عبداللہ بن ابی اوفی ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جس قوم میں قطع رحمی کرنے والا شخص ہو اس پر رحمت نازل نہیں ہوتی ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
ابوبکرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ظلم و سرکشی اور قطع رحمی ایسے گناہ ہیں کہ ان کے مرتکب کو اللہ دنیا میں سزا دینے کے ساتھ ساتھ اسے آخرت میں بھی ذخیرہ کر لیتا ہے ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔
عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ احسان جتلانے والا ، والدین کا نافرمان اور مستقل شراب نوش جنت میں نہیں جائے گا ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ النسائی و الدارمی ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اپنے نسب کو اس قدر ضرور سیکھو جس کے مطابق تم صلہ رحمی کرتے ہو ، کیونکہ صلہ رحمی اہل رحم میں محبت ، مال میں اضافے اور درازئ عمر کا باعث ہے ۔‘‘ ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔
ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں نے ایک بہت بڑے گناہ کا ارتکاب کیا ہے تو کیا میرے لیے توبہ (کی گنجائش) ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا تمہاری والدہ ہے ؟‘‘ اس نے عرض کیا ، نہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا تمہاری خالہ ہے ؟‘‘ اس نے عرض کیا : جی ہاں ! آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اس کے ساتھ حسن سلوک کرو ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی ۔
ابواسید ساعدی ؓ بیان کرتے ہیں ، اس اثنا میں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر تھے کہ اتنے میں بنو سلمہ (کے قبیلے) سے ایک آدمی آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا والدین کے ساتھ حسن سلوک کی کوئی ایسی صورت ہے جس کے ذریعے میں ان کی وفات کے بعد ان سے حسن سلوک کر سکوں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ہاں ! ان کے لیے دعا کرو ، ان کے لیے مغفرت طلب کرو ، ان کے بعد ان کی وصیت پر عمل کرو ، وہ جو صلہ رحمی کیا کرتے تھے اسے جاری رکھو اور ان کے دوستوں کی تکریم کرو ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ ۔
ابوطفیل ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے نبی ﷺ کو جعرانہ کے مقام پر گوشت تقسیم کرتے ہوئے دیکھا ، اچانک ایک عورت آئی حتی کہ وہ نبی ﷺ کے قریب ہو گئی اور آپ نے اس کے لیے اپنی چادر بچھا دی اور وہ اس پر بیٹھ گئی ۔ میں نے پوچھا یہ کون ہے ؟ تو انہوں نے بتایا : یہ آپ ﷺ کی رضاعی والدہ ہیں ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
ابن عمر ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اس دوران کے تین آدمی سفر کر رہے تھے ، بارش آ گئی ، انہوں نے پہاڑ میں ایک غار میں پناہ لی ، اتنے میں پہاڑ سے ایک چٹان گری اور اس نے ان کی غار کا منہ بند کر دیا ۔ چنانچہ انہوں نے ایک دوسرے سے کہا : اپنے اعمال کا جائزہ لو جو تم نے خالص اللہ کی رضا کی خاطر کیے تھے ، پھر ان کے ذریعے اللہ سے دعا کرو شاید کے وہ اس تکلیف (چٹان) کو دور کر دے ، ان میں سے ایک نے کہا : اے اللہ ! میرے بوڑھے والدین تھے اور میرے چھوٹے چھوٹے بچے تھے ، میں ان کے نان و نفقہ کا ذمہ دار تھا ، جب میں شام کے وقت مویشی لے کر واپس آتا تو میں دودھ دھو کر ، اپنی اولاد سے پہلے ، اپنے والدین کی خدمت میں پیش کیا کرتا تھا ، ایک مرتبہ میں جنگل میں دور نکل گیا جس کی وجہ سے میں شام کے وقت (دیر سے) گھر پہنچا تو میں نے ان دونوں کو سویا ہوا پایا ، میں نے حسب معمول دودھ دھویا ، پھر میں دودھ کا برتن لے کر آیا اور ان کے سرہانے کھڑا ہو گیا ، میں نے انہیں جگانا مناسب نہ سمجھا اور ان سے پہلے بچوں کو پلانا بھی نامناسب جانا جبکہ بچے میرے قدموں کے پاس بھوکے بلکتے رہے ، میری اور ان کی یہی صورت حال رہی حتی کہ صبح ہو گئی ، (اے اللہ !) اگر تو جانتا ہے کہ میں نے تیری رضا کی خاطر ایسے کیا تھا تو پھر ہمارے لیے اس قدر راستہ بنا دے کہ ہم وہاں سے آسمان دیکھ لیں ، اللہ نے ان کے لیے راستہ کھول دیا حتی کہ وہ آسمان دیکھنے لگے ۔ دوسرے نے عرض کیا ، اے اللہ ! میری ایک چچا زاد بہن تھی ، میں اسے اتنا چاہتا تھا جتنا کہ زیادہ سے زیادہ مرد خواتین کو چاہتے ہیں ، میں نے اس سے برائی کرنے کا ارادہ ظاہر کیا لیکن اس نے انکار کر دیا ، حتی کہ میں اسے سو دینار دوں ، میں نے کوشش کر کے سو دینار جمع کیے اور وہ لے کر اس کے پاس گیا ، اور جب میں (اس سے برا فعل کرنے کے لیے) اس کی دونوں ٹانگوں کے درمیان بیٹھ گیا تو اس نے کہا : اللہ کے بندے ! اللہ سے ڈر جا اور اس مہر کو نہ توڑ ، (یہ سنتے ہی) میں اس سے اٹھ کھڑا ہوا ۔ اے اللہ ! اگر تو جانتا ہے کہ میں نے یہ تیری رضا کی خاطر کیا تھا تو ہمارے لیے راستہ کھول دے ! اللہ نے ان کے لیے کچھ راستہ کھول دیا ۔ تیسرے شخص نے کہا : اے اللہ ! میں نے ایک فرق (۶ ارطل) چاولوں کی اجرت پر ایک مزدور کام پر لگا رکھا تھا ، پس جب اس نے اپنا کام مکمل کر لیا تو اس نے کہا : میرا حق مجھے ادا کرو ، جب میں نے اس کا حق اس پر پیش کیا تو وہ اسے کمتر سمجھتے ہوئے چھوڑ کر چلا گیا میں اس سے زراعت کرتا رہا حتی کہ میں نے اس سے گائے اور چرواہے جمع کر لیے ، وہ میرے پاس آیا اور اس نے کہا : اللہ سے ڈر جا اور مجھ پر ظلم نہ کر اور میرا حق مجھے ادا کر ، میں نے کہا یہ گائے اور اس کے چرانے والے کو لے جا ، اس نے کہا : اللہ سے ڈر ! مجھ سے مذاق نہ کر ، میں نے کہا : میں تم سے مذاق نہیں کر رہا ، تم یہ گائے اور اس کے چرواہے کو لے جاؤ ، وہ اسے لے کر چلا گیا ۔ اگر تو جانتا ہے کہ میں نے یہ کام تیری رضا حاصل کرنے کے لیے کیا تھا تو باقی راستہ بھی کھول دے ، چنانچہ اللہ نے ان کے لیے راستہ کھول دیا (اور وہ تکلیف دور کر دی) ۔‘‘ متفق علیہ ۔
معاویہ بن جاہمہ سے روایت ہے کہ جاہمہ ؓ نبی ﷺ کی خدمت میں آئے اور انہوں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! میں جہاد میں شریک ہونے کے لیے آپ سے مشورہ کرنا چاہتا ہوں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا تمہاری والدہ ہے ؟‘‘ اس نے عرض کیا : جی ہاں ! آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جاؤ ! اس کے پاس رہو ، کیونکہ جنت اس کے قدموں کے پاس ہے ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ احمد و النسائی و البیھقی فی شعب الایمان ۔
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، میری ایک بیوی تھی جسے میں پسند کرتا تھا ، جبکہ عمر ؓ اسے ناپسند کرتے تھے ، انہوں نے مجھے فرمایا :’’ اسے طلاق دے دو ، میں نے انکار کر دیا تو عمر ؓ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے یہ واقعہ بیان کیا تو رسول اللہ ﷺ نے مجھے فرمایا :’’ اسے طلاق دے دو ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔
ابوامامہ ؓ سے روایت ہے کہ کسی آدمی نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! والدین کا اپنی اولاد پر کیا حق ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ دونوں تمہاری جنت (کا سبب) ہیں اور تمہاری جہنم (کا سبب) ہیں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ایک بندے کے والدین یا ان دونوں میں سے ایک فوت ہو جاتا ہے جبکہ وہ ان دونوں کا نافرمان ہوتا ہے ، اور وہ (ان کی موت کے بعد) ان کے لیے دعا کرتا رہتا ہے اور ان دونوں کے لیے مغفرت طلب کرتا رہتا ہے تو اللہ ایسے شخص کو حسن سلوک کرنے والا لکھ دیتا ہے ۔‘‘ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص اپنے والدین (کے حق) کے متعلق اللہ کی اطاعت میں صبح کرتا ہے تو اس کے لیے جنت کے دروازے کھل جاتے ہیں اور اگر ایک ہو تو (دروازہ بھی) ایک ، اور جو شخص اپنے والدین (کے حق) کے متعلق اللہ کی نافرمانی میں صبح کرتا ہے تو اس کے لیے جہنم کے دروازے کھل جاتے ہیں ، اور اگر وہ ایک ہو تو (جہنم کا دروازہ بھی) ایک ۔‘‘ ایک آدمی نے عرض کیا ، اگرچہ وہ اس پر ظلم کریں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اگرچہ وہ اس پر ظلم کریں ، اگرچہ وہ اس پر ظلم کریں اور اگرچہ وہ اس پر ظلم کریں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ نیک بچہ جب اپنے والدین کو نظر رحمت سے دیکھتا ہے تو اللہ اس کے ہر بار دیکھنے کے بدلے میں ، اس کے لیے حج مبرور کا ثواب لکھ دیتا ہے ۔‘‘ صحابہ ؓ نے عرض کیا : اگرچہ وہ ہر روز سو مرتبہ دیکھے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ہاں ، اللہ (تصور سے) بہت بڑا اور (ہر نقص سے) پاک تر ہے ۔‘‘ اسنادہ موضوع ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
ابوبکرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ والدین کی نافرمانی کے علاوہ اللہ جتنے چاہے گناہ معاف کر دیتا ہے ، کیونکہ وہ اس (گناہ) کے مرتکب کو مرنے سے پہلے زندگی ہی میں سزا دے دیتا ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
سعید بن عاص ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ بڑے بھائی کا اپنے چھوٹے بھائیوں پر ایسے حق ہے جیسے والد کا اپنی اولاد پر حق ہے ۔‘‘ امام بیہقی نے پانچوں احادیث شعب الایمان میں روایت کی ہیں ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔