مشکوۃ

Mishkat

نکاح کا بیان

جس عورت کو تین طلاقیں دی جائیں اس کا بیان

بَاب الْمُطلقَة ثَلَاثًا

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: جَاءَتِ امْرَأَةُ رِفَاعَةَ الْقُرَظِيِّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: إِنِّي كُنْتُ عِنْدَ رِفَاعَةَ فَطَلَّقَنِي فَبَتَّ طَلَاقِي فَتَزَوَّجْتُ بَعْدَهُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الزُّبَيْرِ وَمَا مَعَهُ إِلَّا مِثْلُ هُدْبَةِ الثَّوْبِ فَقَالَ: «أَتُرِيدِينَ أَنْ تَرْجِعِي إِلَى رِفَاعَةَ؟» قَالَتْ: نَعَمْ قَالَ: «لَا حَتَّى تَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ وَيَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ»

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رفاعہ قرظی کی بیوی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی تو اس نے عرض کیا : میں رفاعہ کے نکاح میں تھی تو اس نے مجھے تین طلاقیں دے دیں ۔ اس کے بعد میں نے عبدالرحمن بن زبیر سے شادی کر لی ، لیکن اس کے پاس تو کپڑے کے پلو کی طرح ہے (یعنی وہ جماع کے قابل نہیں) آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا تم رفاعہ کی طرف واپس جانا چاہتی ہو ؟‘‘ اس نے عرض کیا : جی ہاں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ نہیں ، حتی کہ تم اس سے لطف اندوز ہو جاؤ اور وہ تم سے لطف اندوز ہو جائے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: لَعَنَ رسولُ الله المحلّلَ والمُحلَّلَ لَهُ. رَوَاهُ الدَّارمِيّ

عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے حلالہ کرنے والے اور جس کے لیے حلالہ کیا جا رہا ہے دونوں پر لعنت فرمائی ۔ صحیح ، رواہ الدارمی ۔

وَرَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ عَنْ عَلِيٍّ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَعقبَة بن عَامر

ابن ماجہ نے اسے علی ؓ ، ابن عباس ؓ اور عقبہ بن عامر ؓ سے روایت کیا ہے ۔ صحیح ، رواہ ابن ماجہ ۔

وَعَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: أَدْرَكْتُ بِضْعَةَ عَشَرَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُّهُمْ يَقُولُ: يُوقَفُ الْمُؤْلِي. رَوَاهُ فِي شرح السّنة

سلیمان بن یسار ؒ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کے تقریباً دس صحابہ سے ملاقات کی وہ سب کہتے تھے کہ ایلاء کرنے والے کو پابند سلاسل کیا جائے گا ۔ سندہ صحیح ، رواہ فی شرح السنہ ۔

وَعَن أبي سلمةَ: أَنَّ سَلْمَانَ بْنَ صَخْرٍ وَيُقَالُ لَهُ: سَلَمَةُ بْنُ صَخْرٍ الْبَيَاضِيُّ جَعَلَ امْرَأَتَهُ عَلَيْهِ كَظَهْرِ أُمِّهِ حَتَّى يَمْضِيَ رَمَضَانُ فَلَمَّا مَضَى نِصْفٌ مِنْ رَمَضَانَ وَقَعَ عَلَيْهَا لَيْلًا فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ لَهُ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَعْتِقْ رَقَبَةً» قَالَ: لَا أَجِدُهَا قَالَ: «فَصُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ» قَالَ: لَا أَسْتَطِيعُ قَالَ: «أَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا» قَالَ: لَا أَجِدُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِفَرْوَةَ بْنِ عَمْرٍو: «أَعْطِهِ ذَلِكَ الْعَرَقَ» وَهُوَ مِكْتَلٌ يَأْخُذُ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا أَوْ سِتَّةَ عَشَرَ صَاعا «ليُطعِمَ سِتِّينَ مِسْكينا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

ابوسلمہ سے روایت ہے کہ سلمان بن صخر ، انہیں سلمہ بن صخر بیاضی بھی کہا جاتا ہے ، نے اپنی بیوی کو پورا رمضان اپنے اوپر اپنی ماں کی پشت کی طرح قرار دے لیا ، جب نصف رمضان گزر گیا تو ایک رات اس نے اس سے جماع کر لیا ، پھر وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس کے متعلق آپ سے ذکر کیا تو رسول اللہ ﷺ نے اسے فرمایا :’’ ایک غلام آزاد کرو ۔‘‘ اس نے عرض کیا ، میرے پاس کوئی غلام نہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ دو ماہ کے مسلسل روزے رکھو ۔‘‘ اس نے عرض کیا : میں استطاعت نہیں رکھتا ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ ۔‘‘ اس نے عرض کیا : میں طاقت نہیں رکھتا ، تو رسول اللہ ﷺ نے فروہ بن عمرو سے فرمایا :’’ اسے پندرہ صاع یا سولہ (تقریباً چالیس کلو) والا کھجوروں کا ٹوکرا دے دو تاکہ وہ ساٹھ مسکینوں کو کھلا دے ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی ۔

وروى أَبُو دَاوُد وابنُ مَاجَه والدارمي عَن سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ صَخْرٍ نحوَه قَالَ: كنتُ امْرأ أُصِيبُ مِنَ النِّسَاءِ مَا لَا يُصِيبُ غَيْرِي وَفِي روايتهِما أَعنِي أَبُو دَاوُدَ وَالدَّارِمِيَّ: «فَأَطْعِمْ وَسْقًا مِنْ تَمْرٍ بَيْنَ سِتِّينَ مِسْكينا»

ابوداؤد ، ابن ماجہ اور دارمی نے سلیمان بن یسار کے طریق سے سلمہ بن صخر سے اسی طرح روایت کیا ہے ، انہوں نے کہا : مجھے جس قدر عورتوں سے لگاؤ تھا اتنا لگاؤ میرے سوا کسی کو نہ تھا ۔ اور ان دونوں یعنی ابوداؤد اور دارمی کی روایت میں ہے :’’ ایک وسق (ساٹھ صاع) کھجوریں ساٹھ مسکینوں کو کھلاؤ ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ و الدارمی ۔

وَعَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ صَخْرٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمُظَاهِرِ يُوَاقِعُ قَبْلَ أَنْ يُكَفِّرَ قَالَ: «كَفَّارَة وَاحِدَة» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَابْن مَاجَه

سلیمان بن یسار ، سلمہ بن صخر کی سند سے نبی ﷺ سے ، ظہار کرنے والے کے متعلق جو کفارہ دینے سے پہلے جماع کر لے ، روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ایک ہی کفارہ ہے ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ ۔

عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ رَجُلًا ظَاهَرَ مِنِ امْرَأَتِهِ فَغَشِيَهَا قَبْلَ أَنْ يَكَفِّرَ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ: «مَا حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ؟» قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ رَأَيْتُ بَيَاضَ حِجْلَيْهَا فِي الْقَمَرِ فَلَمْ أَمْلِكْ نَفْسِي أَنْ وَقَعَتُ عَلَيْهَا فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمَرَهُ أَنْ لَا يَقْرَبَهَا حَتَّى يُكَفِّرَ. رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ. وَرَوَى التِّرْمِذِيُّ نَحْوَهُ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ وَرَوَى أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ نَحْوَهُ مُسْنَدًا وَمُرْسَلًا وَقَالَ النَّسَائِيُّ: المُرسل أوْلى بالصَّوابِ من المسْندِ

عکرمہ ، ابن عباس ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی سے ظہار کیا تو اس نے کفارہ ادا کرنے سے پہلے اس سے جماع کر لیا ، پھر وہ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے اس کے متعلق آپ کو بتایا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تمہیں کس چیز نے اس پر آمادہ کیا ؟‘‘ اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں نے چاندنی رات میں اس کی پازیب کی سفیدی دیکھی تو مجھ سے رہا نہ گیا اور میں اس سے ہم بستر ہو گیا ۔ رسول اللہ ﷺ مسکرا دیے اور اسے حکم فرمایا کہ وہ کفارہ ادا کرنے سے پہلے اس کے قریب نہ جائے ۔ ابن ماجہ ۔ اور امام ترمذی نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے ، اور فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ۔ اور امام ابوداؤد اور امام نسائی نے اسی مثل مسند اور مرسل روایت کیا ہے ، اور امام نسائی نے فرمایا : مرسل درست ہونے میں ، مسند سے اولیٰ ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ ابن ماجہ و الترمذی و ابوداؤد و النسائی ۔