ابوہریرہ ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ داؤد ؑ پر زبور کی قراءت آسان کر دی گئی تھی ، وہ اپنی سواریوں پر زین کسنے کا حکم فرماتے اور وہ سواریوں پر زین کسے جانے سے پہلے ہی اس (زبور) کی قراءت مکمل کر لیتے تھے ، اور وہ صرف اپنے ہاتھوں کی کمائی کھاتے تھے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
ابوہریرہ ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ دو عورتیں تھیں ان کے ساتھ ان کے بیٹے بھی تھے ، بھیڑیا آیا اور وہ ان میں سے ایک کے بیٹے کو لے گیا ، ایک نے اپنی ساتھ والی سے کہا : وہ تو تیرے بیٹے کو لے کر گیا ہے ، اور دوسری نے کہا : (نہیں) وہ تیرے بیٹے کو لے کر گیا ہے ، چنانچہ وہ دونوں داؤد ؑ کے پاس مقدمہ لے گئیں تو انہوں نے بڑی کے حق میں فیصلہ کر دیا ، پھر وہ دونوں سلیمان بن داؤد ؑ کے پاس سے گزریں اور انہوں نے پورا واقعہ بیان کیا تو انہوں نے فرمایا : مجھے چھری دو میں اسے ٹکڑے کر کے تم دونوں کے درمیان تقسیم کر دیتا ہوں ، چھوٹی نے کہا : اللہ آپ پر رحم فرمائے ، ایسے نہ کریں وہ اسی کا بیٹا ہے ، انہوں نے اس کے متعلق چھوٹی کے حق میں فیصلہ کر دیا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ سلیمان ؑ نے فرمایا : آج رات میں اپنی نوے بیگمات اور ایک دوسری روایت میں ہے ، سو بیگمات کے پاس جاؤں گا ، وہ سب اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے گھڑ سوار بچوں کو جنم دیں گی ۔ فرشتے نے انہیں کہا : ان شاء اللہ (اگر اللہ نے چاہا) کہو ، انہوں نے نہ کہا اور (یہ کہنا) بھول گئے ، وہ ان کے پاس گئے (ان کے ساتھ جماع کیا) اور ان میں سے صرف ایک حاملہ ہوئی ، اور اس نے بھی ناقص بچے کو جنم دیا ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد (ﷺ) کی جان ہے ! اگر وہ ان شاء اللہ کہہ دیتے تو وہ سارے اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے گھڑ سوار ہوتے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ زکریا ؑ بڑھئی تھے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میں عیسیٰ بن مریم ؑ سے دنیا و آخرت میں اور لوگوں کی نسبت زیادہ قرابت دار ہوں ، انبیا ؑ علاتی (ایک باپ کی اولاد) بھائی ہیں ، ان کی مائیں الگ الگ ہیں ، جبکہ ان کا دین ایک ہے ، اور ہمارے (میرے اور عیسیٰ ؑ) کے درمیان کوئی نبی نہیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ عیسیٰ بن مریم ؑ کے علاوہ ، شیطان ہر نومولود کو اس کی پیدائش کے وقت اپنی دو انگلیوں سے اس کے پہلو میں کچوکے لگاتا ہے ۔ وہ انہیں بھی کچوکے لگانے گیا تھا ، لیکن اس نے حجاب میں کچوکے لگا دیے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابوموسی ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ مردوں میں سے تو بہت سے کامل ہوئے لیکن عورتوں میں سے مریم بنت عمران اور آسیہ زوجہ فرعون کمال کو پہنچیں ، اور عائشہ ؓ کو تمام عورتوں پر ایسے ہی برتری حاصل ہے جیسے ثرید کو تمام کھانوں پر فضیلت حاصل ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔ اور انس ؓ سے مروی حدیث : ((یا خیر البریۃ)) ، ابوہریرہ ؓ سے مروی حدیث : ((أی الناس اکرم)) اور ابن عمر ؓ سے مروی حدیث : ((الکریم ابن الکریم)) باب المفاخرۃ و العصیۃ میں ذکر کی گئی ہے ۔
ابورزین ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! جب رب تعالیٰ نے اپنی مخلوق کو پیدا فرمایا تو اس سے پہلے وہ کہاں تھا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ابر میں ، اس کے نیچے ہوا تھی اور اس کے اوپر ہوا تھی ، اور اس نے اپنا عرش پانی پر تخلیق فرمایا ۔‘‘ ترمذی ، اور فرمایا : یزید بن ہارون نے کہا : عماء سے مراد ہے اس کے ساتھ کوئی چیز نہیں تھی ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔
عباس بن عبد المطلب ؓ سے روایت ہے ، انہوں نے نقل کیا کہ وہ بطحا میں ایک جماعت کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے ، اور رسول اللہ ﷺ ان میں تشریف فرما تھے ، اتنے میں بادل کا ایک ٹکڑا گزرا تو انہوں نے اس کی طرف دیکھا ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تم اسے کیا نام دیتے ہو ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا :’’ السحاب ‘‘، فرمایا :’’ المزن ‘‘، انہوں نے عرض کیا :’’ المزن ‘‘ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ العنان ‘‘ انہوں نے عرض کیا :’’ العنان ‘‘ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا تم جانتے ہو کہ آسمان اور زمین کے درمیان کتنی مسافت ہے ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : ہم نہیں جانتے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ان دونوں کے درمیان یا تو اکہتر یا بہتر یا تہتر سال کی مسافت ہے ، اور آسمان جو اس کے اوپر ہے اسی طرح ہے ۔‘‘ حتی کہ آپ ﷺ نے ساتوں آسمان گنے ۔‘‘ پھر ساتویں آسمان کے اوپر ایک سمندر ہے ، اوپر والے اور نچلے حصے کے درمیان اتنی ہی مسافت ہے ، جیسے آسمان سے دوسرے آسمان تک ، پھر اس کے اوپر آٹھ فرشتے ہیں جو پہاڑی بکروں کی شکل کے ہیں ، ان کے کھروں اور سرین کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا آسمان سے آسمان تک ہے ، پھر ان کی پشتوں پر عرش ہے ، اس کے نچلے اور اوپر والے حصے کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا آسمان سے دوسرے آسمان کے درمیان فاصلہ ہے ۔ پھر اس کے اوپر اللہ ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔
جبیر بن مطعم ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک اعرابی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا تو اس نے عرض کیا جانیں مشقت میں پڑ گئیں ، بال بچے بھوک کا شکار ہو گئے ، اموال ختم ہو گئے اور جانور ہلاک ہو گئے ، آپ اللہ سے ہمارے لیے بارش کی دعا فرمائیں ، ہم آپ کے ذریعے اللہ سے سفارش کرتے ہیں اور اللہ کے ذریعے آپ سے سفارش کرتے ہیں ، نبی ﷺ نے فرمایا :’’ سبحان اللہ ! سبحان اللہ !‘‘ آپ مسلسل تسبیح بیان کرتے رہے حتی کہ یہ چیز آپ کے صحابہ کے چہروں سے معلوم ہونے لگی ، پھر آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تجھ پر افسوس ہے ، کسی پر اللہ کو سفارشی نہیں بنایا جاتا ، اللہ کی شان اس سے عظیم تر ہے ، تجھ پر افسوس ہے ، کیا تم جانتے ہو ، اللہ (کی عظمت و کبریائی) کیا ہے ؟ بے شک اس کا عرش اس کے آسمانوں پر اس طرح ہے ۔‘‘ اور آپ ﷺ نے اپنی انگلیوں سے اشارہ فرمایا جیسے اس پر قبہ ہو ۔‘‘ وہ اس وجہ سے اس طرح آواز نکالتا ہے جس طرح سوار کی وجہ سے پالان آواز نکالتا ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
جابر بن عبداللہ ؓ ، رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ مجھے اجازت دی گئی کہ میں اللہ کے فرشتوں میں سے ایک فرشتے کا ذکر کروں جو حاملین عرش میں سے ہے ، اس کے کانوں کی لو اور اس کے کندھوں کے درمیان سات سو سال کی مسافت ہے ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
زرارہ بن اوفی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جبریل ؑ سے پوچھا :’’ کیا تم نے اپنے رب کو دیکھا ہے ؟‘‘ (اس سوال سے) جبریل ؑ لرز گئے اور فرمایا : محمد ! میرے اور اس کے درمیان نور کے ستر پردے ہیں ، اگر میں ان میں سے کسی کے قریب چلا جاؤں تو میں جل جاؤں ۔‘‘ المصابیح میں اس طرح ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ فی مصابیح السنہ ۔
وَرَوَاهُ أَبُو نُعَيْمٍ فِي «الْحِلْيَةِ» عَنْ أَنَسٍ إِلَّا أَنه لم يذكر: «فانتفض جِبْرِيل»
ابونعیم نے اسے حلیہ میں انس ؓ سے روایت کیا ہے ، البتہ انہوں نے ذکر نہیں کیا :’’ جبریل ؑ لرز گئے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابونعیم فی حلیہ الاولیاء ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ نے اسرافیل ؑ کو پیدا فرمایا ، اس نے جس روز سے اسے پیدا فرمایا وہ اس وقت سے اپنے قدموں پر کھڑا ہے اور وہ اپنی نظر تک نہیں اٹھاتا ، اس کے اور اس کے رب تبارک و تعالیٰ کے درمیان ستر نور ہیں ، جو اس نور کے قریب جاتا ہے تو وہ جل جاتا ہے ۔‘‘ ترمذی ، اور انہوں نے اسے صحیح قرار دیا ہے ۔ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ جب اللہ تعالیٰ نے آدم ؑ اور اس کی اولاد کو پیدا فرمایا تو فرشتوں نے عرض کیا ، رب جی ! تو نے انہیں پیدا فرمایا ہے ، وہ کھاتے پیتے ، شادیاں کرتے اور سواری کرتے ہیں ، اور تو ان کے لیے دنیا مقرر کر دے اور ہمارے لیے آخرت مقرر فرما دے ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : میں اس (مخلوق) کو ، جسے میں نے اپنے ہاتھوں سے تخلیق کیا اور اس میں اپنی روح پھونکی ، اسے میں اس مخلوق کے برابر نہیں کروں گا جسے میں نے کہا بن جا اور وہ بن گئی ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ مومن اللہ کے ہاں بعض فرشتوں سے بھی زیادہ معزز ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ ابن ماجہ ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑ کر فرمایا :’’ اللہ نے مٹی (زمین) کو ہفتے کے دن پیدا فرمایا ، اتوار کے روز اس میں پہاڑ پیدا فرمائے ، پیر کے دن درخت پیدا فرمائے ، مکروہ چیزیں منگل کے دن پیدا فرمائیں ، بدھ کے روز نور پیدا فرمایا ، جمعرات کے روز اس میں چوپائے پھیلائے اور آدم ؑ کو جمعہ کے دن عصر کے بعد مخلوق میں سب سے آخر پر پیدا فرمایا ، اور دن کی آخری گھڑی عصر اور شام کے درمیان ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، اس اثنا میں کہ نبی ﷺ اور آپ کے صحابہ بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک بادل آیا تو اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا :’’ کیا تم جانتے ہو کہ یہ کیا ہے ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا ، اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ یہ عنان ہے ، یہ زمین کو سیراب کرنے والا ہے ، اللہ اس کو اس قوم کی طرف ہانک کر لے جاتا ہے جو نہ تو اس کا شکر ادا کرتے ہیں اور نہ اس سے دعا کرتے ہیں ۔‘‘ پھر فرمایا :’’ کیا تم جانتے ہو تمہارے اوپر کیا ہے ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا ، اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ رقیع (آسمان کا نام) ایک محفوظ چھت اور تھمی ہوئی موج ہے ۔‘‘ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا تم جانتے ہو کہ تمہارے اور اس کے درمیان کتنا فاصلہ ہے ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں ، فرمایا :’’ تمہارے اور اس کے درمیان پانچ سو سال کی مسافت ہے ۔‘‘ پھر فرمایا :’’ کیا تم جانتے ہو کہ اس کے اوپر کیا ہے ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا ، اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں ، فرمایا :’’ آسمان اور ان دونوں کے درمیان پانچ سو سال کی مسافت ہے ۔‘‘ راوی بیان کرتا ہے کہ پھر آپ ﷺ نے اسی طرح فرمایا حتی کہ آپ نے سات آسمان گنے ۔’’ اور ہر دو آسمان کے درمیان اتنی ہی مسافت ہے جتنی آسمان اور زمین کے درمیان ہے ۔‘‘ پھر فرمایا :’’ کیا تم جانتے ہو اس کے اوپر کیا ہے ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا ، اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اس کے اوپر عرش ہے ، اس کے اور آسمان کے درمیان اتنی ہی مسافت ہے جتنی دو آسمانوں کے درمیان ہے ۔‘‘ پھر فرمایا :’’ کیا تم جانتے ہو کہ تمہارے نیچے کیا ہے ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا ، اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں ، فرمایا :’’ وہ زمین ہے ۔‘‘ پھر فرمایا :’’ کیا تم جانتے ہو اس کے نیچے کیا ہے ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں ، فرمایا :’’ اس کے نیچے ایک دوسری زمین ہے ، ان دونوں کے درمیان پانچ سو سال کی مسافت ہے ۔‘‘ حتی کہ آپ ﷺ نے سات زمینیں شمار کیں ۔’’ اور ہر دو زمینوں کے درمیان پانچ سو سال کی مسافت ہے ۔‘‘ پھر فرمایا :’’ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد (ﷺ) کی جان ہے ! اگر تم نچلی زمین کی طرف رسی لٹکاؤ تو وہ اللہ کے علم میں ہے ۔‘‘ پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت کی :’’ وہی اول ، وہی آخر ، وہی ظاہر ، وہی باطن ہے اور وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے ۔‘‘ اور امام ترمذی نے فرمایا : رسول اللہ ﷺ کی قراءتِ آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ آپ ﷺ نے ارادہ فرمایا کہ وہ اللہ کے علم ، اس کی قدرت اور اس کی بادشاہت میں گرتی ہے ، اور اللہ کا علم و قدرت اور اس کی بادشاہت ہر جگہ پر ہے جبکہ وہ عرش پر (مستوی) ہے ، جیسا کہ اس نے اپنے متعلق اپنی کتاب میں بیان فرمایا ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد و الترمذی ۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ آدم ؑ کا طول ساٹھ ہاتھ اور عرض سات ہاتھ تھا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد ۔
ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! سب سے پہلے نبی کون تھے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ آدم ؑ ۔‘‘ میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! کیا وہ نبی تھے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ہاں ، ایسے نبی تھے جن پر صحیفہ نازل کیا گیا تھا ۔‘‘ میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! رسول کتنے تھے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تین سو اور دس سے کچھ اوپر کا جم غفیر تھا ۔‘‘ اور ابوامامہ ؓ کی روایت میں ہے ، ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! انبیا ؑ کی کل تعداد کتنی ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ایک لاکھ چوبیس ہزار ، ان میں سے رسولوں کی تعداد تین سو پندرہ ایک جم غفیر ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد ۔