳ (۴۲۷۰)،(تحفة الأشراف:۹۸۷۸)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۴/۲۵۶،۲۵۸،۳۷۷،۳۸۰)
It was narrated from Ibn ‘Umar that the Prophet (ﷺ) said:
“Whatever is cut from an animal hen it is still alive, what is cut from it is Maitah (dead meat).”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زندہ جانور سے جو حصہ کاٹ لیا جائے تو کاٹا گیا حصہ مردار کے حکم میں ہے ۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۶۷۳۷، ومصباح الزجاجة:۱۱۰۵)
It was narrated that Tamim Dari said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘At the end of time there will be people who will cut off camels’ humps and sheep’s tails. But what is cut from a living animal is dead.’”
تمیم داری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اخیر زمانہ میں کچھ ایسے لوگ ہوں گے جو اونٹوں کی کوہان اور بکریوں کی دمیں کاٹیں گے، آ گاہ رہو! زندہ جانور کا جو حصہ کاٹ لیا جائے وہ مردار کے ( حکم میں ) ہے۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۲۰۶۰، ومصباح الزجاجة:۱۱۰۶)
It was narrated that Salman said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) was asked about locusts. He said: ‘(They are) the most numerous troop of Allah. I neither eat them nor forbid them.’”
سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ٹڈی کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ٹڈی اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا لشکر ہے، نہ تو میں اسے کھاتا ہوں، اور نہ ہی اسے حرام قرار دیتا ہوں ۔
Pick a verse, and get a ready Quran image or a short vertical video for
YouTube Shorts, Instagram and Facebook Reels, TikTok and WhatsApp Status —
Arabic with English and Urdu translation, free on
WizTools123.