وَرَوَاهُ الدَّارمِيّ عَن ابْن عَبَّاس
اور امام دارمی نے اسے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے ۔ صحیح ، رواہ الدارمی ۔
سفینہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سرخاب کا گوشت کھایا ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے گندگی کھانے والے جانور کے کھانے اور اس کے دودھ (پینے) سے منع فرمایا ہے ۔ ترمذی ۔ اور ابوداؤد کی روایت میں ہے : آپ ﷺ نے غلاظت کھانے والے جانور کی سواری سے منع فرمایا ہے ۔ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔
عبدالرحمن بن شبل ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے سانڈے کے گوشت کو کھانے سے منع فرمایا ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے بلی کے گوشت اور اس کی قیمت کھانے سے منع فرمایا ہے ۔ صحیح ، رواہ ابوداؤد و الترمذی ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے خیبر کے روز پالتو گدھوں اور خچروں کے گوشت سے ، کچلی والے درندوں اور پنجے سے شکار کرنے والے پرندوں کے گوشت سے منع فرمایا ہے ۔ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ صحیح ، رواہ الترمذی ۔
خالد بن ولید ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے گھوڑوں ، خچروں اور گدھوں کے گوشت کھانے سے منع فرمایا ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔
خالد بن ولید ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے غزوہ خیبر میں نبی ﷺ کے ساتھ شرکت کی ، یہود (آپ ﷺ کی خدمت میں) آئے اور انہوں نے شکایت کی کہ لوگوں نے ان کے پھل دار درختوں سے پھل اتارنے میں بہت جلدی کی ہے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ سن لو ! ذمیوں سے ناحق مال لینا حلال نہیں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ہمارے لیے دو مردہ چیزیں اور دو خون حلال کئے گئے ہیں ، دو مردار مچھلی اور ٹڈی ہے ، جبکہ دو خون جگر اور تلی ہیں ۔‘‘ ضعیف ، رواہ احمد و ابن ماجہ و الدارقطنی ۔
ابو زبیر ؒ ، جابر ؓ سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس چیز کو سمندر باہر (ساحل کی طرف) پھینک دے اور اس سے پانی اتر جائے تو اسے کھاؤ ، اور جو اس میں مر جائے اور سطح سمندر پر تیرنے لگے تو اسے مت کھاؤ ۔‘‘ ابوداؤد ، ابن ماجہ ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ ۔ امام محی السنہ ؒ نے فرمایا : اکثر کا یہ مؤقف ہے کہ یہ روایت جابر ؓ پر موقوف ہے ۔
سلمان ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ سے ٹڈیوں کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ وہ اللہ کا کثیر لشکر ہے ، میں اسے نہ کھاتا ہوں نہ حرام قرار دیتا ہوں ۔‘‘ ابوداؤد ، محی السنہ نے فرمایا : یہ روایت ضعیف ہے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
زید بن خالد ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے مرغ کو بُرا بھلا کہنے سے منع فرمایا ہے ، اور آپ ﷺ نے فرمایا :’’ وہ نماز (کے وقت) کی اطلاع دیتا ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ فی شرح السنہ ۔
زید بن خالد ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ مرغ کو بُرا بھلا نہ کہو ، کیونکہ وہ نماز کے لیے بیدار کرتا ہے ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
عبدالرحمن بن ابی لیلی بیان کرتے ہیں ، ابولیلی ؓ نے کہا ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب گھر میں سانپ نکل آئے تو اسے کہو : ہم تجھے نوح اور سلیمان بن داؤد ؑ کے عہد کا حوالہ دیتے ہیں کہ تو ہمیں ایذا نہ پہنچا ۔ اگر وہ دوبارہ نکلے تو اسے قتل کر دو ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔
عکرمہ ، ابن عباس ؓ سے روایت کرتے ہیں ، عکرمہ نے کہا : میں جانتا ہوں کہ انہوں نے اسے مرفوع بیان کیا ہے کہ آپ ﷺ سانپوں کو مارنے کا حکم فرمایا کرتے تھے ، اور آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جس نے سانپ کے انتقام کے خوف سے انہیں چھوڑ دیا تو وہ ہم میں سے نہیں ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ فی شرح السنہ ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب سے ہماری ان (سانپوں) سے لڑائی شروع ہوئی ہے ہم نے ان سے صلح نہیں کی ، اور جس نے ڈر کے پیشِ نظر ان میں سے کسی (سانپ) کو (مارے بغیر) چھوڑ دیا تو وہ ہم میں سے نہیں ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ہر قسم کے سانپ کو قتل کرو ، اور جو شخص ان کے انتقام سے ڈر گیا وہ مجھ سے نہیں ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔
عباس ؓ سے روایت ہے ، انہوں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! ہم چاہ زم زم کی صفائی کرنا چاہتے ہیں اور اس میں چھوٹے چھوٹے سانپ ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے انہیں مار ڈالنے کا حکم فرمایا ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
ابن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ چاندی کی سلاخ کی مثل سفید سانپوں کے علاوہ تمام سانپوں کو مار ڈالو ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کسی کے برتن میں مکھی گر جائے تو اسے ڈبو دے ، کیونکہ اس کے ایک پر میں بیماری ہے ، جبکہ دوسرے میں شفا ہے ، وہ اپنے اس پر کے ذریعے (گرنے سے) بچتی ہے جس میں بیماری ہے ، اس لئے اسے مکمل طور پر ڈبو دو ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔