TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 4933 مشکوۃ

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 23 of 36 in this chapter
بَاب الْبر والصلة
حسن سلوک اور صلہ رحمی کرنے کا بیان
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنَّانٌ وَلَا عَاقٌّ وَلَا مُدْمِنُ خمر» . رَوَاهُ النَّسَائِيّ والدارمي
عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ احسان جتلانے والا ، والدین کا نافرمان اور مستقل شراب نوش جنت میں نہیں جائے گا ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ النسائی و الدارمی ۔
4933
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
(صَحِيح)
Conclusion
تخریج
اسنادہ حسن ، رواہ النسائی (۸ / ۳۱۸ ح ۵۶۷۵) و الدارمی (۲ / ۱۱۲ ح ۲۰۹۹) ۔

Related Chapters

149
1
Chapter: About Being Dutiful To The Maternal Aunt
باب: خالہ کے ساتھ حسن سلوک کا بیان
Jam e Tirmazi
2
Chapter: What Has Been Related About Connecting The Ties Of Kinship
باب: صلہ رحمی کا بیان
Jam e Tirmazi
3
Chapter: What Has Been Related About Treating The Servant Well
باب: خادم اور نوکر کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
4
سائل کے ساتھ حسن سلوک کرنے، اس کے بارے میں حسنِ ظن رکھنے اور خواہ وہ گھوڑے پر آئے، اس کو کچھ نہ کچھ دینے کا بیان
Musnad Ahmad
5
صلہ رحمی کی ترغیب کا بیان
Musnad Ahmad
6
(10) CHAPTER. The superiority of keeping good relations with one's relatives.
ناطہٰ والوں سے صلہرحمی کی فضیلت
Sahih Bukhari
7
(17) CHAPTER. Whoever allowed a small girl of another person to play with him, or kissed her or had a joke with her.
جس نے کفر کی حالت میں صلہرحمی کی اور پھر اسلام لایا تو اس کا ثواب قائم رہے گا
Sahih Bukhari
8
Chapter: Being Dutiful To One's Parents, And Which Of Them Is More Entitled To It
باب: والدین سے حسن سلوک اور یہ کہ ان دونوں میں سے اس کا زیادہ حقدار کون ہے
Sahih Muslim
9
Chapter: Being Dutiful To One's Parents Takes Precedence Over Voluntary Prayer, Etc.
والدین کے ساتھ حسن سلوک نفلی نماز اور دوسرے نفلی اعمال پر مقدم ہے
Sahih Muslim
10
Chapter: Upholding Ties Of Kinship, And The Prohibition Of Severing Them
باب: صلہ رحمی (کا حکم) اور قطع رحمی کی ممانعت
Sahih Muslim
11
Chapter: Advice To Treat One's Neighbor Well
ہمسائے کے حق میں (اچھائی کی) تلقین اور حسن سلوک
Sahih Muslim
12
Chapter: The Virtue Of Treating Widows, The Poor And Orphans Kindly
بیوہ مسکین اور یتیم کے ساتھ حسن سلوک کی فضیلت
Sahih Muslim
13
اخلاق، نیکی اور صلہ رحمی
Silsila Sahih
14
CHAPTER: On Doing Kindness To Near Relatives
باب: رشتے داروں سے صلہ رحمی ( اچھے برتاؤ ) کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
15
Chapter: Honoring One's Parents
ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
16
Chapter: What Has Been Related About How The Judge Is To Make A Judgement
باب: قاضی فیصلہ کیسے کرے؟
Jam e Tirmazi
17
Chapter: What Has Been Related About The Judge Not Judging Between Two Disputants Until He Has Heard Both Of Them
باب: قاضی جب تک دونوں فریق کی بات نہ سن لے فیصلہ نہ کرے
Jam e Tirmazi
18
Chapter: What Has Been Related About 'The Judge Is Not To Pass A Judgement While He Is Angry'
باب: قاضی غصہ کی حالت میں فیصلہ نہ کرے
Jam e Tirmazi
19
Chapter: Judgements For Cases Involving Bloodshed
باب: خون کے فیصلہ کا بیان
Jam e Tirmazi
20
Chapter: What Has Been Related About Cessation For Arbitration
باب: دشمن کی مسلمان کے فیصلہ پر رضا مندی کا بیان
Jam e Tirmazi
21
Chapter: What Has Been Related About Being Dutiful To Parents.
باب: ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
22
Chapter: What Has Been Related About Severing the Ties Of Kinship
باب: قطع رحمی (ناتا توڑنے) پر وارد وعید کا بیان
Jam e Tirmazi
23
Chapter: What Has Been Related About Disciplining The Servant
باب: خادم کے ساتھ سلوک کرنے کے آداب کا بیان
Jam e Tirmazi
24
Chapter: What Has Been Related About Being Grateful To The One Who Was Kind To You
باب: محسن کا شکر یہ ادا کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
25
Chapter: What Has Been Related About Having Amicable Relations With People
باب: حسن معاشرت (یعنی لوگوں کے ساتھ اچھے ڈھنگ سے رہنے) کا بیان
Jam e Tirmazi
26
Chapter: What Has Been Related About Being Polite
باب: حسن معاملہ کا بیان
Jam e Tirmazi
27
Chapter: What Has Been Related About Good Character
باب: اخلاق حسنہ کا بیان
Jam e Tirmazi
28
باب: اللہ کے فیصلہ پر راضی ہونے کا بیان
Jam e Tirmazi
29
Chapter: What Has Been Related About Having Good Thoughts About Allah, Most High
باب: اللہ کے ساتھ حسن ظن رکھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
30
Chapter: Concerning Having Good Thoughts About Allah The Mighty And Sublime
باب: اللہ عزوجل کے ساتھ حسن ظن رکھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
31
باب: حسن و حسین رضی الله عنہما کے مناقب کا بیان
Jam e Tirmazi
32
بَابُ الرِّفْقِ وَالْحَيَاءِ
نرمی ، حیا اور حسن خلق کا بیان
Mishkat
33
امام کا مردوں کے ساتھ تھوڑی دیر تک ٹھہرنا تاکہ عورتیں نکل جائیں اور فرضی اور نفلی نمازوں کے درمیان باہر جانے یا کلام کرنے یا جگہ بدلنے کے ساتھ فاصلہ کرنا
Musnad Ahmad
34
فرض نماز اور اس کی سنتوں کے درمیان فاصلہ کرنے کے مستحب ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
35
اللہ تعالیٰ کے بارے میں حسن ظن رکھنے اور حسن خاتمہ کا بیان
Musnad Ahmad
36
اس کا بیان کہ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کی روح کسی علاقے میں قبض کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تو اس کے لیے اس میں کوئی ضرورت بنا دیتا ہے نیز اچانک موت کا بیان
Musnad Ahmad
37
قطع رحمی اور غیر ملکیتی چیز کے بارے میں قسم اٹھا لینے کا بیان
Musnad Ahmad
38
عمریٰ کی تفسیر کااور اس چیز کا بیان کہ کس کے حق میں اس کا فیصلہ ہو گا
Musnad Ahmad
39
قاضی کے فیصلے میں درستی اور خطا دونوں کے امکان، مجتہد قاضی کے اجر اور اس کے فیصلہ کرنے کی کیفیت کا بیان
Musnad Ahmad
40
قضا اور قاضی کے آداب کا بیان فریقین کا کلام سن لینے سے پہلے فیصلہ کر دینے سے ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
41
غصے کی حالت میں فیصلہ کرنے سے ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
42
باطل چیز پر جھگڑنے والے کے گناہ کا بیان، اگرچہ بظاہر اس کے لیے فیصلہ کر دیا گیا ہو اور اس چیز کا بیان کہ کیا قاضی اپنے علم کی روشنی میں فیصلہ کر سکتا ہے یا نہیں
Musnad Ahmad
43
ایک گواہ اور ایک قسم کے ساتھ فیصلہ کرنے والے کا بیان
Musnad Ahmad
44
جب فریقین کسی چیز کی ملکیت کا دعوی کریں اور ان کے پاس کوئی گواہ نہ ہو تو قرعہ کے ذریعے فیصلہ کرنے کابیان، اسی طرح اس چیز کی وضاحت کہ اگر دونوں کے پاس گواہ تو ہوں، لیکن متعارض ہوں
Musnad Ahmad
45
رسول اللہ a کے کیے ہوئے چند متفرق فیصلہ جات
Musnad Ahmad
46
بیوی کے ساتھ حسن معاشرت و حسن اخلاق سے پیش آنے کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
47
اخلاقِ حسنہ کی ترغیب دلانے کا بیان
Musnad Ahmad
48
قطع رحمی سے ترہیب کا بیان
Musnad Ahmad
49
غزوۂ احد میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے کے دانتوں کی شہادت، چہرہ انور کا زخمی ہونا، اللہ تعالیٰ کا فرشتوں کے ذریعے آپ کی حفاظت کرنا اور آپ کے ساتھ بد سلوکی کرنے والوں پر اللہ کی شدید ناراضی کا بیان
Musnad Ahmad
50
رسول اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا بیت اللہ کے اندر جانے کے لیے چابی بردار عثمان بن طلحہ سے چابیاں طلب کرنے اور بیت اللہ کے اندر موجود بتوں کے ساتھ آپ کا سلوک اور بیت اللہ کو بتوں سے پاک کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

554
Mishkat
3490
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَلَا إِنَّ دِيَةَ الْخَطَأِ شِبْهِ الْعَمْدِ مَا كَانَ بِالسَّوْطِ وَالْعَصَا مِائَةٌ مِنَ الإِبلِ: مِنْهَا أربعونَ فِي بطونِها أولادُها . رَوَاهُ النسائيُّ وَابْن مَاجَه والدارمي
عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ سن لو ! خطا کی دیت ، شبہ عمد کی دیت کے مثل ہے ، جو کوڑے اور لاٹھی سے ہو ، اس کی (دیت) سو اونٹ ہے ، جن میں سے چالیس حاملہ ہوں گی ۔‘‘ حسن ، رواہ النسائی و ابن ماجہ و الدارمی ۔
Mishkat
3703
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ صَاحِبُ مَكْسٍ» : يَعْنِي الَّذِي يَعْشُرُ النَّاسَ. رَوَاهُ أَحْمد وَأَبُو دَاوُد والدارمي
عقبہ بن عامر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ٹیکس وصول کرنے والا (یعنی وہ شخص جو لوگوں سے خلاف شرح ٹیکس وصول کرتا ہے) جنت میں داخل نہیں ہو گا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد و ابوداؤد و الدارمی ۔
Mishkat
5601
وَعَن عبدِ الله بن أبي الجَدعاءِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «يَدْخُلُ الْجَنَّةَ بِشَفَاعَةِ رَجُلٍ مِنْ أُمَّتِي أَكْثَرُ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ» رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ والدارمي وَابْن مَاجَه
عبداللہ بن ابی جدعاء ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ میری امت کے ایک آدمی (عثمان ؓ) کی سفارش پر قبیلہ بنو تمیم سے زیادہ افراد جنت میں جائیں گے ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی و الدارمی و ابن ماجہ ۔
Mishkat
5696
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَمَّا خَلَقَ اللَّهُ الْجَنَّةَ قَالَ لِجِبْرِيلَ: اذْهَبْ فَانْظُرْ إِلَيْهَا فَذَهَبَ فَنَظَرَ إِلَيْهَا وَإِلَى مَا أَعَدَّ اللَّهُ لِأَهْلِهَا فِيهَا ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ: أَيْ رَبِّ وَعِزَّتِكَ لَا يَسْمَعُ بِهَا أَحَدٌ إِلَّا دَخَلَهَا ثُمَّ حَفَّهَا بالمكارِه ثُمَّ قَالَ: يَا جِبْرِيلُ اذْهَبْ فَانْظُرْ إِلَيْهَا فَذَهَبَ فَنَظَرَ إِلَيْهَا ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ: أَيْ رَبِّ وَعِزَّتِكَ لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ لَا يَدْخُلَهَا أَحَدٌ . قَالَ: فَلَمَّا خَلَقَ اللَّهُ النَّارَ قَالَ: يَا جبريلُ اذهبْ فانظرْ إِليها فذهبَ فنظرَ إِليها فَقَالَ: أَيْ رَبِّ وَعِزَّتِكَ لَا يَسْمَعُ بِهَا أَحَدٌ فَيَدْخُلُهَا فَحَفَّهَا بِالشَّهَوَاتِ ثُمَّ قَالَ: يَا جبريلُ اذهبْ فانظرْ إِليها فذهبَ فَنَظَرَ إِلَيْهَا فَقَالَ: أَيْ رَبِّ وَعِزَّتِكَ لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ لَا يَبْقَى أَحَدٌ إِلَّا دَخَلَهَا . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ
ابوہریرہ ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جب اللہ نے جنت کو پیدا فرمایا تو جبریل ؑ سے فرمایا : جاؤ اسے دیکھو ، وہ گئے اور انہوں نے اس کو اور اس کے رہنے والوں کے لیے اللہ نے جو کچھ تیار کر رکھا تھا اس کو دیکھا ، پھر واپس آئے تو عرض کیا : رب جی ! تیری عزت کی قسم ! اس کے متعلق جو بھی سنے گا وہ اس میں داخل ہو گا ، پھر اللہ تعالیٰ نے اس کے گرد ناگوار چیزوں کی باڑ لگا دی ، پھر فرمایا : جبریل ! جاؤ اور اسے دیکھو ۔‘‘ فرمایا :’’ وہ گئے اور اسے دیکھا ، پھر آئے اور عرض کیا : رب جی ! تیری عزت کی قسم ! مجھے اندیشہ ہے کہ اس میں کوئی ایک بھی داخل نہیں ہو گا ۔‘‘ فرمایا :’’ جب اللہ نے جہنم کو پیدا فرمایا تو فرمایا : جبریل ! جاؤ اور اسے دیکھو ۔‘‘ فرمایا :’’ وہ گئے اور اسے دیکھا ، پھر آئے اور عرض کیا ، رب جی ! تیری عزت کی قسم ! اس کے متعلق جو سنے گا وہ اس میں داخل نہیں ہو گا ۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے اس کے گرد شہوات کی باڑ لگا دی ، پھر فرمایا :’’ جبریل ! جاؤ اور اسے دیکھو ۔‘‘ فرمایا :’’ وہ گئے اور اسے دیکھا تو (آ کر) عرض کیا : رب جی ! تیری عزت کی قسم ! مجھے اندیشہ ہے کہ اس میں داخل ہونے سے کوئی بھی نہیں بچے گا ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی ۔
Mishkat
166
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ خَطَّ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطًّا ثُمَّ قَالَ: «هَذَا سَبِيلُ اللَّهِ ثُمَّ خَطَّ خُطُوطًا عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ وَقَالَ هَذِهِ سُبُلٌ عَلَى كُلِّ سَبِيلٍ مِنْهَا شَيْطَانٌ يَدْعُو إِلَيْهِ» ثمَّ قَرَأَ (إِن هَذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبعُوهُ) الْآيَة. رَوَاهُ أَحْمد وَالنَّسَائِيّ والدارمي
عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے ہمارے لیے ایک خط کھینچا ، پھر فرمایا :’’ یہ اللہ کی راہ ہے ۔‘‘ پھر آپ ﷺ نے اس کے دائیں بائیں کچھ خط کھینچے ، اور فرمایا :’’ یہ اور راہیں ہیں ، اور ان میں سے ہر راہ پر ایک شیطان ہے جو اس راہ کی طرف بلاتا ہے ۔‘‘ پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی :’’ یہ میری سیدھی راہ ہے ، پس اس کی اتباع کرو ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد (۱/ ۴۳۵ ح ۴۱۴۲) و النسائی (فی الکبریٰ : ۱۱۱۷۴ ، التفسیر : ۱۹۴) و الدارمی (۱/ ۶۷ ، ۶۸ ح ۲۰۸) و ابن حبان (۱۷۴۱ ، ۱۷۴۲) و الحاکم (۲/ ۳۱۸) و ابن ماجہ (۱۱) ۔
Mishkat
319
وَعَن بسرة قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا مَسَّ أَحَدُكُمْ ذَكَرَهُ فَلْيَتَوَضَّأْ» . رَوَاهُ مَالِكٌ وَأَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَه والدارمي
بسرہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی اپنی شرم گاہ کو ہاتھ لگائے تو وہ وضو کرے ۔‘‘ صحیح ، رواہ مالک (۱ /۴۲ ح ۸۸) و احمد (۶ / ۴۰۶ ، ۴۰۷ ح ۲۷۸۳۶ ، ۲۷۸۳۸) و ابوداؤد (۱۸۱) و الترمذی (۸۲) و النسائی (۱ / ۱۰۰ ح ۱۶۳) و ابن ماجہ (۴۷۹) و الدارمی (۱ / ۱۸۴ ح ۷۳۰) ۔
Mishkat
405
وَعَنْ لَقِيطِ بْنِ صَبِرَةَ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبِرْنِي عَنِ الْوُضُوءِ. قَالَ: «أَسْبِغِ الْوُضُوءَ وَخَلِّلْ بَيْنَ الْأَصَابِعِ وَبَالِغْ فِي الِاسْتِنْشَاقِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ صَائِمًا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَرَوَى ابْنُ مَاجَه والدارمي إِلَى قَوْله: بَين الْأَصَابِع
لقیط بن صبرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! مجھے وضو کے متعلق بتائیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ وضو اچھی طرح کرو ، انگلیوں کے درمیان خلال کرو اور روزہ کی حالت کے علاوہ ناک میں پانی خوب چڑھاؤ ۔‘‘ ابوداؤد ، ترمذی ، نسائی ، اور ابن ماجہ اور دارمی نے ((بین الاصابع)) تک روایت کیا ہے ۔ صحیح ۔
Mishkat
477
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمَاءِ يَكُونُ فِي الْفَلَاةِ مِنَ الْأَرْضِ وَمَا يَنُوبُهُ مِنَ الدَّوَابّ وَالسِّبَاع فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا كَانَ الْمَاءُ قُلَّتَيْنِ لَمْ يَحْمِلِ الْخَبَثَ» . رَوَاهُ أَحْمد وَأَبُو دَاوُد وَالتِّرْمِذِيّ وَالنَّسَائِيّ والدارمي وَابْنُ مَاجَهْ وَفِي أُخْرَى لِأَبِي دَاوُدَ: «فَإِنَّهُ لَا ينجس»
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ سے اس پانی کے متعلق دریافت کیا گیا جو جنگل میں ہو اور وہاں چوپائے اور درندے پانی پینے کے لیے آتے جاتے ہوں ، تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جب پانی دو مٹکے (تقریباً ساڑے چھ من) ہو تو وہ نجاست قبول نہیں کرتا ۔‘‘ احمد ، ابوداؤد ، ترمذی ، نسائی ، دارمی ، ابن ماجہ ۔ اور ابوداؤد کی دوسری روایت میں ہے :’’ وہ نجس نہیں ہوتا ۔‘‘ صحیح ۔
Mishkat
479
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نَرْكَبُ الْبَحْرَ وَنَحْمِلُ مَعَنَا الْقَلِيلَ مِنَ الْمَاءِ فَإِنْ تَوَضَّأْنَا بِهِ عَطِشْنَا أفنتوضأ من مَاء الْبَحْرِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هُوَ الطَّهُورُ مَاؤُهُ الْحِلُّ مَيْتَتُهُ» . رَوَاهُ مَالك وَالتِّرْمِذِيّ وَالنَّسَائِيّ وَابْن مَاجَه والدارمي
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، کسی آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا ، ہم سمندری سفر کرتے ہیں اور تھوڑا سا پانی اپنے ساتھ لے جاتے ہیں ، اگر ہم اس سے وضو کرتے ہیں تو پھر پیاسے رہ جاتے ہیں ، تو کیا ہم سمندر کے پانی سے وضو کر لیا کریں ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اس کا پانی پاک ہے اور اس کا مردار حلال ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ مالک و الترمذی و ابوداؤد و النسائی و ابن ماجہ و الدارمی ۔