مشکوۃ

Mishkat

آداب کا بیان

بیٹھنے ، سونے اور چلنے کا بیان

بَاب الْجُلُوس وَالنَّوْم وَالْمَشْي

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِفنَاء الْكَعْبَة مُحْتَبِيًا بيدَيْهِ. رَوَاهُ البُخَارِيّ

ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو کعبہ کے صحن میں اپنے ہاتھوں کے ساتھ گوٹ مار کر بیٹھے ہوئے دیکھا ۔ رواہ البخاری ۔

وَعَن عبَّادِ بن تَمِيم عَنْ عَمِّهِ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ مُسْتَلْقِيًا وَاضِعًا إِحْدَى قدمَيه على الْأُخْرَى. مُتَّفق عَلَيْهِ

عبادہ بن تمیم اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو مسجد میں چت لیٹے ہوئے دیکھا ، آپ نے اپنا ایک پاؤں دوسرے پر رکھا ہوا تھا ۔ متفق علیہ ۔

وَعَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يستلقين أحدكُم ثمَّ يضع رجلَيْهِ على الْأُخْرَى» . رَوَاهُ مُسلم

جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ تم میں سے کوئی شخص چت لیٹ کر اپنا ایک پاؤں دوسرے پر نہ رکھے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بَيْنَمَا رَجُلٌ يَتَبَخْتَرُ فِي بُرْدَيْنِ وَقد أعجبتْه نَفسه خسف بِهِ لأرض فَهُوَ بتجلجل فِيهَا إِلَى يَوْم الْقِيَامَة» . مُتَّفق عَلَيْهِ. لفصل الثَّانِي

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ایک دفعہ ایک آدمی سوٹ پہنے ہوئے تکبر کے انداز میں چل رہا تھا اور اس کے نفس نے اسے غرور میں ڈال رکھا تھا ، اسے زمین میں دھنسا دیا گیا ، اور وہ روز قیامت تک اس میں اترتا چلا جائے گا ۔‘‘ متفق علیہ ۔

عَن جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَّكِئًا عَلَى وِسَادَةٍ عَلَى يَسَارِهِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

جابر بن سمرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے نبی ﷺ کو بائیں پہلو تکیے پر ٹیک لگائے ہوئے دیکھا ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی ۔

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَلَسَ فِي الْمَسْجِد احتبى بيدَيْهِ. رَوَاهُ رزين

ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، جب رسول اللہ ﷺ مسجد میں بیٹھتے تو آپ اپنے ہاتھوں سے گوٹ مار لیتے تھے ۔ ضعیف جذا ، رواہ رزین ۔

وَعَن قيلة بنت مخرمَة أَنَّهَا رَأَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ وَهُوَ قَاعِدٌ الْقُرْفُصَاءَ. قَالَتْ: فَلَمَّا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُتَخَشِّعَ أُرْعِدْتُ مِنَ الْفَرَقِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

قیلہ بنت مخرمہ ؓ بیان کرتی ہیں ، کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو مسجد میں قرفصاء کے طور پر بیٹھے ہوئے دیکھا ، (پاؤں پر بیٹھے ہوئے تھے اور بازوؤں کو پنڈلیوں کے گرد لپیٹ رکھا تھا) ، وہ بیان کرتی ہیں ، جب میں نے رسول اللہ ﷺ کو ، خاشع و متواضع حالت میں دیکھا تو خوف کی وجہ سے میں لرز گئی ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى الْفَجْرَ تَرَبَّعَ فِي مَجْلِسِهِ حَتَّى تطلع الشَّمْس حسناء. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

جابر بن سمرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، جب نبی ﷺ فجر کی نماز پڑھتے تو سورج کے اچھی طرح طلوع ہو جانے تک آلتی پالتی مار کر (چار زانوں ہو کر) اپنی جگہ پر بیٹھے رہتے ۔ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔

وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا عَرَّسَ بِلَيْلٍ اضْطَجَعَ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ وَإِذَا عَرَّسَ قُبَيْلَ الصُّبْحِ نَصَبَ ذِرَاعَهُ وَوَضَعَ رَأْسَهُ عَلَى كَفِّهِ. رَوَاهُ فِي «شَرْحِ السُّنَّةِ»

ابوقتادہ ؓ سے روایت ہے کہ جب نبی ﷺ رات کے وقت پڑاؤ ڈالتے تو آپ اپنے دائیں پہلو پر لیٹتے تھے اور جب صبح سے تھوڑا سا پہلے پڑاؤ ڈالتے تو آپ اپنی کہنی کھڑی کرتے اور ہتھیلی پر سر رکھ لیتے تھے ۔ صحیح ، رواہ فی شرح السنہ ۔

وَعَنْ بَعْضِ آلِ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَ: كَانَ فِرَاشُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوًا مِمَّا يُوضَعُ فِي قَبْرِهِ وَكَانَ الْمَسْجِدُ عِنْد رَأسه. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

ام سلمہ ؓ کی آل سے کسی شخص نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ کا بستر بس اسی قدر تھا جس قدر کپڑے میں میت کو قبر میں رکھا جاتا ہے اور مسجد (بعض نے کہا : جائے نماز) آپ ﷺ کے سر کے پاس تھی ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔

وَعَن أبي هريرةَ قَالَ: رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا مُضْطَجِعًا عَلَى بَطْنِهِ فَقَالَ: «إِنَّ هَذِهِ ضِجْعَةٌ لَا يُحِبُّهَا اللَّهُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے ایک آدمی کو مسجد میں پیٹ کے بل لیٹے ہوئے دیکھا تو فرمایا :’’ اس طرح لیٹنے کو اللہ پسند نہیں فرماتا ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔

وَعَنْ يَعِيشَ بْنِ طِخْفَةَ بْنِ قَيْسٍ الْغِفَارِيِّ عَن أبيهِ - وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ الصُّفَّةِ - قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا مُضْطَجِعٌ مِنَ السَّحَرِ عَلَى بَطْنِي إِذَا رَجُلٌ يحركني بِرجلِهِ فَقَالَ: «هَذِهِ ضِجْعَةٌ يَبْغَضُهَا اللَّهُ» فَنَظَرْتُ فَإِذَا هُوَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَابْن مَاجَه

یعیش بن طخفہ بن قیس غفاری اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، اور وہ اصحاب صفہ میں سے تھے ، انہوں نے فرمایا : میں سینے کے درد کی وجہ سے پیٹ کے بل لیٹا ہوا تھا کہ اچانک ایک آدمی اپنے پاؤں سے مجھے ہلانے لگا اور اس نے کہا :’’ اس طرح لیٹنے سے اللہ ناراض ہوتا ہے ۔‘‘ میں نے دیکھا تو وہ رسول اللہ ﷺ تھے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ ۔

وَعَن عليِّ بن شَيبَان قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ بَاتَ عَلَى ظَهْرِ بَيْتٍ لَيْسَ عَلَيْهِ حِجَابٌ - وَفِي رِوَايَةٍ: حِجَارٌ - فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ الذِّمَّةُ «. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ. وَفِي» مَعَالِمِ السّنَن «للخطابي» حجى

علی بن شیبان ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص رات کے وقت گھر کی چھت پر سو جائے اور اس (چھت) کے پردے نہ ہوں ، اور ایک روایت میں ہے : اس پر پتھر نہ ہوں تو اس سے ذمہ اٹھ گیا ۔‘‘ ابوداؤد اور معالم السنن للخطابی میں ((حجی)) کے الفاظ ہیں ۔ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَنَامَ الرَّجُلُ عَلَى سطحٍ لَيْسَ بمحجورٍ عَلَيْهِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا کہ آدمی کسی ایسی چھت پر سوئے جس کے پردے نہ ہوں ۔ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

وَعَن حذيفةَ قَالَ: مَلْعُونٌ عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَعَدَ وَسْطَ الْحَلْقَةِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد

حذیفہ ؓ بیان کرتے ہیں ، جو شخص مجلس کے وسط میں بیٹھتا ہے وہ محمد ﷺ کی زبان پر ملعون ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَيْرُ الْمَجَالِسِ أَوْسَعُهَا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ بہترین مجلس وہ ہے جو فراخ ہو ۔‘‘ (جہاں لوگوں کو بیٹھنے میں تنگی نہ ہو) اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔

وَعَن جَابر بن سَمُرَة قَالَ: جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ جُلُوسٌ فَقَالَ: «مَا لِي أَرَاكُمْ عِزينَ؟» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

جابر بن سمرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ تشریف لائے تو آپ کے صحابہ کرام ؓ بیٹھے ہوئے تھے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا وجہ ہے کہ میں تمہیں الگ الگ (بیٹھے ہوئے) دیکھ رہا ہوں ؟‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فِي الْفَيْء فقلص الظِّلُّ فَصَارَ بَعْضُهُ فِي الشَّمْسِ وَبَعْضُهُ فِي الظل فَليقمْ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی سائے میں ہو ، پھر وہ (سایہ) اس سے بلند ہو جائے اور اس شخص کا کچھ حصہ دھوپ میں ہو جائے اور کچھ سائے میں تو وہ (وہاں سے) اٹھ جائے ۔‘‘ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔

وَفِي « شرح السّنة» عَنهُ. قَالَ: «وَإِذا كَانَ أَحَدُكُمْ فِي الْفَيْءِ فَقَلَصَ عَنْهُ فَلْيَقُمْ فَإِنَّهُ مَجْلِسُ الشَّيْطَانِ» . هَكَذَا رَوَاهُ مَعْمَرٌ مَوْقُوفًا

شرح السنہ میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے ، آپ ﷺ نے کہا :’’ جب تم میں سے کوئی سائے میں ہو اور وہ سایہ اس سے بلند ہو جائے تو وہ شخص (وہاں سے) اٹھ جائے ، کیونکہ وہ شیطان کی مجلس ہے ۔‘‘ معمر نے اسی طرح اسے موقوف روایت کیا ہے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ فی شرح السنہ ۔