It was narrated from Abu Qatadah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
“Fasting the day of ‘Ashura’, I hope, will expiate for the sins of the previous year.”
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عاشوراء کا روزہ میں سمجھتا ہوں کہ اس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ پچھلے ایک سال کے گناہ معاف کر دے گا ۔
It was narrated from Rabi’ah bin Ghaz that he asked ‘Aishah about the fasting of the Messenger of Allah (ﷺ). She said:
“He used to make sure he fasted on Mondays and Thursdays.”
ربیعہ بن الغاز سے روایت ہے کہ انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روزوں کے سلسلے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوشنبہ اور جمعرات کے روزے کا اہتمام کرتے تھے ۱؎۔
Takhreej
انظر حدیث رقم:(۱۶۴۹)،(تحفة الأشراف:۱۶۰۸۱)
Explanation
اس کی ایک وجہ تو یہ بیان کی گئی ہے کہ ان دونوں دنوں میں اعمال اللہ کے حضور پیش کئے جاتے ہیں، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: «عرض الأعمال يوم الاثنين والخميس فأحب أن يعرض عملى وأنا صائم» یعنی سوموار اور جمعرات کو اعمال اللہ تعالیٰ پر پیش کئے جاتے ہیں، پس میں چاہتا ہوں کہ میرے عمل اس حالت میں اللہ تعالی پر پیش کئے جائیں کہ میں روزے سے ہوں، اور دوسری وجہ وہ ہے جس کا ذکرصحیح مسلم کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے سوموار کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: یہ وہ دن ہے جس میں میری ولادت ہوئی، اور اس میں میری بعثت ہوئی یا اسی دن مجھ پر وحی نازل کی گئی اس لیے عید میلاد النبی کسی کو منانا ہو تو اس کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ اس دن روزہ رکھا جائے نہ کہ جلوس نکالا جائے،خرافات کی جائے اور گلی کوچوں کی سجاوٹ پر لاکھوں روپئے برباد کئے جائیں، یہ سب بدعت ہے۔
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (ﷺ) used to fast on Mondays and Thursdays. It was said:
“O Messenger of Allah, why do you fast on Mondays and Thursdays?” He said: “On Mondays and Thursdays Allah forgives every Muslim except two who have forsaken one another. He says: ‘Leave these two until they reconcile.’”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دوشنبہ اور جمعرات کو روزہ رکھتے تھے، تو پوچھا گیا: اللہ کے رسول! آپ دوشنبہ اور جمعرات کو روزہ رکھتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو شنبہ اور جمعرات کو اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کو بخش دیتا ہے سوائے دو ایسے لوگوں کے جنہوں نے ایک دوسرے سے قطع تعلق کر رکھا ہو، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ان دونوں کو چھوڑو یہاں تک کہ باہم صلح کر لیں ۔
Takhreej
تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۲۷۴۶، و مصباح الزجاجة:۶۲۳)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصوم ۴۴ (۷۴۷)، مسند احمد (۲/۳۲۹)، سنن الدارمی/الصوم ۴۱ (۱۷۹۲)
It was narrated from Abu Mujibah Al-Bahili that his father or, his paternal uncle, said:
“I came to the Prophet (ﷺ) and said: ‘O Prophet of Allah, I am the man who came to you last year.’ He said: ‘Why do I see your body so thin (and weak)?’ He said: ‘O Messenger of Allah! I do not eat during the day; I only eat at night.’ He said: ‘Who commanded you to punish yourself?’ I said: ‘O Messenger of Allah! I am strong enough.’ He said: ‘Fast the month of patience* and one day after it.’ I said: ‘I am strong enough (to do more).’ He said: ‘Fast the month of patience and two days after it.’ I said: ‘I am strong enough (to do more).’ He said: ‘Fast the month of patience and three days after it, and fast the sacred months.’”
ابومجیبہ باہلی اپنے والد یا چچا سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور عرض کیا: اللہ کے نبی! میں وہی شخص ہوں جو آپ کے پاس پچھلے سال آیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا سبب ہے کہ میں تم کو دبلا دیکھتا ہوں ، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میں دن کو کھانا نہیں کھایا کرتا ہوں صرف رات کو کھاتا ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں کس نے حکم دیا کہ اپنی جان کو عذاب دو ؟ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں طاقتور ہوں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم صبر کے مہینے ۱؎ کے روزے رکھو، اور ہر ماہ ایک روزہ رکھا کرو میں نے عرض کیا: مجھے اس سے زیادہ طاقت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم صبر کے مہینے کے روزے رکھو، اور ہر ماہ میں دو روزے رکھا کرو میں نے کہا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صبر کے مہینہ میں روزے رکھو، اور ہر ماہ میں تین روزے اور رکھو، اور حرمت والے مہینوں میں روزے رکھو ۲؎۔
Takhreej
سنن ابی داود/الصوم ۵۴ (۲۴۲۸)،(تحفة الأشراف:۵۲۴۰)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۵/۲۸)
Explanation
صبر کے مہینے سے مراد صیام کا مہینہ (رمضان) ہے، صبر کے اصل معنی روکنے کے ہوتے ہیں، چونکہ اس مہینہ میں روزہ دار اپنے آپ کو دن میں کھانے پینے اور جماع سے روکے رکھتا ہے اس لیے اسے «شہر الصبر» (صبر کا مہینہ) کہا گیا ہے۔ ۲؎: حرمت والے مہینوں سے مراد یہاں ذی الحجہ اور محرم کے مہینے ہیں، ویسے حرمت والے مہینے چار ہیں: رجب، ذو العقدہ، ذوالحجۃ و محرم۔
It was narrated that Abu Hurairah said:
“A man came to the Prophet (ﷺ) and said: ‘Which fasting is better after the month of Ramadan?’ He said: ‘The month of Allah which is called Muharram.’”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: رمضان کے روزوں کے بعد سب سے افضل روزہ کون سا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے مہینے کا جسے تم لوگ محرم کہتے ہو ۔
It was narrated from Muhammad bin Ibrahim that Usamah bin Zaid used to fast the sacred months. The Messenger of Allah (ﷺ) said to him:
“Fast Shawwal.” So he forsook the sacred months and he continued to fast Shawwal until he died.
محمد بن ابراہیم سے روایت ہے کہ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما حرمت والے مہینوں میں روزے رکھتے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: شوال میں روزے رکھو ، تو انہوں نے حرمت والے مہینوں میں روزے رکھنا چھوڑ دیا، پھر برابر شوال میں روزے رکھتے رہے، یہاں تک کہ ان کا انتقال ہو گیا۔
Takhreej
تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۲۱، ومصباح الزجاجة:۶۲۵)
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
“For everything there is Zakat and the Zakat of the body is fasting.” (A narrator in one of the chains) Muhriz added in his narration: And the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Fasting is half of patience.'
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر چیز کی زکاۃ ہے، اور بدن کی زکاۃ روزہ ہے محرز کی روایت میں اتنا اضافہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: روزہ آدھا صبر ہے ۔
Takhreej
تفر د بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۲۲۳۶، ومصباح الزجاجة:۶۲۶)
It was narrated from Zaid bin Khalid Al-Juhani that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
“Whoever gives food for a fasting person to break his fast, he will have a reward like theirs, without that detracting from their reward in the slightest.”
زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی کسی روزہ دار کو افطار کرا دے تو اس کو روزہ دار کے برابر ثواب ملے گا، اور روزہ دار کے ثواب میں سے کوئی کمی نہیں ہو گی ۱؎۔
سبحان اللہ، روزہ دار کا روزہ افطار کرانا، اس میں بھی روزے کے برابر ثواب ہے، دوسری روایت میں ہے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہر شخص میں اتنی استعداد کہاں ہوتی ہے کہ روزہ دار کا روزہ افطار کرائے، آپ ﷺ نے فرمایا: یہ ثواب اس کو بھی ملے گا جو روزہ دار کا روزہ دودھ ملے ہوئے ایک گھونٹ پانی سے کھلوا دے، یا ایک کھجور، یا ایک گھونٹ پانی سے کھلوا دے، اور جو کوئی روزہ دار کو پیٹ بھر کے کھلا دے اس کو تو اللہ تعالی میرے حوض سے ایک گھونٹ پلائے گا، اس کے بعد وہ پیاسا نہ ہو گا یہاں تک کہ جنت میں داخل ہو گا (سنن بیہقی)۔
It was narrated that ‘Abdullah bin Zubair said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) broke his fast with Sa’d bin Mu’adh and said: ‘Aftara ‘indakumus-saimun, wa akala ta’amakumul-abrar, wa sallat ‘alaikumul- mala’ikah (May fasting people break their fast with you, may the righteous eat your food, and may the angels send blessing upon you).”
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے پاس افطار کیا اور فرمایا: تمہارے پاس روزہ رکھنے والوں نے افطار کیا، اور تمہارا کھانا، نیک لوگوں نے کھایا اور تمہارے لیے فرشتوں نے دعا کی ۔
Takhreej
تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۵۲۸۷، ومصباح الزجاجة:۶۲۷)
It was narrated that Umm ‘Umarah said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) came to us and we brought food for him. Some of those who were with him were fasting, and the Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘If food is eaten in the presence of one who is fasting, the angels send blessing upon him.’”
ام عمارہ بنت کعب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، تو ہم نے آپ کو کھانا پیش کیا، آپ کے ساتھیوں میں سے کچھ روزے سے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: روزہ دار کے سامنے جب کھانا کھایا جائے ( اور وہ صبر کرے ) تو فرشتے اس کے لیے دعا کرتے ہیں ۔
Takhreej
سنن الترمذی/الصوم ۶۷ (۷۸۴،۷۸۵)،(تحفة الأشراف:۱۸۳۳۵)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۶/۳۶۵،۴۳۹)، سنن الدارمی/الصوم ۳۲ (۱۷۷۹)
It was narrated from Sulaiman bin Buraidah that his father said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) said to Bilal: ‘Come and eat, O Bilal.’ He said: ‘I am fasting.’ The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘We are eating our provision, but most of Bilal’s provision is in Paradise. Do you realise, O Bilal, that the bones of the fasting person glorify Allah and the angels pray for forgiveness for him so long as food is eaten in front of him?’”
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اے بلال! دوپہر کا کھانا حاضر ہے، انہوں نے کہا: میں روزے سے ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم تو اپنی روزی کھا رہے ہیں، اور بلال کی بچی ہوئی روزی جنت میں ہے، تم کو معلوم ہے، اے بلال! روزہ دار کی ہڈیاں تسبیح بیان کرتی ہیں، اور فرشتے اس کے لیے استغفار کرتے ہیں، جب تک اس کے سامنے کھانا کھایا جاتا ہے ۔
Takhreej
تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۹۴۴، ومصباح الزجاجة:۶۲۹)
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (ﷺ) said:
“If anyone of you is invited to eat when he is fasting, let him say: ‘I am fasting.’”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کسی کو کھانا کھانے کے لیے بلایا جائے، اور وہ روزے سے ہو، تو کہے کہ میں روزے سے ہوں ۱؎۔
میں صوم سے ہوں کہنے کا حکم دعوت قبول نہ کرنے کی معذرت کے طور پر ہے اگرچہ نوافل کا چھپانا بہتر ہے لیکن یہاں اس کے ظاہر کرنے کا حکم اس لیے ہے کہ تاکہ داعی کے دل میں مدعو کے خلاف کوئی غلط فہمی یا کدورت راہ نہ پائے۔
It was narrated from Jabir that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
“Whoever is invited to eat when he is fasting, let him accept the invitation; and if he wants to let him eat, and if he wants let him not eat.”
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کسی کو کھانے کے لیے دعوت دی جائے، اور وہ روزے سے ہو تو وہ دعوت قبول کرے، پھر اگر چاہے تو کھائے اور اگر چاہے تو نہ کھائے ۔
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
There are three whose supplications are not turned back: A just ruler, and a fasting person until he breaks his fast. And, the supplication of one who has been wronged is raised by Allah up to the clouds on the Day of Resurrection, and the gates of heaven are opened for it, and Allah says, ‘By My Might I will help you (against the wrongdoer) even if it is after a while.’”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین آدمیوں کی دعا رد نہیں کی جاتی: ایک تو عادل امام کی، دوسرے روزہ دار کی یہاں تک کہ روزہ کھولے، تیسرے مظلوم کی، اللہ تعالیٰ اس کی دعا قیامت کے دن بادل سے اوپر اٹھائے گا، اور اس کے لیے آسمان کے دروازے کھول دئیے جائیں گے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میری عزت کی قسم! میں تمہاری مدد ضرور کروں گا گرچہ کچھ زمانہ کے بعد ہو ۱؎۔
Takhreej
سنن الترمذی/الدعوات ۲۹ (۳۵۹۸)،(تحفة الأشراف:۱۵۴۵۷)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۲/۳۰۴،۳۰۵،۴۴۵،۴۴۷)
Explanation
مظلوم کی آہ خالی جانے والی نہیں، ظالم اگر چند روز بچا رہے، تو اس سے یہ نہ سمجھنا چاہئے کہ اللہ تعالی اس سے راضی ہے، بلکہ یہ استدراج اور ڈھیل ہے کہ ایک نہ ایک دن دنیا ہی میں اللہ تعالیٰ اس سے بدلہ لے لے گا، حدیث میں مظلوم کو مطلق رکھا مسلمان کی قید نہیں کی، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کافر پر بھی ظلم ناجائز ہے، کیونکہ سب اللہ کے بندے ہیں، اور کافر اگر مظلوم ہو تو اس کی دعا اثر کرے گی، غرض ظلم سے انسان کو ہمیشہ بچتے رہنا چاہئے، اس کے برابر کوئی گناہ نہیں، اور ظلم کا اطلاق ہر زیادتی اور نقصان پر جو ناحق کسی کے ساتھ کیا جائے، خواہ مال کا نقصان ہو یا عزت کا یا جان کا۔
It was narrated from ‘Abdullah bin ‘Amr bin ‘As that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
“When the fasting person breaks his fast, his supplication is not turned back.”
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: روزہ دار کی دعا افطار کے وقت رد نہیں کی جاتی ۔ ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کو سنا کہ جب وہ افطار کرتے تو یہ دعا پڑھتے: «اللهم إني أسألك برحمتك التي وسعت كل شيء أن تغفر لي» اے اللہ! میں تیری رحمت کے ذریعہ سوال کرتا ہوں جو ہر چیز کو وسیع ہے کہ مجھے بخش دے ۔
Takhreej
تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۸۸۴۲، ومصباح الزجاجة:۶۳۰)
It was narrated that Ibn ‘Umar said:
“The Prophet (ﷺ) would not go out on the Day of Fitr until he had had given his Companions some of the charity of Fitr to eat.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر میں عید گاہ اس وقت تک نہیں جاتے تھے جب تک کہ اپنے ( مساکین ) صحابہ کو اس صدقہ فطر میں سے کھلا نہ دیتے ( جو آپ کے پاس جمع ہوتا ) ۔
Takhreej
تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۸۲۳۴، ومصباح الزجاجة:۶۳۱)
It was narrated from Ibn Buraidah from his father, that:
The Messenger of Allah (ﷺ) would not go out on the Day of Fitr until he had eaten, and he would not eat on the Day of Nahr (the day of sacrifice) until he came back.
بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے دن جب تک کہ کچھ کھا نہ لیتے نہیں نکلتے اور عید الاضحی کے دن نہیں کھاتے جب تک کہ ( عید گاہ سے ) واپس نہ آ جاتے ۱؎۔
Takhreej
سنن الترمذی/الصلاة ۲۷۳ (۵۴۲)،(تحفة الأشراف:۱۹۵۴)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۵/۲۵۲،۳۶۰)، سنن الدارمی/الصلاة ۲۱۷ (۱۶۴۱)
Explanation
اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ عیدالفطر کے دن نماز عید سے پہلے کچھ کھانا، اور عیدالاضحی کے دن بغیر کچھ کھائے نماز ادا کرنا سنت ہے، اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کھانے میں کسی خاص چیز کی ہدایت نہیں ہے، البتہ کھجور یا چھوہارے کھا کر جانا مسنون ہے، اس لیے رسول اللہ ﷺ عیدالفطر کے دن طاق کھجوریں کھا کر عیدگاہ جایا کرتے تھے۔
It was narrated from Ibn ‘Umar that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
‘Whoever dies owing the fasts of a month, one poor person should be fed on his behalf for each day.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص مر جائے، اور اس پہ رمضان کے روزے ہوں تو اس کی جانب سے ہر دن کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلایا جائے ۔