TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 160 مشکوۃ

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 21 of 58 in this chapter
بَاب الِاعْتِصَام بِالْكتاب وَالسّنة
کتاب و سنت کے ساتھ تمسک اختیار کرنے کا بیان
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الْإِيمَانَ لَيَأْرِزُ إِلَى الْمَدِينَةِ كَمَا تأرز الحيية إِلَى جحرها»
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ بے شک ایمان مدینہ کی طرف سمٹ آئے گا جس طرح سانپ اپنے بل کی طرف سمٹ آتا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ، رواہ البخاری (۱۸۷۶) و مسلم ۔ ہم ان شاءاللہ تعالیٰ ابوہریرہ ؓ سے مروی حدیث : ((ذرونی ما ترکتکم)) کتاب المناسک میں اور معاویہ و جابر ؓ سے مروی حدیثیں : ((لایزال من امتی)) اور ((ولا یزال طائفۃ من امتی)) باب ثواب ھذہ الامۃ میں ذکر کریں گے ۔
160
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
Conclusion
تخریج
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۱۸۷۲) و مسلم (۲۳۳ / ۱۴۷) 0 حدیث ’’ ذرونی ماترکتکم ‘‘ یاتی (۲۵۰۵) و حدیث ’’ لا یزال من امتی ‘‘ یاتی (۶۲۷۶ حدیث معاویۃ ، ۵۵۰۷ حدیث جابر) و حدیث ’’ لا یزال طائفۃ من امتی ‘‘ یاتی (۶۲۸۳) ۔ 1876

Related Chapters

621
1
Chapter: What has been related about the choice
باب: عورت کو ساتھ رہنے یا نہ رہنے کے اختیار دینے کا بیان
Jam e Tirmazi
2
نیکوکاروں سے محبت کرنے، ان کی صحبت اختیار کرنے، ان کے ساتھ بیٹھنے، ان کی زیارت کرنے اور ان کی عزت کرنے اور ان کو تکلیف نہ دینے کی ترغیب کا بیان
Musnad Ahmad
3
ان خواتین کا تذکرہ جن سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نکاح کیا،یا جنہوں نے اپنے آپ کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے ہبہ کر دیا اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے ساتھ خلوت اختیار نہیں کییا وہ خواتین کہ جن سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نکاح کا وعدہ کیا
Musnad Ahmad
4
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ آپ کی بعض ازواج کا حیلہ کرنے کا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ان کی ایذائوں کو برداشت کرنے، ان سے درگزر کرنے اور گھر کے اندر انکساری کا رویہ اختیار کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
5
(112) CHAPTER. A man should not stay with a woman in seclusion unless he is a Dhu-Mahram (a person who is legally not allowed to marry that woman, e.g. her father or brother, etc.). (And it is unlawful for one) to enter upon a woman whose husband is absent.
محرم کے سوا کوئی غیر مردکسی غیر عورت کے ساتھ تنہائی نہ اختیار کرے ۔
Sahih Bukhari
6
47جس شخص کی فضیلت جو خود قرآن کے ساتھ(اس کی تلاوت کرتے ہوئے)قیام کرتا ہے اور (دوسروں کو)اس کی تعلیم دیتا ہے اور اس انسان کی فضیلت جس نے فقہ وغیرہ پر مشتمل حکمت (سنت )سیکھی ‘اس پر عمل کیا اور اس کی تعلیم دی
Sahih Muslim
7
CHAPTER: If Two Slaves Are Set Free Together, Does The Wife Have The Option?
باب: جب میاں بیوی دونوں ایک ساتھ آزاد ہوں تو کیا بیوی کو اختیار حاصل ہو گا ؟
Sunnan Abu Dawood
8
مرد اپنی بیوی کو ساتھ رہنے یا نہ رہنے کا اختیار دیدے
Sunnan Ibn e Maja
9
باب: آزادی پانے والی لونڈی کو اپنے غلام شوہر کے ساتھ رہنے یا نہ رہنے کا اختیار ہے۔
Sunnan Nisai
10
باب: میاں بیوی میں سے کوئی ایک اسلام قبول کر لے تو نابالغ بیٹے کو کسی ایک کے ساتھ ہو جانے کا اختیار دیا جائے گا۔
Sunnan Nisai
11
(95)Chapter: [What Has Been Related] About AI-Mustahadah That She Can Combine Two Prayers With One Ghusl
باب: مستحاضہ ایک غسل سے دو نمازیں ایک ساتھ جمع کر سکتی ہے
Jam e Tirmazi
12
(99)Chapter: What Has Been Related About Fondling Menstruating Woman
باب: حائضہ کے ساتھ بوس و کنار کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
13
(100)Chapter: What Has Been Related About Eating With A Menstruating Woman And Leftovers
باب: حائضہ کے ساتھ کھانے اور اس کے جھوٹے کا بیان
Jam e Tirmazi
14
Chapter: What Has Been Related About Combining Two Prayers While [A Resident]
باب: حضر (اقامت کی حالت) میں دو نمازوں کو ایک ساتھ جمع کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
15
Chapter: What Has Been Related About A Man Who Prays While Another Man Is With Him
باب: آدمی اکیلا نماز پڑھ رہا ہو اور اس کے ساتھ صرف ایک آدمی ہو تو مقتدی کہاں کھڑا ہو؟
Jam e Tirmazi
16
Chapter: What Has Been Related About A Man Who Prays With Two Men
باب: کوئی دو آدمیوں کے ساتھ (بطور امام) نماز پڑھ رہا ہو تو کہاں کھڑا ہو؟
Jam e Tirmazi
17
Chapter: What Has Been Related About A Man Who Prays And A Man And A Woman Are With Him
باب: آدمی نماز پڑھا رہا ہو اور اس کے ساتھ مرد اور عورتیں دونوں ہوں تو کیا حکم ہے؟
Jam e Tirmazi
18
Chapter: What Has Been Related About: Curtailing The Salam Is A Sunnah
باب: سلام زیادہ نہ کھینچ کر کہنا سنت ہے
Jam e Tirmazi
19
Chapter: What Has Been Related About One Who Prays Twelve Rak'ah Of Sunnah In A and Night, And What Virtues He Will Have For That
باب: دن و رات میں بارہ رکعتیں سنت پڑھنے کے ثواب کا بیان
Jam e Tirmazi
20
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of The Two Rak'ah (Before) Fajr
باب: فجر کی دونوں سنتوں کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
21
Chapter: What Has Been Related About 'There Is No Salat After Fajr Begins Except For Two Rak'ah'
باب: طلوع فجر کے بعد سوائے فجر کی دو رکعت سنت کے کوئی نماز نہیں
Jam e Tirmazi
22
Chapter: What Has Been Related About Lying On One's Side After The Two Rak'ah Of Fajr
باب: فجر کی دونوں سنتوں کے بعد لیٹنے کا بیان
Jam e Tirmazi
23
Chapter: What Has Been Related About One Who Misses The Two Rak'ah Before Fajr Praying Them After The Subh Prayer
باب: فجر سے پہلے کی دونوں سنتیں چھوٹ جائیں تو انہیں نماز فجر کے بعد پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
24
Chapter: What Has Been Related About Waiting To Perform Them After The Sun Has Risen
باب: سورج نکلنے کے بعد فجر کی سنت پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
25
Chapter: What Has Been Related About The Four Rak'ah Before Az-Zuhr
باب: ظہر سے پہلے چار رکعت سنت پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
26
Chapter: What Has Been Related About The Two Rak'ah After Az-Zuhr
باب: ظہر کے بعد دو رکعت سنت پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
27
Chapter: What Has Been Related About The Four (Rak'ah) Before Asr
باب: عصر سے پہلے چار رکعت سنت پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
28
Chapter: What Has Been Related About Him (S) Praying Them In The House
باب: مغرب کی دو رکعت سنت گھر میں پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
29
Chapter: What Has Been Related About The Two Rak'ah After Isha
باب: عشاء کے بعد دو رکعت سنت پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
30
Chapter: [What Has Been Related] About Salat Before the Friday Prayer And After
باب: جمعہ سے پہلے اور اس کے بعد کی سنتوں کا بیان
Jam e Tirmazi
31
Chapter: What Has Been Related About Combining Two Prayers
باب: دو نمازوں کو ایک ساتھ پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
32
Chapter: What Has Been Related About Combining Hajj And Umrah
باب: حج اور عمرہ کے ایک ساتھ کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
33
Chapter: What Has Been Related About Combining Maghrib and Isha At Muzdalifah
باب: مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کو ایک ساتھ جمع کر کے پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
34
Chapter: What has been related about it being disliked to enter upon women whose husbands are absent
باب: غیر محرم عورت کے ساتھ تنہائی میں ہونے کی حرمت کا بیان
Jam e Tirmazi
35
Chapter: What Has Been Related About 'Both The Buyer And The Seller Retain The Option As Long As They Have Not Separated'
باب: بیچنے والا اور خریدار دونوں کو جب تک وہ جدا نہ ہوں بیع کو باقی رکھنے یا فسخ کرنے کا اختیار ہے
Jam e Tirmazi
36
Chapter: What Has Been Related About The Option Of The Buyer And The Seller
باب: بائع اور مشتری کی رضا مندی اور اختیار سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
37
Chapter: What Has Been Related About The Oath Along With A Witness
باب: ایک گواہ کے ساتھ مدعی قسم کھانا دعویٰ کو ثابت کرنا ہے
Jam e Tirmazi
38
Chapter: What Has Been Related About The Boy Choosing Between His Parents When They Separate
باب: ماں باپ کی جدائی کی صورت میں بچے کو اختیار دئیے جانے کا بیان
Jam e Tirmazi
39
Chapter: What Has Been Related About A Man Having Relations With The Slave Girl Of His Wife
باب: بیوی کی لونڈی کے ساتھ زنا کرنے والے کے حکم کا بیان
Jam e Tirmazi
40
Chapter: The Evidence That The Udhiyah (sacrifice) Is A Sunnah
باب: قربانی کے سنت ہونے کی دلیل
Jam e Tirmazi
41
Chapter: What Has Been Related About There Is No Vowing In That Over Which The Son Of Adam Has No Control
باب: جو چیز آدمی کے اختیار میں نہیں اس میں نذر نہیں
Jam e Tirmazi
42
Chapter: What Has Been Related About Ahl Adh-Dhimmah Fighting With The Muslims, Are They To Recieve A Share Of The Spoils Of War ?
باب: مال غنیمت میں مسلمانوں کے ساتھ جنگ میں شریک ذمیوں کے حصہ کا بیان
Jam e Tirmazi
43
Chapter: What Has Been Related About Eating With A Leper
باب: کوڑھی کے ساتھ کھانے کا بیان
Jam e Tirmazi
44
Chapter: What Has Been Related About Eating Melon With Fresh Dates
باب: تازہ کھجور کے ساتھ تربوز کھانے کا بیان
Jam e Tirmazi
45
Chapter: What Has Been Related About Eating Snake Cucumber With Fresh Dates
باب: کھجور کے ساتھ ککڑی کھانے کا بیان
Jam e Tirmazi
46
Chapter: What Has Been Related About Eating With Slaves (And Dependants)
باب: بال بچوں، خادم اور غلام کے ساتھ کھانے کا بیان
Jam e Tirmazi
47
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Spend While One Has A Smell On His Hand
باب: چکنائی کی بو والے ہاتھوں کے ساتھ سونے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
48
Chapter: What Has Been Related About Being Dutiful To Parents.
باب: ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
49
Chapter: Also About That
باب: ماں باپ کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنے سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
50
Chapter: About Being Dutiful To The Maternal Aunt
باب: خالہ کے ساتھ حسن سلوک کا بیان
Jam e Tirmazi
No related chapter matched that.

Related Hadith

876
Sahih Bukhari
1876
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِنَّ الْإِيمَانَ لَيَأْرِزُ إِلَى الْمَدِينَةِ كَمَا تَأْرِزُ الْحَيَّةُ إِلَى جُحْرِهَا .
Narrated Abu Huraira: Allah's Apostle said, Verily, Belief returns and goes back to Medina as a snake returns and goes back to its hole (when in danger).
ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے انس بن عیاض نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے عبیداللہ عمری نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے خبیب بن عبدالرحمٰن نے، ان سے حفص بن عاصم نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( قیامت کے قریب ) ایمان مدینہ میں اس طرح سمٹ آئے گا جیسے سانپ سمٹ کر اپنے بل میں آ جایا کرتا ہے۔
Sahih Muslim
374
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، وَأَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، ح، وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ الْإِيمَانَ لَيَأْرِزُ إِلَى الْمَدِينَةِ، كَمَا تَأْرِزُ الْحَيَّةُ إِلَى جُحْرِهَا»
It is narrated on the authority of Abu Huraira that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Verily the faith would recede to Medina just as the serpent crawls back into its hole.
حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ بلاشبہ ایمان مدینہ کی جانب یوں سمٹ آئے گا جیسے سانپ اپنے بل کی جانب سمٹ آتا ہے ۔ ‘ ‘
Sunnan Ibn e Maja
3111
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏ وَأَبُو أُسَامَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنَّ الْإِيمَانَ لَيَأْرِزُ إِلَى الْمَدِينَةِ، ‏‏‏‏‏‏كَمَا تَأْرِزُ الْحَيَّةُ إِلَى جُحْرِهَا .
it was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Faith will retreat to Al-Madinah as a snake retreats to its hole.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایمان مدینہ میں اسی طرح سمٹ آئے گا جیسے سانپ اپنی بل میں سما جاتا ہے ۱؎۔
Jam e Tirmazi
187
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:‏‏‏‏ جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، ‏‏‏‏‏‏وَبَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِالْمَدِينَةِ مِنْ غَيْرِ خَوْفٍ وَلَا مَطَرٍ . قَالَ:‏‏‏‏ فَقِيلَ لِابْنِ عَبَّاسٍ:‏‏‏‏ مَا أَرَادَ بِذَلِكَ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ أَرَادَ أَنْ لَا يُحْرِجَ أُمَّتَهُ. وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ قَدْ رُوِيَ عَنْهُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، ‏‏‏‏‏‏رَوَاهُ جَابِرُ بْنُ زَيْدٍ،‏‏‏‏ وَسَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ،‏‏‏‏ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَقِيقٍ الْعُقَيْلِيُّ، ‏‏‏‏‏‏وقد روي عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرُ هَذَا
Ibn Abbas said: Allah's Messenger combined the Zuhr and Asr (prayers), and the Maghrib and Isha (prayers) in Al-Madinah, without being in a state of fear, nor due to rain.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بغیر خوف اور بارش ۱؎ کے مدینے میں ظہر اور عصر کو ایک ساتھ اور مغرب اور عشاء کو ایک ساتھ جمع کیا ۲؎۔ ابن عباس رضی الله عنہما سے پوچھا گیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس سے کیا منشأ تھی؟ کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا منشأ یہ تھی کہ آپ اپنی امت کو کسی پریشانی میں نہ ڈالیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے، ۲- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث کئی سندوں سے مروی ہے، ابن عباس رضی الله عنہما سے اس کے خلاف بھی مرفوعاً مروی ہے ۳؎۔
Jam e Tirmazi
251
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ سَكْتَتَانِ حَفِظْتُهُمَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ‏‏‏‏‏‏فَأَنْكَرَ ذَلِكَ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ:‏‏‏‏ حَفِظْنَا سَكْتَةً، ‏‏‏‏‏‏فَكَتَبْنَا إِلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ بِالْمَدِينَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَكَتَبَ أُبَيٌّ أَنْ حَفِظَ سَمُرَةُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ سَعِيدٌ:‏‏‏‏ فَقُلْنَا لِقَتَادَةَ:‏‏‏‏ مَا هَاتَانِ السَّكْتَتَانِ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ إِذَا دَخَلَ فِي صَلَاتِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا فَرَغَ مِنَ الْقِرَاءَةِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ بَعْدَ ذَلِكَ:‏‏‏‏ وَإِذَا قَرَأَ وَلا الضَّالِّينَ سورة الفاتحة آية 7 قَالَ:‏‏‏‏ وَكَانَ يُعْجِبُهُ إِذَا فَرَغَ مِنَ الْقِرَاءَةِ أَنْ يَسْكُتَ حَتَّى يَتَرَادَّ إِلَيْهِ نَفَسُهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ سَمُرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ، ‏‏‏‏‏‏يَسْتَحِبُّونَ لِلْإِمَامِ أَنْ يَسْكُتَ بَعْدَمَا يَفْتَتِحُ الصَّلَاةَ وَبَعْدَ الْفَرَاغِ مِنَ الْقِرَاءَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَبِهِ يَقُولُ:‏‏‏‏ أَحْمَدُ وَإِسْحَاق وَأَصْحَابُنَا.
Al-Hasan narrated that : Samurah said: there are two pauses that I preserved from Allah's Messenger. But Imran bin Husain rejected that and said: We preserved one pause. So we wrote to Ubayy bin Ka'b in Al-Madinah. Ubayy wrote that Samurah was correct. Sa'eed said: We said to Qatadah: 'What are those two pauses?' He said: 'When he entered into his Salat, and when he finished his recitation.' Then he (Qatadah) said after that: 'And when he recited (Nor those who went astray.)' And he said: 'He liked to pause when he finished the recitation until he caught his breath.'
سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ( نماز میں ) دو سکتے ہیں جنہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یاد کیا ہے، اس پر عمران بن حصین رضی الله عنہ نے اس کا انکار کیا اور کہا: ہمیں تو ایک ہی سکتہ یاد ہے۔ چنانچہ ( سمرہ بن جندب رضی الله عنہ کہتے ہیں ) ہم نے مدینے میں ابی بن کعب رضی الله عنہ کو لکھا، تو انہوں نے لکھا کہ سمرہ نے ( ٹھیک ) یاد رکھا ہے۔ سعید بن ابی عروبہ کہتے ہیں: تو ہم نے قتادہ سے پوچھا: یہ دو سکتے کون کون سے ہیں؟ انہوں نے کہا: جب نماز میں داخل ہوتے ( پہلا اس وقت ) اور جب آپ قرأت سے فارغ ہوتے، پھر اس کے بعد کہا اور جب «ولا الضالين» کہتے ۱؎ اور آپ کو یہ بات اچھی لگتی تھی کہ جب آپ قرأت سے فارغ ہوں تو تھوڑی دیر چپ رہیں یہاں تک کہ سانس ٹھہر جائے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- سمرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی حدیث آئی ہے، ۳- اہل علم میں سے بہت سے لوگوں کا یہی قول ہے کہ وہ امام کے لیے نماز شروع کرنے کے بعد اور قرأت سے فارغ ہونے کے بعد ( تھوڑی دیر ) چپ رہنے کو مستحب جانتے ہیں۔ اور یہی احمد، اسحاق بن راہویہ اور ہمارے اصحاب بھی کہتے ہیں۔
Jam e Tirmazi
519
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ اسْتَخْلَفَ مَرْوَانُ، ‏‏‏‏‏‏أَبَا هُرَيْرَةَ عَلَى الْمَدِينَةِ وَخَرَجَ إِلَى مَكَّةَ فَصَلَّى بِنَا أَبُو هُرَيْرَةَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَقَرَأَ سُورَةَ الْجُمُعَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَفِي السَّجْدَةِ الثَّانِيَةِ إِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ:‏‏‏‏ فَأَدْرَكْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ لَهُ:‏‏‏‏ تَقْرَأُ بِسُورَتَيْنِ كَانَ عَلِيٌّ يَقْرَأُ بِهِمَا بِالْكُوفَةِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ:‏‏‏‏ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ بِهِمَا. قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَالنُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي عِنَبَةَ الْخَوْلَانِيِّ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ. وَرُوِي عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْجُمُعَةِ بِ:‏‏‏‏ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَ هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ. عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي رَافِعٍ:‏‏‏‏ كَاتِبُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.
Ubaidullah bin Abi Rafi the freed slave of Allah's Messenger said: Marwan left Abu Hurairah in charge of Al-Madinah and he went to Makkah. So Abu Hurairah led us in Salat in Friday, reciting Surah Al-Jumuah (in the first Rak'ah) and in the second prostration (Rak'ah): When the hypocrites come to you. Ubaidullah said: So I caught up with Abu Hurairah and said to him: 'You recited two Surah that Ali recited in Al-Kufah. Abu Hurairah said: 'Indeed I heard Allah's Messenger reciting them.'
عبیداللہ بن ابی رافع کہتے ہیں: مروان نے ابوہریرہ رضی الله عنہ کو مدینے میں اپنا نائب مقرر کیا اور وہ خود مکہ کی طرف نکلے، ابوہریرہ رضی الله عنہ نے ہمیں جمعہ کے دن نماز پڑھائی تو انہوں نے ( پہلی رکعت میں ) سورۃ الجمعہ پڑھی اور دوسری رکعت میں «إذا جاءك المنافقون»،‏‏‏‏ عبیداللہ کہتے ہیں: تو میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے ملا، میں نے ان سے کہا: آپ نے دو ایسی سورتیں پڑھی ہیں جنہیں علی رضی الله عنہ کوفہ میں پڑھتے ہیں، اس پر ابوہریرہ رضی الله عنہ نے کہا: میں نے ان دونوں سورتوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پڑھتے سنا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عباس، نعمان بن بشیر اور ابوعنبہ خولانی رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ جمعہ کی نماز میں «سبح اسم ربك الأعلى» اور «هل أتاك حديث الغاشية» پڑھتے تھے۔
Jam e Tirmazi
536
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ عَمْرٍو أَبُو عَمْرٍو الْحَذَّاءُ الْمَدِينِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ الصَّائِغُ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَبَّرَ فِي الْعِيدَيْنِ فِي الْأُولَى سَبْعًا قَبْلَ الْقِرَاءَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَفِي الْآخِرَةِ خَمْسًا قَبْلَ الْقِرَاءَةِ . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ جَدِّ كَثِيرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ أَحْسَنُ شَيْءٍ رُوِيَ فِي هَذَا الْبَاب عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَاسْمُهُ عَمْرُو بْنُ عَوْفٍ الْمُزَنِيُّ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ. وَهَكَذَا رُوِيَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ صَلَّى بِالْمَدِينَةِ نَحْوَ هَذِهِ الصَّلَاةِ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَبِهِ يَقُولُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَالشَّافِعِيُّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَحْمَدُ، ‏‏‏‏‏‏وَإِسْحَاق. وَرُوِي عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ قَالَ فِي التَّكْبِيرِ فِي الْعِيدَيْنِ:‏‏‏‏ تِسْعَ تَكْبِيرَاتٍ، ‏‏‏‏‏‏فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى خَمْسًا قَبْلَ الْقِرَاءَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَفِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ يَبْدَأُ بِالْقِرَاءَةِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يُكَبِّرُ أَرْبَعًا مَعَ تَكْبِيرَةِ الرُّكُوعِ. وَقَدْ رُوِيَ عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوُ هَذَا، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ أَهْلِ الْكُوفَةِ. وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ.
Kathir bin Abdullah narrated from this father, from his grandfather: The Prophet said the Takbir in the first (Rak'ah) sever (times) before the recitation, and in the last, five (times) before the recitation.
عمرو بن عوف مزنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عیدین میں پہلی رکعت میں قرأت سے پہلے سات اور دوسری رکعت میں قرأت سے پہلے پانچ تکبیریں کہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں عائشہ، ابن عمر اور عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- کثیر کے دادا کی حدیث حسن ہے اور یہ سب سے اچھی روایت ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس باب میں روایت کی گئی ہے۔ ۳- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، ۴- اور ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی اسی طرح مروی ہے کہ انہوں نے مدینے میں اسی طرح یہ نماز پڑھی، ۵- اور یہی اہل مدینہ کا بھی قول ہے، اور یہی مالک بن انس، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں، ۶- عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے عیدین کی تکبیروں کے بارے میں کہا ہے کہ یہ نو تکبیریں ہیں۔ پہلی رکعت میں قرأت سے پہلے پانچ تکبیریں کہے ۱؎ اور دوسری رکعت میں پہلے قرأت کرے پھر رکوع کی تکبیر کے ساتھ چار تکبیریں کہے ۲؎ کئی صحابہ کرام سے بھی اسی طرح کی روایت مروی ہے۔ اہل کوفہ کا بھی قول یہی ہے اور یہی سفیان ثوری بھی کہتے ہیں۔
Jam e Tirmazi
1107
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَا تُنْكَحُ الثَّيِّبُ حَتَّى تُسْتَأْمَرَ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا تُنْكَحُ الْبِكْرُ حَتَّى تُسْتَأْذَنَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِذْنُهَا الصُّمُوتُ . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعُرْسِ بْنِ عَمِيرَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ الثَّيِّبَ لَا تُزَوَّجُ حَتَّى تُسْتَأْمَرَ وَإِنْ زَوَّجَهَا الْأَبُ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَسْتَأْمِرَهَا فَكَرِهَتْ ذَلِكَ فَالنِّكَاحُ مَفْسُوخٌ عِنْدَ عَامَّةِ أَهْلِ الْعِلْمِ، ‏‏‏‏‏‏وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي تَزْوِيجِ الْأَبْكَارِ إِذَا زَوَّجَهُنَّ الْآبَاءُ، ‏‏‏‏‏‏فَرَأَى أَكْثَرُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ وَغَيْرِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ الْأَبَ إِذَا زَوَّجَ الْبِكْرَ وَهِيَ بَالِغَةٌ بِغَيْرِ أَمْرِهَا فَلَمْ تَرْضَ بِتَزْوِيجِ الْأَبِ فَالنِّكَاحُ مَفْسُوخٌ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ:‏‏‏‏ تَزْوِيجُ الْأَبِ عَلَى الْبِكْرِ جَائِزٌ وَإِنْ كَرِهَتْ، ‏‏‏‏‏‏ذَلِكَ وَهُوَ قَوْلُ:‏‏‏‏ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَالشَّافِعِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَحْمَدَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِسْحَاق.
Abu Hurairah narrated that: The Prophet said: A matron should not be given in marriage until she is consulted, and a virgin should not be given in marriage until her permission is sought, and her silence is her permission.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «ثیبہ» ( شوہر دیدہ عورت خواہ بیوہ ہو یا مطلقہ ) کا نکاح نہ کیا جائے جب تک کہ اس کی رضا مندی ۱؎ حاصل نہ کر لی جائے، اور کنواری ۲؎ عورت کا نکاح نہ کیا جائے جب تک کہ اس کی اجازت نہ لے لی جائے اور اس کی اجازت خاموشی ہے“ ۳؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عمر، ابن عباس، عائشہ اور عرس بن عمیرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ «ثیبہ» ( شوہر دیدہ ) کا نکاح اس کی رضا مندی حاصل کیے بغیر نہیں کیا جائے گا۔ اگر اس کے باپ نے اس کی شادی اس کی رضا مندی کے بغیر کر دی اور اسے وہ ناپسند ہو تو تمام اہل علم کے نزدیک وہ نکاح منسوخ ہو جائے گا، ۴- کنواری لڑکیوں کے باپ ان کی شادی ان کی اجازت کے بغیر کر دیں تو اہل علم کا اختلاف ہے۔ کوفہ وغیرہ کے اکثر اہل علم کا خیال ہے کہ باپ اگر کنواری لڑکی کی شادی اس کی اجازت کے بغیر کر دے اور وہ بالغ ہو اور پھر وہ اپنے والد کی شادی پر راضی نہ ہو تو نکاح منسوخ ہو جائے گا ۴؎، ۵- اور بعض اہل مدینہ کہتے ہیں کہ کنواری کی شادی اگر باپ نے کر دی ہو تو درست ہے گو وہ اسے ناپسند ہو، یہ مالک بن انس، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے ۵؎۔
Jam e Tirmazi
1348
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ،‏‏‏‏ أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ،‏‏‏‏ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ،‏‏‏‏ عَنْ قَتَادَةَ،‏‏‏‏ عَنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ،‏‏‏‏ عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَنْ أَعْتَقَ نَصِيبًا،‏‏‏‏ أَوْ قَالَ شِقْصًا فِي مَمْلُوكٍ،‏‏‏‏ فَخَلَاصُهُ فِي مَالِهِ إِنْ كَانَ لَهُ مَالٌ،‏‏‏‏ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ،‏‏‏‏ قُوِّمَ قِيمَةَ عَدْلٍ،‏‏‏‏ ثُمَّ يُسْتَسْعَى فِي نَصِيبِ الَّذِي لَمْ يُعْتَقْ غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب،‏‏‏‏ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ،‏‏‏‏ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ نَحْوَهُ،‏‏‏‏ وَقَالَ:‏‏‏‏ شَقِيصًا،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ،‏‏‏‏ وَهَكَذَا رَوَى أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ،‏‏‏‏ عَنْ قَتَادَةَ مِثْلَ رِوَايَةِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ،‏‏‏‏ وَرَوَى شُعْبَةُ هَذَا الْحَدِيثَ،‏‏‏‏ عَنْ قَتَادَةَ،‏‏‏‏ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ أَمْرَ السِّعَايَةِ،‏‏‏‏ وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي السِّعَايَةِ،‏‏‏‏ فَرَأَى بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ السِّعَايَةَ فِي هَذَا،‏‏‏‏ وَهُوَ قَوْلُ:‏‏‏‏ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ،‏‏‏‏ وَأَهْلِ الْكُوفَةِ،‏‏‏‏ وَبِهِ يَقُولُ إِسْحَاق،‏‏‏‏ وَقَدْ قَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ:‏‏‏‏ إِذَا كَانَ الْعَبْدُ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ فَأَعْتَقَ أَحَدُهُمَا نَصِيبَهُ،‏‏‏‏ فَإِنْ كَانَ لَهُ مَالٌ غَرِمَ نَصِيبَ صَاحِبِهِ،‏‏‏‏ وَعَتَقَ الْعَبْدُ مِنْ مَالِهِ،‏‏‏‏ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ،‏‏‏‏ عَتَقَ مِنَ الْعَبْدِ مَا عَتَقَ،‏‏‏‏ وَلَا يُسْتَسْعَى،‏‏‏‏ وَقَالُوا بِمَا رُوِيَ عَنْ ابْنِ عُمَرَ،‏‏‏‏ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ وَهَذَا قَوْلُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ،‏‏‏‏ وَبِهِ يَقُولُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ،‏‏‏‏ وَالشَّافِعِيُّ،‏‏‏‏ وَأَحْمَدُ،‏‏‏‏ وَإِسْحَاق.
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: Whoever frees a portion or he said: a part of a slave, then he should finish paying his price if he can afford it. If he can not afford to pay reasonable price then he should be allowed to work to earn the amount that will free him without overburdening him. (Another chain) similar, and he said: a part .
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے مشترک غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کیا تو باقی حصے کی آزادی بھی اسی کے مال سے ہو گی اگر اس کے پاس مال ہے، اور اگر اس کے پاس مال نہیں ہے تو اس غلام کی واجبی قیمت لگائی جائے گی، پھر غلام کو پریشانی میں ڈالے بغیر اسے موقع دیا جائے گا کہ وہ کمائی کر کے اس شخص کا حصہ ادا کر دے جس نے اپنا حصہ آزاد نہیں کیا ہے“۔ محمد بن بشار سے بھی ایسے ہی روایت ہے اور اس میں «شقصاً» کے بجائے «شقیصا» ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اور اسی طرح ابان بن یزید نے قتادہ سے سعید بن ابی عروبہ کی حدیث کے مثل روایت کی ہے، ۳- اور شعبہ نے بھی اس حدیث کو قتادہ سے روایت کیا ہے اور اس میں انہوں نے اس سے آزادی کے لیے کمائی کرانے کا ذکر نہیں کیا ہے، ۴- سعایہ ( کمائی کرانے ) کے سلسلے میں اہل علم کا اختلاف ہے، بعض اہل علم نے اس بارے میں سعایہ کو جائز کہا ہے۔ اور یہی سفیان ثوری اور اہل کوفہ کا بھی قول ہے، اور اسحاق بن راہویہ بھی اسی کے قائل ہیں، ۵- اس باب میں عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے، ۶- اور بعض اہل علم نے کہا ہے کہ جب غلام دو آدمیوں میں مشترک ہو اور ان میں سے ایک اپنا حصہ آزاد کر دے تو اگر اس کے پاس مال ہو تو وہ اپنے ساجھی دار کے حصے کا تاوان ادا کرے گا اور غلام اسی کے مال سے آزاد ہو جائے گا، اور اگر اس کے پاس مال نہیں ہے تو غلام کو جتنا آزاد کیا گیا ہے اتنا آزاد ہو گا، اور باقی حصہ کی آزادی کے لیے اس سے کمائی نہیں کرائی جائے گی۔ اور ان لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث کی رو سے یہ بات کہی ہے، اور یہی اہل مدینہ کا بھی قول ہے۔ اور مالک بن انس، شافعی اور احمد بھی اسی کے قائل ہیں۔