عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، ہند بن عتبہ نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! ابوسفیان ایک بخیل آدمی ہے ، وہ مجھے اس قدر نہیں دیتا جو میرے اور میری اولاد کے لیے کافی ہو ، مگر میں اس سے اس طرح لے لیتی ہوں کہ اسے پتہ نہیں ہوتا ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اس قدر لے لیا کرو جو دستور کے مطابق تیرے اور تیری اولاد کے لیے کافی ہو ۔‘‘ متفق علیہ ۔
جابر بن سمرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب اللہ تم میں سے کسی کو مال عطا کرے تو اسے چاہیے کہ وہ پہلے اپنی ذات اور اپنے گھر والوں پر خرچ کرے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ مملوک کا کھانا اور لباس (دستور کے مطابق مالک پر واجب) ہے اور اس سے کام صرف اس کی طاقت کے مطابق ہی لیا جائے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ (غلام) تمہارے بھائی ہیں ، اللہ نے انہیں تمہارے زیر تصرف کر دیا ہے ، اللہ جس کے بھائی کو اس کے زیر تصرف کر دے تو وہ اسے ویسا ہی کھلائے جیسا خود کھائے اور ویسا ہی پہنائے جیسا خود پہنے اور اس سے کوئی ایسا کام نہ لے جو اس کی طاقت سے زیادہ ہو ، اور اگر وہ اس کے ذمے کوئی ایسا کام لگا دے جو اس کی طاقت سے بڑھ کر ہو تو پھر وہ اس میں اس کی اعانت کرے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
عبداللہ بن عمرو ؓ سے منقول ہے کہ ان کا منشی ان کے پاس آیا تو انہوں نے اسے فرمایا : کیا تم نے غلاموں کو ان کے کھانے کا سامان دے دیا ہے ؟ اس نے کہا : نہیں ، انہوں نے فرمایا : جاؤ اور انہیں (کھانے کا سامان) دو ، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ بندے کے لیے یہی گناہ کافی ہے کہ وہ اپنے مملوک کے کھانے کا سامان روک لے ۔‘‘ اور ایک روایت میں ہے :’’ آدمی کے لیے یہی گناہ کافی ہے کہ جن کی خوراک اس کے ذمے ہے وہ اس کی روزی ضائع کر دے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تمہارا خادم تمہارے لیے کھانا تیار کر کے لائے تو وہ (مالک) اسے اپنے ساتھ بٹھائے تاکہ وہ کھائے ، کیونکہ اس نے آگ کی حرارت اور دھواں برداشت کیا ہے ، اگر کھانا ، کھانے والوں کے حساب سے کم ہو تو وہ اس میں ایک یا دو لقمے اس کے ہاتھ پر رکھ دے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب غلام اپنے آقا کے لیے مخلص و خیر خواہ ہو اور وہ اللہ کی عبادت بھی احسن انداز میں کرتا ہو تو اس کے لیے دو اجر ہیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ مملوک کے لیے کیا خوب ہے کہ اللہ اسے اس حال میں فوت کرے کہ وہ اپنے رب کی عبادت بھی اچھے انداز میں کرتا ہو اور اپنے آقا کی اطاعت بھی اچھے انداز میں کرتا ہو ، کیا خوب ہے اس کے لیے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
جریر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب غلام فرار ہو جاتا ہے تو اس کی نماز قبول نہیں کی جاتی ۔‘‘ اور انہی سے ایک روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جو غلام فرار ہو جاتا ہے تو اس سے ذمہ ختم ہو جاتا ہے ۔‘‘ اور انہی سے ایک اور روایت میں ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جو غلام اپنے مالکوں سے فرار ہو جائے تو اس نے کفر کیا حتی کہ وہ ان کے پاس لوٹ آئے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے ابوالقاسم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جس نے اپنے مملوک پر بہتان باندھا جبکہ وہ اس سے بری ہو جو اس نے کہا تو روزِ قیامت اسے کوڑے ماریں جائیں گے مگر یہ کہ وہ ویسے ہی ہو جیسے اس نے کہا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جس شخص نے اپنے غلام پر اس کے ناکردہ جرم پر حد قائم کی یا اس کو تھپڑ رسید کیا تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ وہ اسے آزاد کر دے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابومسعود انصاری ؓ بیان کرتے ہیں ، میں اپنے غلام کو مار رہا تھا اسی دوران میں نے اپنے پیچھے سے ایک آواز سنی :’’ ابومسعود ! جان لو ، اللہ تم پر اس سے کہیں زیادہ قدرت رکھتا ہے جتنی تم اس پر قدرت رکھتے ہو ۔‘‘ میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہ رسول اللہ ﷺ تھے ، میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! وہ اللہ کی رضا کی خاطر آزاد ہے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ سن لو ! اگر تم ایسا نہ کرتے تو تمہیں جہنم کی آگ جلاتی ‘‘ یا (فرمایا) :’’ تمہیں آگ چھوتی ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا : میرے پاس مال ہے ، اور میرے والد کو میرے مال کی ضرورت ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تم اور تمہارا مال تیرے والد کا ہے ، کیونکہ تمہاری اولاد تمہاری بہترین کمائی ہے ، تم اپنی اولاد کی کمائی کھاؤ ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ ۔
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا : میں فقیر آدمی ہوں ، میرے پاس کچھ بھی نہیں ، اور میری زیر نگرانی ایک یتیم ہے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ یتیم کے مال سے اس طرح کھاؤ کہ اس میں اسراف نہ ہو ، نہ جلد بازی ہو (کہ یتیم کے بڑا ہونے سے پہلے وہ مال ختم ہو جائے) اور نہ اس سے جائیداد بنانی چاہیے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد و النسائی و ابن ماجہ ۔
ام سلمہ ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتی ہیں کہ آپ ﷺ اپنی مرض الموت میں فرما رہے تھے :’’ نماز اور اپنے غلاموں کا خیال رکھنا ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعیب الایمان ۔
وَرَوَى أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ عَنْ عَلِيٍّ نَحْوَهُ
امام احمد اور ابوداؤد نے علی ؓ سے اسی طرح روایت کیا ہے ۔ سندہ حسن ، رواہ احمد و ابوداؤد ۔
ابوبکر صدیق ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ غلاموں کے ساتھ بُرا سلوک کرنے والا جنت میں داخل نہیں ہو گا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ ۔
رافع بن مکیث ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ (غلاموں ، رعایا سے) اچھا سلوک کرنے والا باعث برکت ہے جبکہ بُرے اخلاق والا باعث نحوست ہے ۔‘‘ اور میں (صاحب مشکوۃ) نے مصابیح کے علاوہ کسی اور نسخے میں یہ اضافہ نہیں دیکھا جو صاحبِ مصابیح نے نقل کیا ہے :’’ صدقہ بُری موت سے بچاتا ہے اور نیکی عمر میں اضافہ کا باعث ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
ابوسعید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی اپنے خادم کو مارے اور وہ اللہ کا واسطہ دے تو تم اپنا ہاتھ اٹھا لو (نہ مارو) ۔‘‘ ترمذی ، بیہقی فی شعیب الایمان ، لیکن اس میں ’’ اپنا ہاتھ اٹھا لو ‘‘ کے بجائے ’’ روک لو ‘‘ کے الفاظ ہیں ۔ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ الترمذی و البیھقی فی شعب الایمان ۔
ابوایوب ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جس نے والدہ اور اس کے بچے کے درمیان جدائی ڈال دی تو روز قیامت اللہ اس کے اور اس کے چہیتوں (والدین اور اولاد وغیرہ) کے درمیان جدائی ڈال دے گا ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و الدارمی ۔