عکرمہ بیان کرتے ہیں ، علی ؓ کے پاس کچھ زندیق لائے گئے تو انہوں نے انہیں زندہ جلا دیا ، ابن عباس ؓ کو اس بات کا پتہ چلا تو انہوں نے فرمایا : اگر میں ہوتا تو میں انہیں کبھی زندہ نہ جلاتا کیونکہ رسول اللہ ﷺ سے اس کی ممانعت موجود ہے (کہ آپ ﷺ نے فرمایا) :’’ اللہ کے عذاب کے ساتھ عذاب نہ دو ۔‘‘ کی وجہ سے میں انہیں نہ جلاتا اور رسول اللہ ﷺ کے فرمان :’’ جو شخص اپنا دین (اسلام) بدل لے تو اسے قتل کر دو ۔‘‘ کے مطابق میں انہیں قتل کر دیتا ۔ رواہ البخاری ۔
عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ آگ کا عذاب صرف اللہ ہی دے گا ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
علی ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ عنقریب آخری زمانے میں ایک قوم کا ظہور ہو گا جو نو عمر ضعیف العقل ہوں گے ، وہ بظاہر نہایت معقول کام کریں گے ، لیکن ان کا ایمان ان کے حلق سے تجاوز نہیں کرے گا ، وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے ، تم انہیں جہاں پاؤ وہیں قتل کر دو کیونکہ انہیں قتل کرنے میں روز قیامت ان کے قاتل کے لیے اجر ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میری امت دو گروہوں میں منقسم ہو جائے گی اور ان دونوں کے بیچ سے ایک خارجی جماعت رونما ہو گی ، ان کا خاتمہ وہ لوگ کریں گے جو حق کے زیادہ قریب ہونگے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
جریر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا :’’ میرے بعد ایک دوسرے کی گردنیں کاٹ کر کافر نہ بن جانا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابوبکرہ ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جب دو مسلمان ملیں اور ان میں سے ایک اپنے بھائی پر اسلحہ تان لے تو وہ دونوں جہنم کے کنارے پر ہوتے ہیں ، جب ان میں سے کوئی اپنے مقابل کو قتل کر دیتا ہے تو وہ دونوں اکٹھے جہنم میں داخل ہو جاتے ہیں ۔‘‘ اور ان سے ایک دوسری روایت میں ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جب دو مسلمان اپنی تلواریں سونت کر سامنے آ جاتے ہیں تو قاتل اور مقتول جہنمی ہیں ۔‘‘ میں نے عرض کیا : قاتل تو ہے لیکن مقتول کس وجہ سے ؟ (کہ وہ مظلوم ہونے کے باوجود جہنمی ہے) آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کیونکہ وہ اپنے ساتھی (مد مقابل) کو قتل کرنے پر حریص تھا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، عکل کے کچھ لوگ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے اسلام قبول کر لیا ۔ مدینہ کی آب و ہوا انہیں موافق نہ آئی تو آپ نے انہیں صدقہ کے اونٹوں کے پاس جانے کا حکم فرمایا تاکہ وہاں وہ ان کا دودھ اور پیشاب پیئیں ، انہوں نے ایسے کیا اور وہ صحت یاب ہو گئے ، اس کے بعد وہ مرتد ہو گئے اور ان کے چرواہوں کو قتل کر کے اونٹ ہانک کر لے گئے آپ ﷺ نے ان کے تعاقب میں آدمی بھیجے تو وہ انہیں پکڑ کر لے آئے ، آپ نے ان کے ہاتھ اور پاؤں کاٹ دیے اور ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھیر دی گئیں ، پھر ان کا خون بہتا رہا حتی کہ وہ فوت ہو گئے ۔ ایک دوسری روایت میں ہے :’’ انہوں نے ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھیر دیں ۔‘‘ اور ایک روایت میں ہے :’’ آپ ﷺ نے سلائیوں کے متعلق حکم فرمایا تو انہیں گرم کیا گیا اور انہیں ان کی آنکھوں میں پھیر کر انہیں دھوپ میں پھینک دیا گیا وہ پانی طلب کرتے رہے مگر انہیں پانی نہ دیا گیا حتی کہ وہ فوت ہو گئے ۔ متفق علیہ ۔
عمران بن حصین ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ ہمیں صدقہ دینے پر آمادہ کیا کرتے تھے اور مثلہ کرنے سے منع فرمایا کرتے تھے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
وَرَوَاهُ النَّسَائِيّ عَن أنس
امام نسائی نے اسے انس ؓ سے روایت کیا ہے ۔ صحیح ، رواہ النسائی ۔
عبدالرحمن بن عبداللہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں ، ہم ایک سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے ، آپ قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے تو ہم نے ایک چڑیا (سرخ رنگ کی چڑیا) دیکھی ، اس کے ساتھ اس کے دو بچے تھے ، ہم نے اس کے بچے پکڑ لیے تو وہ پھڑ پھڑانے لگی ، اتنے میں نبی ﷺ تشریف لائے اور آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کس شخص نے اسے ، اس کے بچوں کی وجہ سے بے قرار کر دیا ؟ اس کے بچے اسے واپس کرو ۔‘‘ اور آپ نے چیونٹیوں کا ایک مسکن دیکھا جسے ہم نے جلا دیا تھا ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اسے کس نے جلایا ہے ؟‘‘ ہم نے عرض کیا : ہم نے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ آگ کا عذاب دینا صرف آگ کے رب کے لائق ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
ابوسعید خدری ؓ اور انس بن مالک ؓ ، رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ میری امت میں عنقریب اختلاف و افتراق ہو گا ۔ ایک گروہ باتیں اچھی اچھی لیکن کام برے کرے گا ۔ وہ قرآن پڑھیں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا ۔ وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار سے نکل (کر پار ہو) جاتا ہے ۔ وہ دین کی طرف نہیں پلٹیں گے حتی کہ تیر اپنے سوفار (چٹکی جہاں کمان کا تانت ٹکتا ہے) پر واپس آ جائے ۔ وہ تمام مخلوق سے بدتر ہیں ۔ اس شخص کے لیے خوشخبری ہے جو ان کو قتل کرتا ہے اور جسے وہ قتل کر دیں ، وہ (بظاہر) اللہ کی کتاب کی طرف دعوت دیں گے ۔ لیکن وہ کسی چیز میں بھی ہم میں سے نہیں ہوں گے ، جس نے ان سے قتال کیا وہ ان (باقی امتیوں) سے اللہ کے زیادہ قریب ہے ۔‘‘ صحابہ ؓ نے پوچھا : اللہ کے رسول ! ان کی علامت کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ سر منڈانا ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو مسلمان یہ گواہی دیتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد (ﷺ) اللہ کے رسول ہیں ، اسے صرف تین وجوہات میں سے کسی ایک وجہ سے قتل کرنا جائز ہے : شادی کے بعد زنا والے کو رجم کیا جائے گا ، اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کے خلاف جنگ کرے (یعنی ڈاکو) ہو ، اسے قتل کیا جائے گا یا سولی پر چڑھایا جائے گا یا جلا وطن کیا جائے گا ۔ یا کوئی شخص کسی جان کو قتل کر دے تو اس کے بدلے میں اسے قتل کیا جائے گا ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
ابن ابی لیلی بیان کرتے ہیں ، محمد ﷺ کے صحابہ نے ہمیں حدیث بیان کی کہ وہ رات کے وقت رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سفر کر رہے تھے ، ان میں سے ایک آدمی سو گیا تو کسی شخص نے اپنی رسی لی اور اس کی طرف گیا اور اسے رسی کے ساتھ باندھ دیا تو وہ (سونے والا شخص) گھبرا گیا ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ کسی مسلمان کے لیے یہ لائق نہیں کہ وہ کسی مسلمان کو خوف زدہ کرے ۔‘‘ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
ابودرداء ؓ ، رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص نے خراج والی زمین خرید لی تو اس نے اپنی ہجرت (عزت) ختم کر لی اور جس نے کسی کافر کی گردن سے ذلت اتار کر اپنی گردن میں ڈال لی تو اس نے اسلام کو پس پشت ڈال دیا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
جریر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے (یمن کے قبیلے) خثعم کی طرف ایک لشکر روانہ کیا تو ان میں سے کچھ لوگ بچنے کے لیے نماز پڑھنے لگے ، لیکن انہیں تیزی سے قتل کیا گیا ، نبی ﷺ کو اس کی خبر پہنچی تو آپ ﷺ نے ان کے لیے نصف دیت کا حکم فرمایا ، اور فرمایا :’’ میں مشرکوں کے درمیان رہنے والے تمام مسلمانوں (کے خون) سے برئ الذمہ ہوں ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! کس لیے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ (وہ کافروں سے اس قدر دور رہیں کہ) ان کی آگ نظر نہ آئے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
ابوہریرہ ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ایمان اچانک قتل کرنے سے منع کرتا ہے ۔ مومن اچانک (مطلع کیے بغیر) قتل نہیں کرتا ۔‘‘ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
جریر ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جب غلام مشرکین کے علاقے کی طرف فرار ہو جائے تو اس کا خون حلال ہو جاتا ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
علی ؓ روایت کرتے ہیں کہ ایک یہودی عورت نبی ﷺ کو بُرا بھلا کہا کرتی تھی اور آپ کی مذمت کیا کرتی تھی ، ایک آدمی نے اس کا گلا دبا دیا چنانچہ وہ مر گئی تو نبی ﷺ نے اس کا خون رائیگاں قرار دے دیا ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
جندب ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جادوگر کی حد (یعنی سزا) تلوار کے ساتھ قتل کرنا ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
اسامہ بن شریک ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص (امام کے خلاف) خروج کرے اور میری امت کے درمیان تفریق ڈالے تو اس کی گردن اڑا دو ۔‘‘ صحیح ، رواہ النسائی ۔