مشکوۃ

Mishkat

قیامت کے احوال اور دوبارہ اٹھائے جانے کا بیان

مخلوق کی ابتدا اور انبیا علیھم السلام کے ذکر کا بیان

(بَاب بدءالخلق وَذِكْرِ الْأَنْبِيَاءِ عَلَيْهِمُ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ)

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَيْسَ الْخَبَرُ كَالْمُعَايَنَةِ إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى أَخْبَرَ مُوسَى بِمَا صَنَعَ قَوْمُهُ فِي الْعِجْلِ فَلَمْ يُلْقِ الْأَلْوَاحَ فَلَمَّا عَايَنَ مَا صَنَعُوا أَلْقَى الْأَلْوَاحَ فَانْكَسَرَتْ. رَوَى الْأَحَادِيث الثَّلَاثَة أَحْمد

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ خبر ، مشاہدے کی طرح نہیں ہوتی ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے موسی ؑ کو ان کی قوم کے بچھڑے کو معبود بنانے کے متعلق بتایا تو انہوں نے الواح (تختیاں) نہیں پھینکیں ، جب انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا جو انہوں نے کیا تھا ، تو انہوں نے تختیاں پھینک دیں اور وہ ٹوٹ گئیں ۔‘‘ تینوں (بلکہ چاروں) احادیث کو امام احمد ؒ نے نقل کیا ہے ۔ صحیح ، رواہ احمد ۔