مشکوۃ

Mishkat

افعال حج کا بیان

حرمتِ مدینہ کا بیان ، اللہ تعالیٰ اس کی حفاظت فرمائے

بَابُ حَرَمِ الْمَدِينَةِ حَرَسَهَا اللَّهُ تَعَالَى

عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: مَا كَتَبْنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا الْقُرْآنَ وَمَا فِي هَذِهِ الصَّحِيفَةِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «الْمَدِينَةُ حَرَامٌ مَا بَيْنَ عَيْرٍ إِلَى ثَوْرٍ فمنْ أحدَثَ فِيهَا حَدَثًا أَوْ آوَى مُحْدِثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ ذمَّةُ المسلمينَ واحدةٌ يَسْعَى بِهَا أَدْنَاهُمْ فَمَنْ أَخْفَرَ مُسْلِمًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ وَمَنْ وَالَى قَوْمًا بِغَيْرِ إِذْنِ مَوَالِيهِ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عدل» وَفِي رِوَايَةٍ لَهُمَا: «مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ أَوْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صرف وَلَا عدل»

علی ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم نے رسول اللہ ﷺ سے صرف قرآن اور جو کچھ اس صحیفے میں ہے وہ لکھا ہے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ مدینہ عیر سے ثور تک حرم ہے ، جو شخص اس میں کوئی بدعت ایجاد کرے یا کسی بدعت ایجاد کرنے والے کو پناہ دے تو اس پر اللہ تعالیٰ ، تمام فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے ، اس کی نفل عبادت قبول ہو گی نہ فرض ۔ مسلمانوں کی امان ایک ہی ہے ، اور اس میں ادنی مسلمان کی امان کی بھی برابر حیثیت ہے ، جو شخص کسی مسلمان کے عہد کو توڑے تو اس پر اللہ ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے ، اس کا نفل قبول ہو گا نہ فرض ، اور جو شخص اپنے مالکوں کی اجازت کے بغیر کسی قوم سے معاہدہ کر لے تو اس پر اللہ ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے ، اور اس کا نفل قبول ہو گا نہ فرض ۔‘‘ اور صحیحین ہی کی روایت میں ہے :’’ جو شخص اپنے آپ کو باپ کے سوا کسی اور کی طرف منسوب کر لے یا اپنے مالکوں کے علاوہ کسی اور سے معاہدہ کر لے تو اس پر اللہ ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے ، اس سے نفل قبول ہو گا نہ فرض ۔‘‘ متفق علیہ ۔

وَعَنْ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ لَابَتَيِ الْمَدِينَةِ: أَنْ يُقْطَعَ عِضَاهُهَا أَوْ يُقْتَلَ صَيْدُهَا وَقَالَ: «الْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يعلَمونَ لَا يَدَعُهَا أَحَدٌ رَغْبَةً عَنْهَا إِلَّا أَبْدَلَ اللَّهُ فِيهَا مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْهُ وَلَا يَثْبُتُ أَحَدٌ عَلَى لَأْوَائِهَا وَجَهْدِهَا إِلَّا كُنْتُ لَهُ شَفِيعًا أَو شَهِيدا يَوْم الْقِيَامَة» . رَوَاهُ مُسلم

سعد ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میں مدینہ کے دونوں پتھریلے مقاموں کے درمیانی حصے کو حرم قرار دیتا ہوں ، اور اس علاقے کا درخت کاٹنا یا اس کا شکار قتل کرنا حرام ہے ۔‘‘ اور فرمایا :’’ مدینہ ان کے لیے بہتر ہے کاش کہ وہ جانتے ، اگر کوئی شخص اس سے عدم رغبت کی وجہ سے اسے چھوڑ جائے گا تو اللہ اس میں اس کے بدلہ میں ایسے شخص کو آباد کرے گا ، جو اس سے بہتر ہو گا ، اور جو شخص اس کی بھوک اور تکلیف پر صبر کرے گا تو روز قیامت میں اس کی سفارش کروں گا یا میں اس کے حق میں گواہی دوں گا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَصْبِرُ عَلَى لَأْوَاءِ الْمَدِينَةِ وَشِدَّتِهَا أَحَدٌ مِنْ أُمَّتِي إِلَّا كُنْتُ لَهُ شَفِيعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میری اُمت میں سے جو شخص مدینہ کی بھوک اور اس کی تکلیف پر صبر کرے گا تو روز قیامت میں اس کی سفارش کروں گا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

وَعَنْهُ قَالَ: كَانَ النَّاسُ إِذَا رَأَوْا أَوَّلَ الثَّمَرَةِ جَاءُوا بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا أَخَذَهُ قَالَ: «اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي ثَمَرِنَا وَبَارِكْ لَنَا فِي مَدِينَتِنَا وَبَارِكْ لَنَا فِي صَاعِنَا وَبَارِكْ لَنَا فِي مُدِّنَا اللَّهُمَّ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ عَبْدُكَ وَخَلِيلُكَ وَنَبِيُّكَ وَإِنِّي عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ وَإِنَّهُ دَعَاكَ لِمَكَّةَ وَأَنَا أدعوكَ للمدينةِ بمثلِ مَا دعَاكَ لمكةَ ومِثْلِهِ مَعَهُ» . ثُمَّ قَالَ: يَدْعُو أَصْغَرَ وَلِيدٍ لَهُ فيعطيهِ ذَلِك الثَّمر. رَوَاهُ مُسلم

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، جب لوگ پہلا پہلا پھل دیکھتے تو اسے نبی ﷺ کی خدمت میں پیش کرتے ، جب آپ ﷺ اسے پکڑلیتے تو دعا فرماتے :’’ اے اللہ ! ہمارے لیے پھلوں میں برکت فرما ، اے اللہ ! ہمارے لیے ہمارے مدینے میں برکت فرما ، ہمارے صاع اور ہمارے مد (ناپ تول کے پیمانے) میں برکت فرما ، اے اللہ ! بے شک ابراہیم ؑ تیرے بندے ، تیرے خلیل اور تیرے نبی تھے ، اور میں بھی تیرا بندہ اور تیرا نبی ہوں ، بے شک انہوں نے تجھ سے مکہ کے لیے دعا فرمائی اور میں تجھ سے اسی مثل مدینہ کے لیے دعا کرتا ہوں اور اس کی مثل اس کے ساتھ مزید دعا کرتا ہوں ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، پھر آپ ﷺ اپنے کسی سب سے چھوٹے بچے کو بلاتے اور وہ پھل اسے دے دیتے ۔ رواہ مسلم ۔

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ إِبْرَاهِيمَ حَرَّمَ مَكَّةَ فَجَعَلَهَا حَرَامًا وَإِنِّي حَرَّمْتُ الْمَدِينَةَ حَرَامًا مَا بَيْنَ مَأْزِمَيْهَا أَنْ لَا يُهْرَاقَ فِيهَا دَمٌ وَلَا يُحْمَلَ فِيهَا سلاحٌ لقتالٍ وَلَا تُخبَطَ فِيهَا شجرةٌ إِلَّا لعلف» . رَوَاهُ مُسلم

ابوسعید ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ بے شک ابراہیم ؑ نے مکہ کو حرام قرار دیا اور اس کی حرمت کو ثابت کیا ، اور میں مدینہ کو ، اس کے دو پہاڑوں کے درمیانی علاقے کو ، حرام قرار دیتا ہوں کہ اس میں خون ریزی کی جائے نہ قتال کے لیے اس میں اسلحہ اٹھایا جائے اور نہ ہی چارے کے علاوہ اس کے درختوں کے پتے جھاڑے جائیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

وَعَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ: أَنَّ سَعْدًا رَكِبَ إِلَى قَصْرِهِ بِالْعَقِيقِ فَوَجَدَ عَبْدًا يَقْطَعُ شَجَرًا أَوْ يَخْبِطُهُ فَسَلَبَهُ فَلَمَّا رَجَعَ سَعْدٌ جَاءَهُ أَهْلُ الْعَبْدِ فَكَلَّمُوهُ أَنْ يَرُدَّ عَلَى غُلَامِهِمْ أَوْ عَلَيْهِمْ مَا أَخَذَ مِنْ غُلَامِهِمْ فَقَالَ: مَعَاذَ اللَّهِ أَنْ أَرُدَّ شَيْئًا نَفَّلَنِيهِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي أَنْ يرد عَلَيْهِم. رَوَاهُ مُسلم

عامر بن سعد ؒ سے روایت ہے کہ سعد (بن ابی وقاص ؓ) موضع عقیق میں واقع اپنے محل کی طرف جا رہے تھے کہ انہوں نے کسی غلام کو درخت کاٹتے ہوئے یا اس کے پتے جھاڑتے ہوئے پایا تو انہوں نے اس کا کپڑا سلب کر لیا ، جب سعد ؓ واپس (مدینہ) آئے تو غلام کے مالک ان کے پاس آئے اور ان سے بات کی کہ انہوں نے غلام سے جو کچھ لیا ہے وہ اسے ان کے غلام کو یا ہمیں واپس لٹا دیں ، اس پر انہوں (سعد ؓ) نے فرمایا : اللہ کی پناہ کہ میں اس چیز کو واپس کر دوں جو رسول اللہ ﷺ نے مجھے بطور غنیمت عطا فرمائی ہے ، اور انہوں نے انہیں وہ کپڑا واپس کرنے سے انکار کر دیا ۔ رواہ مسلم ۔

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وُعِكَ أَبُو بَكْرٍ وَبِلَالٌ فَجِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ: «اللَّهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الْمَدِينَةَ كَحُبِّنَا مَكَّةَ أَوْ أَشَدَّ وَصَحِّحْهَا وَبَارِكْ لَنَا فِي صاعها ومدها وانقل حماها فاجعلها بِالْجُحْفَةِ»

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، جب رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لائے تو ابوبکر ؓ اور بلال ؓ بخار میں مبتلا ہو گئے ، میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی اور آپ کو بتایا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اے اللہ ! جس طرح ہمیں مکہ محبوب ہے اس طرح یا اس سے بھی زیادہ مدینہ ہمیں محبوب بنا دے اور اسے صحت افزا بنا دے ، اس کے صاع و مد میں ہمارے لیے برکت فرما دے اور اس کے بخار کو منتقل فرما اور اسے جحفہ بھیج دے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فِي رُؤْيَا النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَدِينَةِ: رَأَيْتُ امْرَأَةً سَوْدَاءَ ثَائِرَةَ الرَّأْسِ خَرَجَتْ مِنَ الْمَدِينَةِ حَتَّى نَزَلَتْ مَهْيَعَةَ فَتَأَوَّلْتُهَا: أَنَّ وَبَاءَ الْمَدِينَةِ نُقِلَ إِلَى مَهْيَعَةَ وَهِيَ الْجُحْفَةُ . رَوَاهُ البُخَارِيّ

عبداللہ بن عمر ؓ سے نبی ﷺ کے مدینہ کے بارے میں خواب کے متعلق روایت ہے ، (آپ ﷺ نے فرمایا) :’’ میں نے ایک سیاہ فام پراگندہ بالوں والی عورت کو مدینہ سے نکل کر ’’ مھیعہ ‘‘ پر قیام کرتے ہوئے دیکھا ، میں نے اس کی تاویل کی کہ مدینہ کی وبا ’’ مھیعہ ‘‘ منتقل کر دی گئی ہے ، اور ’’ مھیعہ ‘‘ جحفہ کا ہی نام ہے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔

وَعَنْ سُفْيَانَ بْنِ أَبِي زُهَيْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «يُفْتَحُ الْيَمَنُ فَيَأْتِي قومٌ يبُسُّونَ فيَتَحمَّلونَ بأهليهم وَمن أطاعهم وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ وَيُفْتَحُ الشَّامُ فَيَأْتِي قَوْمٌ يَبُسُّونَ فَيَتَحَمَّلُونَ بِأَهْلِيهِمْ وَمَنْ أَطَاعَهُمْ وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ وَيُفْتَحُ الْعِرَاقُ فَيَأْتِي قَوْمٌ يَبُسُّونَ فَيَتَحَمَّلُونَ بِأَهْلِيهِمْ وَمَنْ أَطَاعَهُمْ وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يعلمُونَ»

سفیان بن ابی زہیر ؓ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ یمن فتح ہو جائے گا تو کچھ لوگ اپنے اونٹوں کو تیز چلاتے ہوئے آئیں گے تو وہ اپنے اہل و عیال اور اپنے اطاعت گزار لوگوں کو سوار کر کے لے جائیں گے حالانکہ مدینہ ان کے لیے بہتر تھا کاش کہ وہ جانتے ، اور شام فتح ہو جائے گا تو کچھ لوگ اونٹوں کو تیز چلاتے ہوئے آئیں گے تو وہ اپنے اہل خانہ اور جو ان کی اطاعت اختیار کر لیں گے اُن کو سوار کر کے لے جائیں گے ، حالانکہ مدینہ ان کے لیے بہتر تھا کاش وہ جان لیتے ، اور عراق فتح ہو جائے گا تو کچھ لوگ اونٹوں کو تیز دوڑاتے ہوئے آئیں گے اور وہ اپنے اہل و عیال اور اپنے اطاعت گزار لوگوں کو سوار کر کے لے جائیں گے ، جبکہ مدینہ ان کے لیے بہتر تھا کاش کہ وہ جان لیتے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أُمِرْتُ بِقَرْيَةٍ تَأْكُلُ الْقُرَى. يَقُولُونَ: يَثْرِبَ وَهِيَ الْمَدِينَةُ تَنْفِي النَّاسَ كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ مجھے ایک ایسی بستی میں قیام کرنے کا حکم دیا گیا جو دوسری بستیوں پر غالب آ جائے گی ، وہ اسے یثرب کہتے ہیں ، جبکہ وہ مدینہ ہے ، وہ لوگوں کو ایسے نکال باہر کرتی ہے جیسے بھٹی لوہے کی میل کچیل نکال باہر کرتی ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ الله سمى الْمَدِينَة طابة» . رَوَاهُ مُسلم

جابر بن سمرہ ؓ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ بے شک اللہ تعالیٰ نے مدینہ کا نام طابہ رکھا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: أَنَّ أَعْرَابِيًّا بَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَصَابَ الْأَعْرَابِيَّ وَعَكٌ بِالْمَدِينَةِ فَأَتَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ أَقِلْنِي بَيْعَتِي فَأَبَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ جَاءَهُ فَقَالَ: أَقِلْنِي بَيْعَتِي فَأَبَى ثُمَّ جَاءَهُ فَقَالَ: أَقِلْنِي بَيْعَتِي فَأَبَى فَخَرَجَ الْأَعْرَابِيُّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّمَا الْمَدِينَةُ كَالْكِيرِ تَنْفِي خبثها وتنصع طيبها»

جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی نے رسول اللہ ﷺ کی بیعت کی تو اس اعرابی کو مدینہ میں بخار ہو گیا ، وہ نبی ﷺ کے پاس آیا تو اس نے کہا : محمد ! (ﷺ) میری بیعت واپس کر دیں ، لیکن رسول اللہ ﷺ نے انکار کر دیا ، وہ پھر آیا اور کہا : میری بیعت واپس کر دیں ، لیکن آپ نے انکار فرمایا ، وہ پھر آپ کے پاس آیا تو اس نے کہا : میری بیعت توڑ دیں ، لیکن آپ نے انکار فرمایا ، وہ اعرابی (مدینہ) سے چلا گیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ مدینہ بھٹی کی طرح ہے کہ وہ بُری چیز کو نکال دیتا ہے جبکہ اچھی چیز کو وہ خالص بنا دیتا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَنْفِيَ الْمَدِينَةُ شِرَارَهَا كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيد» . رَوَاهُ مُسلم

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ قیامت قائم نہیں ہو گی حتی کہ مدینہ بُرے لوگوں کو نکال باہر کرے گا جیسے بھٹی لوہے کی میل کچیل نکال باہر کرتی ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَلَى أَنْقَابِ الْمَدِينَةِ مَلَائِكَةٌ لَا يَدْخُلُهَا الطَّاعُونُ وَلَا الدَّجَّالُ»

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ مدینہ کے داخلی راستوں پر فرشتے پہرہ دیتے ہیں ، اس میں طاعون داخل ہو گا نہ دجال ۔‘‘ متفق علیہ ۔

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَ مِنْ بلدٍ إِلا سَيَطَؤهُ الدَّجَّالُ إِلَّا مَكَّةَ وَالْمَدِينَةَ لَيْسَ نَقْبٌ مِنْ أَنِقَابِهَا إِلَّا عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ صَافِّينَ يَحْرُسُونَهَا فَيَنْزِلُ السَّبِخَةَ فَتَرْجُفُ الْمَدِينَةُ بِأَهْلِهَا ثَلَاثَ رَجَفَاتٍ فَيَخْرُجُ إِلَيْهِ كُلُّ كَافِرٍ وَمُنَافِقٍ»

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ مکہ اور مدینہ کے علاوہ دجال ہر شہر کو خراب کر ڈالے گا ، ان دونوں شہروں کے تمام داخلی راستوں پر فرشتے صفیں باندھیں ان کی حفاظت کر رہے ہیں ، وہ (دجال) شور والی زمین پر اترے گا ، پھر مدینہ اپنے رہنے والوں کو تین بار خوب جھٹکا دے گا تو ہر کافر و منافق اس (دجال) کی طرف نکل جائے گا ۔‘‘ متفق علیہ ۔

وَعَنْ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَكِيدُ أَهْلَ الْمَدِينَةِ أَحَدٌ إِلَّا انْمَاعَ كَمَا يَنْمَاعُ الْملح فِي المَاء»

سعد ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص اہل مدینہ سے دھوکہ کرے گا تو وہ اس طرح پگھل جائے گا جیسے نمک پانی میں گھل جاتا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

وَعَنْ أَنَسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ فَنَظَرَ إِلى جُدُراتِ الْمَدِينَةِ أَوْضَعَ رَاحِلَتَهُ وَإِنْ كَانَ عَلَى دَابَّةٍ حركها من حبها. رَوَاهُ البُخَارِيّ

انس ؓ سے روایت ہے کہ جب نبی ﷺ سفر سے واپس تشریف لاتے اور مدینہ کی دیواروں پر نظر پڑتی تو آپ مدینہ سے محبت کی وجہ سے اپنی اونٹنی کو ، اور اگر کسی اور سواری پر ہوتے تو اسے تیز دوڑاتے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔

وَعَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَلَعَ لَهُ أُحُدٌ فَقَالَ: «هَذَا جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ اللَّهُمَّ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ حَرَّمَ مَكَّةَ وَإِنِّي أحرم مَا بَين لابتيها»

انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کو اُحد پہاڑ نظر آیا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ یہ وہ پہاڑ ہے جو ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں ، اے اللہ ! بے شک ابراہیم ؑ نے مکہ کو حرام قرار دیا ، اور میں مدینہ کے دونوں پتھریلی جگہ کے درمیانی علاقے کو حرام قرار دیتا ہوں ۔‘‘ متفق علیہ ۔

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أُحُدٌ جَبَلٌ يُحِبُّنَا ونحبُّه» . رَوَاهُ البُخَارِيّ

سہل بن سعد ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ احد ایسا پہاڑ ہے جو ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں ۔‘‘ رواہ البخاری ۔

عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: رَأَيْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ أَخَذَ رَجُلًا يَصِيدُ فِي حَرَمِ الْمَدِينَةِ الَّذِي حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَبَهُ ثِيَابَهُ فَجَاءَهُ مَوَالِيهِ فَكَلَّمُوهُ فِيهِ فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرَّمَ هَذَا الْحَرَمَ وَقَالَ: «مَنْ أَخَذَ أَحَدًا يَصِيدُ فِيهِ فَلْيَسْلُبْهُ» . فَلَا أَرُدُّ عَلَيْكُمْ طُعْمَةً أَطْعَمَنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَكِنْ إِنْ شِئْتُمْ دفعتُ إِليكم ثمنَه. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

سلیمان بن ابی عبداللہ بیان کرتے ہیں ، میں نے سعد بن ابی وقاص ؓ کو دیکھا کہ انہوں نے ایک آدمی کو پکڑا جو حرم مدینہ میں ، جس کو رسول اللہ ﷺ نے حرم قرار دیا ہے ، شکار کر رہا تھا ، انہوں نے اس کا کپڑا سلب کر لیا ، تو اس کے مالک آپ کے پاس آئے اور آپ سے اس بارے میں بات چیت کی تو انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے اس حرم کو حرام قرار دیا ہے اور انہوں نے فرمایا :’’ جو شخص کسی کو اس میں شکار کرتا ہوا پائے تو وہ اس کا کپڑا سلب کر لے ۔‘‘ لہذا میں یہ رزق تمہیں واپس نہیں دوں گا جو رسول اللہ ﷺ نے مجھے عطا کیا ہے ، لیکن اگر تم چاہو تو میں اس کی قیمت تمہیں ادا کر دیتا ہوں ۔ سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔