ابوسعید ؓ ، رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ آدمی جنت میں ، (اپنی خاص) جنت میں کروٹ بدلنے سے پہلے ستر تکیوں پر ٹیک لگائے گا ، پھر ایک عورت اس کے پاس آئے گی ، اور اس کے کندھے کو تھپتھپائے گی ، وہ اس کے رخسار میں اپنا چہرہ دیکھے گا ، وہ (رخسار) آئینے سے زیادہ صاف ہو گا ، اور اس (عورت) پر ادنی موتی مشرق و مغرب کے درمیانی فاصلے کو روشن کر دے ، وہ اس کو سلام کرے گی تو وہ اسے سلام کا جواب دے گا ، اور وہ اس سے پوچھے گا : تو کون ہے ؟ وہ کہے گی : میں ’’مزید‘‘ کے ضمن سے ہوں ، اس پر ستر لباس ہوں گے ، اس کی نظر ان (ستر لباسوں) سے گزر جائے گی حتی کہ ان کے پیچھے اس کی پنڈلی کا گودا دیکھ لے گا ، اور اس پر ایک تاج ہو گا اور اس کے جواہرات میں سے ادنی ہیرا مشرق و مغرب کو روشن کر دے ۔‘‘ حسن ، رواہ احمد ۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ بات کر رہے تھے ، اس وقت آپ کے پاس ایک اعرابی تھا کہ جنت والوں میں سے ایک آدمی نے اپنے رب سے کاشتکاری کے متعلق اجازت طلب کی تو اس نے اس سے فرمایا : کیا تجھے من پسند چیزیں میسر نہیں ؟ اس نے عرض کیا ، کیوں نہیں ، میسر ہیں ، لیکن میں چاہتا ہوں کہ میں کاشتکاری کروں ، اس نے بیج گرایا تو پل بھر میں وہ اگ آیا ، برابر ہو گیا اور کٹ بھی گیا ، اور وہ (غلے کے ڈھیر) پہاڑوں کی طرح تھے ، اللہ تعالیٰ فرمائے گا : ابن آدم ! اسے لے لو ، کیونکہ کوئی چیز تیرا پیٹ نہیں بھر سکتی ۔‘‘ اس اعرابی نے عرض کیا ، اللہ کی قسم ! وہ قریشی یا انصاری ہو گا کیونکہ وہ کاشتکار ہیں ، اور رہے ہم ، تو ہم کاشتکار نہیں ، رسول اللہ ﷺ ہنس دیے ۔ رواہ البخاری ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے مسئلہ دریافت کیا ، کیا جنت والے سوئیں گے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ نیند ، موت کی بہن ہے اور جنت والے مریں گے نہیں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔