TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

بَاب الْغَصْب وَالْعَارِية غصب کرنے اور مستعار لینے کا بیان

Chapter 11 of خرید و فروخت کا بیان in Mishkat. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 11 of 17 · 23 Hadith
عَن سعيد بْنِ زَيْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَخَذَ شِبْرًا مِنَ الْأَرْضِ ظُلْمًا فَإِنَّهُ يُطَوَّقُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ سبع أَرضين»
سعید بن زید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص ظلم سے بالشت برابر زمین حاصل کرتا ہے تو روزِ قیامت سات زمینوں کا طوق اس کے گلے میں ڈالا جائے گا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
رواہ البخاری (۳۱۹۸) و مسلم (۱۴۰ / ۱۶۱۰) ۔ 4135
2938
Sahih
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَحْلُبَنَّ أَحَدٌ مَاشِيَةَ امْرِئٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِ أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يُؤْتى مشْربَته فتكسر خزانته فَينْتَقل طَعَامُهُ وَإِنَّمَا يَخْزُنُ لَهُمْ ضُرُوعُ مَوَاشِيهِمْ أَطَعِمَاتِهِمْ» . رَوَاهُ مُسلم
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ کوئی شخص کسی آدمی کی اجازت کے بغیر اس کے جانور کا دودھ نہ دھوئے ، کیا تم میں سے کوئی شخص پسند کرتا ہے کہ اس کے کمرے میں جا کر گودام کا تالا توڑ دیا جائے اور اس کا اناج وغیرہ نکال لیا جائے ، اسی طرح ان کے جانوروں کے تھن ان کے کھانے کو جمع و محفوظ رکھتے ہیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۱۳ / ۱۷۲۶) ۔ 4511
2939
Sahih
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ بَعْضِ نِسَائِهِ فَأَرْسَلَتْ إِحْدَى أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ بِصَحْفَةٍ فِيهَا طَعَامٌ فَضَرَبَتِ الَّتِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِهَا يَدَ الْخَادِمِ فَسَقَطَتِ الصَّحْفَةُ فَانْفَلَقَتْ فَجَمَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِلَقَ الصَّحْفَةِ ثُمَّ جَعَلَ يَجْمَعُ فِيهَا الطَّعَامَ الَّذِي كَانَ فِي الصَّحْفَةِ وَيَقُولُ: «غَارَتْ أُمُّكُمْ» ثُمَّ حَبَسَ الْخَادِمَ حَتَّى أُتِيَ بِصَحْفَةٍ مِنْ عِنْدِ الَّتِي هُوَ فِي بَيْتُهَا فَدَفَعَ الصَّحْفَةَ الصَّحِيحَةَ إِلَى الَّتِي كُسِرَتْ صَحْفَتُهَا وَأَمْسَكَ الْمَكْسُورَةَ فِي بَيْتِ الَّتِي كَسَرَتْ. رَوَاهُ البُخَارِيّ
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ اپنی کسی زوجہ محترمہ کے پاس تھے تو آپ کی کسی زوجہ محترمہ نے پلیٹ میں کھانا بھیجا تو جن کے گھر نبی ﷺ تشریف فرما تھے انہوں نے خادم کے ہاتھ پر مارا تو وہ پلیٹ گر کر ٹوٹ گئی ، نبی ﷺ نے پلیٹ کے ٹکڑے اکٹھے کیے ، اور بکھرے ہوئے کھانے کو اٹھایا ، ساتھ میں کہنے لگے :’’ تمہاری ماں نے غیرت کھائی ۔‘‘ پھر آپ نے خادم کو روکا حتی کہ اسے زوجہ محترمہ کے گھر سے ، جن کے گھر آپ تشریف فرما تھے ، صحیح پلیٹ دی اور وہ ٹوٹی ہوئی پلیٹ اس زوجہ محترمہ کے گھر رکھ دی جنہوں نے توڑی تھی ۔ رواہ البخاری ۔
Takhreej
رواہ البخاری (۵۲۲۵) ۔
2940
Sahih
وَعَن عبد الله بن يزِيد عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهُ نهى عَن النهبة والمثلة. رَوَاهُ البُخَارِيّ
عبداللہ بن یزید ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے ڈاکہ ڈالنے اور مثلہ کرنے (میت کے اعضا کاٹنے) سے منع فرمایا ۔ رواہ البخاری ۔
Takhreej
رواہ البخاری (۲۴۷۴) ۔
2941
Sahih
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ مَاتَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى بِالنَّاسِ سِتَّ رَكَعَاتٍ بِأَرْبَعِ سَجَدَاتٍ فَانْصَرَفَ وَقَدْ آضَتِ الشَّمْسُ وَقَالَ: مَا مِنْ شَيْءٍ تُوعَدُونَهُ إِلَّا قَدْ رَأَيْتُهُ فِي صَلَاتِي هَذِهِ لَقَدْ جِيءَ بِالنَّارِ وَذَلِكَ حِينَ رَأَيْتُمُونِي تَأَخَّرْتُ مَخَافَةَ أَنْ يُصِيبَنِي مِنْ لَفْحِهَا وَحَتَّى رَأَيْتُ فِيهَا صَاحِبَ الْمِحْجَنِ يَجُرُّ قُصْبَهُ فِي النَّارِ وَكَانَ يسرق الْحَاج بمحجته فَإِن فطن لَهُ قَالَ: إِنَّمَا تعلق بمحجتي وَإِنْ غُفِلَ عَنْهُ ذَهَبَ بِهِ وَحَتَّى رَأَيْتُ فِيهَا صَاحِبَةَ الْهِرَّةِ الَّتِي رَبَطَتْهَا فَلَمْ تُطْعِمْهَا وَلَمْ تَدَعْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ حَتَّى مَاتَتْ جُوعًا ثُمَّ جِيءَ بِالْجَنَّةِ وَذَلِكَ حِينَ رَأَيْتُمُونِي تَقَدَّمْتُ حَتَّى قُمْتُ فِي مَقَامِي وَلَقَدْ مَدَدْتُ يَدِي وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أَتَنَاوَلَ مِنْ ثَمَرَتِهَا لِتَنْظُرُوا إِلَيْهِ ثُمَّ بَدَا لِي أَنْ لَا أفعل . رَوَاهُ مُسلم
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ کے دور میں رسول اللہ ﷺ کے بیٹے ابراہیم کی وفات کے دن سورج گرہن ہوا تو آپ نے چھ رکوعوں اور چار سجدوں سے صحابہ کو (دو رکعت) نماز پڑھائی ، آپ نماز سے فارغ ہوئے تو سورج اپنی اصلی (چمک دار) حالت پر آ چکا تھا ، اور آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جس جس چیز کا تم سے وعدہ کیا گیا میں نے اپنی اس نماز میں اسے دیکھ لیا ، جہنم میرے سامنے لائی گئی اور یہ اس وقت تھی جب تم نے مجھے دیکھا کہ میں ، اس اندیشے کے پیش نظر کہ کہیں اس کی حرارت مجھے اپنی لپیٹ میں نہ لے لے ، پیچھے ہٹ گیا ، حتی کہ میں نے کھونڈی والے شخص کو آگ میں اپنی انتڑیاں گھسیٹتے ہوئے دیکھا ، وہ اپنی کھونڈی سے حاجیوں کی چیزیں چرایا کرتا تھا اگر پتہ چل جاتا تو کہتا : یہ چیزیں کھونڈی سے لٹک گئیں تھیں ، اور اگر پتہ نہ چلتا تو وہ اسے لے جاتا ، اور حتی کہ میں نے اس میں بلی والی خاتون بھی دیکھی جس نے اسے باندھ رکھا تھا ، وہ اسے خود کھلاتی نہ اسے چھوڑ دیتی کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے کھا لیتی ، حتی کہ وہ بھوک سے مر گئی ، پھر جنت پیش کی گئی ، اور یہ اس وقت تھا جب تم نے مجھے آگے بڑھتے ہوئے دیکھا ، حتی کہ میں اپنی جگہ پر کھڑا ہو گیا اور میں نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور میں اس کا پھل لینا چاہتا تھا کہ تم اسے دیکھ لو ، لیکن پھر مجھے ظاہر ہوا کہ میں (ایسے) نہ کروں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۱۰ / ۹۰۴) ۔ 2102
2942
Sahih
وَعَن قَتَادَة قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ: كَانَ فَزَعٌ بِالْمَدِينَةِ فَاسْتَعَارَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَسًا مِنْ أَبِي طَلْحَةَ يُقَالُ لَهُ: الْمَنْدُوبُ فَرَكِبَ فَلَمَّا رَجَعَ قَالَ: «مَا رَأَيْنَا مِنْ شَيْءٍ وَإِن وَجَدْنَاهُ لبحرا»
قتادہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے انس ؓ کو بیان کرتے ہوئے سنا : مدینہ میں (دشمن کی آمد کا) شور سا اٹھا تو نبی ﷺ نے ابوطلحہ ؓ سے مندوب نامی گھوڑا مستعار لیا اور اس پر سوار ہو گئے ، جب آپ ﷺ واپس تشریف لائے تو فرمایا :’’ ہم نے کوئی چیز نہیں دیکھی ، البتہ ہم نے (تیز رفتاری میں) اسے سمندر پایا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۲۶۲۷) و مسلم (۴۹ / ۲۳۰۷) ۔ 6007
2943
Sahih
عَن سعيد بْنِ زَيْدٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «من أحيى أَرْضًا مَيْتَةً فَهِيَ لَهُ وَلَيْسَ لِعِرْقٍ ظَالِمٍ حق» . رَوَاهُ أَحْمد وَالتِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد
سعید بن زید ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص بنجر زمین کو آباد کرے تو وہ اسی کی ہے جبکہ رگ ظالم کا کوئی حق نہیں ۔‘‘ (غیر کی زمین میں کاشتکاری کا کوئی حق نہیں) اسنادہ حسن ، رواہ احمد و الترمذی و ابوداؤد ۔
Takhreej
اسنادہ حسن ، رواہ احمد (۳ / ۳۵۶ ح ۱۴۹۰۰) و الترمذی (۱۳۷۸) و ابوداؤد (۳۰۷۳) ۔
2944
Sahih
وَرَوَاهُ مَالِكٌ عَنْ عُرْوَةَ مُرْسَلًا. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ
امام مالک نے عروہ سے مرسل روایت کیا ہے ، اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ حسن ، رواہ مالک ۔
Takhreej
حسن ، رواہ مالک (۲ / ۷۴۳ ح ۱۴۹۵) [و الحدیث السابق (۲۹۴۴) شاھد لہ] ۔
2945
Sahih
وَعَن أبي حرَّة الرقاشِي عَن عَمه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «أَلا تَظْلِمُوا أَلَا لَا يَحِلُّ مَالُ امْرِئٍ إِلَّا بِطِيبِ نَفْسٍ مِنْهُ» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَان وَالدَّارَقُطْنِيّ فِي الْمُجْتَبى
ابوحرہ رقاشی اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ سن لو ! ظلم نہ کرو ، کسی مسلمان کا مال اس کی خوشی کے بغیر حلال نہیں ۔‘‘ حسن ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان و الدار قطنی ۔
Takhreej
حسن ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان (۵۴۹۲ ، نسخۃ محققۃ : ۵۱۰۵ و السنن الکبری ۸ / ۱۸۲) و الدارقطنی (۳ / ۲۶) [و احمد (۵ / ۷۲ ۔ ۷۳ ح ۲۰۶۹۵)] * فیہ علی بن زید بن جدعان : ضعیف مشھور و للحدیث شواھد عند ابن حبان (۱۱۶۶) و غیرہ وھو بھا حسن ۔
2946
Sahih
وَعَن عمرَان ابْن حُصَيْنٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «لَا جَلَبَ وَلَا جَنَبَ وَلَا شِغَارَ فِي الْإِسْلَامِ وَمَنِ انْتَهَبَ نُهْبَةً فَلَيْسَ مِنَّا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
عمران بن حصین ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اسلام میں جلب ، جنب اور شغار نہیں اور جو شخص کوئی لوٹ مار کرے تو وہ ہم میں سے نہیں ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی ۔
Takhreej
صحیح ، رواہ الترمذی (۱۱۲۳ وقال : حسن صحیح) ۔
2947
Sahih
يزِيد عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَأْخُذُ أَحَدُكُمْ عَصَا أَخِيهِ لَاعِبًا جَادًّا فَمَنْ أَخَذَ عَصَا أَخِيهِ فَلْيَرُدَّهَا إِلَيْهِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَرِوَايَتُهُ إِلَى قَوْله: «جادا»
سائب بن یزید اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کی لاٹھی ہنسی مذاق کے طور پر اسے غصہ دلانے کے لیے نہ لے ، جو شخص اپنے بھائی کی لاٹھی لے لے تو وہ اسے واپس کر دے ۔‘‘ ترمذی ، ابوداؤد ، اور ابوداؤد کی روایت ((جَادًّا)) تک ہے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔
Takhreej
اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی (۲۱۶۰ وقال : حسن غریب) و ابوداؤد (۵۰۰۳) ۔
2948
Sahih
وَعَن سَمُرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ وَجَدَ عَيْنَ مَالِهِ عِنْدَ رَجُلٍ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ وَيَتَّبِعُ الْبَيِّعُ مَنْ بَاعَهُ» . رَوَاهُ أَحْمد وَأَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ
سمرہ ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص اپنا مال مسروقہ بالکل اسی حالت میں کسی شخص کے پاس پائے تو وہ شخص اس (کو حاصل کرنے) کا زیادہ حق دار ہے ، اور خریدار اس بیچنے والے کا پیچھا کرے گا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد و ابوداؤد و النسائی ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد (۵ / ۱۳ ح ۲۰۴۱۰) و ابوداؤد (۳۵۳۱) و النسائی (۷ / ۳۱۴ ح ۴۶۸۵) * قتادۃ مدلس و عنعن و للحدیث طریق آخر ضعیف عند احمد (۲۰۴۰۸) فیہ حجاج بن ارطاۃ ضعیف مدلس و عنعن و حدیث النسائی (۷ / ۳۱۳ ح ۴۶۸۴) یخالفہ و سندہ صحیح ۔
2949
Zaeef
وَعَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «عَلَى الْيَدِ مَا أَخَذَتْ حَتَّى تُؤَدِّيَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد وَابْن مَاجَه
سمرہ ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ہاتھ پر واجب ہے کہ اس نے جو لیا ہے وہ واپس کرے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و ابن ماجہ ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۱۲۶۶ وقال : حسن صحیح) رواہ ابوداؤد (۳۵۴۱) و ابن ماجہ (۲۴۰۰) * قتادۃ مدلس و عنعن ۔
2950
Zaeef
وَعَن حَرَامِ بْنِ سَعْدِ بْنِ مُحَيِّصَةَ: أَنَّ نَاقَةً لِلْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ دَخَلَتْ حَائِطًا فَأَفْسَدَتْ فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَن أَهْلِ الْحَوَائِطِ حِفْظَهَا بِالنَّهَارِ وَأَنَّ مَا أَفْسَدَتِ الْمَوَاشِي بِاللَّيْلِ ضَامِنٌ عَلَى أَهْلِهَا. رَوَاهُ مَالِكٌ وَأَبُو دَاوُد وَابْن مَاجَه
حرام بن سعد محّیصہ ؓ سے روایت ہے کہ براء بن عازب ؓ کی اونٹنی ایک باغ میں داخل ہو گئی تو اس نے وہاں نقصان کیا ، تو رسول اللہ ﷺ نے فیصلہ کرتے ہوئے فرمایا :’’ باغبانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ دن کے وقت ان کی حفاظت کریں ، البتہ جو جانور رات کے وقت نقصان کر دیں تو پھر اس (نقصان) کے ذمہ دار اس کے مالک ہیں ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ مالک و ابوداؤد و ابن ماجہ ۔
Takhreej
سندہ ضعیف ، رواہ مالک (۲ / ۷۴۷ ۔ ۷۴۸ ح ۱۵۰۵) و ابوداؤد (۳۵۷۰) و ابن ماجہ (۲۳۳۲) * الزھری مدلس و عنعن ۔
2951
Zaeef
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الرجل جَبَّار وَالنَّار جَبَّار» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ (جانور کے) پاؤں سے ہونے والا نقصان ضائع ہے (اس کا کوئی معاوضہ نہیں) ۔‘‘ اور فرمایا :’’ آگ (کسی نے اپنی جگہ میں آگ جلائی ، اور پھر آندھی اس آگ کو اڑا کر کسی اور جگہ لے گئی اور وہاں آگ لگ گئی تو اس) کا نقصان ہے ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
Takhreej
اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد (۴۵۹۴) و اعل بما لا یقدح ۔
2952
Sahih
وَعَن الْحسن عَن سَمُرَة أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ عَلَى مَاشِيَةٍ فَإِنْ كَانَ فِيهَا صَاحِبُهَا فَلْيَسْتَأْذِنْهُ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِيهَا فَلْيُصَوِّتْ ثَلَاثًا فَإِنْ أَجَابَهُ أَحَدٌ فَلْيَسْتَأْذِنْهُ وَإِنْ لَمْ يُجِبْهُ أَحَدٌ فَلْيَحْتَلِبْ وَلْيَشْرَبْ وَلَا يَحْمِلْ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
حسن ، سمرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی جانوروں کے پاس آئے اور اگر وہاں ان کے مالک کو پائے تو اس سے اجازت طلب کرے اور اگر وہ وہاں نہ ہو تو تین دفعہ آواز دے ، اگر کوئی شخص اسے جواب دے تو اس سے اجازت طلب کرے اور اگر کوئی اسے جواب نہ دے تو وہ خود دودھ دھو کر پی لے لیکن وہ اپنے ساتھ نہ لائے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد (۲۶۱۹) [و الترمذی (۱۲۹۶)] * قتادۃ مدلس و عنعن و اما الحسن البصری فروایتہ عن سمرۃ صحیحۃ لانہ کان یروی عن کتاب سمرۃ و الروایۃ عن الکتاب صحیحہۃ ما لم الجرح القادح فیہ ۔
2953
Zaeef
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ دَخَلَ حَائِطًا فَلْيَأْكُلْ وَلَا يَتَّخِذْ خُبْنَةً» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ هَذَا حَدِيث غَرِيب
ابن عمر ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص کسی باغ میں جائے تو ضرورت کے تحت وہاں سے کھا لے لیکن کپڑے میں ڈال کر ساتھ نہ لائے ۔‘‘ ترمذی ، ابن ماجہ ۔ امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ ۔
Takhreej
سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۱۲۸۷) و ابن ماجہ (۲۳۰۱) * یحیی بن سلیم الطائفی صدوق ، ضعیف عن عبید اللہ و صحیح الحدیث عن غیرہ ۔
2954
Zaeef
وَعَن أُميَّة بن صَفْوَان عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعَارَ مِنْهُ أَدْرَاعَهُ يَوْمَ حُنَيْنٍ فَقَالَ: أَغَصْبًا يَا مُحَمَّدَ؟ قَالَ: «بَلْ عَارِيَةً مَضْمُونَةً» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
امیہ بن صوان اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، کہ نبی ﷺ نے غزوہ حنین کے موقع پر اس سے کچھ زریں مستعار لیں تو اس نے کہا : محمد (ﷺ)! غصب کے طور پر لینا چاہتے ہو ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ نہیں ، بلکہ قابل واپسی ، ادھار کے طور پر ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
Takhreej
سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد (۳۵۶۲) * شریک القاضی عنعن و للحدیث شواھد ضعیفۃ ، و حدیث الحاکم (۲ / ۴۷) یخالفہ و سندہ حسن ۔
2955
Zaeef
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الْعَارِيَةُ مُؤَدَّاةٌ وَالْمِنْحَةٌ مَرْدُودَةٌ وَالدَّيْنُ مَقْضِيٌّ وَالزَّعِيمُ غَارِمٌ» . رَوَاهُ النرمذي وَأَبُو دَاوُد
ابوامامہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ عاریۃ ‘‘ لی ہوئی چیز واپس کی جائے ، عطا کے طور پر ملی ہوئی چیز (دودھ دینے والا جانور) واپس لوٹا دی جائے ، قرض ادا کیا جائے اور ضامن تاوان بھرنے والا ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔
Takhreej
اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی (۱۲۶۵) و ابوداؤد (۳۵۶۵) ۔
2956
Sahih
وَعَن رَافع بن عَمْرو الْغِفَارِيّ قَالَ: كُنْتُ غُلَامًا أَرْمِي نَخْلَ الْأَنْصَارِ فَأُتِيَ بِيَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «يَا غُلَامُ لِمَ تَرْمِي النَّخْلَ؟» قُلْتُ: آكُلُ قَالَ: «فَلَا تَرْمِ وَكُلْ مِمَّا سَقَطَ فِي أَسْفَلِهَا» ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَهُ فَقَالَ: «اللَّهُمَّ أَشْبِعْ بَطْنَهُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ وَسَنَذْكُرُ حَدِيثَ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ فِي «بَابِ اللّقطَة» إِن شَاءَ الله تَعَالَى
رافع بن عمرو غفاری ؓ بیان کرتے ہیں ، میں چھوٹا سا لڑکا تھا اور میں انصار کے کھجوروں کے درختوں پر پتھر پھینک رہا تھا ، تو مجھے (پکڑ کر) نبی ﷺ کے پاس لایا گیا ۔ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ لڑکے ! تم نے کھجور کے درختوں پر پتھر کیوں پھینکے ؟‘‘ میں نے عرض کیا ، کھجوریں کھانے کے لیے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ پتھر نہ مارو ، جو نیچے گری ہوں ان میں سے کھاؤ ۔‘‘ پھر آپ ﷺ نے میرے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرا اور دعا کی :’’ اے اللہ ! اس کے پیٹ کو بھر دے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و ابن ماجہ ۔ وَسَنَذْکُرُ حَدِیْثَ عَمْرِ وبْنِ شُعَیْبِ فِیْ بَابِ اللُّقْطَۃِ اِنْ شَاءَ اللہُ تَعَالیٰ ۔ اور عمرو بن شعیب کی حدیث کو ہم انشاءاللہ ’’ باب اللقطۃ ‘‘ میں ذکر کریں گے ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۱۲۸۸ وقال : حسن صحیح غریب) و ابوداؤد (۲۶۲۲) و ابن ماجہ (۲۲۹۹) * فیہ ابن ابی الحکم : لم یوثقہ غیر الترمذی فھو ’’ مستور ‘‘ کما قال صاحب التقریب ۔ 0 حدیث عمرو بن شعیب یاتی (۳۰۳۶) ۔
2957
Zaeef

Chapters

17
01
بَاب الْكسْب وَطلب الْحَلَال
کسب اور طلب حلال کا بیان
31 Hadith
02
بَاب المساهلة فِي الْمُعَامَلَات
معاملہ کرنے میں نرمی کا بیان
11 Hadith
03
بَاب الْخِيَار
اختیار کا بیان
6 Hadith
04
بَاب الرِّبَا
سود کا بیان
27 Hadith
05
بَابُ الْمَنْهِيِّ عَنْهَا مِنَ الْبُيُوعِ
ممنوعہ بیوع (تجارت) کا بیان
41 Hadith
06
باب [فی البیع المشروط]
مشروط تجارت کا بیان
8 Hadith
07
بَاب السّلم وَالرَّهْن
بیع سلم اور رہن کا بیان
9 Hadith
08
بَاب الاحتكار
ذخیرہ اندوزی کا بیان
7 Hadith
09
بَاب الإفلاس والانظار
افلاس اور مہلت دینے کا بیان
31 Hadith
10
بَاب الشّركَة وَالْوكَالَة
شراکت اور وکالت کا بیان
8 Hadith
11
بَاب الْغَصْب وَالْعَارِية
غصب کرنے اور مستعار لینے کا بیان
23 Hadith
12
بَاب الشُّفْعَة
شفعہ کا بیان
11 Hadith
13
بَاب الْمُسَاقَاة والمزارعة
مساقات اور مزارعت کا بیان
9 Hadith
14
بَاب الْإِجَارَة
اجارہ کا بیان
10 Hadith
15
بَاب إحْيَاء الْموَات وَالشرب
بنجر زمین کو آباد کرنے اور پانی کی باری کا بیان
17 Hadith
16
بَاب العطايا
عطیات کا بیان
25 Hadith
17
بَاب اللّقطَة
لُقطہ کا بیان
8 Hadith
No chapter matched that.