کعب بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ غزوہ تبوک کے لیے جمعرات کے روز روانہ ہوئے ، اور آپ ﷺ جمعرات کے روز روانہ ہونا پسند فرماتے تھے ۔ رواہ البخاری ۔
عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اگر لوگوں کو تنہا سفر کرنے کی ان خرابیوں کا علم ہو جائے جو مجھے معلوم ہیں تو کوئی سوار تنہا ایک رات کا بھی سفر نہ کرے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس قافلے کے ساتھ کتا اور گھنٹی ہو تو (رحمت کے) فرشتے اس کے ساتھ نہیں چلتے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ گھنٹی ، شیطان کے ساز ہیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابو بشیر انصاری ؓ سے روایت ہے کہ وہ کسی سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے ، رسول اللہ ﷺ نے ایک قاصد بھیجا کہ ’’کسی اونٹ کی گردن میں تانت کا پٹہ یا کوئی پٹہ نہ رہنے دیا جائے ، وہ سب کاٹ دیے جائیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم سرسبز و شاداب علاقے میں چلو تو اونٹ کو زمین سے اس کا حق دو ، (انہیں چرنے دو) ، اور جب تم قحط سالی میں چلو تو پھر تیزی سے چلو ، جب تم رات کے وقت پڑاؤ ڈالو تو راستے سے اجتناب کرو کیونکہ رات کے وقت وہ چوپاؤں کی راہیں اور زہریلی چیزوں کا ٹھکانا ہیں ۔‘‘ اور ایک دوسری روایت میں ہے :’’ جب تم قحط سالی میں سفر کرو تو پھر جب تک ان (اونٹوں) کا گودا باقی ہے جلدی سے سفر کرو ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سفر میں تھے اس دوران اچانک ایک آدمی سواری پر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور وہ دائیں بائیں دیکھنے لگا ، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص کے پاس زائد سواری ہو وہ اس شخص کو عنایت کر دے جس کے پاس کوئی سواری نہیں ، جس شخص کے پاس زاد سفر زیادہ ہو تو وہ اس شخص کو عنایت کر دے جس کے پاس زاد راہ نہیں ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے مال کی بہت اصناف کا ذکر فرمایا ، حتی کہ ہم نے سمجھا کہ ہم میں سے کسی شخص کو زائد چیز پر کوئی حق نہیں ۔ رواہ مسلم ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ سفر عذاب کی ایک قسم ہے ، وہ آپ میں سے ہر ایک کو اس کی نیند اور اس کے کھانے پینے سے باز رکھتا ہے ، لہذا جب وہ سفر کا مقصد حاصل کر لے تو اسے اپنے اہل خانہ کے پاس جلد آ جانا چاہیے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
عبداللہ بن جعفر ؓ بیان کرتے ہیں ، جب رسول اللہ ﷺ سفر سے تشریف لاتے تو آپ ﷺ کے اہل خانہ کے بچوں کے ساتھ آپ ﷺ کا استقبال کیا جاتا ، اسی طرح آپ ایک سفر سے واپس تشریف لائے تو مجھے آپ کی خدمت میں پیش کیا گیا ، آپ نے مجھے اپنے آگے سوار کر لیا ، پھر فاطمہ کے کسی لخت جگر (حسن یا حسین ؓ) کو لایا گیا تو آپ نے اسے اپنے پیچھے سوار کر لیا ، راوی بیان کرتے ہیں ، ہم مدینہ میں ایک سواری پر تین سوار ہو کر داخل کیے گئے ۔ رواہ مسلم ۔
انس ؓ سے روایت ہے کہ وہ اور ابوطلحہ رسول اللہ ﷺ کی معیت میں واپس آ رہے تھے جبکہ صفیہ ؓ نبی ﷺ کے پیچھے سوار تھیں ۔ رواہ البخاری ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ (جب سفر سے واپس آتے تو) وہ رات کے وقت اپنے اہل خانہ کے ہاں تشریف نہیں لاتے تھے بلکہ آپ ﷺ دن کے پہلے پہر یا پچھلے پہر تشریف لایا کرتے تھے ۔ متفق علیہ ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی طویل مدت تک (گھر سے) غائب رہے تو وہ رات کے وقت اپنے اہل خانہ کے پاس نہ آئے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم رات کے وقت (شہر میں) داخل ہو تو اپنی اہلیہ کے پاس نہ جاؤ حتی کہ جس کا خاوند غائب رہا ہے وہ غیر ضروری بالوں کی صفائی کر لے اور پراگندہ بالوں والی کنگھی کر لے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ مدینہ تشریف لائے تو آپ ﷺ نے اونٹ یا گائے ذبح کی ۔ رواہ البخاری ۔
کعب بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ جب سفر سے واپس آتے تو دن کو چاشت کے وقت مدینہ منورہ میں داخل ہوتے تھے ، جب آپ داخل ہوتے تو پہلے مسجد میں تشریف لاتے اور وہاں دو رکعتیں پڑھتے ، پھر لوگوں کی خاطر وہاں تشریف رکھتے ۔ متفق علیہ ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں ایک سفر میں نبی ﷺ کے ساتھ تھا ، جب ہم مدینہ پہنچے تو آپ ﷺ نے مجھے فرمایا :’’ مسجد میں جا کر دو رکعتیں پڑھو ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
صخر بن وداعہ غامدی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اے اللہ ! میری امت کے لیے اس کے دن کے پہلے حصے میں برکت فرما ۔‘‘ اور جب آپ ﷺ کوئی مجاہدین کا دستہ یا لشکر روانہ فرماتے تو آپ انہیں دن کے آغاز میں روانہ فرماتے تھے ، صخر ایک تاجر تھے ، وہ اپنا مالِ تجارت شروع دن میں بھیجا کرتے تھے ، وہ صاحب ثروت بن گئے اور ان کا مال بہت زیادہ ہو گیا ۔ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و الدارمی ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ سرشام سفر کیا کرو کیونکہ رات کے وقت زمین لپیٹ دی جاتی ہے ۔‘‘ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تنہا سفر کرنے والا ایک شیطان ہے ، دو مسافر دو شیطان ہیں اور تین سفر کرنے والے ایک قافلہ ہیں ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ مالک و الترمذی و ابوداؤد و النسائی ۔
ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تین افراد سفر کر رہے ہوں تو وہ اپنے میں سے ایک کو امیر بنا لیں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔