عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس نے ہمارے اس امر (دین) میں کوئی ایسا کام جاری کیا جو کہ اس میں نہیں وہ مردود ہے ۔‘‘ متفق علیہ ، رواہ البخاری (۲۶۹۷) و مسلم ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ حمدوثنا اور صلوۃ و سلام کے بعد ، سب سے بہترین کلام ، اللہ کی کتاب ہے ، اور بہترین طریقہ محمد ﷺ کا طریقہ ہے ، بدترین امور وہ ہیں جو نئے جاری کیے جائیں ، اور ہر بدعت گمراہی ہے ۔‘‘ رواہ مسلم و النسائی (۳/ ۱۸۹ ، ۱۸۸ ح ۱۵۷۹) ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تین قسم کے لوگ اللہ کو سخت ناپسندیدہ ہیں ، حرم میں ظلم و ناانصافی کرنے والا ، اسلام میں ، جاہلیت کا طریقہ تلاش کرنے والا اور بڑی جدوجہد کے بعد کسی مسلمان کو ناحق قتل کرنے والا ۔‘‘ رواہ البخاری (۶۸۸۲) ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میری ساری امت جنت میں جائے گی بجز اس شخص کے جس نے انکار کیا ۔‘‘ عرض کیا گیا ، کس نے انکار کیا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص نے میری اطاعت کی وہ جنت میں جائے گا اور جس نےمیری نافرمانی کی گویا اس نے انکار کر دیا ۔‘‘ رواہ البخاری (۷۲۸۰) ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، کچھ فرشتے نبی ﷺ کے پاس آئے ، آپ سو رہے تھے ، انہوں نے کہا : تمہارے اس ساتھی کی ایک مثال ہے ، وہ مثال ان کے سامنے بیان کر دو ، ان میں سے بعض فرشتوں نے کہا : وہ تو سوئے ہوئے ہیں ، جبکہ بعض نے کہا : بے شک آنکھیں سوئی ہوئی ہیں لیکن دل بیدار ہے ، پس انہوں نے کہا : ان کی مثال اس شخص جیسی ہے جس نے ایک گھر بنایا ، اس میں دسترخوان لگایا اور ایک داعی کو بھیجا ، پس جس شخص نے داعی کی دعوت کو قبول کر لیا وہ گھر میں داخل ہو گا اور دسترخوان سے کھانا بھی کھائے گا ، اور جس نے داعی کی دعوت کو قبول نہ کیا وہ گھر میں داخل ہوا نہ دسترخوان سے کھانا کھایا ، پھر انہوں نے کہا : اس کی (مزید) وضاحت کردو تاکہ وہ اسے سمجھ سکیں ، پھر ان میں سے کسی نے کہا کہ وہ تو سوئے ہوئے ہیں اور بعض نے کہا : آنکھ سوئی ہوئی ہے اور دل بیدار ہے ، پس انہوں نے کہا : گھر ، جنت ہے ، داعی ، محمد ﷺ ہیں ۔ پس جس شخص نے محمد ﷺ کی اطاعت کی تو اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے محمد ﷺ کی نافرمانی کی تو اس نے اللہ کی نافرمانی کی ، اور محمد ﷺ لوگوں کے درمیان فرق کرنے والے ہیں ۔‘‘ رواہ البخاری (۷۲۸۱) ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، تین اشخاص نبی ﷺ کی عبادت کے متعلق پوچھنے کے لیے نبی ﷺ کی ازواج مطہرات کے پاس آئے ، جب انہیں اس کے متعلق بتایا گیا ، تو گویا انہوں نے اسے کم محسوس کیا ، چنانچہ انہوں نے کہا : ہماری نبی ﷺ سے کیا نسبت ؟ اللہ نے تو ان کی اگلی پچھلی تمام خطائیں معاف فرما دی ہیں ، ان میں سے ایک نے کہا : میں تو ہمیشہ ساری رات نماز پڑھوں گا ۔ دوسرے نے کہا : میں دن کے وقت ہمیشہ روزہ رکھوں گا اور افطار نہیں کروں گا اور تیسرے نے کہا : میں عورتوں سے اجتناب کروں گا اور میں کبھی شادی نہیں کروں گا ۔ نبی ﷺ ان کے پاس آئے اور پوچھا : تم وہ لوگ ہو جنہوں نے اس طرح ، اس طرح کہا ہے ، اللہ کی قسم ! میں تم سے زیادہ اللہ سے ڈرتا ہوں اور تم سے زیادہ تقویٰ رکھتا ہوں ، لیکن میں روزہ بھی رکھتا ہوں اور افطار بھی کرتا ہوں ، رات کو نماز پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں اور میں عورتوں سے شادی بھی کرتا ہوں ، پس جو شخص میری سنت سے اعراض کرے وہ مجھ سے نہیں ۔‘‘ متفق علیہ ، رواہ البخاری (۵۰۶۳) و مسلم ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے کوئی کام کیا ، پھر آپ نے اس میں رخصت دے دی تو کچھ لوگوں نے رخصت کو قبول کرنے سے اجتناب کیا ، پس رسول اللہ ﷺ کو اس بارے میں پتہ چلا تو آپ ﷺ نے خطبہ ارشاد فرمایا ، اللہ کی حمد بیان کی ، پھر فرمایا :’’ لوگوں کو کیا ہو گیا کہ جو کام میں کرتا ہوں وہ اس سے دور رہتے ہیں ، اللہ کی قسم ! میں اللہ کے متعلق ان سے زیادہ جانتا ہوں ، اور اس سے ان سے زیادہ ڈرتا ہوں ۔‘‘ متفق علیہ ، رواہ البخاری (۶۱۰۱) و مسلم ۔
رافع بن خدیج ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ مدینہ تشریف لائے تو وہ (اہل مدینہ) کھجوروں کی پیوندکاری کیا کرتے تھے ، آپ ﷺ نے پوچھا :’’ تم کیا کرتے ہو ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : ہم ایسے ہی کرتے آ رہے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اگر تم (پیوندکاری) نہ کرو تو شاید تمہارے لیے بہتر ہو ۔‘‘ انہوں نے ایسا کرنا چھوڑ دیا تو اس سے پیداوار کم ہو گئی ۔ راوی بیان کرتے ہیں ، انہوں نے اس کے متعلق آپ سے بات کی تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ میں ایک انسان ہوں ، جب میں تمہیں تمہارے دین کے کسی معاملے کے بارے میں تمہیں حکم دوں تو اس کی تعمیل کرو ، اور جب میں اپنی رائے سے کسی چیز کے متعلق تمہیں کوئی حکم دوں تو میں ایک انسان ہوں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابوموسیٰ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میری اور جس چیز کے ساتھ اللہ نے مجھے مبعوث کیا ہے اس کی مثال ، اس شخص جیسی ہے جو کسی قوم کے پاس آیا اور اس نے کہا : میری قوم ! میں نے اپنی آنکھوں سے لشکر دیکھا ہے اور میں واضح اور حقیقی طور پر آگاہ کرنے والا ہوں ، لہذا تم جلدی سے بچاؤ کر لو ، پس اس کی قوم کا ایک گروہ اس کی بات مان کر سرشام اطمینان کے ساتھ روانہ ہو گیا ، اور وہ بچ گیا ، جبکہ ان کے ایک گروہ نے اس شخص کی بات کو جھٹلایا اور اپنی جگہ پر ڈٹے رہے تو صبح ہوتے ہی اس لشکر نے ان پر دھاوا بول دیا اور انہیں مکمل طور پر ختم کر دیا ، پس یہ اس شخص کی مثال ہے جس نے میری اطاعت کی اور میری لائی ہوئی شریعت کی اتباع کی ، اور اس شخص کی مثال ہے جس نے میری نافرمانی کی اور میرے لائے ہوئے حق کی تکذیب کی ۔‘‘ متفق علیہ ، رواہ البخاری (۷۲۸۳) و مسلم ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میری مثال اس شخص کی سی ہے جس نے آگ جلائی ، پس جب اس (آگ) نے اپنے اردگرد کو روشن کر دیا تو پروانے اور آگ میں گرنے والے حشرات وغیرہ اس میں گرنا شروع ہو گئے ، اور وہ شخص انہیں روکنے لگا لیکن وہ بزور اس میں گرنے لگے ، پس میں تمہیں کمر سے پکڑ کر آگ سے روک رہا ہوں جبکہ تم بزور اسی میں گر رہے ہو ۔‘‘ یہ بخاری کی روایت ہے اور مسلم کی روایت بھی اسی طرح ہے اور اس کے آخر میں ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ میری اور تمہاری مثال اس طرح ہے کہ میں تمہیں کمر سے پکڑ کر آگ سے بچا رہا ہوں ، آگ سے بچ کر میری طرف آ جاؤ ، آگ سے بچ کر میری طرف آ جاؤ ، لیکن تم مجھ سے بزور اس میں گر رہے ہو ۔‘‘ متفق علیہ ، رواہ البخاری (۶۴۸۳) و مسلم ۔
ابوموسیٰ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ نے جو ہدایت اور علم دے کر مجھے مبعوث کیا ہے ، وہ کسی زمین پر برسنے والی موسلادھار بارش کی طرح ہے ، پس اس زمین کا ایک ٹکڑا بہت اچھا تھا ، اس نے پانی کو قبول کیا اور اس نے بہت سا گھاس اور سبزہ اگایا ، اور اس زمین کا کچھ ٹکڑا سخت تھا ، اس نے پانی کو روک لیا ، پس اللہ نے اس کے ذریعے لوگوں کو فائدہ پہنچایا ، لوگوں نے خود پیا ، جانوروں کو پلایا اور آب پاشی کی ، جبکہ زمین کا ایک ٹکڑا صاف چٹیل تھا ، وہاں بارش ہوئی تو وہ پانی روکتی ہے نہ سبزہ اگاتی ہے ، پس یہی مثال اس شخص کی ہے جسے اللہ کے دین میں سمجھ بوجھ عطا کی گئی ، اور اللہ نے جو تعلیمات دے کر مجھے مبعوث فرمایا ان سے اسے فائدہ پہنچایا ، پس اس نے خود سیکھا اور دوسروں کو سکھایا ، اور یہی اس شخص کی مثال ہے جس نے (ازراہ تکبر) اس کی طرف سر نہ اٹھایا اور اللہ نے جو ہدایت دے کر مجھے مبعوث فرمایا اسے قبول نہ کیا ۔‘‘ متفق علیہ ، رواہ البخاری (۷۹) و مسلم ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ نے یہ آیت تلاوت فرمائی :’’ اللہ ہی وہ ذات ہے جس نے آپ پر یہ کتاب نازل کی ، اس کی بعض آیتیں صاف واضح ہیں اور محکم ہیں ۔‘‘ اور یہاں تک تلاوت فرمائی :’’ اور وعظ و نصیحت کو صرف وہی لوگ سمجھتے ہیں جو عقل مند ہیں ۔‘‘ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تو دیکھے ۔‘‘ جبکہ مسلم کی روایت میں ہے :’’ جب تم ایسے لوگوں کو دیکھو جو مختلف معانی کی متحمل آیات تلاش کرتے ہیں ، تو وہ ایسے لوگ ہیں جن کا اللہ نے (دلوں میں کجی رکھنے والے) نام رکھا ہے ، تو تم ان سے بچو ۔‘‘ متفق علیہ ، رواہ البخاری (۴۵۴۷) و مسلم ۔
عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں ، میں صبح سویرے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، راوی بیان کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے دو آدمیوں کی آواز سنی جو کہ کسی آیت کے بارے میں جھگڑ رہے تھے ، رسول اللہ ﷺ غصے کی حالت میں ہمارے پاس تشریف لائے غصے کے آثار آپ کے چہرے پر نمایاں تھے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تم سے پہلی قومیں کتاب میں اختلاف کرنے کی وجہ سے ہلاک ہوئیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
سعد بن ابی وقاص ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ مسلمانوں کے حق میں وہ مسلمان سب سے بڑا مجرم ہے جس نے کسی ایسی چیز کے بارے میں (اپنے نبی سے) دریافت کیا جو پہلے حرام نہیں تھی ، لیکن اس کے دریافت کرنے کی وجہ سے اسے حرام کر دیا گیا ۔‘‘ متفق علیہ ، رواہ البخاری (۷۲۸۹) و مسلم ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ آخری دور میں فریب کار جھوٹے لوگ ہوں گے ، وہ تمہارے پاس ایسی احادیث لائیں گے جو تم نے سنی ہوں گی نہ تمہارے آباء نے ، پس اپنے آپ کو ان سے اور انہیں اپنے آپ سے دور رکھو ، تاکہ وہ تمہیں گمراہی اور فتنے میں مبتلا نہ کر دیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، اہل کتاب تورات عبرانی زبان میں پڑھا کرتے تھے اور اہل اسلام کے لیے عربی زبان میں اس کی تفسیر بیان کیا کرتے تھے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اہل کتاب کی تصدیق کرو نہ تکذیب ، بلکہ کہو : ہم اللہ پر اور جو ہماری طرف نازل کیا گیا اس پر ایمان لائے ۔‘‘ رواہ البخاری (۷۵۴۲) ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے بس یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات (تحقیق کیے بغیر) بیان کر دے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ نے مجھ سے پہلے جس نبی کو مبعوث فرمایا تو اس نبی کے اس کی امت میں کچھ معاون اور کچھ عام ساتھی ہوتے ہیں ، وہ اس کی سنت کو قبول کرتے اور اس کے حکم کی اتباع کرتے ہیں ، پھر ان کے بعد برے جانشین آ جائیں گے وہ ایسی باتیں کریں گے جس پر ان کا عمل نہیں ہو گا اور ایسے کام کریں گے جن کا انہیں حکم نہیں دیا گیا ہو گا ، پس جو شخص اپنے ہاتھ کے ساتھ ان سے جہاد کرے گا وہ مومن ہے ، جو اپنی زبان کے ساتھ ان سے جہاد کرے گا وہ مومن ہے ، اور جو دل سے ان سے جہاد کرے گا تو وہ بھی مومن ہے ، اور اس کے بعد رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان نہیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص ہدایت کی طرف دعوت دے تو اسے بھی اس ہدایت کی اتباع کرنے والوں کی مثل ثواب ملے گا ، اور یہ ان کے اجر میں کوئی کمی نہیں کرے گا ، اور جو شخص کسی گمراہی کی طرف دعوت دے تو اسے بھی اس گمراہی کی اتباع کرنے والوں کی مثل گناہ ملے گا ، اور یہ ان کے گناہ میں کوئی کمی نہیں کرے گا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اسلام اجنبیت کے عالم میں شروع ہوا ، اور عنقریب اسی حالت میں لوٹ جائے گا جیسے شروع ہوا ، پس اجنبیوں (جنہوں نے اسلام کے ابتدائی دور اور آخری دور میں اسلام کا ساتھ دیا) کے لیے خوشخبری ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔