مشکوۃ

Mishkat

نکاح کا بیان

جس کو پیغامِ نکاح دیا جائے اسے دیکھنے اور پردہ کی چیزوں کا بیان

بَاب النّظر إِلَى المخطوبة وَبَيَان العورات

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ قَالَ: «فَانْظُرْ إِلَيْهَا فَإِنَّ فِي أَعْيُنِ الْأَنْصَارِ شَيْئًا» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے عرض کیا : میں نے انصار کی ایک عورت سے شادی کرنے کا ارادہ کیا ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اسے دیکھ لو ، کیونکہ انصار کی آنکھوں میں کچھ (نقص) ہوتا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تُبَاشِرُ الْمَرْأَةُ الْمَرْأَةَ فَتَنْعَتُهَا لِزَوْجِهَا كَأَنَّهُ ينظر إِلَيْهَا»

ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ عورت ، عورت کے ساتھ جسم نہ ملائے ، پھر وہ اس کے متعلق اپنے خاوند سے بیان کرے گویا کہ وہ اسے دیکھ رہا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَنْظُرُ الرَّجُلُ إِلَى عَوْرَةِ الرَّجُلِ وَلَا الْمَرْأَةُ إِلَى عَوْرَةِ الْمَرْأَةِ وَلَا يُفْضِي الرَّجُلُ إِلَى الرَّجُلِ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ وَلَا تُفْضِي الْمَرْأَةُ إِلَى الْمَرْأَةِ فِي ثوب وَاحِد» . رَوَاهُ مُسلم

ابوسعید ؓ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ آدمی ، آدمی کی شرم گاہ کی طرف دیکھے نہ عورت ، عورت کی شرم گاہ کی طرف دیکھے اور نہ ہی مرد ، مرد کے ساتھ ایک کپڑے میں لیٹے اور نہ ہی عورت ، عورت کے ساتھ ایک کپڑے میں لیٹے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

وَعَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِلَّا لَا يبتن رَجُلٌ عِنْدَ امْرَأَةٍ ثَيِّبٍ إِلَّا أَنْ يَكُونَ ناكحا أَو ذَا محرم» . رَوَاهُ مُسلم

جابر ؓ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ سن لو ! کوئی آدمی کسی بیوہ عورت کے ہاں رات بسر نہ کرے مگر یہ کہ وہ (اس کا) شوہر ہو یا محرم ہو ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِيَّاكُمْ وَالدُّخُولَ عَلَى النِّسَاءِ فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ الْحَمْوَ؟ قَالَ: «الْحَمْوُ الْمَوْتُ»

عقبہ بن عامر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ عورتوں کے پاس جانے سے بچو ۔‘‘ کسی آدمی نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! دیور کے بارے میں بتائیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ دیور تو موت ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

وَعَن جَابِرٍ: أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ اسْتَأْذَنَتْ رَسُولَ اللَّهِ فِي الْحِجَامَةِ فَأَمَرَ أَبَا طَيْبَةَ أَنْ يَحْجُمَهَا قَالَ: حَسِبْتُ أَنَّهُ كَانَ أَخَاهَا مِنَ الرَّضَاعَةِ أَو غُلَاما لم يَحْتَلِم. رَوَاهُ مُسلم

جابر ؓ سے روایت ہے کہ ام سلمہ ؓ نے پچھنے لگوانے کے متعلق رسول اللہ ﷺ سے اجازت طلب کی تو آپ ﷺ نے ابوطیبہ کو حکم فرمایا کہ وہ انہیں پچھنے لگائے ، راوی بیان کرتے ہیں ، میرا خیال ہے کہ وہ (ابوطیبہ) ام سلمہ ؓ کے رضاعی بھائی تھے یا نابالغ لڑکے تھے ۔ رواہ مسلم ۔

وَعَن جرير بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَظَرِ الْفُجَاءَةِ فَأمرنِي أَن أصرف بَصرِي. رَوَاهُ مُسلم

جریر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے اچانک اٹھ جانے والی نظر کے متعلق رسول اللہ ﷺ سے مسئلہ دریافت کیا تو آپ ﷺ نے مجھے حکم فرمایا کہ میں اپنی نظر ہٹا لوں ۔ رواہ مسلم ۔

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الْمَرْأَةَ تُقْبِلُ فِي صُورَةِ شَيْطَانٍ وَتُدْبِرُ فِي صُورَةِ شَيْطَانٍ إِذَا أَحَدَكُمْ أَعْجَبَتْهُ الْمَرْأَةُ فَوَقَعَتْ فِي قَلْبِهِ فَلْيَعْمِدْ إِلَى امْرَأَتِهِ فَلْيُوَاقِعْهَا فَإِنَّ ذَلِكَ يَرُدُّ مَا فِي نَفسه» . رَوَاهُ مُسلم

جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ بے شک عورت شیطان کی صورت میں سامنے آتی ہے اور شیطان کی صورت میں مڑتی ہے ، جب کوئی عورت تم میں سے کسی کو بھلی لگے اور وہ اس کے دل میں گھر کر جائے تو وہ آدمی اپنی بیوی کے پاس آئے اور اس سے جماع کرے ، کیونکہ یہ چیز (جماع) اس (گناہ کے خیال) کو دور کر دے گی جو اس کے دل میں ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا خَطَبَ أَحَدُكُمُ الْمَرْأَةَ فَإِنِ اسْتَطَاعَ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى مَا يَدْعُوهُ إِلَى نِكَاحهَا فَلْيفْعَل» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی عورت کو پیغامِ نکاح بھیجے تو پھر اگر وہ اس سے داعیہ نکاح (عورت کی شکل و صورت وغیرہ) کو دیکھ سکے تو دیکھ لے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔

وَعَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ خَطَبْتُ امْرَأَةً فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلْ نَظَرْتَ إِلَيْهَا؟» قُلْتُ: لَا قَالَ: «فَانْظُرْ إِلَيْهَا فَإِنَّهُ أَحْرَى أَنْ يُؤْدَمَ بَيْنَكُمَا» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ

مغیرہ بن شعبہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے ایک عورت کو پیغامِ نکاح بھیجا تو رسول اللہ ﷺ نے مجھے فرمایا :’’ کیا تم نے اسے دیکھا ہے ؟‘‘ میں نے عرض کیا : نہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اسے دیکھ لو ، کیونکہ وہ زیادہ مناسب ہے کہ تم دونوں کے درمیان محبت ڈال دی جائے ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ احمد و الترمذی و النسائی و ابن ماجہ و الدارمی ۔

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةً فَأَعْجَبَتْهُ فَأَتَى سَوْدَةَ وَهِيَ تَصْنَعُ طِيبًا وَعِنْدَهَا نِسَاءٌ فَأَخْلَيْنَهُ فَقَضَى حَاجَتَهُ ثُمَّ قَالَ: «أَيُّمَا رَجُلٍ رَأَى امْرَأَةً تُعْجِبُهُ فَلْيَقُمْ إِلَى أَهْلِهِ فَإِنَّ مَعَهَا مثل الَّذِي مَعهَا» . رَوَاهُ الدَّارمِيّ

ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے کسی عورت کو دیکھا تو وہ آپ کو اچھی لگی ، آپ سودہ ؓ کے پاس تشریف لائے ، وہ اس وقت خوشبو تیار کر رہی تھیں اور ان کے پاس کچھ عورتیں تھیں ، آپ ﷺ نے انہیں علیحدہ کیا اور اپنی حاجت پوری کی پھر فرمایا :’’ کوئی آدمی کسی عورت کو دیکھے اور وہ اسے خوش لگے تو وہ آدمی اپنی اہلیہ کے پاس آئے کیونکہ اس کے پاس بھی وہی کچھ ہے جو اُس عورت کے پاس ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الدارمی ۔

وَعَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْمَرْأَةُ عَوْرَةٌ فَإِذَا خَرَجَتِ اسْتَشْرَفَهَا الشَّيْطَانُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

ابن مسعود ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ عورت پردہ ہے ، جب وہ (بے پردہ) نکلتی ہے تو شیطان اسے مزین کر کے دکھاتا ہے ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ: «يَا عَلِيُّ لَا تُتْبِعِ النَّظْرَةَ النَّظْرَةَ فَإِنَّ لَكَ الْأُولَى وَلَيْسَتْ لَكَ الْآخِرَةُ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ والدارمي

بُریدہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے علی ؓ سے فرمایا :’’ علی ! (کسی اجنبی عورت کو) لگاتار نہ دیکھ ، کیونکہ تم (غیر ارادی طور پر) پہلی بار دیکھ سکتے ہو جبکہ دوسری مرتبہ دیکھنے کا تمہیں حق حاصل نہیں ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ احمد و الترمذی و ابوداؤد ۔

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا زَوَّجَ أَحَدُكُمْ عَبْدَهُ أَمَتَهُ فَلَا يَنْظُرَنَّ إِلَى عَوْرَتِهَا» . وَفِي رِوَايَةٍ: «فَلَا يَنْظُرَنَّ إِلَى مَا دُونُ السُّرَّةِ وَفَوْقَ الرُّكْبَةِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی اپنے غلام کی شادی ، اپنی لونڈی سے کر دے تو پھر وہ اس (لونڈی) کے پردہ کی جگہ کو نہ دیکھے ۔‘‘ اور ایک دوسری روایت میں ہے :’’ وہ زیر ناف اور گھٹنوں کے اوپر کے حصے کو نہ دیکھے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔

وَعَنْ جَرْهَدٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الْفَخِذَ عَوْرَةٌ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد

جرہد ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ ران پردہ (یعنی ستر) ہے ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔

وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ: «يَا عَلِيُّ لَا تُبْرِزْ فَخِذَكَ وَلَا تَنْظُرْ إِلَى فَخِذِ حَيٍّ وَلَا مَيِّتٍ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَابْن مَاجَه

علی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں فرمایا :’’ علی ! تم اپنی ران ظاہر کرو نہ کسی زندہ و مردہ کی ران کو دیکھو ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ ۔

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَحْشٍ قَالَ: مَرَّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَعْمَرٍ وَفَخذه مَكْشُوفَتَانِ قَالَ: «يَا مَعْمَرُ غَطِّ فَخِذَيْكَ فَإِنَّ الفخذين عَورَة» . رَوَاهُ فِي شرح السّنة

محمد بن جحش ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ معمر ؓ کے پاس سے گزرے تو ان کی دونوں رانیں ننگی تھیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ معمر ! اپنی رانیں ڈھانپو ، کیونکہ رانیں ستر ہیں ۔‘‘ حسن ، رواہ فی شرح السنہ ۔

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِيَّاكُمْ وَالتَّعَرِّيَ فَإِنَّ مَعَكُمْ مَنْ لَا يُفَارِقُكُمْ إِلَّا عِنْدَ الْغَائِطِ وَحِينَ يُفْضِي الرَّجُلُ إِلَى أَهْلِهِ فَاسْتَحْيُوهُمْ وَأَكْرِمُوهُمْ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ننگے ہونے سے بچو ، کیونکہ تمہارے ساتھ وہ (فرشتے) ہیں جو تمہارے ساتھ ہی رہتے ہیں ، اور وہ صرف اس وقت جُدا ہوتے ہیں جب آدمی بیت الخلا جاتا ہے اور جب اپنی اہلیہ سے تعلق زن و شو قائم کرتا ہے ، تم ان سے حیا کرو اور ان کی تکریم کرو ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ: أَنَّهَا كَانَتْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَيْمُونَةُ إِذْ أقبل ابْن مَكْتُومٍ فَدَخَلَ عَلَيْهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «احْتَجِبَا مِنْهُ» فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَيْسَ هُوَ أَعْمَى لَا يُبْصِرُنَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَفَعَمْيَاوَانِ أَنْتُمَا؟ أَلَسْتُمَا تُبْصِرَانِهِ؟» رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُد

ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ وہ اور میمونہ ؓ رسول اللہ ﷺ کے پاس تھیں کہ اتنے میں ابن ام مکتوم ؓ آئے اور آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تم دونوں اس سے پردہ کرو ۔‘‘ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا وہ نابینا نہیں ؟ وہ ہمیں دیکھ نہیں سکتا ، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا تم دونوں نابینا ہو ! تم اسے نہیں دیکھ رہی ہو ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد و الترمذی و ابوداؤد ۔

وَعَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «احْفَظْ عَوْرَتَكَ إِلَّا مِنْ زَوْجَتِكَ أَو مَا ملكت يَمِينك» فَقلت: يَا رَسُول الله أَفَرَأَيْت إِن كَانَ الرَّجُلُ خَالِيًا؟ قَالَ: «فَاللَّهُ أَحَقُّ أَنْ يستحيى مِنْهُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ

بہز بن حکیم اپنے والد سے اور وہ اس کے دادا (معاویہ بن حیوہ) سے روایت کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اپنی اہلیہ یا اپنی لونڈی کے علاوہ اپنے ستر کی حفاظت کر ۔‘‘ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! مجھے بتائیں کہ جب آدمی تنہائی میں ہو (پھر بھی) ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ اس کا زیادہ حق دار ہے کہ اس سے حیا کی جائے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و ابن ماجہ ۔