ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جنت میں سو درجے ہیں ، ہر دو درجوں کے درمیان سو سال کی مسافت ہے ۔‘‘ ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ صحیح ، رواہ الترمذی ۔
ابوسعید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جنت میں سو درجے ہیں ، اگر تمام جہان والے ان میں سے کسی ایک میں جمع ہو جائیں تو وہ ان کے لیے کافی ہو ۔‘‘ ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
ابوسعید ؓ ، نبی ﷺ سے اللہ تعالیٰ کے فرمان : (وَ فُرُشٍ مَّرْفُوْعَۃٍ) ’’ اور بلند بسترے ‘‘ کے بارے میں روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ان (بچھونوں) کی بلندی اس طرح ہو گی جس طرح زمین و آسمان کے درمیان فاصلہ ہے ، اور وہ فاصلہ پانچ سو سال کی مسافت ہے ۔‘‘ ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ حسن ، رواہ الترمذی ۔
ابوسعید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ پہلا گروہ جو روزِ قیامت جنت میں جائے گا ان کے چہرے اس طرح روشن ہوں گے جس طرح چودھویں رات کا چاند روشن ہوتا ہے ، دوسرا گروہ آسمان میں سب سے زیادہ چمک دار ستارے کی طرح روشن ہو گا ، ان میں سے ہر آدمی کے لیے دو بیویاں ہوں گی ، ہر بیوی پر ستر جوڑے ہوں گے ، اس کی پنڈلی کا گودا ان کے اوپر سے نظر آئے گا ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی ۔
انس ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ مومن کو جنت میں جماع کی بہت زیادہ طاقت دی جائے گی ۔‘‘ عرض کیا گیا : اللہ کے رسول ! کیا وہ اس کی طاقت رکھے گا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : اسے سو (آدمیوں) کی طاقت دی جائے گی ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
سعد بن ابی وقاص ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اگر جنت کی نعمتوں میں سے ناخن برابر کوئی نعمت (دنیا میں) ظاہر ہو جائے تو اس کی وجہ سے زمین و آسمان کے کنارے مزین ہو جائیں ، اور اگر جنت والوں میں سے ایک آدمی (زمین پر) جھانک دے اور اس کے کنگن ظاہر ہو جائیں تو اس کی روشنی سورج کی روشنی کو اس طرح مٹا دے جس طرح سورج ستاروں کی روشنی مٹا دیتا ہے ۔‘‘ ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ حسن ، رواہ الترمذی ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جنت والوں کے جسم پر بال نہ ہوں گے اور نہ ان کی داڑھی ہو گی ، اور ان کی آنکھیں سرمگیں ہوں گی ، نہ تو ان کی جوانیاں ختم ہوں گی اور نہ ان کے کپڑے بوسیدہ ہوں گے ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی و الدارمی ۔
معاذ بن جبل ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ جنت والے جنت میں اس حال میں داخل ہوں گے کہ نہ تو ان کے جسم پر بال ہوں گے اور نہ ان کی داڑھی ہو گی ، ان کی آنکھیں سرمگیں ہوں گی اور ان کی عمر تیس یا تینتیس سال ہو گی ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
اسماء بنت ابی بکر ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ، آپ سے سدرۃ المنتہی کا ذکر کیا گیا تو فرمایا :’’ سوار اس کی شاخوں کے سائے میں سو سال چلتا رہے گا ۔‘‘ یا فرمایا :’’ اس کے سائے سے سو سوار سایہ حاصل کر سکیں گے ۔‘‘ اس میں راوی کو شک ہوا ہے ۔‘‘ اس پر پتنگے سونے کے ہوں گے ، اور اس کا پھل بڑے مٹکوں کی طرح ہو گا ۔‘‘ ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا گیا ، کوثر کیا چیز ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ وہ ایک نہر ہے جو اللہ نے مجھے عطا کی ہے ، یعنی وہ مجھے جنت عطا کرے گا ، (اس کا پانی) دودھ سے زیادہ سفید ، شہد سے زیادہ میٹھا ہے ، اس میں ایک پرندہ ہے جس کی گردن اونٹ کی گردن کی طرح ہے ۔‘‘ عمر ؓ نے عرض کیا : یہ تو پھر بہت اچھی نعمت ہے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اس کو کھانے والے اس سے بھی زیادہ اچھے ہیں ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی ۔
بریدہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! کیا جنت میں گھوڑے ہوں گے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اگر اللہ نے تجھے جنت میں داخل کر دیا اور تو نے اگر وہاں سرخ یاقوت کے گھوڑے پر سوار ہونے کی خواہش کی تو وہ جنت میں جہاں تو چاہے گا تجھے اڑا کر لے جائے گا ۔‘‘ ایک دوسرے آدمی نے آپ سے دریافت کرتے ہوئے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا جنت میں اونٹ بھی ہوں گے ؟ راوی بیان کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے اسے وہ جواب نہیں دیا جو آپ نے اس کے ساتھی کو جواب دیا تھا (بلکہ) آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اگر اللہ نے تجھے جنت میں داخل فرما دیا تو تیرے لیے وہاں وہ کچھ ہو گا جس کو تیرا دل چاہے گا اور (جس سے) تیری آنکھیں لذت و سرور حاصل کریں گیں ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
ابوایوب ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک اعرابی ، نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں (دنیا میں) گھوڑے پسند کرتا ہوں ، کیا جنت میں گھوڑے ہوں گے ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اگر تجھے جنت میں داخل کر دیا گیا تو تجھے یاقوت کا ایک گھوڑا دیا جائے گا ، جس کے دو پر ہوں گے ، تجھے اس پر سوار کیا جائے گا ، پھر تو جہاں چاہے گا وہ تجھے اڑا لے جائے گا ۔‘‘ امام ترمذی ؒ نے فرمایا : اس حدیث کی سند قوی نہیں ، ابو سورہ راوی حدیث کے معاملے میں ضعیف قرار دیا گیا ہے ، میں نے امام بخاری سے سنا ، وہ فرما رہے تھے یہ منکر الحدیث ہے ، اور وہ منکر روایات بیان کرتا ہے ۔ حسن ، رواہ الترمذی ۔
بریدہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جنت والوں کی ایک سو بیس صفیں ہوں گی ، ان میں سے اسی اس امت کی ہوں گی ، اور چالیس باقی تمام امتوں کی ہوں گی ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی و الدارمی و البیھقی فی کتاب البعث و النشور ۔
سالم ؒ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میری امت کے لوگ جس دروازے سے جنت میں داخل ہوں گے ، اس کا عرض ، بہترین سوار کی تین (روز یا سال) کی مسافت کے برابر ہے ، پھر بھی وہاں سے داخل ہوتے وقت وہ اتنے تنگ ہوں گے کہ قریب ہے کہ ان کے کندھے الگ ہو جائیں ۔‘‘ امام ترمذی ؒ نے فرمایا : یہ حدیث ضعیف ہے ، اور میں نے محمد بن اسماعیل (امام بخاری ؒ) سے اس حدیث کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے اسے نہ پہچانا اور فرمایا : یخلد بن ابی بکر منکر روایات بیان کرتا ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جنت میں ایک بازار ہے ، وہاں کوئی خرید و ٖفروخت نہیں ہو گی ، البتہ وہاں مردوں اور عورتوں کی تصویریں ہوں گی ، جب آدمی کسی صورت و تصویر کو پسند کرے گا تو وہ اس میں داخل ہو جائے گا ۔‘‘ ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
سعید بن مسیّب ؒ سےروایت ہے کہ وہ ابوہریرہ ؓ سے ملے تو ابوہریرہ ؓ نے فرمایا : میں اللہ سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ (بازار مدینہ کی طرح) مجھ کو اور آپ کو جنت کے بازار میں اکٹھا فرمائے ، سعید ؒ نے فرمایا : کیا وہاں بازار ہو گا ؟ انہوں نے فرمایا : ہاں ، رسول اللہ ﷺ نے مجھے فرمایا :’’ جب جنت والے ، اس (جنت) میں داخل ہو جائیں گے تو وہ اپنے اعمال کے حساب سے وہاں قیام کریں گے ، پھر دنیا کے ایام سے جمعہ کے دن کی مقدار کے مطابق انہیں اجازت دی جائے گی تو وہ اپنے رب کی زیارت کریں گے اور وہ ان کے لیے اپنا عرش ظاہر فرمائے گا ، وہ (ان کا رب) ان کی خاطر جنت کے باغوں میں سے ایک باغیچے میں تجلی فرمائے گا ، ان کے لیے نور کے موتیوں کے ، یاقوت کے ، زمرد کے ، سونے کے اور چاندی کے منبر لگائے جائیں گے ، ان میں سے ادنی ٰ درجے کا شخص ، اور ان میں سے کوئی بھی ادنی ٰ درجے کا نہیں ہو گا ، کستوری اور کافور کے ٹیلوں پر ہو گا ، اور وہ یہ محسوس نہیں کریں گے کہ کرسیوں والے نشست و برخواست میں ان سے افضل ہیں ۔‘‘ ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! کیا ہم اپنے رب کو دیکھیں گے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ہاں ، کیا تم سورج دیکھنے میں اور چودھویں رات کا چاند دیکھنے میں شک کرتے ہو ؟‘‘ ہم نے عرض کیا ، نہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اسی طرح تم اپنے رب کو دیکھنے میں شک نہیں کرو گے ، اور اس مجلس میں موجود ہر شخص سے اللہ (کسی ترجمان کے بغیر) مخاطب ہو گا ، حتی کہ وہ ان میں سے ایک آدمی سے کہے گا : اے فلاں بن فلاں ! کیا تجھے فلاں دن یاد ہے تو نے یہ اور یہ کہا تھا ، وہ دنیا میں اس کی بعض نافرمانیاں اور عہد شکنیاں اسے یاد کرائے گا تو وہ عرض کرے گا : رب جی ! کیا تو نے مجھے بخش نہیں دیا تھا ؟ وہ فرمائے گا ، کیوں نہیں ، ہاں میری مغفرت کی وسعت کی بدولت ہی تو اپنے اس مقام کو پہنچا ہے ، وہ اسی اثنا میں ہوں گے تو بادل کا ایک ٹکڑا اوپر سے انہیں ڈھانپ لے گا ، وہ ان پر خوشگوار بارش برسائے گا ، اور انہوں نے اس جیسی خوشبو کسی چیز میں نہیں پائی ہو گی ، ہمارا رب فرمائے گا : میں نے تمہارے اعزاز و اکرام کی خاطر جو تیار کر رکھا ہے ، تم اس کا قصد کرو اور (وہاں سے) جو تم چاہو ، وہ لے لو ، ہم ایک بازار میں جائیں گے ، اسے فرشتوں نے گھیر رکھا ہو گا ، اس میں ایسی ایسی چیزیں ہوں گی جسے آنکھوں نے دیکھا ہو گا نہ کانوں نے سنا ہو گا اور نہ ہی دلوں میں اس کا خیال آیا ہو گا ، ہم جو چاہیں گے وہ ہمارے لیے لایا جائے گا ، وہاں خرید و فٖروخت نہیں ہو گی ، اور اس بازار میں ، جنت والے ایک دوسرے کو ملیں گے ۔‘‘ فرمایا :’’ بلند منزلوں والا آدمی توجہ کرے گا تو وہ اپنے سے کم تر سے ، حالانکہ ان میں سے کوئی بھی کم تر نہیں ، ملاقات کرے گا تو وہ اس کے لباس کو دیکھے گا تو وہ اسے تعجب میں ڈال دے گا ، اس کی بات ختم نہیں ہو گی حتی کہ اسے خیال آئے گا کہ اس پر جو (لباس) ہے وہ اس (لباس) سے بہتر ہے ، اور یہ اس لیے ہے کہ کسی کے لیے مناسب نہیں کہ وہ اس (جنت) میں غمگین ہو ، پھر ہم اپنے گھروں کو واپس آئیں گے تو ہماری ازواج ہم سے ملاقات کریں گی تو وہ کہیں گی : خوش آمدید ، جب تم ہمارے پاس سے گئے تھے ، تو اب جبکہ تم ہمارے پاس آئے ہو ، اس سے زیادہ خوبصورت ہو ، ہم کہیں گے : آج ہم نے اپنے رب جبار کی ہم نشینی اختیار کی تو ہم پر لازم تھا کہ ہم اسی حالت میں واپس آتے جس حالت میں ہم واپس آئے ہیں ۔‘‘ ترمذی ، ابن ماجہ ، اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ ۔
ابوسعید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جنت والوں میں سے ادنی ٰ درجے والا وہ ہو گا جس کے اسی ہزار خادم اور بہتّر بیویاں ہوں گی ، اور اس کے جابیہ سے صنعاء کی درمیانی مسافت جتنا ، جواہرات ، زمرد اور یاقوت سے ایک خیمہ نصب کیا جائے گا ۔‘‘ اور اسی سند کے ساتھ ہے ، فرمایا :’’ جنت والوں میں سے (دنیا میں) جو کوئی چھوٹا یا کوئی بڑا فوت ہو جاتا ہے وہ سب جنت میں تیس برس کے ہوں گے ، ان کی عمر اس سے کبھی زیادہ نہیں ہو گی ، اور جہنم والے بھی اس طرح (تیس سال کے) ہوں گے ۔‘‘ اور اسی سند کے ساتھ فرمایا :’’ ان (جنت والوں کے سروں) پر تاج ہوں گے ، ان کا ادنی سا موتی مشرق و مغرب کے درمیان کو روشن کر دے گا ۔‘‘ اور اسی سند سے مروی ہے ، فرمایا :’’ مومن جب جنت میں بچے کی خواہش کرے گا تو اس کا حمل ہونا ، اس کی ولادت ہونا اور اس کی عمر (پوری) ہونا ایک گھڑی میں ہو جائے گا جس طرح وہ چاہے گا ۔‘‘ اور اسحاق بن ابراہیم ؒ نے اس حدیث (کے بیان) میں فرمایا : جب مومن جنت میں بچے کی خواہش کرے گا تو وہ ایک گھڑی میں ہو جائے گا لیکن وہ اس کی خواہش ہی نہیں کرے گا ۔‘‘ امام ترمذی ؒ نے فرمایا :’’ یہ حدیث غریب ہے ، امام ابن ماجہ نے چوتھا فقرہ روایت کیا ، جبکہ امام دارمی نے آخری ۔ حسن ، رواہ الترمذی ۔
علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جنت میں حورِعین کے لیے ایک اجتماع گاہ ہے جہاں وہ آوازیں بلند کریں گی جو مخلوق نے نہیں سنی ہوں گی ، وہ کہیں گی : ہم دائمی ہیں ، ہم ہلاک نہیں ہوں گی ، ہم تو عیش کرنے والیاں ہیں ، ہم محتاج نہیں ہوں گی ، اور ہم خوش رہنے والیاں ہیں ، ہم ناراض نہیں ہوں گی ، اس شخص کے لیے خوش خبری ہو جو ہمارے لیے ہے اور ہم اس کے لیے ہیں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
حکیم بن معاویہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جنت میں پانی کا دریا ہے ، شہد کا دریا ہے ، دودھ کا دریا ہے ، اور شراب کا دریا ہے ، پھر (جنت والوں کے جنت میں داخل ہونے کے) بعد نہریں نکلیں گی ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی ۔
رَوَاهُ الدَّارمِيّ عَن مُعَاوِيَة
اور امام دارمی نے اسے معاویہ ؓ سے روایت کیا ہے ۔ حسن ، رواہ الدارمی ۔