TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

بَاب آدَاب السّفر آدابِ سفر کا بیان

Chapter 2 of جہاد کا بیان in Mishkat. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 2 of 11 · 34 Hadith
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «خَيْرُ الصَّحَابَةِ أَرْبَعَةٌ وَخَيْرُ السَّرَايَا أَرْبَعُمِائَةٍ وَخَيْرُ الْجُيُوشِ أَرْبَعَةُ آلَافٍ وَلَنْ يُغْلَبَ اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا مِنْ قِلَّةٍ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالدَّارِمِيُّ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيث غَرِيب
ابن عباس ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ بہترین ساتھی چار ہیں ، بہترین دستہ چار سو کا ہے ، بہترین لشکر چار ہزار کا ہے اور بارہ ہزار کا لشکر قلت کی کی وجہ سے مغلوب نہیں ہو گا ۔‘‘ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و الدارمی ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۱۵۵۵) و ابوداؤد (۲۶۱۱) و الدارمی (۲ / ۲۱۵ ح ۲۴۴۳) * فیہ جریر بن حازم و الزھری مدلسان و عنعنا ۔
3912
Zaeef
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَخَلَّفُ فِي الْمَسِيرِ فَيُزْجِي الضَّعِيفَ وَيُرْدِفُ ويدْعو لَهُم. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ لشکر کے پیچھے چلا کرتے تھے ، آپ ضعیف کو چلاتے اور (پیدل کو) اپنے پیچھے بٹھا لیتے اور ان کے لیے دعا فرماتے ۔ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
Takhreej
صحیح ، رواہ ابوداؤد (۲۶۳۹) ۔
3913
Sahih
وَعَن أبي ثعلبَةَ الخُشَنيِّ قَالَ: كَانَ النَّاسُ إِذَا نَزَلُوا مَنْزِلًا تَفَرَّقُوا فِي الشِّعَابِ وَالْأَوْدِيَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ تَفَرُّقَكُمْ فِي هَذِهِ الشِّعَابِ وَالْأَوْدِيَةِ إِنَّمَا ذَلِكُمْ مِنَ الشَّيْطَانِ» . فَلَمْ يَنْزِلُوا بَعْدَ ذَلِكَ مَنْزِلًا إِلَّا انْضَمَّ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ حَتَّى يُقَالَ: لَوْ بُسِطَ عَلَيْهِمْ ثوبٌ لعمَّهم. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
ابو ثعلبہ خشنی ؓ بیان کرتے ہیں ، جب صحابہ کرام کسی جگہ پڑاؤ ڈالتے تو وہ گھاٹیوں اور وادیوں میں منتشر ہو جاتے تھے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تمہارا اِن گھاٹیوں اور وادیوں میں منتشر ہونا یہ شیطان کی طرف سے ہے ۔‘‘ اس کے بعد انہوں نے جہاں بھی پراؤ ڈالا تو وہ باہم اس طرح مل جاتے کہ اگر اِن پر ایک کپڑا ڈال دیا جائے تو وہ ان سب پر آ جائے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
Takhreej
اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد (۲۶۲۸) ۔
3914
Sahih
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا يَوْمَ بَدْرٍ كُلَّ ثَلَاثَةٍ عَلَى بَعِيرٍ فَكَانَ أَبُو لُبَابَةَ وَعَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ زَمِيلَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَكَانَتْ إِذَا جَاءَتْ عُقْبَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَا: نَحْنُ نَمْشِي عَنْكَ قَالَ: «مَا أَنْتُمَا بِأَقْوَى مِنِّي وَمَا أَنَا بِأَغْنَى عَنِ الْأَجْرِ مِنْكُمَا» . رَوَاهُ فِي شرح السّنة
عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، غزوہ بدر کے دن ہم تین تین آدمی ایک اونٹ پر سوار تھے ، ابولبابہ اور علی بن ابی طالب ؓ ، رسول اللہ ﷺ کے ساتھی تھے ، راوی بیان کرتے ہیں ، جب (پیدل چلنے کی) رسول اللہ ﷺ کی باری آتی تو وہ عرض کرتے ، آپ کی طرف سے ہم پیدل چلتے ہیں ، آپ ﷺ فرماتے :’’ تم دونوں مجھ سے زیادہ قوی ہو نہ میں اجر حاصل کرنے میں تم دونوں سے زیادہ بے نیاز ہوں ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ فی شرح السنہ ۔
Takhreej
اسنادہ حسن ، رواہ البغوی فی شرح السنۃ (۱۱ / ۳۵ ۔ ۳۶ ح ۲۶۸۶) [و احمد (۱ / ۴۱۱) و ابن حبان (الموارد : ۱۶۸۸) و صححہ الحاکم علی شرط مسلم (۳ / ۲۰) و وافقہ الذھبی] ۔
3915
Sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تَتَّخِذُوا ظُهُورَ دَوَابِّكُمْ مَنَابِرَ فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى إِنَّمَا سَخَّرَهَا لَكُمْ لِتُبَلِّغَكُمْ إِلَى بَلَدٍ لَمْ تَكُونُوا بَالِغِيهِ إِلَّا بِشِقِّ الْأَنْفُسِ وَجَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ فَعَلَيْهَا فَاقْضُوا حَاجَاتِكُمْ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ
ابوہریرہ ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اپنے جانوروں کی پشتوں کو منبر نہ بناؤ (کہ ان پر سوار ہو کر اور انہیں روک کر باتیں کرتے رہو) کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تو انہیں تمہارے لیے اس لیے مسخر کیا ہے کہ وہ تمہیں ایسی جگہ پہنچا دیں جہاں تم مشقت اٹھائے بغیر نہیں پہنچ سکتے تھے ، اور تمہارے لیے زمین بنائی تم اس پر اپنی ضرورتیں پوری کرو ۔‘‘ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
Takhreej
حسن ، رواہ ابوداؤد (۲۵۶۷) ۔
3916
Sahih
وَعَن أنسٍ قَالَ: كُنَّا إِذَا نَزَلْنَا مَنْزِلًا لَا نُسَبِّحُ حَتَّى نحُلَّ الرِّحالَ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم جب کسی جگہ پڑاؤ ڈالتے ، تو ہم پہلے جانوروں (یعنی سواریوں) سے بوجھ اتارتے اور پھر نفل نماز پڑھتے تھے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد (۲۵۵۱) ۔
3917
Zaeef
وَعَن بُرَيْدَة قَالَ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي إِذا جَاءَهُ رَجُلٌ مَعَهُ حِمَارٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ارْكَبْ وَتَأَخَّرَ الرَّجُلُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا أَنْتَ أَحَقُّ بِصَدْرِ دَابَّتِكَ إِلَّا أَنْ تَجْعَلَهُ لِي» . قَالَ: جَعَلْتُهُ لَكَ فَرَكِبَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ
بُریدہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ چل رہے تھے کہ اسی دوران ایک آدمی آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس کے پاس ایک گدھا تھا ، اس نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! آپ اس پر سوار ہو جائیں ، اور وہ خود پیچھے ہو گیا ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ نہیں (پیچھے نہ ہٹو) ، تم اپنی سواری کی اگلی جانب بیٹھنے کے زیادہ حق دار ہو ، مگر یہ کہ تم اس (اگلی جانب) کو میرے لیے مختص کر دو ۔‘‘ اس نے عرض کیا ، میں نے آپ کو اجازت دی ، پھر آپ سوار ہوئے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔
Takhreej
اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی (۲۷۷۳ وقال : غریب) و ابوداؤد (۲۵۷۲) ۔
3918
Sahih
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَكُونُ إِبِلٌ لِلشَّيَاطِينِ وَبُيُوتٌ لِلشَّيَاطِينِ» . فَأَمَّا إِبِلُ الشَّيَاطِينِ فَقَدْ رَأَيْتُهَا: يَخْرُجُ أَحَدُكُمْ بِنَجِيبَاتٍ مَعَهُ قَدْ أَسْمَنَهَا فَلَا يَعْلُو بَعِيرًا مِنْهَا وَيَمُرُّ بِأَخِيهِ قَدِ انْقَطَعَ بِهِ فَلَا يَحْمِلُهُ وَأَمَّا بُيُوتُ الشَّيَاطِينِ فَلَمْ أَرَهَا كَانَ سَعِيدٌ يَقُولُ: لَا أُرَاهَا إِلَّا هَذِهِ الْأَقْفَاصَ الَّتِي يَسْتُرُ النَّاسُ بِالدِّيبَاجِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ
سعید بن ابی ہند ، ابوہریرہ ؓ سے روایت کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ کچھ اونٹ اور کچھ گھر شیطانوں کے لیے ہوتے ہیں شیطانوں کے اونٹ تو میں نے دیکھ لیے ہیں تم میں سے کوئی ایک اپنے بہترین اونٹوں کے ساتھ نکلتا ہے جنہیں اس نے خوب فربہ کیا ہوتا ہے ، لیکن وہ ان میں سے کسی اونٹ پر نہیں بیٹھتا ، اور وہ اپنے کسی (مسلمان) بھائی کے پاس سے گزرتا ہے جو کہ تھک چکا ہوتا ہے لیکن یہ اسے سوار نہیں کرتا ، لیکن شیطانوں کے گھر میں نے نہیں دیکھے ۔‘‘ سعید کہا کرتے تھے ، میں سمجھتا ہوں کہ ان سے یہ ہودج مراد ہیں جنہیں لوگ دیباج ریشم سے ڈھانپتے ہیں ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد (۲۵۶۸) * رجالہ ثقات ولکن سعید بن ابی ھند ’’ لم یلق ابا ھریرۃ ‘‘ قالہ ابو حاتم الرازی (انظر المراسیل ص ۷۵) فالسند منقطع ۔
3919
Zaeef
وَعَن سهلِ بن مُعاذٍ عَن أبيهِ قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَيَّقَ النَّاسُ الْمُنَازِلَ وَقَطَعُوا الطَّرِيقَ فَبَعَثَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنَادِيًا يُنادي فِي النَّاسِ: «أَنَّ مَنْ ضَيَّقَ مَنْزِلًا أَوْ قَطَعَ طَرِيقًا فَلَا جِهَادَ لَهُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
سہل بن معاذ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا : ہم نے نبی ﷺ کے ساتھ جہاد کیا تو لوگوں نے (زائد از ضرورت جگہیں گھیر کر) منزلوں کو تنگ کر دیا ، اور راستے بند کر دیے ، نبی ﷺ نے منادی کرنے والے کو بھیجا کہ وہ لوگوں میں اعلان کر دے کہ جس نے منزل تنگ کی یا راستہ بند کیا تو اس کا کوئی جہاد نہیں ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
Takhreej
اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد (۲۶۲۹) ۔
3920
Sahih
وَعَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ أَحْسَنَ مَا دَخَلَ الرَّجُلُ أَهْلَهُ إِذَا قَدِمَ مِنْ سفرٍ أوَّلُ الليلِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
جابر ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جب آدمی سفر سے واپس آئے تو اس کا اپنے اہل خانہ کے پاس آنے کا بہترین وقت رات کا ابتدائی حصہ ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
Takhreej
صحیح ، رواہ ابوداؤد (۲۷۷۷) ۔
3921
Sahih
عَن أبي قتادةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ فِي سَفَرٍ فَعَرَّسَ بِلَيْلٍ اضْطَجَعَ عَلَى يَمِينِهِ وَإِذَا عَرَّسَ قُبَيْلَ الصُّبْحِ نَصَبَ ذِرَاعَهُ وَوَضَعَ رَأْسَهُ عَلَى كَفِّهِ. رَوَاهُ مُسلم
ابوقتادہ ؓ بیان کرتے ہیں ، جب رسول اللہ ﷺ رات کے وقت پڑاؤ ڈالتے تو آپ اپنے دائیں پہلو پر لیٹ جاتے اور جب صبح سے تھوڑا سا پہلے پڑاؤ ڈالتے تو آپ اپنی کہنی کھڑی کرتے اور اپنا سر اپنی ہتھیلی پر رکھتے ۔ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۳۱۳ / ۶۸۳) ۔ 1565
3922
Sahih
وَعَن ابْن عَبَّاس قَالَ: بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ رَوَاحَةَ فِي سَرِيَّةٍ فَوَافَقَ ذَلِكَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَغَدَا أَصْحَابُهُ وَقَالَ: أَتَخَلَّفُ وأُصلّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ أَلْحَقُهُمْ فَلَمَّا صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَآهُ فَقَالَ: «مَا مَنَعَكَ أَنْ تَغْدُوَ مَعَ أَصْحَابِكَ؟» فَقَالَ: أَرَدْتُ أَنْ أُصَلِّيَ مَعَكَ ثُمَّ أَلْحَقُهُمْ فَقَالَ: «لَوْ أَنْفَقْتَ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مَا أدركْتَ فضلَ غدْوَتهمْ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ نے عبداللہ بن رواحہ ؓ کو ایک لشکر کے ساتھ بھیجا ، اتفاق سے وہ جمعہ کا دن تھا ، ان کے ساتھی صبح ہی روانہ ہو گئے اور انہوں نے (دل میں) کہا : میں کچھ تاخیر کر لیتا ہوں ، رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جمعہ پڑھتا ہوں اور پھر ان سے جا ملوں گا ، جب انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نمازِ جمعہ پڑھی اور آپ نے انہیں دیکھا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تمہیں اپنے ساتھیوں کے ساتھ صبح جانے سے کس نے روک رکھا ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا ، میں نے ارادہ کیا کہ آپ کے ساتھ نماز جمعہ پڑھوں گا اور پھر ان کے ساتھ جا ملوں گا ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اگر تم زمین بھر کی چیزیں خرچ کر دو تو تم ان کے جلدی جانے کی فضیلت حاصل نہیں کر سکتے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۵۲۷) * حجاج بن ارطاۃ : ضعیف مدلس و عنعن ، وتفرد بہ کما قال البیھقی (۳ / ۱۸۷) ۔
3923
Zaeef
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَصْحَبُ الْمَلَائِكَةُ رُفْقَةً فِيهَا جِلْدُ نَمِرٍ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ فرشتے اس جماعت کے ساتھ نہیں ہوتے جس میں چیتے کی کھال ہو ۔‘‘
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد (کتاب اللباس باب فی جلود النمورح ۴۱۳۰) * فیہ قتادۃ مدلس و عنعن و حدیث ابی داود (۲۵۵۵) لا یستشھد لہ ، ھو غیر ھذا المتن ۔
3924
Zaeef
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سَيِّدُ الْقَوْمِ فِي السَّفَرِ خَادِمُهُمْ فَمَنْ سَبَقَهُمْ بِخِدْمَةٍ لَمْ يَسْبِقُوهُ بِعَمَلٍ إِلَّا الشَّهَادَةَ» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيّ فِي «شعب الْإِيمَان»
سہل بن سعد ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ قوم کا سردار سفر میں ان کا خادم ہوتا ہے ، جس نے کسی خدمت کے ذریعے ان پر سبقت حاصل کر لی تو وہ لوگ ماسوائے شہادت کے کسی اور عمل کے ذریعے اس شخص سے آگے نہیں بڑھ سکتے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان (۸۴۰۷ ، نسخۃ محققۃ : ۸۰۵۰) * فیہ ابو طاھر احمد بن الحسین : نا علی بن عبد الرحیم الصفار ولم اعرفھما و الباقی : سندہ حسن ۔
3925
Zaeef