جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے قربانی کے دن نبی ﷺ کو ، اپنی سواری پر بیٹھے ہوئے کنکریاں مارتے دیکھا ، آپ ﷺ فرما رہے تھے :’’ تم اپنے حج کے طریقے سیکھ لو ، کیونکہ میں نہیں جانتا کہ شاید میں اپنے اس حج کے بعد حج نہ کر سکوں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو چٹکی میں لے کر چلائی جانے والی کنکری کے برابر کنکریاں مارتے ہوئے دیکھا ۔ رواہ مسلم ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے قربانی کے دن چاشت کے وقت کنکریاں ماریں ، جبکہ اس کے بعد سورج ڈھل جانے کے بعد ماریں ۔ متفق علیہ ۔
عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ وہ جمرہ کبری (بڑے شیطان) کے پاس پہنچے ، بیت اللہ کو اپنی دائیں جانب اور منیٰ کو اپنی بائیں جانب رکھا اور سات کنکریاں ماریں ، وہ ہر کنکری کے ساتھ اللہ اکبر کہتے تھے ، پھر انہوں نے فرمایا : جس ذاتِ اقدس پر سورۂ بقرہ نازل ہوئی تھی ، انہوں نے بھی اسی طرح کنکریاں ماریں تھیں ۔ متفق علیہ ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ استنجا کے لیے ڈھیلے استعمال کرنے کی تعداد طاق ہے ، کنکریاں مارنا طاق ہے ، صفا مروہ کے درمیان سعی طاق ہے اور طواف طاق ہے ، جب تم میں سے کوئی استنجا کے لیے ڈھیلے استعمال کرے تو وہ طاق عدد میں ڈھیلے استعمال کرے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
قدامہ بن عبداللہ بن عمار ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے نبی ﷺ کو قربانی کے دن اپنی سرخی مائل سفید اونٹنی پر بیٹھ کر کنکریاں مارتے ہوئے دیکھا ، وہاں کسی کو روکا جا رہا تھا نہ ہٹایا جا رہا تھا اور نہ ہی یہ کہا جا رہا تھا کہ ہٹ جاو ٔ ! ہٹ جاؤ ! حسن ، رواہ الشافعی و الترمذی و النسائی و ابن ماجہ و الدارمی ۔
عائشہ ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتی ہیں آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کنکریاں مارنا اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کرنا اللہ کا ذکر قائم کرنے کے لیے مقرر کیا گیا ہے ۔‘‘ ترمذی ، دارمی ۔ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و الدارمی ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، ہم نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! کیا ہم (صحابہ کی جماعت) آپ کے سایہ کے لیے منی میں کوئی کمرہ (سائبان) نہ بنا دیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ نہیں ، منیٰ پہلے پہنچ جانے والے کے لیے اونٹ بٹھانے کی جگہ ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ و الدارمی ۔
نافع ؒ بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر ؓ پہلے دو جمروں کے پاس بہت دیر تک ٹھہرتے ، اللہ کی کبریائی بیان کرتے ، اس کی تسبیح و تحمید بیان کرتے اور اللہ سے دعائیں کرتے ، لیکن وہ جمرہ عقبی (بڑے شیطان) کے پاس کھڑے نہیں ہوتے تھے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ مالک ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے نماز ظہر ذوالحلیفہ کے مقام پر ادا کی ، پھر آپ نے اپنی اونٹنی منگوائی ، آپ نے اس کی کوہان کے دائیں پہلو پر ہلکا سا زخم لگایا ، وہاں سے خون بہنے لگا ، آپ نے وہ خون صاف کر دیا اور اس کی گردن میں دو جوتے ڈال دیے ، پھر آپ اپنی سواری پر سوار ہو گئے ، جب وہ بیداء میں آپ کو لے کر سیدھی کھڑی ہو گئی تو آپ نے حج کے لیے تلبیہ پکارا ۔ رواہ مسلم ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، نبی ﷺ نے ایک مرتبہ چند بکریاں بطور قربانی ، بیت اللہ بھجوائیں تو آپ ﷺ نے انہیں قلادہ (ہار وغیرہ) پہنایا ۔ متفق علیہ ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ نے عائشہ ؓ کی طرف سے قربانی کے روز ایک گائے ذبح کی ۔ رواہ مسلم ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ نے اپنے حج کے موقع پر اپنی ازواج مطہرات کی طرف سے ایک گائے ذبح کی ۔ رواہ مسلم ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے نبی ﷺ کے قربانی کے اونٹوں کے قلادے خود اپنے ہاتھوں سے بٹے ، پھر آپ نے انہیں قلادے پہنائے ، ان کا شعار کیا اور انہیں قربانی کے لیے بھیجا ، اور جو چیز آپ کے لیے حلال کی گئی وہ آپ ﷺ پر حرام نہیں ہوئی تھی ۔ متفق علیہ ۔
وَعَنْهَا قَالَتْ: فَتَلْتُ قَلَائِدَهَا مِنْ عِهْنٍ كَانَ عِنْدِي ثُمَّ بَعَثَ بِهَا مَعَ أَبِي
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے ان کے قلادے ، اون سے تیار کیے جو کہ میرے پاس موجود تھی ، پھر آپ ﷺ نے انہیں میرے والد کے ساتھ (بیت اللہ) روانہ کیا ۔ متفق علیہ ۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک آدمی کو قربانی کا اونٹ ہانکتے ہوئے دیکھا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اس پر سوار ہو جا ۔‘‘ اس نے عرض کیا : یہ تو قربانی کا اونٹ ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اس پر سوار ہو جا ۔‘‘ اس نے عرض کیا : یہ تو قربانی کا اونٹ ہے ، آپ ﷺ نے دوسری یا تیسری مرتبہ فرمایا :’’ تجھ پر افسوس ہو ! اس پر سوارہو جا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابوزبیر بیان کرتے ہیں ، میں نے جابر بن عبداللہ ؓ سے سنا ، ان سے قربانی کے اونٹ پر سواری کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا : میں نے نبی ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جب تو اس پر سواری کرنے پر مجبور ہو جائے تو پھر سواری ملنے تک بھلے طریقے سے اس پر سواری کر ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے ایک آدمی کے ساتھ قربانی کے سولہ اونٹ بھیجے اور اسے ان پر امیر مقرر کیا ، تو اس نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! اگر ان میں سے کوئی چلنے سے عاجز آ جائے تو پھر میں کیا کروں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اسے نحر کر دینا اور اس (کےقلادے) کے جوتے اس کے خون میں رنگ کر اس کے پہلو پر نشان لگا دینا اور اس میں سے تم اور تمہارے ساتھی نہ کھائیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم نے حدیبیہ کے سال رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اونٹ اور گائے کو سات سات آدمیوں کی طرف سے (بطور قربانی) نحر کیا ۔ رواہ مسلم ۔
ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ وہ ایک آدمی کے پاس آئے جو اپنے قربانی کے اونٹ کو بٹھا کر نحرکر رہا تھا ، تو انہوں نے اسے فرمایا :’’ محمد ﷺ کی سنت کے مطابق اسے کھڑا کرو اور اس کی ٹانگ کو باندھو (پھر نحر کرو) ۔ متفق علیہ ۔