مشکوۃ

Mishkat

جہاد کا بیان

آدابِ سفر کا بیان

بَاب آدَاب السّفر

عَن كَعْب بْنِ مَالِكٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يَوْمَ الْخَمِيسِ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ وَكَانَ يُحِبُّ أَنْ يَخْرُجَ يَوْمَ الْخَمِيسِ. رَوَاهُ البُخَارِيّ

کعب بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ غزوہ تبوک کے لیے جمعرات کے روز روانہ ہوئے ، اور آپ ﷺ جمعرات کے روز روانہ ہونا پسند فرماتے تھے ۔ رواہ البخاری ۔

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِي الْوَحْدَةِ مَا أَعْلَمُ مَا سَارَ رَاكِبٌ بِلَيْلٍ وَحْدَهُ» . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ

عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اگر لوگوں کو تنہا سفر کرنے کی ان خرابیوں کا علم ہو جائے جو مجھے معلوم ہیں تو کوئی سوار تنہا ایک رات کا بھی سفر نہ کرے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَصْحَبُ الْمَلَائِكَةُ رُفْقَةً فِيهَا كَلْبٌ وَلَا جَرَسٌ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس قافلے کے ساتھ کتا اور گھنٹی ہو تو (رحمت کے) فرشتے اس کے ساتھ نہیں چلتے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

وَعَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْجَرَسُ مَزَامِيرُ الشَّيْطَانِ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ گھنٹی ، شیطان کے ساز ہیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

وَعَن أبي بشيرٍ الأنصاريِّ: أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَسُولًا: «لَا تبقين فِي رَقَبَة بِغَيْر قِلَادَةٌ مِنْ وَتَرٍ أَوْ قِلَادَةٌ إِلَّا قُطِعَتْ»

ابو بشیر انصاری ؓ سے روایت ہے کہ وہ کسی سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے ، رسول اللہ ﷺ نے ایک قاصد بھیجا کہ ’’کسی اونٹ کی گردن میں تانت کا پٹہ یا کوئی پٹہ نہ رہنے دیا جائے ، وہ سب کاٹ دیے جائیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا سَافَرْتُمْ فِي الْخِصْبِ فَأَعْطُوا الْإِبِلَ حَقَّهَا مِنَ الْأَرْضِ وَإِذَا سَافَرْتُمْ فِي السَّنَةِ فَأَسْرِعُوا عَلَيْهَا السَّيْرَ وَإِذَا عَرَّسْتُمْ بِاللَّيْلِ فَاجْتَنِبُوا الطَّرِيقَ فَإِنَّهَا طُرُقُ الدَّوَابِّ وَمَأْوَى الْهَوَامِّ بِاللَّيْلِ» . وَفِي رِوَايَةٍ: «إِذَا سَافَرْتُمْ فِي السَّنَةِ فَبَادِرُوا بِهَا نِقْيَهَا» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم سرسبز و شاداب علاقے میں چلو تو اونٹ کو زمین سے اس کا حق دو ، (انہیں چرنے دو) ، اور جب تم قحط سالی میں چلو تو پھر تیزی سے چلو ، جب تم رات کے وقت پڑاؤ ڈالو تو راستے سے اجتناب کرو کیونکہ رات کے وقت وہ چوپاؤں کی راہیں اور زہریلی چیزوں کا ٹھکانا ہیں ۔‘‘ اور ایک دوسری روایت میں ہے :’’ جب تم قحط سالی میں سفر کرو تو پھر جب تک ان (اونٹوں) کا گودا باقی ہے جلدی سے سفر کرو ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

وَعَن أبي سعيد الْخُدْرِيّ قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ فِي سَفَرٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذ جَاءَهُ رَجُلٌ عَلَى رَاحِلَةٍ فَجَعَلَ يَضْرِبُ يَمِينًا وَشِمَالًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كَانَ مَعَهُ فَضْلُ ظَهْرٌ فَلْيَعُدْ بِهِ عَلَى مَنْ لَا ظَهْرَ لَهُ وَمَنْ كَانَ لَهُ فَضْلُ زَادٍ فَلْيَعُدْ بِهِ عَلَى مَنْ لَا زَادَ لَهُ» قَالَ: فَذَكَرَ مِنْ أَصْنَافِ الْمَالِ حَتَّى رَأَيْنَا أَنَّهُ لَا حَقَّ لأحدٍ منا فِي فضل. رَوَاهُ مُسلم

ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سفر میں تھے اس دوران اچانک ایک آدمی سواری پر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور وہ دائیں بائیں دیکھنے لگا ، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص کے پاس زائد سواری ہو وہ اس شخص کو عنایت کر دے جس کے پاس کوئی سواری نہیں ، جس شخص کے پاس زاد سفر زیادہ ہو تو وہ اس شخص کو عنایت کر دے جس کے پاس زاد راہ نہیں ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے مال کی بہت اصناف کا ذکر فرمایا ، حتی کہ ہم نے سمجھا کہ ہم میں سے کسی شخص کو زائد چیز پر کوئی حق نہیں ۔ رواہ مسلم ۔

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «السَّفَرُ قِطْعَةٌ مِنَ الْعَذَابِ يَمْنَعُ أَحَدَكُمْ نَوْمَهُ وَطَعَامَهُ وَشَرَابه فَإِذا قضى نهمه من وَجهه فليعجل إِلَى أَهله»

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ سفر عذاب کی ایک قسم ہے ، وہ آپ میں سے ہر ایک کو اس کی نیند اور اس کے کھانے پینے سے باز رکھتا ہے ، لہذا جب وہ سفر کا مقصد حاصل کر لے تو اسے اپنے اہل خانہ کے پاس جلد آ جانا چاہیے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

وَعَن عبدِ اللَّهِ بنِ جعفرٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَدِمَ مَنْ سَفَرٍ تُلُقِّيَ بِصِبْيَانِ أَهْلِ بَيْتِهِ وَإِنَّهُ قَدِمَ مَنْ سَفَرٍ فَسُبِقَ بِي إِلَيْهِ فَحَمَلَنِي بَيْنَ يَدَيْهِ ثُمَّ جِيءَ بِأَحَدِ ابْنَيْ فَاطِمَةَ فَأَرْدَفَهُ خَلْفَهُ قَالَ: فَأُدْخِلْنَا المدينةَ ثلاثةَ على دَابَّة. رَوَاهُ مُسلم

عبداللہ بن جعفر ؓ بیان کرتے ہیں ، جب رسول اللہ ﷺ سفر سے تشریف لاتے تو آپ ﷺ کے اہل خانہ کے بچوں کے ساتھ آپ ﷺ کا استقبال کیا جاتا ، اسی طرح آپ ایک سفر سے واپس تشریف لائے تو مجھے آپ کی خدمت میں پیش کیا گیا ، آپ نے مجھے اپنے آگے سوار کر لیا ، پھر فاطمہ کے کسی لخت جگر (حسن یا حسین ؓ) کو لایا گیا تو آپ نے اسے اپنے پیچھے سوار کر لیا ، راوی بیان کرتے ہیں ، ہم مدینہ میں ایک سواری پر تین سوار ہو کر داخل کیے گئے ۔ رواہ مسلم ۔

وَعَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَطْرُقُ أَهْلَهُ لَيْلًا وَكَانَ لَا يَدْخُلُ إِلَّا غُدْوَةً أَوْ عَشِيَّةً

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ (جب سفر سے واپس آتے تو) وہ رات کے وقت اپنے اہل خانہ کے ہاں تشریف نہیں لاتے تھے بلکہ آپ ﷺ دن کے پہلے پہر یا پچھلے پہر تشریف لایا کرتے تھے ۔ متفق علیہ ۔

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «إِذا طَال أَحَدُكُمُ الْغَيْبَةَ فَلَا يَطْرُقْ أَهْلَهُ لَيْلًا»

جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی طویل مدت تک (گھر سے) غائب رہے تو وہ رات کے وقت اپنے اہل خانہ کے پاس نہ آئے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

وَعَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا دَخَلْتَ لَيْلًا فَلَا تَدَخُلْ عَلَى أهلك حَتَّى تستحد المغيبة وتمتشط الشعثة»

جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم رات کے وقت (شہر میں) داخل ہو تو اپنی اہلیہ کے پاس نہ جاؤ حتی کہ جس کا خاوند غائب رہا ہے وہ غیر ضروری بالوں کی صفائی کر لے اور پراگندہ بالوں والی کنگھی کر لے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

وَعَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَقْدَمُ مِنْ سَفَرٍ إِلَّا نَهَارًا فِي الضُّحَى فَإِذَا قَدِمَ بَدَأَ بِالْمَسْجِدِ فَصَلَّى فِيهِ رَكْعَتَيْنِ ثمَّ جلس فِيهِ للنَّاس

کعب بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ جب سفر سے واپس آتے تو دن کو چاشت کے وقت مدینہ منورہ میں داخل ہوتے تھے ، جب آپ داخل ہوتے تو پہلے مسجد میں تشریف لاتے اور وہاں دو رکعتیں پڑھتے ، پھر لوگوں کی خاطر وہاں تشریف رکھتے ۔ متفق علیہ ۔

وَعَن جَابر قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ قَالَ لِي: «ادْخُلِ الْمَسْجِدَ فَصَلِّ فِيهِ رَكْعَتَيْنِ» . رَوَاهُ البُخَارِيّ

جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں ایک سفر میں نبی ﷺ کے ساتھ تھا ، جب ہم مدینہ پہنچے تو آپ ﷺ نے مجھے فرمایا :’’ مسجد میں جا کر دو رکعتیں پڑھو ۔‘‘ رواہ البخاری ۔

عَن صخْرِ بن وَداعةَ الغامِديِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللَّهُمَّ بَارِكْ لِأُمَّتِي فِي بُكُورِهَا» وَكَانَ إِذا بعثَ سريَّةً أوْ جَيْشًا بَعَثَهُمْ مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ وَكَانَ صَخْرٌ تَاجِرًا فَكَانَ يَبْعَثُ تِجَارَتَهُ أَوَّلَ النَّهَارِ فَأَثْرَى وَكَثُرَ مالُه. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد والدارمي

صخر بن وداعہ غامدی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اے اللہ ! میری امت کے لیے اس کے دن کے پہلے حصے میں برکت فرما ۔‘‘ اور جب آپ ﷺ کوئی مجاہدین کا دستہ یا لشکر روانہ فرماتے تو آپ انہیں دن کے آغاز میں روانہ فرماتے تھے ، صخر ایک تاجر تھے ، وہ اپنا مالِ تجارت شروع دن میں بھیجا کرتے تھے ، وہ صاحب ثروت بن گئے اور ان کا مال بہت زیادہ ہو گیا ۔ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و الدارمی ۔

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَلَيْكُمْ بِالدُّلْجَةِ فَإِنَّ الْأَرْضَ تُطوَى بالليلِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ سرشام سفر کیا کرو کیونکہ رات کے وقت زمین لپیٹ دی جاتی ہے ۔‘‘ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الرَّاكِبُ شَيْطَانٌ وَالرَّاكِبَانِ شَيْطَانَانِ وَالثَّلَاثَةُ رَكبٌ» . رَوَاهُ مالكٌ وَالتِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ

عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تنہا سفر کرنے والا ایک شیطان ہے ، دو مسافر دو شیطان ہیں اور تین سفر کرنے والے ایک قافلہ ہیں ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ مالک و الترمذی و ابوداؤد و النسائی ۔

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا كَانَ ثَلَاثَةٌ فِي سَفَرٍ فَلْيُؤَمِّرُوا أحدهم» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تین افراد سفر کر رہے ہوں تو وہ اپنے میں سے ایک کو امیر بنا لیں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔