مشکوۃ

Mishkat

شکار اور حلال جانوروں کا بیان

ان چیزوں کا بیان جن کا کھانا حلال اور جن کا کھانا حرام ہے

بَابُ مَا يَحِلُّ أَكْلُهُ وَمَا يَحْرُمُ

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا وَقَعَ الذُّبَابُ فِي الطَّعَامِ فَامْقُلُوهُ فَإِنَّ فِي أَحَدِ جَنَاحَيْهِ سُمًّا وَفِي الْآخَرِ شِفَاءً وَإِنَّهُ يُقَدِّمُ السَّمَّ وَيُؤَخِّرُ الشِّفَاءَ» . رَوَاهُ فِي شرح السّنة

ابوسعید خدری ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جب مکھی کھانے میں گر جائے تو اسے ڈبو دیں ، کیونکہ اس کے ایک پر میں زہر ہے جبکہ دوسرے میں شفا ہے ، اور وہ زہر والے پر کو مقدم رکھتی ہے اور شفا والے پر کو مؤخر ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ فی شرح السنہ ۔

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَتْلِ أَرْبَعٍ مِنَ الدَّوَابِّ: النَّمْلَةِ وَالنَّحْلَةِ وَالْهُدْهُدُ وَالصُّرَدُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالدَّارِمِيُّ

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے چار جانوروں : چیونٹی ، شہد کی مکھی ، ہد ہد اور لٹورے کو مارنے سے منع فرمایا ہے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد و الدارمی ۔

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يَأْكُلُونَ أَشْيَاءَ وَيَتْرُكُونَ أَشْيَاءَ تَقَذُّرًا فَبَعَثَ اللَّهُ نَبِيَّهُ وَأَنْزَلَ كِتَابَهُ وَأَحَلَّ حَلَالَهُ وَحَرَّمَ حَرَامَهُ فَمَا أَحَلَّ فَهُوَ حَلَالٌ وَمَا حَرَّمَ فَهُوَ حَرَامٌ وَمَا سَكَتَ عَنْهُ فهوَ عفْوٌ وتَلا (قُلْ لَا أَجِدُ فِيمَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلَى طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ إِلَّا أَنْ يَكُونَ مَيْتَةً أَو دَمًا) رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، اہل جاہلیت کچھ چیزیں کھایا کرتے تھے اور کچھ چیزیں بطور کراہت چھوڑ دیا کرتے تھے ، اللہ نے اپنے نبی ﷺ کو مبعوث فرمایا ، اپنی کتاب نازل فرمائی ، اس نے حلال کردہ چیزوں کو حلال اور اپنی حرام کردہ چیزوں کو حرام قرار دیا ، اس نے جن چیزوں کو حلال کیا وہ حلال ہے اور جن کو حرام کیا وہ حرام ہے ، اور جس سے خاموشی اختیار کی تو وہ قابل مؤاخذہ نہیں ، پھر ابن عباس ؓ نے یہ آیت تلاوت فرمائی :’’ فرما دیجیے ! میری طرف جو وحی کی گئی ہے ، میں اس میں کھانے والے کے لیے جو وہ کھاتا ہے ، مردار ، بہتا ہوا خون ، خنزیر کے گوشت کے سوا کوئی اور چیز حرام نہیں پاتا ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔

وَعَن زاهرٍ الأسلميِّ قَالَ: إِنِّي لَأُوقِدُ تَحْتَ الْقُدُورِ بِلُحُومِ الْحُمُرِ إِذْ نَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَاكُمْ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ. رَوَاهُ البُخَارِيّ

زاہر اسلمی ؓ بیان کرتے ہیں ، جب رسول اللہ ﷺ کے منادی کرنے والے نے یہ اعلان کیا کہ رسول اللہ ﷺ تمہیں گدھوں کے گوشت سے منع فرماتے ہیں ، میں اس وقت ہنڈیوں کے نیچے آگ جلا رہا تھا ، جن میں گدھوں کا گوشت تھا ۔ رواہ البخاری ۔

وَعَن أبي ثعلبةَ الخُشَنيَّ يَرْفَعُهُ: «الْجِنُّ ثَلَاثَةُ أَصْنَافٍ صِنْفٌ لَهُمْ أَجْنِحَةٌ يَطِيرُونَ فِي الْهَوَاءِ وَصِنْفٌ حَيَّاتٌ وَكِلَابٌ وَصِنْفٌ يُحلُّونَ ويظعنونَ» . رَوَاهُ فِي شرح السنَّة

ابو ثعلبہ خشنی ؓ مرفوع روایت بیان کرتے ہیں :’’ جنوں کی تین قسمیں ہیں : ایک قسم یہ ہے کہ اس کے پر ہیں اور وہ ہوا میں اڑتے ہیں ، ایک قسم سانپوں اور کتوں کی ہے اور ایک قسم یہ ہے کہ وہ پڑاؤ ڈالتے ہیں ، اور کوچ کرتے ہیں ۔‘‘ حسن ، رواہ فی شرح السنہ ۔