مشکوۃ

Mishkat

آداب کا بیان

ہجر ، قطع تعلقی اور عیب جوئی کی ممانعت کا بیان

بَابُ مَا يُنْهَى

عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَحِلُّ لِلرَّجُلِ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ يَلْتَقِيَانِ فَيعرض هَذَا ويعرض هذاوخيرهما الَّذِي يبْدَأ بِالسَّلَامِ» . مُتَّفق عَلَيْهِ

ابوایوب انصاری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ کسی آدمی کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے (مسلمان) بھائی سے تین دن سے زائد ترک تعلقات کرے ، دونوں ملتے ہیں تو وہ اس سے اعراض کرتا ہے اور وہ اس سے اعراض کرتا ہے ، اور ان دونوں میں سے بہتر وہ ہے جو سلام میں پہل کرتا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ وَلَا تَحَسَّسُوا وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا تَنَاجَشُوا وَلَا تَحَاسَدُوا وَلَا تَبَاغَضُوا وَلَا تَدَابَرُوا وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا» . وَفِي رِوَايَة: «وَلَا تنافسوا» . مُتَّفق عَلَيْهِ

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ بدگمانی سے بچو ، کیونکہ بدگمانی سب سے بڑا جھوٹ ہے ، تم کسی کے عیب مت تلاش کرو اور نہ جاسوسی کرو ، قیمت بڑھانے کے لیے بولی مت دو اور نہ باہم حسد کرو ، بغض مت رکھو اور نہ قطع تعلقی کرو اور اللہ کے بندو ! بھائی بھائی بن جاؤ ۔‘‘ ایک دوسری روایت میں ہے :’’ (اور حسد کی بنا پر) باہم ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش نہ کرو ۔‘‘ متفق علیہ ۔

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تُفْتَحُ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَيَوْمَ الْخَمِيسِ فَيُغْفَرُ لِكُلِّ عَبْدٍ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا إِلَّا رجلا كَانَتْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَخِيهِ شَحْنَاءٌ فَيُقَالُ: انْظُرُوا هذَيْن حَتَّى يصطلحا . رَوَاهُ مُسلم

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ پیر اور جمعرات کے روز جنت کے دروازے کھولے جاتے ہیں ، شرک سے بیزار ہر شخص کو بخش دیا جاتا ہے ، البتہ اس شخص کی مغفرت نہیں ہوتی جس کی اپنے بھائی کے ساتھ رنجش و عداوت ہو ، کہا جاتا ہے : ان دونوں کو مہلت دو حتیٰ کہ وہ صلح کر لیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تُعْرَضُ أَعْمَالُ النَّاسِ فِي كُلِّ جُمُعَةٍ مَرَّتَيْنِ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَيَوْمَ الْخَمِيسِ فَيُغْفَرُ لِكُلِّ مُؤْمِنٍ إِلَّا عبدا بَينه بَين أَخِيهِ شَحْنَاءُ فَيُقَالُ: اتْرُكُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَفِيئَا . رَوَاهُ مُسلم

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ہر جمعے (سات دنوں میں) لوگوں کے اعمال دو مرتبہ پیر اور جمعرات کے روز پیش کیے جاتے ہیں ، ہر بندہ مومن کو بخش دیا جاتا ہے ، البتہ اس بندے کی مغفرت نہیں ہوتی جس کی اپنے بھائی کے ساتھ رنجش و عداوت ہو ، کہا جاتا ہے : ان دونوں کو چھوڑ دو حتیٰ کہ وہ (عداوت سے) رجوع کر لیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

وَعَنْ أُمُّ كُلْثُومٍ بِنْتُ عُقْبَةَ بْنِ أَبِي مَعِيطٍ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَيْسَ الْكَذَّابُ الَّذِي يُصْلِحُ بَيْنَ النَّاسِ وَيَقُولُ خَيْرًا وَيَنْمِي خَيْرًا» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَزَادَ مُسْلِمٌ قَالَتْ: وَلَمْ أَسْمَعْهُ - تَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُرَخِّصُ فِي شَيْءٍ مِمَّا يَقُولُ النَّاسُ كَذِبٌ إِلَّا فِي ثَلَاثٍ: الْحَرْبُ وَالْإِصْلَاحُ بَيْنَ النَّاسِ وَحَدِيثُ الرَّجُلِ امْرَأَتَهُ وَحَدِيثُ الْمَرْأَةِ زَوْجَهَا

اُم کلثوم بن عقبہ بن ابی مقیط ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ لوگوں کے درمیان صلح کرانے والا شخص جھوٹا نہیں ، وہ (دونوں سے) خیر و بھلائی کی بات کرتا ہے اور (دونوں کو) خیر و بھلائی کی بات پہنچاتا ہے ۔‘‘ امام مسلم نے یہ اضافہ نقل کیا ہے : ام کلثوم ؓ نے کہا میں نے انہیں یعنی نبی اکرم ﷺ کو تین امور کے علاوہ کسی معاملے میں جھوٹ بولنے کی اجازت دیتے ہوئے نہیں سنا : لڑائی (جنگ) میں ، لوگوں کے درمیان صلح کرانے میں اور میاں بیوی کی باہم گفتگو کرنے میں ۔‘‘ متفق علیہ ۔

وَذكر حَدِيث جَابر: «إِن الشَّيْطَان قد أيس» فِي «بَاب الوسوسة»

اور جابر ؓ سے مروی حدیث :’’ شیطان مایوس ہو چکا ۔‘‘ باب الوسوسہ میں ذکر کی گئی ہے ۔ رواہ مسلم ۔

عَن أَسمَاء بنت يزِيد قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَحِلُّ الْكَذِبُ إِلَّا فِي ثَلَاثٍ: كَذِبُ الرَّجُلِ امْرَأَتَهُ لِيُرْضِيَهَا وَالْكَذِبُ فِي الْحَرْبِ وَالْكَذِبُ لِيُصْلِحَ بَيْنَ النَّاسِ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ

اسماء بنت یزید ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ صرف تین مواقع پر جھوٹ بولنا جائز ہے ، آدمی کا اپنی بیوی کو خوش کرنے کے لیے جھوٹ بولنا ، لڑائی میں جھوٹ بولنا اور لوگوں کے درمیان صلح کرانے کے لیے جھوٹ بولنا ۔‘‘ صحیح ، رواہ احمد و الترمذی ۔

وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثٍ فَمِنْ هَجَرَ فَوْقَ ثَلَاثٍ مَرَّاتٍ كُلُّ ذَلِكَ لَا يَرُدُّ عَلَيْهِ فَقَدْ بَاء بإثمه» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ کسی مسلمان کے لیے مناسب نہیں کہ وہ کسی مسلمان سے تین دن سے زائد ترک تعلق کرے ، جب وہ اس سے ملاقات کرے تو تین مرتبہ اسے سلام کرے ، ہر مرتبہ وہ اسے سلام کا جواب نہ دے تو یہ (سلام کرنے والا) اس (ترک ملاقات) کے گناہ سے پاک ہو جاتا ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثٍ فَمِنْ هَجَرَ فَوْقَ ثَلَاثٍ فَمَاتَ دَخَلَ النَّارَ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُد

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے (مسلمان) بھائی سے تین دن سے زائد ترک تعلق کرے ، جس شخص نے تین دن سے زائد ترک تعلق توڑے رکھا اور وہ (اسی حالت میں) فوت ہو گیا تو وہ جہنم میں جائے گا ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ احمد و ابوداؤد ۔

وَعَن أبي خرَاش السُّلَميَّ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ هَجَرَ أَخَاهُ سَنَةً فَهُوَ كسفك دَمه» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

ابوخراش سلمی ؓ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جس نے اپنے بھائی سے سال بھر ترک ملاقات کی تو وہ اس کے خون بہانے کے مترادف ہے ۔‘‘ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَحِلُّ لِمُؤْمِنٍ أَنْ يَهْجُرَ مُؤْمِنًا فَوْقَ ثَلَاثٍ فَإِنْ مَرَّتْ بِهِ ثلاثُ فَلْيلقَهُ فليسلم عَلَيْهِ فَإِن ردَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ فَقَدِ اشْتَرَكَا فِي الْأَجْرِ وَإِنْ لَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ فَقَدْ بَاءَ بِالْإِثْمِ وَخَرَجَ المُسلِّمُ من الْهِجْرَة» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ کسی مومن کے لیے جائز نہیں کہ وہ کسی مومن سے تین دن سے زائد ترک ملاقات کرے ، جب تین دن گزر جائیں تو اسے چاہیے کہ وہ اس سے ملاقات کرے اور اسے سلام کرے ، اگر اس نے سلام کا جواب دے دیا تو وہ دونوں اجر میں شریک ہیں ، اور اگر وہ سلام کا جواب نہ دے تو وہی شخص گناہ گار ہو گا جبکہ سلام کرنے والا ترک ملاقات کے زمرے سے نکل جائے گا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَفْضَلَ من درجةِ الصِّيامِ والصدقةِ وَالصَّلَاة؟» قُلْنَا: بَلَى. قَالَ: «إِصْلَاحُ ذَاتِ الْبَيْنِ وَفَسَادُ ذَاتِ الْبَيْنِ هِيَ الْحَالِقَةُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيح

ابودرداء ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا میں تمہیں روزے ، صدقے اور نماز سے بہتر درجے والے عمل کے متعلق نہ بتاؤں ؟‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، ہم نے عرض کیا : ضرور بتائیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ دو فریقوں ، دوستوں ، رشتہ داروں کے درمیان صلح کرانا ، جبکہ دو فریقوں کے درمیان فساد ایسی خصلت ہے جو (نیکیوں کو) زائل کر دینے والی ہے ۔‘‘ ابوداؤد ، ترمذی ، اور امام ترمذی ؒ نے فرمایا : یہ حدیث صحیح ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد و الترمذی ۔

وَعَنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «دَبَّ إِلَيْكُمْ دَاءُ الْأُمَمِ قَبْلَكُمُ الْحَسَدُ وَالْبَغْضَاءُ هِيَ الْحَالِقَةُ لَا أَقُولُ تَحْلِقُ الشَّعْرَ ولكنْ تحلق الدّين» . رَوَاهُ أَحْمد وَالتِّرْمِذِيّ

زبیر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ سابقہ امتوں کی بیماری (غیر محسوس طریقے سے) تمہاری طرٖف منتقل ہو گئی ہے ، حسد اور بغض و عداوت اور وہ نیکیوں کو زائل کرنے والی ہے ، میں یہ نہیں کہہ رہا کہ وہ (بیماری) بال مونڈتی ہے بلکہ وہ دین کو ختم کر دیتی ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد و الترمذی ۔

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِيَّاكُمْ وَالْحَسَدَ فَإِنَّ الْحَسَدَ يَأْكُلُ الْحَسَنَاتِ كَمَا تَأْكُلُ النَّارُ الْحَطَبَ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

ابوہریرہ ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ حسد سے بچو کیونکہ حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جس طرح آگ لکڑی کو کھا جاتی ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔

وَعَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِيَّاكُمْ وَسُوءَ ذَاتِ الْبَيْنِ فَإِنَّهَا الْحَالِقَةُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

ابوہریرہ ؓ نبی ﷺ سےروایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ دو (فریقوں ، دوستوں ، رشتہ داروں) کے درمیان برائی ڈالنے سے بچو کیونکہ وہ (دین کو) زائل کرنے والی ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔

وَعَن أبي صرمة أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ ضَارَّ ضَارَّ اللَّهُ بِهِ وَمَنْ شَاقَّ شَاقَّ اللَّهُ عَلَيْهِ» . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيب

ابوصرمہ ؓ سے روایت ہے نبی ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص کسی (مسلمان) کو تکلیف پہنچاتا ہے تو اس کے بدلے میں اللہ اسے تکلیف پہنچاتا ہے ، اور جو شخص کسی کو مشقت میں مبتلا کرتا ہے تو اللہ اسے مشقت میں مبتلا کر دیتا ہے ۔‘‘ ابن ماجہ ، ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ و الترمذی ۔

وَعَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَلْعُونٌ مَنْ ضَارَّ مُؤْمِنًا أَوْ مَكَرَ بِهِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ

ابوبکر صدیق ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ وہ شخص ملعون ہے جو کسی مومن کو نقصان پہنچاتا ہے یا اسے دھوکہ دیتا ہے ۔‘‘ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

وَعَن ابنِ عمَرَ قَالَ: صَعِدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمِنْبَرَ فَنَادَى بِصَوْتٍ رَفِيعٍ فَقَالَ: «يَا مَعْشَرَ مَنْ أَسْلَمَ بِلِسَانِهِ وَلَمْ يُفْضِ الْإِيمَانُ إِلَى قَلْبِهِ لَا تُؤْذُوا الْمُسْلِمِينَ وَلَا تُعَيِّرُوهُمْ وَلَا تَتَّبِعُوا عَوْرَاتِهِمْ فَإِنَّهُ مَنْ يَتَّبِعْ عَوْرَةَ أَخِيهِ الْمُسْلِمِ يَتَّبِعِ اللَّهُ عَوْرَتَهُ وَمَنْ يَتَّبِعِ اللَّهُ عَوْرَتَهُ يَفْضَحْهُ وَلَوْ فِي جَوْفِ رَحْلِهِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ منبر پر چڑھے اور با آواز بلند فرمایا :’’ اے لوگو ! جو اپنی زبان سے اسلام لائے ہو جبکہ ایمان ان کے دلوں تک نہیں پہنچا ، تم مسلمانوں کو تکلیف مت پہنچاؤ اور نہ انہیں عار دلاؤ اور نہ ہی ان کے عیوب تلاش کرو ، کیونکہ جو شخص اپنے (مسلمان) بھائی کے عیوب تلاش کرتا ہے تو اللہ اس کے عیوب کا پیچھا کرتا ہے ، اور جس کے عیوب کا اللہ پیچھا کرتا ہے تو وہ اسے رسوا کر دیتا ہے خواہ وہ اپنے گھر کے وسط میں ہو ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔

وَعَن سعيد بْنِ زَيْدٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ مِنْ أَرْبَى الرِّبَا الِاسْتِطَالَةُ فِي عِرْضِ الْمُسْلِمِ بِغَيْرِ حَقٍّ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي «شُعَبِ الْإِيمَانِ»

سعید بن زید ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ سود کی سب سے سنگین صورت مسلمان کی عزت کے بارے میں زبان درازی کرنا ہے ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد و البیھقی فی شعب الایمان ۔

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسلم: لما عرجَ بِي ربِّي مَرَرْتُ بِقَوْمٍ لَهُمْ أَظْفَارٌ مِنْ نُحَاسٍ يَخْمِشُونَ وجوهَهم وصدورهم فَقُلْتُ: مَنْ هَؤُلَاءِ يَا جِبْرِيلُ؟ قَالَ: هَؤُلَاءِ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ لُحُومَ النَّاسِ وَيَقَعُونَ فِي أَعْرَاضِهِمْ . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب میرے رب نے مجھے معراج کرائی تو میں ایسے لوگوں کے پاس سے گزرا جن کے ناخن تانبے کے تھے ، وہ اپنے چہروں اور سینوں کو نوچ رہے تھے ، میں نے کہا : جبرائیل ! یہ کون لوگ ہیں ؟ انہوں نے کہا : یہ وہ لوگ ہیں جو لوگوں کا گوشت کھایا کرتے تھے (ان کی غیبت کیا کرتے تھے) اور ان کی عزتوں کے متعلق عیب جوئی کرتے تھے ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔