مشکوۃ

Mishkat

شکار اور حلال جانوروں کا بیان

ان چیزوں کا بیان جن کا کھانا حلال اور جن کا کھانا حرام ہے

بَابُ مَا يَحِلُّ أَكْلُهُ وَمَا يَحْرُمُ

وَرَوَاهُ الدَّارمِيّ عَن ابْن عَبَّاس

اور امام دارمی نے اسے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے ۔ صحیح ، رواہ الدارمی ۔

وَعَنْ سَفِينَةَ قَالَ: أَكَلْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَحْمَ حُبَارَى. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

سفینہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سرخاب کا گوشت کھایا ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَكْلِ الْجَلَّالَةِ وَأَلْبَانِهَا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَفِي رِوَايَةِ أَبِي دَاوُدَ: قَالَ: نُهِيَ عَنْ ركوبِ الْجَلالَة

ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے گندگی کھانے والے جانور کے کھانے اور اس کے دودھ (پینے) سے منع فرمایا ہے ۔ ترمذی ۔ اور ابوداؤد کی روایت میں ہے : آپ ﷺ نے غلاظت کھانے والے جانور کی سواری سے منع فرمایا ہے ۔ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔

وَعَن عبدِ الرَّحمنِ بنِ شِبْلٍ: أَنَّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ أَكْلِ لَحْمِ الضَّبِّ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

عبدالرحمن بن شبل ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے سانڈے کے گوشت کو کھانے سے منع فرمایا ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔

وَعنهُ حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي يَوْمَ خَيْبَرَ الْحُمُرَ الْإِنْسِيَّةَ وَلُحُومَ الْبِغَالِ وَكُلَّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ وَكُلَّ ذِي مِخْلَبٍ مِنَ الطَّيْرِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيث غَرِيب

جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے خیبر کے روز پالتو گدھوں اور خچروں کے گوشت سے ، کچلی والے درندوں اور پنجے سے شکار کرنے والے پرندوں کے گوشت سے منع فرمایا ہے ۔ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ صحیح ، رواہ الترمذی ۔

وَعَن خالدِ بْنِ الْوَلِيدِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ أَكْلِ لُحُومِ الْخَيْلِ والبِغالِ والحميرِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ

خالد بن ولید ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے گھوڑوں ، خچروں اور گدھوں کے گوشت کھانے سے منع فرمایا ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔

وَعَنْهُ قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَيْبَرَ فَأَتَتِ الْيَهُودُ فَشَكَوْا أَنَّ النَّاسَ قَدْ أَسْرَعُوا إِلَى خَضَائِرِهِمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَا لَا يَحِلُّ أَمْوَالُ المعاهِدينَ إِلاَّ بحقِّها» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

خالد بن ولید ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے غزوہ خیبر میں نبی ﷺ کے ساتھ شرکت کی ، یہود (آپ ﷺ کی خدمت میں) آئے اور انہوں نے شکایت کی کہ لوگوں نے ان کے پھل دار درختوں سے پھل اتارنے میں بہت جلدی کی ہے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ سن لو ! ذمیوں سے ناحق مال لینا حلال نہیں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أُحِلَّتْ لَنَا مَيْتَتَانِ وَدَمَانِ: الْمَيْتَتَانِ: الْحُوتُ وَالْجَرَادُ وَالدَّمَانِ: الْكَبِدُ وَالطِّحَالُ . رَوَاهُ أحمدُ وابنُ مَاجَه وَالدَّارَقُطْنِيّ

ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ہمارے لیے دو مردہ چیزیں اور دو خون حلال کئے گئے ہیں ، دو مردار مچھلی اور ٹڈی ہے ، جبکہ دو خون جگر اور تلی ہیں ۔‘‘ ضعیف ، رواہ احمد و ابن ماجہ و الدارقطنی ۔

وَعَن أبي الزُّبيرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «مَا ألقاهُ البحرُ وجزر عَنْهُ الْمَاءُ فَكُلُوهُ وَمَا مَاتَ فِيهِ وَطَفَا فَلَا تَأْكُلُوهُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ مُحْيِي السُّنَّةِ: الْأَكْثَرُونَ عَلَى أَنَّهُ مَوْقُوفٌ على جَابر

ابو زبیر ؒ ، جابر ؓ سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس چیز کو سمندر باہر (ساحل کی طرف) پھینک دے اور اس سے پانی اتر جائے تو اسے کھاؤ ، اور جو اس میں مر جائے اور سطح سمندر پر تیرنے لگے تو اسے مت کھاؤ ۔‘‘ ابوداؤد ، ابن ماجہ ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ ۔ امام محی السنہ ؒ نے فرمایا : اکثر کا یہ مؤقف ہے کہ یہ روایت جابر ؓ پر موقوف ہے ۔

وَعَن سلمَان قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْجَرَادِ فَقَالَ: «أَكْثَرُ جُنُودِ اللَّهِ لَا آكُلُهُ وَلَا أُحَرِّمُهُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدُ وَقَالَ محيي السّنة: ضَعِيف

سلمان ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ سے ٹڈیوں کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ وہ اللہ کا کثیر لشکر ہے ، میں اسے نہ کھاتا ہوں نہ حرام قرار دیتا ہوں ۔‘‘ ابوداؤد ، محی السنہ نے فرمایا : یہ روایت ضعیف ہے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔

وَعَن زيدِ بن خالدٍ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ سَبِّ الدِّيكِ وَقَالَ: «إِنَّهُ يُؤَذِّنُ للصَّلاةِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

زید بن خالد ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے مرغ کو بُرا بھلا کہنے سے منع فرمایا ہے ، اور آپ ﷺ نے فرمایا :’’ وہ نماز (کے وقت) کی اطلاع دیتا ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ فی شرح السنہ ۔

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَسُبُّوا الدِّيكَ فَإِنَّهُ يُوقِظُ للصلاةِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

زید بن خالد ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ مرغ کو بُرا بھلا نہ کہو ، کیونکہ وہ نماز کے لیے بیدار کرتا ہے ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ: قَالَ أَبُو لَيْلَى: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا ظَهَرَتِ الْحَيَّةُ فِي الْمَسْكَنِ فَقُولُوا لَهَا: إِنَّا نَسْأَلُكِ بِعَهْدِ نُوحٍ وَبِعَهْدِ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ أَنْ لَا تُؤْذِينَا فَإِنْ عَادَتْ فَاقْتُلُوهَا . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ

عبدالرحمن بن ابی لیلی بیان کرتے ہیں ، ابولیلی ؓ نے کہا ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب گھر میں سانپ نکل آئے تو اسے کہو : ہم تجھے نوح اور سلیمان بن داؤد ؑ کے عہد کا حوالہ دیتے ہیں کہ تو ہمیں ایذا نہ پہنچا ۔ اگر وہ دوبارہ نکلے تو اسے قتل کر دو ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔

وَعَن عكرمةَ عَن ابنِ عبَّاسٍ قَالَ: لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا رَفَعَ الْحَدِيثَ: أَنَّهُ كَانَ يَأْمُرُ بِقَتْلِ الْحَيَّاتِ وَقَالَ: «مَنْ تَرَكَهُنَّ خَشْيَةَ ثَائِرٍ فَلَيْسَ مِنَّا» . رَوَاهُ فِي شَرْحِ السّنة

عکرمہ ، ابن عباس ؓ سے روایت کرتے ہیں ، عکرمہ نے کہا : میں جانتا ہوں کہ انہوں نے اسے مرفوع بیان کیا ہے کہ آپ ﷺ سانپوں کو مارنے کا حکم فرمایا کرتے تھے ، اور آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جس نے سانپ کے انتقام کے خوف سے انہیں چھوڑ دیا تو وہ ہم میں سے نہیں ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ فی شرح السنہ ۔

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا سَالَمْنَاهُمْ مُنْذُ حَارَبْنَاهُمْ وَمَنْ تَرَكَ شَيْئًا مِنْهُمْ خِيفَةً فَلَيْسَ منَّا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب سے ہماری ان (سانپوں) سے لڑائی شروع ہوئی ہے ہم نے ان سے صلح نہیں کی ، اور جس نے ڈر کے پیشِ نظر ان میں سے کسی (سانپ) کو (مارے بغیر) چھوڑ دیا تو وہ ہم میں سے نہیں ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اقْتُلُوا الْحَيَّاتِ كُلَّهُنَّ فَمَنْ خَافَ ثَأْرَهُنَّ فَلَيْسَ مِنِّي» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ

ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ہر قسم کے سانپ کو قتل کرو ، اور جو شخص ان کے انتقام سے ڈر گیا وہ مجھ سے نہیں ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔

وَعَن العبَّاسِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نُرِيدُ أَنْ نَكْنُسَ زَمْزَمَ وَإِنَّ فِيهَا مِنْ هَذِهِ الْجِنَّانِ يَعْنِي الْحَيَّاتِ الصِّغَارِ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِهِنَّ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

عباس ؓ سے روایت ہے ، انہوں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! ہم چاہ زم زم کی صفائی کرنا چاہتے ہیں اور اس میں چھوٹے چھوٹے سانپ ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے انہیں مار ڈالنے کا حکم فرمایا ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسلم قَالَ: «اقْتُلُوا الْحَيَّاتِ كُلَّهَا إِلَّا الْجَانَّ الْأَبْيَضَ الَّذِي كَأَنَّهُ قضيب فضَّة» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

ابن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ چاندی کی سلاخ کی مثل سفید سانپوں کے علاوہ تمام سانپوں کو مار ڈالو ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا وَقَعَ الذُّبَابُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ فَامْقُلُوهُ فَإِنَّ فِي أَحَدِ جَنَاحَيْهِ دَاءً وَفِي الْآخَرِ شِفَاءً فَإِنَّهُ يَتَّقِي بِجَنَاحِهِ الَّذِي فِيهِ الدَّاءُ فَلْيَغْمِسْهُ كُلَّهُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کسی کے برتن میں مکھی گر جائے تو اسے ڈبو دے ، کیونکہ اس کے ایک پر میں بیماری ہے ، جبکہ دوسرے میں شفا ہے ، وہ اپنے اس پر کے ذریعے (گرنے سے) بچتی ہے جس میں بیماری ہے ، اس لئے اسے مکمل طور پر ڈبو دو ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔