ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ عورتوں کے ساتھ خیر و بھلائی سے پیش آؤ ، کیونکہ وہ پسلی سے پیدا کی گئی ہیں ، اور پسلی کا اوپر والا حصہ سب سے زیادہ ٹیڑھا ہوتا ہے ، اگر تم اسے سیدھا کرنے کی کوشش کرو گے تو اسے توڑ بیٹھو گے ، اور اگر اسے چھوڑ دو گے تو وہ ٹیڑھا رہے گا ، تم عورتوں کے ساتھ خیر و بھلائی کا خیال رکھو ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے ، وہ آپ کے ساتھ کبھی ایک انداز پر گزر بسر نہیں کرے گی ، اگر تم اس سے فائدہ حاصل کرنا چاہتے ہو تو تم اس کے ٹیڑھے پن کے ساتھ ہی اس سے فائدہ حاصل کرو ، اور اگر تم نے اسے سیدھا کرنے کی کوشش کی تو تم اسے توڑ دو گے ، اور اسے توڑنا اسے طلاق دینا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ کوئی مومن (شوہر) کسی مومنہ (بیوی) سے بغض نہ رکھے ، اگر اس کی کوئی ایک عادت اسے ناپسند ہے تو کوئی دوسری عادت پسند بھی ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ بنو اسرائیل نہ ہوتے تو گوشت خراب نہ ہوتا اور اگر حوا نہ ہوتیں تو کوئی عورت کبھی اپنے شوہر کی خیانت نہ کرتی ۔‘‘ متفق علیہ ۔
عبداللہ بن زمعہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تم میں سے کوئی اپنی بیوی کو غلام کی طرح نہ مارے اور پھر وہ دن کے آخر پہر اس سے مجامعت کرے ۔‘‘ اور دوسری روایت میں ہے :’’ تم میں سے کوئی قصد کرتا ہے تو اپنی عورت کو غلام کی طرح مارتا ہے ، اور پھر ممکن ہے کہ وہ اسی روز آخری پہر اس سے مجامعت کرے ۔‘‘ پھر آپ ﷺ نے انہیں گوز مارنے (ریح کی آواز) پر ہنسنے کے متعلق نصیحت کی تو فرمایا :’’ تم میں سے کوئی ایسی چیز پر کیوں ہنستا ہے جو وہ خود کرتا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نبی ﷺ کے ہاں گڑیوں کے ساتھ کھیلا کرتی تھی ، اور میری کچھ سہیلیاں تھیں جو میرے ساتھ کھیلتی تھیں ، جب رسول اللہ ﷺ تشریف لاتے تو وہ آپ سے چھپ جاتیں ، آپ ﷺ انہیں میری طرف بھیجتے تو پھر وہ میرے ساتھ کھیلتیں ۔ متفق علیہ ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، اللہ کی قسم ! میں نے نبی ﷺ کو اپنے حجرے کے دروازے پر کھڑے ہوئے دیکھا جبکہ حبشی مسجد میں چھوٹے نیزوں کے ساتھ کھیل رہے تھے اور رسول اللہ ﷺ اپنی چادر سے مجھے چھپا رہے تھے تاکہ میں آپ کے کان اور گردن کے بیچ سے ان کے کھیل کو دیکھ سکوں ، پھر آپ میری خاطر کھڑے رہتے حتی کہ میں ہی وہاں سے ہٹتی تھی ، تم نو عمر ، کھیل سے شغف رکھنے والی ، لڑکی کے کھڑے ہونے کا اندازہ کر لو ۔ (کہ وہ کتنی دیر کھڑی ہو سکتی ہے۔) متفق علیہ ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے مجھے فرمایا :’’ جب تم مجھ سے راضی ہوتی ہو تو مجھے پتہ چل جاتا ہے اور اسی طرح جب تم مجھ سے ناراض ہوتی ہو تو تب بھی مجھے پتہ چل جاتا ہے ۔‘‘ میں نے عرض کیا : آپ یہ کیسے پہچانتے ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم مجھ سے راضی ہوتی ہو تو تم کہتی ہو : محمد (ﷺ) کے رب کی قسم ! اور جب تم مجھ سے ناراض ہوتی ہو تو تم کہتی ہو : ابراہیم ؑ کے رب کی قسم ! حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں : میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اللہ کی قسم ! بالکل ٹھیک ہے ، میں صرف آپ کا نام ہی چھوڑتی ہوں ۔ متفق علیہ ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب آدمی اپنی اہلیہ کو اپنے بستر پر بلائے اور وہ انکار کر دے اور وہ (خاوند) ناراضی میں سو جائے تو صبح ہونے تک فرشتے اس (عورت) پر لعنت بھیجتے رہتے ہیں ۔‘‘ بخاری ، مسلم ۔ اور صحیحین کی ہی روایت میں ہے : آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! جب کوئی آدمی اپنی اہلیہ کو اپنے بستر پر بلائے اور وہ اس پر انکار کر دے تو آسمان والی ذات (اللہ تعالیٰ) اس پر ناراض ہو جاتی ہے حتی کہ وہ (خاوند) اس سے راضی ہو جائے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
اسماء ؓ سے روایت ہے کہ ایک عورت نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! میری ایک سوتن ہے ، تو کیا مجھ پر گناہ ہو گا کہ میں اپنے خاوند کی طرف سے کسی ایسی چیز کا اظہار کروں جو اس نے مجھے نہ دی ہو ؟ (تاکہ میری سوتن تنگ ہو) آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ایسی چیز ظاہر کرنے والا جو اسے نہ دی گئی ہو جھوٹ کا جوڑا زیب تن کرنے والے (یعنی دھوکے باز) کی طرح ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے اپنی ازواج مطہرات سے ایک ماہ ایلاء فرمایا ۔ آپ کے پاؤں میں موچ آ گئی تھی ، آپ ﷺ نے انتیس راتیں بالاخانہ میں قیام فرمایا پھر آپ نیچے تشریف لے آئے تو صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ نے ایک ماہ کے لیے قسم اٹھائی تھی ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ مہینہ انتیس کا بھی ہوتا ہے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، ابوبکر ؓ نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے اجازت طلب کرنا چاہی تو انہوں نے لوگوں کو دروازے پر بیٹھے ہوئے پایا جن میں سے کسی کو اجازت نہ ملی تھی ، راوی بیان کرتے ہیں : ابوبکر ؓ کو اجازت مل گئی تو وہ اندر چلے گئے ، پھر عمر ؓ آئے ، انہوں نے اجازت طلب کی تو انہیں بھی اجازت مل گئی ، انہوں نے نبی ﷺ کو پریشانی کے عالم میں خاموش بیٹھا ہوا پایا جبکہ آپ کی ازواج مطہرات آپ کے اردگرد تھیں ۔ راوی بیان کرتے ہیں : انہوں (یعنی عمر ؓ) نے کہا : میں کوئی ایسی بات کہوں گا جس سے نبی ﷺ کو ہنساؤں گا ۔ انہوں نے کہا : اللہ کے رسول ! اگر خارجہ کی بیٹی مجھ سے خرچہ مانگتی تو میں اس کی گردن مروڑ دیتا ، رسول اللہ ﷺ مسکرا دیے اور فرمایا :’’ انہوں نے میرے گرد گھیرا ڈال رکھا ہے ، جیسا کہ تم دیکھ رہے ہو ، اور مجھ سے خرچہ مانگ رہی ہیں ۔‘‘ (یہ سن کر) ابوبکر ؓ ، عائشہ ؓ کی طرف بڑھے اور ان کی سرزنش کی ، اور عمر ؓ ، حفصہ ؓ کی گردن کوٹنے لگے ، اور وہ دونوں کہہ رہے تھے : تم رسول اللہ ﷺ سے ایسی چیز کا مطالبہ کرتی ہو ، جو ان کے پاس نہیں ہے ، انہوں نے کہا : اللہ کی قسم ! ہم رسول اللہ ﷺ سے کبھی ایسی چیز کا مطالبہ نہیں کریں گی جو آپ کے پاس نہ ہو ، پھر آپ ایک ماہ یا انتیس دن ان سے الگ رہے ، اور پھر یہ آیت نازل ہوئی :’’ اے نبی ! اپنی ازواج سے فرمائیں ...... تم میں سے محسنات کے لیے اجرِ عظیم ہے ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے عائشہ ؓ سے ابتدا فرمائی تو فرمایا :’’ عائشہ ! میں تمہارے سامنے ایک بات پیش کرنا چاہتا ہوں ، اور میں پسند کرتا ہوں کہ تجھے اس بارے میں جلد بازی نہیں کرنی چاہیے جب تک تم اپنے والدین سے مشورہ نہ کر لو ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! وہ کیا بات ہے ؟ آپ نے انہیں وہ آیت سنائی تو انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا میں آپ کے بارے میں اپنے والدین سے مشورہ کروں گی ، نہیں ، بلکہ میں اللہ ، اس کے رسول اور دارِ آخرت کو اختیار کرتی ہوں ، اور میں آپ سے مطالبہ کرتی ہوں کہ میں نے آپ سے جو بات کی ہے وہ آپ اپنی ازواج مطہرات میں سے کسی ایک کو مت بتائیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ مجھ سے تو جو بھی پوچھے گی میں اسے ضرور بتاؤں گا ، کیونکہ اللہ نے مجھے (لوگوں کو) رنج و مشقت میں مبتلا کرنے کے لیے نہیں بھیجا بلکہ اس نے مجھے آسانی پیدا کرنے والا معلم بنا کر بھیجا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، میں ان عورتوں کی مذمت کیا کرتی تھی جنہوں نے اپنے آپ کو رسول اللہ ﷺ کے لیے ہبہ کیا تھا ، میں نے کہا : کیا عورت اپنے آپ کو ہبہ کر سکتی ہے ؟ جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی :’’ آپ ان میں سے جسے چاہیں دُور کریں اور جسے چاہیں اپنی طرف ٹھکانا دیں اور جن کو الگ کیا ان میں سے جسے چاہیں طلب فرمائیں تو آپ پر کوئی گناہ نہیں ۔‘‘ تو میں نے آپ ﷺ سے عرض کیا : میں آپ کے رب کو دیکھتی ہوں کہ وہ آپ کی خواہش کو جلد پورا کرتا ہے ۔ متفق علیہ ۔ وَ حَدِیْثُ جَابِر : ((اِتَّقُوا اللہَ فِی النِّسَاءِ)) ذُکِرَ فِیْ قِصَّۃِ حَجَّۃِ الْوَدَاع ۔ اور جابر ؓ سے مروی حدیث ’’ عورتوں کے معاملہ میں اللہ سے ڈرو ‘‘ حجۃ الوداع کے قصہ میں ذکر کی گئی ہے ۔
عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ وہ ایک سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھیں ، وہ بیان کرتی ہیں ، میں نے آپ سے مقابلہ کیا تو میں دوڑ میں آپ سے آگے بڑھ گئی ، جب میں فربہ ہو گئی تو میں نے آپ ﷺ سے مقابلہ کیا ، تب آپ مجھ سے آگے نکل گئے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ یہ اُس سبقت کا بدلہ ہو گیا ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تم میں سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہتر ہے ، اور میں اپنے گھر والوں کے لیے تم سب سے بہتر ہوں ، اور جب تمہارا کوئی ساتھی فوت ہو جائے تو اسے چھوڑ دو (اس کی برائیاں بیان نہ کرو) ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی و الدارمی ۔
وَرَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ إِلَى قَوْله: «لأهلي»
ابن ماجہ نے ابن عباس ؓ سے (لَاھْلِیْ)) تک روایت کیا ہے ۔ حسن ، رواہ ابن ماجہ ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب عورت پانچوں نمازیں پڑھے ، ماہ رمضان کے روزے رکھے ، اپنی شرم گاہ کی حفاظت کرے اور اپنے خاوند کی اطاعت کرے تو پھر وہ جنت کے جس دروازے سے چاہے داخل ہو جائے ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ ابونعیم فی الحلیہ ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اگر میں کسی کو حکم دیتا کہ وہ کسی شخص کو (بطور تعظیم) سجدہ کرے تو میں عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔
ام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو عورت اس حال میں فوت ہو کہ اس کا شوہر اس سے راضی ہو تو وہ جنت میں داخل ہو گی ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔
طلق بن علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب آدمی اپنی اہلیہ کو اپنی حاجت کے لیے بلائے تو اسے اس کے پاس جانا چاہیے خواہ وہ تنور پر ہو ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی ۔