مشکوۃ

Mishkat

لباس کا بیان

تصاویر کا بیان

بَاب التصاوير

عَن أبي طَلْحَة قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا تصاوير»

ابو طلحہ ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ نے فرمایا :’’ جس گھر میں کتے اور تصاویر ہوں اس میں (رحمت کے) فرشتے داخل نہیں ہوتے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

وَعَن ابنِ عبَّاسٍ عَنْ مَيْمُونَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أصبحَ يَوْمًا واجماً وَقَالَ: «إِنَّ جِبْرِيلَ كَانَ وَعَدَنِي أَنْ يَلْقَانِيَ اللَّيْلَةَ فَلَمْ يَلْقَنِي أَمَ وَاللَّهِ مَا أَخْلَفَنِي» . ثُمَّ وَقَعَ فِي نَفْسِهِ جِرْوُ كَلْبٍ تَحْتَ فُسْطَاطٍ لَهُ فَأَمَرَ بِهِ فَأُخْرِجَ ثُمَّ أَخَذَ بيدِه مَاء فنضحَ مَكَانَهُ فَلَمَّا أَمْسَى لقِيه جِبْرِيلَ فَقَالَ: «لَقَدْ كُنْتَ وَعَدْتَنِي أَنْ تَلْقَانِي الْبَارِحَةَ» . قَالَ: أَجَلْ وَلَكِنَّا لَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةٌ فَأَصْبَحَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ فَأَمَرَ بِقَتْلِ الْكلاب حَتَّى إِنه يَأْمر بقتل الْكَلْب الْحَائِطِ الصَّغِيرِ وَيَتْرُكُ كَلْبَ الْحَائِطِ الْكَبِيرِ. رَوَاهُ مُسلم

ابن عباس ؓ ، میمونہ ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک روز رسول اللہ ﷺ غمگین ہو گئے اور فرمایا :’’ جبریل ؑ نے رات کے وقت مجھ سے ملاقات کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن وہ نہیں آئے ، آگاہ رہو کہ اللہ کی قسم ! اس نے مجھ سے کبھی وعدہ خلافی نہیں کی ۔‘‘ پھر آپ کے دل میں خیال آیا کہ آپ کی چارپائی کے نیچے کتے کا چھوٹا سا بچہ ہے ۔ آپ نے اس کے متعلق حکم فرمایا : اسے نکال دیا جائے ، چنانچہ اسے نکال دیا گیا ، پھر آپ نے ہاتھ میں پانی لے کر اس جگہ چھڑک دیا ، پھر جب شام ہوئی تو جبریل ؑ آپ سے ملے تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تم نے کل مجھ سے ملاقات کرنے کا وعدہ کیا تھا ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : ٹھیک ہے ، لیکن ہم اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا اور تصویر ہو ، اگلے روز صبح ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے کتے مارنے کا حکم فرما دیا حتی کہ چھوٹے باغوں کے کتے بھی مار دیے جائیں البتہ بڑے باغوں کے کتے چھوڑ دینے (یعنی نہ مارنے) کا حکم فرمایا ۔ رواہ مسلم ۔

وَعَنْهَا أَنَّهَا اشْتَرَتْ نُمْرُقَةً فِيهَا تَصَاوِيرُ فَلَمَّا رَآهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ عَلَى الْبَابِ فَلَمْ يَدْخُلْ فَعَرَفْتُ فِي وَجْهِهِ الْكَرَاهِيَةَ قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أتوبُ إِلى الله وإِلى رَسُوله مَا أذنبتُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا بَالُ هَذِهِ النُّمْرُقَةِ؟» قُلْتُ: اشْتَرَيْتُهَا لَكَ لِتَقْعُدَ عَلَيْهَا وَتَوَسَّدَهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أَصْحَابَ هَذِهِ الصُّوَرِ يُعَذَّبُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَيُقَالُ لَهُمْ: أَحْيُوا مَا خَلَقْتُمْ . وَقَالَ: «إِنَّ الْبَيْتَ الَّذِي فِيهِ الصُّورَةُ لَا تدخله الْمَلَائِكَة»

عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک چھوٹا سا تکیہ خریدا جس پر تصویریں تھیں ، جب رسول اللہ ﷺ نے اسے دیکھا تو آپ دروازے پر کھڑے ہو گئے اور اندر تشریف نہ لائے ، میں نے آپ کے چہرے پر ناپسندیدگی کے آثار دیکھے ، وہ بیان کرتی ہیں ، میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! میں (اپنی غلطی سے) اللہ اور اس کے رسول کی طرف رجوع کرتی ہوں ، میں نے غلطی کیا کی ہے ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ یہ تکیہ کیسا ہے ؟‘‘ میں نے عرض کیا ، میں نے اسے آپ کے لیے خریدا ہے تا کہ آپ اس پر تشریف فرما ہوں اور اس پر ٹیک لگائیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ان تصویروں والوں کو روزِ قیامت عذاب دیا جائے گا ، انہیں کہا جائے گا ، تم نے جو تخلیق کیا اسے زندہ کرو ۔‘‘ اور فرمایا :’’ بے شک وہ گھر جس میں تصویر ہو وہاں فرشتے داخل نہیں ہوتے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

وعنها أَنَّهَا كَانَت عَلَى سَهْوَةٍ لَهَا سِتْرًا فِيهِ تَمَاثِيلُ فَهَتَكَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاتَّخَذَتْ مِنْهُ نُمرُقتين فكانتا فِي الْبَيْت يجلسُ عَلَيْهِم

عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے گھر کے دریچے پر پردہ لٹکا رکھا تھا جس پر تصویریں تھیں ، نبی ﷺ نے اسے پھاڑ ڈالا ، اور میں نے اس سے دو تکیے بنا لیے جو کہ گھر میں تھے ، آپ ﷺ ان پر بیٹھا کرتے تھے ۔ متفق علیہ ۔

وَعَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ فِي غَزَاةٍ فَأَخَذَتْ نَمَطًا فَسَتَرَتْهُ عَلَى الْبَابِ فَلَمَّا قَدِمَ فَرَأَى النَّمَطَ فَجَذَبَهُ حَتَّى هَتَكَهُ ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَأْمُرْنَا أَنْ نَكْسُوَ الْحِجَارَةَ وَالطِّينَ»

عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کسی غزوہ پر تشریف لے گئے تو میں نے ایک کپڑا لیا اور اسے دروازے پر لٹکا دیا ، جب آپ واپس تشریف لائے تو آپ ﷺ نے وہ کپڑا دیکھا تو اسے کھینچ کر پھاڑ دیا ، پھر فرمایا :’’ اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ حکم نہیں دیا کہ ہم پتھر اور مٹی کو کپڑا پہنائیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔

وَعَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَشَدُّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ الَّذِينَ يُضَاهُونَ بِخلق الله»

عائشہ ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتی ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ روزِ قیامت ان لوگوں کو سب سے زیادہ سخت عذاب دیا جائے گا جو اللہ کی تخلیق میں اللہ سے مشابہت کرتے ہیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ ذَهَبَ بِخلق كخلقي فلْيخلقوا ذَرَّةً أَوْ لِيَخْلُقُوا حَبَّةً أَوْ شَعِيرَةً

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : اس سے بڑھ کر کون ظالم ہو سکتا ہے جو میری طرح کی تخلیق کرنے لگتا ہے ، انہیں چاہیے کہ وہ ایک ذرہ یا ایک دانہ یا ایک جو تو پیدا کریں ! ‘‘ متفق علیہ ۔

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «أَشَدُّ النَّاسِ عَذَابًا عِنْدَ اللَّهِ المصوِّرون»

عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ اللہ کے ہاں مصوروں کو سب سے زیادہ سخت عذاب دیا جائے گا ۔‘‘ متفق علیہ ۔

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم يَقُول: «كُلُّ مُصَوِّرٍ فِي النَّارِ يُجْعَلُ لَهُ بِكُلِّ صُورَةٍ صَوَّرَهَا نَفْسًا فَيُعَذِّبُهُ فِي جَهَنَّمَ» . قَالَ ابْن عَبَّاس: فَإِن كنت لابد فَاعِلًا فَاصْنَعِ الشَّجَرَ وَمَا لَا رُوحَ فِيهِ

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ ہر مصور آگ میں (جانے والا) ہے ، اس نے جو بھی تصویر بنائی ہو گی اسے صورت عطا کی جائے گی اور وہ اس (مصور) کو جہنم میں عذاب دے گی ۔‘‘ ابن عباس ؓ نے فرمایا : اگر تم نے ضرور ہی تصویر بنانی ہے تو پھر درخت اور ایسی چیز کی بنا جس میں روح نہ ہو ۔ متفق علیہ ۔

وَعَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ تَحَلَّمَ بِحُلْمٍ لَمْ يَرَهُ كُلِّفَ أَنْ يَعْقِدَ بَيْنَ شَعِيرَتَيْنِ وَلَنْ يَفْعَلَ وَمَنِ اسْتَمَعَ إِلَى حَدِيثِ قَوْمٍ وَهُمْ لَهُ كَارِهُونَ أَوْ يَفِرُّونَ مِنْهُ صُبَّ فِي أُذُنَيْهِ الْآنُكُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمَنْ صَوَّرَ صُورَةً عُذِّبَ وَكُلِّفَ أَنْ يَنْفُخَ فِيهَا وَلَيْسَ بِنَافِخٍ» . رَوَاهُ البُخَارِيّ

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جو شخص کسی ایسے خواب دیکھنے کا دعوی کرے جو اس نے دیکھا نہیں تو اسے مکلّف بنایا جائے گا کہ وہ دو جو کے درمیان گرہ لگائے اور وہ ہرگز ایسا نہیں کر سکے گا ، جو شخص کان لگا کر لوگوں کی باتیں سنتا ہے جبکہ وہ اسے ناپسند کرتے ہوں یا وہ اس سے دور بھاگتے ہوں تو روزِ قیامت اس کے کانوں میں سیسہ ڈالا جائے گا اور جس نے کوئی تصویر بنائی اسے عذاب دیا جائے گا اور اسے مکلّف بنایا جائے گا کہ وہ اس میں روح پھونکے اور وہ ایسا نہیں کر سکے گا ۔‘‘ رواہ البخاری ۔

وَعَنْ بُرَيْدَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ لَعِبَ بِالنَّرْدَشِيرِ فَكَأَنَّمَا صَبَغَ يَدَهُ فِي لَحْمِ خِنْزِيرٍ وَدَمِهِ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

بریدہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص نرد کھیلتا ہے تو وہ ایسے ہے جیسے اس نے خنزیر کے گوشت اور اس کے خون سے اپنا ہاتھ رنگین کیا ہو ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَتَانِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَالَ: أَتَيْتُكَ الْبَارِحَةَ فَلَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَكُونَ دَخَلْتُ إِلَّا أَنَّهُ كَانَ عَلَى الْبَابِ تَمَاثِيلُ وَكَانَ فِي الْبَيْتِ قِرَامُ سِتْرٍ فِيهِ تَمَاثِيلُ وَكَانَ فِي الْبَيْتِ كَلْبٌ فَمُرْ بِرَأْسِ التِّمْثَالِ الَّذِي عَلَى بَابِ الْبَيْتِ فَيُقْطَعْ فَيَصِيرُ كَهَيْئَةِ الشَّجَرَةِ وَمُرْ بِالسِّتْرِ فَلْيُقْطَعْ فَلْيُجْعَلْ وِسَادَتَيْنِ مَنْبُوذَتَيْنِ تُوطَآنِ وَمُرْ بِالْكَلْبِ فَلْيُخْرَجْ . فَفَعَلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُد

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جبریل ؑ میرے پاس آئے تو انہوں نے کہا : میں گزشتہ رات آپ کے پاس آیا تھا لیکن آپ کے دروازے پر مورتیاں تھیں جن کی وجہ سے میں اندر نہیں آیا ، اور گھر میں ایک پردہ تھا جس پر مورتیاں تھیں اور گھر میں ایک کتا بھی تھا ، گھر کے دروازے پر جو مورتیاں ہیں ان کے سر قطع کرنے کا حکم فرمائیں تو وہ درخت کی طرح ہو جائے گی ، اور پردے کے متعلق حکم فرمائیں کہ اسے کاٹ کر دو تکیے بنا لیں جو پھینکے اور روندے جائیں جبکہ کتے کے متعلق حکم فرمائیں کہ اسے باہر نکال دیا جائے ۔‘‘ پس رسول اللہ ﷺ نے ایسا ہی کیا ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَخْرُجُ عُنُقٌ مِنَ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَهَا عَيْنَانِ تُبْصِرَانِ وَأُذُنَانِ تَسْمَعَانِ وَلِسَانٌ يَنْطِقُ يَقُولُ: إِنِّي وُكِّلْتُ بِثَلَاثَةٍ: بِكُلِّ جَبَّارٍ عَنِيدٍ وَكُلِّ مَنْ دَعَا مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخر وبالمصوِّرين . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ روز قیامت جہنم کی آگ سے ایک گردن نکلے گی جس کی دو آنکھیں دیکھنے والی ہوں گی ، دو کان سننے والے ہوں گے اور ایک زبان بولتی ہو گی ، وہ کہے گی : مجھے تین قسم کے لوگوں ، ہر ظالم و متکبر شخص ، اللہ کے ساتھ کسی اور کو معبود بنانے والے اور تصویر بنانے والوں ، پر مامور کیا گیا ہے (کہ میں انہیں آگ میں داخل کروں) ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى حَرَّمَ الْخَمْرَ وَالْمَيْسِرَ وَالْكُوبَةَ وَقَالَ: كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ . قِيلَ: الْكُوبَةُ الطَّبْلُ. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شعب الْإِيمَان

ابن عباس ؓ ، رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ بے شک اللہ تعالیٰ نے شراب ، جوئے اور طبلے کو حرام قرار دیا ہے ۔‘‘ اور فرمایا :’’ ہر نشہ آور چیز حرام ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ وَالْكُوبَةِ والغبيراء. الغبيراء: شَرَابٌ يَعْمَلُهُ الْحَبَشَةُ مِنَ الذُّرَةِ يُقَالُ لَهُ: السكركة. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے شراب ، جوئے ، طبل اور ’’غبیراء‘‘ سے منع فرمایا ہے ، اور ’’غبیراء‘‘ شراب ہے جسے حبشی مکئی سے بنایا کرتے تھے ، اور اسے سکرکہ بھی کہا جاتا ہے ۔ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔

وَعَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ لَعِبَ بِالنَّرْدِ فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُد

ابوموسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص نے نردشیر کھیلی اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ احمد و ابوداؤد ۔

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يَتْبَعُ حَمَامَةً فَقَالَ: «شَيْطَانٌ يَتْبَعُ شَيْطَانَةً» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ وَالْبِيهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک آدمی کو ایک کبوتری کا پیچھا کرتے ہوئے دیکھا تو فرمایا :’’ شیطان ، شیطانہ کا پیچھا کر رہا ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد و ابوداؤد و ابن ماجہ و البیھقی فی شعب الایمان ۔

عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا ابْنَ عَبَّاسٍ إِنِّي رَجُلٌ إِنَّمَا مَعِيشَتِي مِنْ صَنْعَةِ يَدِي وَإِنِّي أَصْنَعُ هَذِهِ التَّصَاوِيرَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لَا أُحَدِّثُكَ إِلَّا مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ: «مَنْ صَوَّرَ صُورَةً فَإِنَّ اللَّهَ مُعَذِّبُهُ حَتَّى يَنْفُخَ فِيهِ الرُّوحَ وَلَيْسَ بِنَافِخٍ فِيهَا أَبَدًا» . فَرَبَا الرَّجُلُ رَبْوَةً شَدِيدَةً وَاصْفَرَّ وَجْهُهُ فَقَالَ: وَيْحَكَ إِنْ أَبَيْتَ إِلَّا أَنْ تَصْنَعَ فَعَلَيْكَ بِهَذَا الشَّجَرِ وَكُلِّ شَيْءٍ لَيْسَ فِيهِ روح. رَوَاهُ البُخَارِيّ

سعید بن ابی الحسن بیان کرتے ہیں ، میں ابن عباس ؓ کے پاس تھا جب ایک آدمی ان کے پاس آیا ، اس نے کہا : ابن عباس ! میں ایک ایسا آدمی ہوں کہ میری معیشت کا انحصار دست کاری پر ہے ، اور میں یہ تصاویر بناتا ہوں ، ابن عباس ؓ نے فرمایا : میں تمہیں رسول اللہ ﷺ سے سنی ہوئی حدیث ہی سنا دیتا ہوں ، میں نے آپ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جس شخص نے کوئی تصویر بنائی تو اللہ اسے عذاب دیتا رہے گا حتی کہ وہ اس میں روح پھونکے جبکہ وہ کبھی بھی اس میں روح نہیں پھونک سکے گا ۔‘‘ اس آدمی نے بڑا سانس لیا اور اس کا چہرہ زرد پڑ گیا اس پر عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا : افسوس تجھ پر ، اگر تم نے ضرور یہی کام کرنا ہے تو پھر درخت اور ایسی چیزوں کی تصاویر بنا لیا کر جس میں روح نہ ہو ۔‘‘ رواہ البخاری ۔

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: لَمَّا اشْتَكَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ بَعْضُ نِسَائِهِ كَنِيسَةً يُقَالُ لَهَا: مَارِيَّةُ وَكَانَتْ أُمُّ سَلمَة وَأم حَبِيبَة أتتا أرضَ الْحَبَشَة فَذَكرنَا مِنْ حُسْنِهَا وَتَصَاوِيرَ فِيهَا فَرَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ: «أُولَئِكَ إِذَا مَاتَ فِيهِمُ الرَّجُلُ الصَّالِحُ بَنَوْا عَلَى قَبْرِهِ مَسْجِدًا ثُمَّ صَوَّرُوا فِيهِ تِلْكَ الصُّور أُولَئِكَ شرار خلق الله»

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، جب نبی ﷺ بیمار ہوئے تو آپ کی ایک بیوی نے کنیسہ کا ذکر کیا جسے ماریہ کہا جاتا ہے ، ام سلمہ اور ام حبیبہ ؓ سرزمینِ حبشہ گئی تھیں ، انہوں نے اس کے حسن اور اس میں رکھی ہوئی تصاویر کا ذکر کیا ۔ آپ ﷺ نے اپنا سر اٹھایا اور فرمایا :’’ یہ وہ لوگ ہیں کہ جب ان میں صالح آدمی فوت ہو جاتا تو وہ اس کی قبر پر مسجد بنا لیتے ، پھر اس (مسجد) میں یہ تصویریں بنا دیتے ، یہ اللہ کی بدترین مخلوق ہیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔