سہل بن سعد ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص مجھے زبان اور شرم گاہ (کی حفاظت) کی ضمانت دے دے تو میں اسے جنت کی ضمانت دیتا ہوں ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ بے شک بندہ ایسی بات کرتا ہے جس میں اللہ کی رضا ہوتی ہے اور وہ اسے کوئی اہمیت نہیں دیتا ، لیکن اللہ اس کی وجہ سے درجات بلند فرما دیتا ہے ، اور بندہ ایسی بات کرتا ہے جس میں اللہ کی ناراضی ہوتی ہے اور وہ اسے کوئی اہمیت نہیں دیتا ، لیکن وہ اس کے باعث جہنم میں گر جاتا ہے ۔‘‘ یہ الفاظ بخاری کے ہیں ۔ اور بخاری ، مسلم کی روایت میں ہے :’’ وہ اس (بات) کی وجہ سے جہنم میں اس قدر گہرا گر جاتا ہے جس قدر مشرق و مغرب کے درمیان دوری ہے ۔‘‘ رواہ البخاری و مسلم ۔
عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ مسلمان کو گالی دینا فسق اور اس سے لڑائی جھگڑا کرنا کفر ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص نے اپنے (مسلمان) بھائی سے کہا : کافر ، تو ان دونوں میں سے ایک ضرور (ایمان سے) کفر کی طرف لوٹا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اگر کوئی شخص کسی شخص کو فاسق یا کافر کہہ کر پکارتا ہے اور اگر وہ شخص (جسے پکارا جا رہا ہے) ایسے نہ ہو تو پھر وہ (بات) اس (کہنے والے) پر لوٹ آتی ہے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص نے کسی شخص کو کافر کہہ کر پکارا یا کہا : اللہ کے دشمن ! جبکہ وہ ایسے نہ ہو تو وہ بات اس (کہنے والے) پر لوٹ آتی ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
انس اور ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ باہم گالی گلوچ کرنے والے دو افراد میں سے اس وقت تک گنہگار وہ ہے جو پہلے گالی دیتا ہے جب تک مظلوم ایک کے بدلے میں دو گالیاں نہ دے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ سچے شخص کے لیے مناسب نہیں کہ وہ بہت زیادہ لعنت کرنے والا ہو ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابودرداء ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ کثرت سے لعنت کرنے والے روزِ قیامت نہ گواہ ہوں گے اور نہ سفارشی ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب آدمی کہتا ہے : لوگ (اپنے بُرے اعمال کے بدلے میں) ہلاک ہو گئے تو وہ ان سب سے زیادہ ہلاک ہونے والا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تم قیامت کے روز سب سے بدترین اس شخص کو پاؤ گے جو دوغلا ہے ، اِدھر لوگوں سے کچھ بات کرتا ہے اور اُدھر لوگوں سے کچھ بات کرتا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
حذیفہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ چغل خور جنت میں نہیں جائے گا ۔‘‘ اور مسلم کی روایت میں نَمَّامٌ ’’چغل خور‘‘ کا لفظ ہے ۔ متفق علیہ ۔
عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ سچائی کو اختیار کرو ، کیونکہ سچائی نیکی کی طرف راہنمائی کرتی ہے ، اور نیکی جنت کی طرف راہنمائی کرتی ہے ، آدمی سچ بولتا رہتا ہے اور سچائی کا متلاشی رہتا ہے حتی کہ وہ اللہ کے ہاں صدیق (بہت سچا) لکھ دیا جاتا ہے ، اور تم جھوٹ سے بچو ، کیونکہ جھوٹ گناہوں کی طرف راہنمائی کرتا ہے اور گناہ جہنم کی طرف راہنمائی کرتے ہیں ، آدمی جھوٹ بولتا رہتا ہے اور جھوٹ کا طلب گار رہتا ہے حتی کہ وہ اللہ کے ہاں جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے ۔‘‘ اور مسلم کی روایت میں ہے ، فرمایا :’’ بے شک سچ نیکی ہے ، اور نیکی جنت کی طرف راہنمائی کرتی ہے ، اور بے شک جھوٹ گناہ ہے ، اور گناہ جہنم کی طرف راہنمائی کرتے ہیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ام کلثوم ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ لوگوں کے درمیان صلح کرانے والا شخص جھوٹا نہیں ، وہ خیر و بھلائی کی بات کرتا ہے اور خیر و بھلائی کی بات ہی آگے پہنچاتا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
مقداد بن اسود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم مدح سرائی کرنے والوں کو دیکھو تو ان کے چہروں پر مٹی پھینکو ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابوبکرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک آدمی نے نبی ﷺ کی موجودگی میں دوسرے آدمی کی تعریف کی تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تیری تباہی ہو ، تم نے اپنے بھائی کی گردن کاٹ دی ۔‘‘ آپ ﷺ نے یہ تین مرتبہ فرمایا ’’ جس نے ضرور ہی مدح سرائی کرنی ہو تو وہ کہے : میں فلاں کو اس اس طرح خیال کرتا ہوں ، جبکہ اللہ اس کی حقیقت سے آگاہ ہے ، اگر موصوف ایسا ہی ہو جیسا اس نے خیال کیا ، وہ اللہ پر کسی شخص کی نسبت تزکیہ کا حکم یقینی طور پر نہ لگائے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا تم جانتے ہو غیبت کیا ہے ؟‘‘ صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا ، اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تیرا اپنے بھائی کو ان الفاظ سے یاد کرنا جسے ، وہ ناپسند کرتا ہو ۔‘‘ عرض کیا گیا ، آپ مجھے بتائیں کہ جو بات میں کر رہا ہوں وہ میرے بھائی میں موجود ہو تو پھر ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اگر تو وہ چیز اس میں ہے جو تم کہہ رہے ہو تو پھر تم نے اس کی غیبت کی ، اور جب تم نے ایسی بات کی جو اس میں نہیں تو پھر تم نے اس پر بہتان لگایا ۔‘‘ ایک دوسری روایت میں ہے :’’ جب تم نے اپنے بھائی کے متعلق ایسی بات کی جو اس میں ہے تو تم نے اس کی غیبت کی ، اور جب تم نے ایسی بات کی جو اس میں نہیں ہے تو پھر تم نے اس پر بہتان بازی کی ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی ﷺ سے اندر آنے کی اجازت طلب کی تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اسے اجازت دے دو اور وہ اپنی قوم کا برا شخص ہے ۔‘‘ جب وہ بیٹھ گیا تو نبی ﷺ نے اپنے چہرے پر خوشی کا اظہار فرمایا اور اس کے لیے تبسم فرمایا : جب وہ آدمی چلا گیا تو عائشہ ؓ نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! آپ نے اس کے متعلق اس طرح اس طرح کہا ، پھر (اس کے آنے پر) آپ نے اپنے چہرے پر خوشی کا اظہار فرمایا اور اس کے لیے تبسم فرمایا ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تم نے مجھے کب فحش گو پایا ؟ کیونکہ روزِ قیامت اللہ کے ہاں مقام و مرتبہ میں سے بدتر وہ شخص ہو گا جس کے شر سے بچنے کے لیے لوگ اسے چھوڑ دیں ۔‘‘ ایک دوسری روایت میں ہے :’’ اس کی فحش گوئی سے بچنے کے لیے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میری ساری امت کے گناہ قابل معافی ہیں ، مگر وہ لوگ جو اعلانیہ گناہ کرتے ہیں ، اور اعلانیہ گناہ کرنا یہ ہے کہ آدمی رات کے وقت کوئی (گناہ کا) عمل کرے ، پھر صبح ہونے پر کہتا پھرے : اے فلاں ! میں نے رات کو اس طرح اس طرح کیا تھا ، حالانکہ اللہ نے اس کی پردہ پوشی کی ہوئی تھی ، اور اس نے رات اس طرح بسر کی کہ اس کے رب نے اسے چھپا رکھا تھا اور جب صبح کرتا ہے تو اپنے اوپر سے اللہ کے پردے کو اٹھا دیتا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔ اور ابوہریرہ ؓ سے مروی حدیث :’’ جو شخص اللہ پر ایمان رکھتا ہو ۔‘‘ باب الضیافۃ میں ذکر کی گئی ہے ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص جھوٹ بولنا چھوڑ دیتا ہے درآنحالیکہ وہ باطل پر تھا ۔ اس کے لیے جنت کے کنارے پر ایک گھر بنا دیا جاتا ہے ، اور جس نے حق پر ہوتے ہوئے بھی جھگڑا ترک کر دیا تو اس کے لیے جنت کے وسط میں گھر بنا دیا جاتا ہے ، اور جس نے اپنا اخلاق سنوار لیا ، اس کے لیے اس میں بلند جگہ پر گھر بنا دیا جاتا ہے ۔‘‘ امام ترمذی نے اس حدیث کو بیان کیا ہے اور اسے حسن کہا ہے ، اور اسی طرح شرح السنہ اور مصابیح میں ہے ، فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی و فی شرح السنہ ۔