TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Chapter 0

Chapter 0 of قصاص کا بیان in Mishkat. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 0 of 4 · 40 Hadith
Whole book
Previous Chapter Next Chapter
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَّا بِإِحْدَى ثَلَاثٍ: النَّفْسُ بِالنَّفْسِ وَالثَّيِّبُ الزَّانِي وَالْمَارِقُ لدينِهِ التَّارِكُ للجماعةِ
عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو مسلمان شخص یہ گواہی دیتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں تو اس کا خون (یعنی قتل کرنا) فقط تین صورتوں کی وجہ سے حلال ہے ، جان کے بدلے جان (قاتل کو قتل کرنا) شادی شدہ زانی اور دین سے مرتد ہو کر جماعت چھوڑنے والا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۶۸۷۸) و مسلم (۲۵ / ۱۶۷۶) ۔ 4375
3446
Sahih
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَنْ يَزَالَ الْمُؤْمِنُ فِي فُسْحَةٍ مِنْ دِينِهِ مَا لَمْ يُصِبْ دَمًا حَرَامًا» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ مومن اپنے دین میں بڑھتا رہتا ہے جب تک کہ کسی حرام خون کا ارتکاب نہ کرے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
Takhreej
رواہ البخاری (۶۸۶۲) ۔
3447
Sahih
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَوَّلُ مَا يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي الدِّمَاء»
عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ روز قیامت لوگوں کے درمیان سب سے پہلے خونوں کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۶۸۶۴) و مسلم (۲۸ / ۱۶۷۸) ۔ 4381
3448
Sahih
وَعَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ لَقِيتُ رَجُلًا مِنَ الْكُفَّارِ فَاقْتَتَلْنَا فَضَرَبَ إِحْدَى يَدَيَّ بِالسَّيْفِ فقطعهما ثُمَّ لَاذَ مِنِّي بِشَجَرَةٍ فَقَالَ: أَسْلَمْتُ لِلَّهِ وَفِي رِوَايَةٍ: فَلَمَّا أَهْوَيْتُ لِأَقْتُلَهُ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ أَأَقْتُلُهُ بَعْدَ أَنْ قَالَهَا؟ قَالَ: «لَا تَقْتُلْهُ» فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ قَطَعَ إِحْدَى يَدَيَّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَقْتُلْهُ فَإِنْ قَتَلْتَهُ فَإِنَّهُ بِمَنْزِلَتِكَ قَبْلَ أَنْ تَقْتُلَهُ وَإِنَّكَ بِمَنْزِلَتِهِ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ كَلِمَتَهُ الَّتِي قَالَ»
مقدام بن اسود ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! مجھے بتائیں اگر میرا کسی کافر شخص سے مقابلہ ہو جائے اور ہم دونوں ایک دوسرے پر حملہ آور ہو جائیں اور وہ تلوار کے ذریعے مجھ پر وار کرے اور میرے ایک ہاتھ کو کاٹ ڈالے ، پھر وہ مجھ سے بچنے کے لیے ایک درخت کے پیچھے چھپ جائے اور کہے میں اللہ کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کرتا ہوں ، اور ایک روایت میں ہے : جب میں نے اسے قتل کرنے کا ارادہ کیا تو اس نے کہا :’’ لا الہ الا اللہ ‘‘ تو کیا اس کے کلمہ پڑھنے کے بعد میں اسے قتل کر دوں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اسے قتل نہ کرو ۔‘‘ اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اس نے میرا ایک ہاتھ کاٹ ڈالا ، (اس کا کیا بنے گا ؟) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اسے قتل نہ کرو اگر تم نے اسے قتل کیا تو وہ تیرے مقام و مرتبہ پر آ جائے گا جو کہ قتل کرنے سے پہلے تیرا تھا ، اور تم اس کے مقام و مرتبہ پر ہو جاؤ گے جو کلمہ پڑھنے سے پہلے اس کا تھا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۶۸۶۵) و مسلم (۱۵۵ / ۹۵) ۔ 274
3449
Sahih
وَعَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أُنَاسٍ مِنْ جُهَيْنَةَ فَأَتَيْتُ عَلَى رَجُلٍ مِنْهُمْ فَذَهَبْتُ أَطْعَنُهُ فَقَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَطَعَنْتُهُ فَقَتَلْتُهُ فَجِئْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ: «أقَتلتَه وقدْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ؟» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا فَعَلَ ذَلِكَ تَعَوُّذًا قَالَ: «فهَلاَّ شقَقتَ عَن قلبه؟»
اسامہ بن زید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے ہمیں جہینہ قبیلے کی طرف روانہ فرمایا ، میں ان کے ایک آدمی کے مقابل آیا تو میں نے اس پر نیزے کا وار کرنا چاہا تو اس نے کلمہ پڑھ لیا ، لیکن میں نے اس پر وار کر کے اسے قتل کر دیا ، میں نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے آپ ﷺ کو بتایا ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا تم نے اسے قتل کر دیا حالانکہ اس نے گواہی دے دی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ۔‘‘ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اس نے تو محض جان بچانے کے لیے کلمہ پڑھا تھا ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تم نے کیا اس کا دل چیر کر دیکھ لیا تھا ؟‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۶۸۷۲) و مسلم (۱۵۸ / ۹۶) ۔ 277
3450
Sahih
وَفِي رِوَايَةِ جُنْدُبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «كَيْفَ تَصْنَعُ بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ إِذَا جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟» . قَالَهُ مِرَارًا. رَوَاهُ مُسلم
اور جندب بن عبداللہ بجلی ؓ سے مروی روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب وہ قیامت کے روز ’’ لا الہ الا اللہ ‘‘ کے ساتھ آئے گا تو تم اس کا سامنا کس طرح کرو گے ؟ آپ ﷺ نے یہ بات کئی بار فرمائی ۔ رواہ مسلم ۔
Takhreej
: رواہ مسلم (۱۶۰ / ۹۷) ۔ 279
3451
Sahih
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ قَتَلَ مُعَاهِدًا لَمْ يَرَحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ وَإِنَّ رِيحَهَا تُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ أربعينَ خَرِيفًا» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس نے کسی معاھد (ذمی) کو قتل کیا تو وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں پائے گا حالانکہ اس کی خوشبو چالیس سال کی مسافت سے محسوس کی جائے گی ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
Takhreej
رواہ البخاری (۳۱۶۶) ۔
3452
Sahih
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ تَرَدَّى مِنْ جَبَلٍ فَقَتَلَ نَفْسَهُ فَهُوَ فِي نَارِ جَهَنَّمَ يَتَرَدَّى فِيهَا خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيهَا أَبَدًا وَمَنْ تَحَسَّى سُمًّا فَقَتَلَ نَفْسَهُ فَسُمُّهُ فِي يَدِهِ يَتَحَسَّاهُ فِي نَارِ جَهَنَّمَ خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيهَا أَبَدًا وَمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِحَدِيدَةٍ فَحَدِيدَتُهُ فِي يَدِهِ يَتَوَجَّأُ بِهَا فِي بَطْنِهِ فِي نَارِ جهنَّمَ خَالِدا مخلَّداً فِيهَا أبدا»
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص نے اپنے آپ کو پہاڑ سے گرا کر مار لیا تو وہ جہنم میں گرتا رہے گا اور اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہے گا ۔ اور جس نے زہر کے ذریعے خودکشی کی تو اس کا زہر اس کے ہاتھ میں ہو گا جسے وہ جہنم کی آگ میں پیتا رہے گا ۔ اور اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہے گا ، اور جس نے لوہے (کے کسی آلے) کے ذریعے خودکشی کی تو اس کا ہتھیار اس کے ہاتھ میں ہو گا اور وہ جہنم کی آگ میں اسے اپنے پیٹ میں گھونپتا رہے گا اور وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہے گا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۵۷۷۸) و مسلم (۱۷۵ / ۱۰۹) ۔ 300
3453
Sahih
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الَّذِي يَخْنُقُ نَفْسَهُ يَخْنُقُهَا فِي النَّارِ وَالَّذِي يَطْعَنُهَا يَطْعَنُهَا فِي النَّارِ» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس نے اپنا گلا گھونٹ کر خودکشی کی تو وہ جہنم میں بھی گلا گھونٹے گا اور جو نیزہ مار کر خودکشی کرے گا تو وہ جہنم میں بھی اپنے آپ کو نیزہ مارتا رہے گا ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
Takhreej
رواہ البخاری (۱۳۶۵) ۔
3454
Sahih
وَعَنْ جُنْدُبِ بْنِ عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ فِيمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ رَجُلٌ بِهِ جُرْحٌ فجزِعَ فأخذَ سكيّناً فحزَّ بِهَا يَدَهُ فَمَا رَقَأَ الدَّمُ حَتَّى مَاتَ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: بَادَرَنِي عَبْدِي بِنَفْسِهِ فَحَرَّمْتُ عَلَيْهِ الْجنَّة
جندب بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تم میں سے پہلے لوگوں میں ایک آدمی تھا جو زخمی ہو گیا تو اس نے بے صبری کا مظاہرہ کیا ، اس نے چھری پکڑی اور اپنا (زخمی) ہاتھ کاٹ ڈالا ، اس کا خون بہتا رہا حتی کہ وہ فوت ہو گیا ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا :’’ میرے بندے نے خود کو قتل کرنے میں مجھ سے جلدی کی اس لیے میں نے اس پر جنت حرام کر دی ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۳۴۶۳) و مسلم (۱۸۱ / ۱۱۳) ۔ 307
3455
Sahih
وَعَنْ جَابِرٍ: أَنَّ الطُّفَيْلَ بْنَ عَمْرٍو الدَّوْسِيَّ لَمَّا هَاجَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَدِينَةِ هَاجَرَ إِلَيْهِ وَهَاجَرَ مَعَهُ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِهِ فَمَرِضَ فَجَزِعَ فَأَخَذَ مَشَاقِصَ لَهُ فَقَطَعَ بِهَا بَرَاجِمَهُ فَشَخَبَتْ يَدَاهُ حَتَّى مَاتَ فَرَآهُ الطُّفَيْلُ بْنُ عَمْرٍو فِي مَنَامِهِ وَهَيْئَتُهُ حسنةٌ ورآهُ مغطيّاً يدَيْهِ فَقَالَ لَهُ: مَا صنع بِكُل رَبُّكَ؟ فَقَالَ: غَفَرَ لِي بِهِجْرَتِي إِلَى نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: مَا لِي أَرَاكَ مُغَطِّيًا يَدَيْكَ؟ قَالَ: قِيلَ لِي: لَنْ تصلح مِنْكَ مَا أَفْسَدْتَ فَقَصَّهَا الطُّفَيْلُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللَّهُمَّ وَلِيَدَيْهِ فَاغْفِر» . رَوَاهُ مُسلم
جابر ؓ سے روایت ہے کہ جب نبی ﷺ نے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی تو طفیل بن عمرو دوسی ؓ نے آپ کی طرف ہجرت کی اور ان کے ساتھ ان کی قوم کے ایک آدمی نے بھی ہجرت کی ، وہ شخص بیمار ہو گیا اور اس نے بے صبری کا مظاہرہ کیا اور اس نے اپنی چھری لی اور اس سے اپنا ہاتھ کاٹ ڈالا جس سے خون بہنے لگا حتی کہ وہ فوت ہو گیا ۔ طفیل بن عمرو ؓ نے اسے خواب میں دیکھا کہ اس کی ہیئت اچھی ہے اور اس نے اپنے ہاتھ ڈھانپ رکھے ہیں ، انہوں نے اس سے پوچھا : تیرے رب نے تیرے ساتھ کیا معاملہ کیا ؟ تو اس نے کہا : اس نے اپنے نبی ﷺ کی طرف میری ہجرت کی وجہ سے مجھے معاف فرما دیا ، طفیل بن عمرو ؓ نے فرمایا : میں آپ کو ہاتھ ڈھانپے ہوئے کیوں دیکھ رہا ہوں ؟ اس نے کہا : مجھے کہا گیا کہ ہم تمہارے اس حصے کو درست نہیں کریں گے جسے تم نے خود خراب کیا ہے ، طفیل ؓ نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں یہ قصہ عرض کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اے اللہ ! اور اس کے دونوں ہاتھوں کو بھی معاف فرما ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۱۸۴ / ۱۱۶) ۔ 311
3456
Sahih
وَعَن أبي شُرَيحٍ الكعبيِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ثُمَّ أَنْتُمْ يَا خُزَاعَةُ قَدْ قَتَلْتُمْ هَذَا الْقَتِيلَ مِنْ هُذَيْلٍ وَأَنَا وَاللَّهِ عَاقِلُهُ مَنْ قَتَلَ بَعْدَهُ قَتِيلًا فَأَهْلُهُ بَيْنَ خِيرَتَيْنِ: عَن أَحبُّوا قتلوا وَإِن أَحبُّوا أخذا العقلَ . رَوَاهُ الترمذيُّ وَالشَّافِعِيّ. وَفِي شرح السنَّة بإِسنادِه وَصَرَّحَ: بِأَنَّهُ لَيْسَ فِي الصَّحِيحَيْنِ عَنْ أَبِي شُرَيْح وَقَالَ:
ابوشریح الکعبی ؓ ، رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا :’’ خزاعہ (قبیلے والو) ! تم نے ہذیل کے اس مقتول کو قتل کیا ، اور اللہ کی قسم ! میں اس کی دیت ادا کر دیتا ہوں ، جس نے اس کے بعد کسی کو قتل کیا تو اس کے وارثوں کو دو چیزوں کے درمیان اختیار ہے ، اگر وہ پسند کریں تو اسے قتل کریں اور اگر چاہیں تو دیت لے لیں ۔‘‘ اسے ترمذی اور امام شافعی نے روایت کیا ہے اور امام بغوی نے شرح السنہ میں اپنی سند سے روایت کیا ہے اور انہوں نے صراحت کی کہ ابوشریح کی سند سے یہ حدیث صحیحین میں نہیں ہے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی و الشافعی ۔
Takhreej
اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی (۱۴۰۶) و الشافعی فی الام (۶ / ۹) [و ابوداؤد (۴۵۰۴) و اصلہ متفق علیہ ، و البخاری (۱۰۴) و مسلم (۱۳۵۴) مختصرًا و لم یذکرا ھذا اللفظ] * و رواہ البغوی فی شرح السنۃ (۷ / ۳۰۱ ح ۲۰۰۴ وقال : متفق علی صحتہ ، اخرجاہ جمیعًا ‘‘ الخ ۔
3457
Sahih
وَأَخْرَجَاهُ مِنْ رِوَايَةِ أَبِي هُرَيْرَةَ يَعْنِي بِمَعْنَاهُ
اور انہوں (بغوی ؒ) نے فرمایا : ان دونوں (امام بخاری اور امام مسلم) نے ابوہریرہ ؓ سے اسی مفہوم کی روایت نقل کی ہے ۔ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۱۱۲) و مسلم (۴۴۷ / ۱۳۵۵) ۔ 3306
3458
Sahih
وَعَنْ أَنَسٍ: أَنَّ يَهُودِيًّا رَضَّ رَأْسَ جَارِيَةٍ بَيْنَ حَجَرَيْنِ فَقِيلَ لَهَا: مَنْ فَعَلَ بِكِ هَذَا؟ أَفُلَانٌ؟ حَتَّى سُمِّيَ الْيَهُودِيُّ فَأَوْمَأَتْ بِرَأْسِهَا فَجِيءَ بِالْيَهُودِيِّ فَاعْتَرَفَ فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُضَّ رَأْسُهُ بِالْحِجَارَةِ
انس ؓ سے روایت ہے کہ ایک یہودی نے ایک لونڈی کا سر دو پتھروں کے درمیان کچل دیا ، اس سے پوچھا گیا ، تمہارے ساتھ یہ سلوک کس نے کیا ؟ کیا فلاں نے ؟ کیا فلاں نے ؟ حتی کہ اس یہودی کا نام لیا گیا تو اس نے سر کے اشارے سے کہا : ہاں ، اس یہودی کو پیش کیا گیا تو اس نے اعتراف کر لیا ، رسول اللہ ﷺ نے اس کے متعلق حکم فرمایا تو اس کے سر کو پتھر کے ساتھ کچل دیا گیا ۔ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۶۸۸۴) و مسلم (۱۵ / ۱۶۷۲) ۔ 4361
3459
Sahih
وَعَنْهُ قَالَ: كَسَرَتِ الرُّبَيِّعُ وَهِيَ عَمَّةُ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ثَنِيَّةَ جَارِيَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فَأَتَوُا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ بِالْقِصَاصِ فَقَالَ أَنَسُ بْنُ النَّضْرِ عَمُّ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ لَا وَاللَّهِ لَا تُكْسَرُ ثَنِيَّتُهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أَنَسُ كِتَابُ اللَّهِ الْقِصَاصُ» فَرَضِيَ الْقَوْمُ وَقَبِلُوا الْأَرْشَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ مَنْ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى الله لَأَبَره»
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، ان کی پھوپھی رُبیع ؓ نے انصار کی ایک لونڈی کے سامنے کے دانت توڑ دیے تو وہ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے قصاص کا حکم فرمایا تو انس بن مالک ؓ کے پھوپھا انس بن نضر ؓ نے عرض کیا ، اللہ کی قسم ! اللہ کے رسول ! اس کے دانت نہیں توڑے جائیں گے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ انس ! اللہ کی کتاب میں قصاص کا حکم ہے ۔‘‘ وہ لوگ دیت لینے پر راضی ہو گئے ، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ کے کچھ بندے ایسے بھی ہیں کہ اگر وہ اللہ پر قسم اٹھا لیں تو اللہ ان کی قسم کو سچا کر دیتا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۴۶۱۱) و مسلم (۲۴ / ۱۶۷۵) ۔ 4374
3460
Sahih
وَعَن أبي جُحيفةَ قَالَ: سَأَلْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ هَلْ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ لَيْسَ فِي الْقُرْآنِ؟ فَقَالَ: وَالَّذِي فَلَقَ الْحَبَّةَ وَبَرَأَ النَّسَمَةَ مَا عِنْدَنَا إِلَّا مَا فِي الْقُرْآنِ إِلَّا فَهْمًا يُعْطَى رَجُلٌ فِي كِتَابِهِ وَمَا فِي الصَّحِيفَةِ قُلْتُ: وَمَا فِي الصَّحِيفَةِ؟ قَالَ: الْعَقْلُ وَفِكَاكُ الْأَسِيرِ وَأَنْ لَا يُقْتَلَ مُسْلِمٌ بِكَافِرٍ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَذَكَرَ حَدِيثَ ابْنِ مَسْعُودٍ: «لَا تُقْتَلُ نَفْسٌ ظُلْمًا» فِي «كتاب الْعلم»
ابوجحیفہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے علی ؓ سے دریافت کیا ، کیا تمہارے پاس کوئی ایسی چیز ہے جو قرآن میں نہ ہو ؟ انہوں نے فرمایا : اس ذات کی قسم ! جس نے دانے کو پھاڑا اور روح کو پیدا فرمایا ! ہمارے پاس صرف وہی کچھ ہے جو قرآن میں ہے ، البتہ دین کا وہ فہم ہے جو بندے کو اللہ کی کتاب سے عطا کیا جاتا ہے اور جو کچھ صحیفہ میں لکھا ہوا ہے (وہ ہمارے پاس ہے) ۔ میں نے عرض کیا : صحیفہ میں کیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا :’’ دیت ، قیدی چھڑانے اور یہ کہ کسی مسلمان کو کافر کے بدلہ میں قتل نہ کیا جائے ، کے متعلق احکامات ۔ رواہ البخاری ۔ اور ابن مسعود ؓ سے مروی حدیث کہ ’’ کسی جان کو ناحق قتل نہ کیا جائے ۔‘‘ کتاب العلم میں ذکر کی گئی ہے ۔
Takhreej
رواہ البخاری (۶۹۰۳) 0 حدیث ابن مسعود تقدم (۲۱۱) ۔
3461
Sahih
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَزَوَالُ الدُّنْيَا أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ مِنْ قَتْلِ رَجُلٍ مُسْلِمٍ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَالنَّسَائِيّ ووقفَه بعضُهم وَهُوَ الْأَصَح
عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ تعالیٰ کے ہاں پوری دنیا کا تباہ و برباد ہو جانا ایک مسلمان آدمی کے قتل کے مقابلے میں زیادہ آسان ہے ۔‘‘ ترمذی ، نسائی ۔ اور بعض نے اسے موقوف قرار دیا ہے اور یہی زیادہ صحیح ہے ۔ حسن ، رواہ الترمذی و النسائی ۔
Takhreej
حسن ، رواہ الترمذی (۱۳۹۵) و النسائی (۷ / ۸۲ ح ۳۹۹۱ ۔ ۳۹۹۴) ۔
3462
Sahih
وَرَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ
ابن ماجہ نے اسے براء بن عازب ؓ سے روایت کیا ہے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ ۔
Takhreej
سندہ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ (۳۶۱۹) * سفیان الثوری عنعن و الحدیث ضعیف من جمیع طرقہ ولم یصب من صححہ ۔
3463
Zaeef
وَعَن أبي سعيدٍ وَأبي هريرةَ عَن رسولِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَوْ أَنَّ أَهْلَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ اشْتَرَكُوا فِي دَمِ مُؤْمِنٍ لَأَكَبَّهُمُ اللَّهُ فِي النَّارِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ
ابوسعید ؓ اور ابوہریرہ ؓ ، رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اگر زمین و آسمان کے تمام باسی ایک مومن کے قتل کرنے میں شریک پائے جائیں تو اللہ ان سب کو چہرے کے بل جہنم میں پھینک دے گا ۔‘‘ ترمذی ، اور انہوں نے کہا : یہ حدیث غریب ہے ۔ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
Takhreej
ضعیف ، رواہ الترمذی (۱۳۹۸) * یزید الرقاشی ضعیف ولہ شواھد ضعیفۃ عند البیھقی (۸ / ۲۲) وغیرہ ۔
3464
Zaeef
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَجِيءُ الْمَقْتُولُ بِالْقَاتِلِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ نَاصِيَتُهُ وَرَأْسُهُ بِيَدِهِ وَأَوْدَاجُهُ تَشْخُبُ دَمًا يَقُولُ: يَا رَبِّ قَتَلَنِي حَتَّى يُدْنِيَهُ مِنَ العرشِ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَالنَّسَائِيّ وَابْن مَاجَه
ابن عباس ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ روزِ قیامت مقتول قاتل کو لے کر آئے گا اس (قاتل) کی پیشانی اور اس کا سر مقتول کے ہاتھ میں ہو گا اور اس کی رگوں سے خون بہہ رہا ہو گا ۔ اور وہ کہے گا : رب جی ! اس نے مجھے کیوں قتل کیا ؟ حتی کہ وہ اسے عرش کے قریب لے جائے گا ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی و النسائی و ابن ماجہ ۔
Takhreej
اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی (۳۰۲۹ وقال : حسن) و النسائی (۷ / ۸۷ ح ۴۰۱۰) و ابن ماجہ (۲۶۲۱) ۔
3465
Sahih