عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، غزوۂ حنین کے موقع پر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھا ، جب مسلمانوں اور کافروں کا آمنا سامنا ہوا تو کچھ مسلمان بھاگ کھڑے ہوئے جبکہ رسول اللہ ﷺ اپنے خچر کو کفار کی طرف بھگا رہے تھے اور میں رسول اللہ ﷺ کے خچر کی لگام تھامے ہوئے تھا ، میں اس (خچر) کو روک رہا تھا کہ وہ تیز نہ دوڑے جبکہ ابوسفیان بن حارث رسول اللہ ﷺ کی رکاب تھامے ہوئے تھے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ عباس ! درخت (کے نیچے بیعت رضوان کرنے) والوں کو آواز دو ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، عباس ؓ کی آواز بلند تھی ، وہ بیان کرتے ہیں ، میں نے اپنی بلند آواز سے کہا : درخت (کے نیچے بیت کرنے) والے کہاں ہیں ؟ وہ بیان کرتے ہیں ، اللہ کی قسم ! جب انہوں نے میری آواز سنی تو وہ اس طرح واپس آئے جس طرح گائے اپنی اولاد کے پاس آتی ہے ، انہوں نے عرض کیا ، ہم حاضر ہیں ! ہم حاضر ہیں ! راوی بیان کرتے ہیں ، انہوں نے کفار سے قتال کیا اس روز انصار کا نعرہ یا انصار تھا ، راوی بیان کرتے ہیں ، پھر یہ نعرہ بنو حارث بن خزرج تک محدود ہو کر رہ گیا ، رسول اللہ ﷺ نے اپنے خچر پر سے میدانِ جنگ کی طرف دیکھا تو فرمایا :’’ اب میدانِ جنگ گرم ہو گیا ہے ۔‘‘ پھر آپ نے کنکریاں پکڑیں اور انہیں کافروں کے چہروں پر پھینکا ، پھر فرمایا :’’ محمد کے رب کی قسم ! وہ شکست خوردہ ہیں ۔‘‘ اللہ کی قسم ! ان کی طرف کنکریاں پھینکنا ہی ان کی شکست کا باعث تھا ، میں ان کی حدت ، ان کی لڑائی اور ان کی تلواروں کو کمزور ہی دیکھتا رہا ، اور ان کے معاملے کو ذلیل ہی دیکھتا رہا ۔ رواہ مسلم ۔
ابو اسحاق بیان کرتے ہیں ، کسی آدمی نے براء ؓ سے کہا : ابو عمارہ ! غزوۂ حنین کے موقع پر تم لوگ بھاگ گئے تھے ؟ انہوں نے کہا : نہیں ، اللہ کی قسم ! رسول اللہ ﷺ نہیں پھرے تھے ، لیکن آپ کے صحابہ میں سے کچھ نوجوان ، جن کے پاس زیادہ اسلحہ نہیں تھا ، ان کا سامنا ایسے ماہر تیر اندازوں سے ہوا ، جن کا کوئی تیر خطا نہیں جاتا تھا ، انہوں نے ان پر تیر برسائے ، وہ رسول اللہ ﷺ کی طرف آئے ۔ اس وقت رسول اللہ ﷺ اپنے سفید خچر پر سوار تھے ، اور ابوسفیان بن حارث آپ کے آگے تھے ، آپ خچر سے نیچے اترے اور اللہ سے مدد طلب کی ، اور آپ ﷺ اس وقت فرما رہے تھے :’’ میں نبی ہوں یہ جھوٹ نہیں ، میں عبد المطلب کا بیٹا ہوں ۔‘‘ پھر آپ نے ان کی صف بندی فرمائی ۔ رواہ مسلم ۔
اور صحیح بخاری میں اسی کے ہم معنی ہے ۔ اور صحیحین کی روایت میں ہے ، براء ؓ بیان کرتے ہیں : اللہ کی قسم ! جب لڑائی شدت اختیار کر جاتی تو ہم آپ کے ذریعے بچاؤ کرتے تھے اور ہم میں سے سب سے زیادہ شجاع وہ تھا جو (میدانِ جنگ میں) نبی ﷺ کے برابر رہتا ۔ متفق علیہ ۔
سلمہ بن اکوع ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم غزوۂ حنین میں رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ تھے ، رسول اللہ ﷺ کے چند صحابہ ؓ پیٹھ پھیر گئے ، جب وہ (کافر) رسول اللہ ﷺ پر حملہ آور ہوئے تو آپ خچر سے نیچے اترے اور زمین سے مٹی کی مٹھی بھری ، پھر اسے ان کے چہروں کی طرف پھینکتے ہوئے فرمایا :’’ (ان کے) چہرے جھلس جائیں ۔‘‘ اس مٹھی سے ان تمام انسانوں (کافروں) کی آنکھیں مٹی سے بھر گئیں اور وہ پیٹھ پھیر کر بھاگ گئے ، اللہ نے انہیں شکست سے دوچار کر دیا اور رسول اللہ ﷺ نے ان سے حاصل ہونے والا مال غنیمت مسلمانوں میں تقسیم فرمایا ۔ رواہ مسلم ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، غزوۂ حنین میں ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ شریک تھے ، رسول اللہ ﷺ نے ایک ایسے شخص کے بارے میں ، جو آپ کے ساتھ تھا اور مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتا تھا ، فرمایا :’’ یہ جہنمیوں میں سے ہے ۔‘‘ جب لڑائی شروع ہوئی تو وہ شخص بہت جرأت کے ساتھ لڑا اور بہت زیادہ زخمی ہو گیا ، ایک آدمی آیا اور اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! مجھے بتائیں کہ آپ نے جس شخص کے بارے میں فرمایا تھا کہ وہ جہنمیوں میں سے ہے اس نے تو اللہ کی راہ میں بہت جرأت کے ساتھ لڑائی لڑی ہے اور اس نے بہت زیادہ زخم کھائے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ سن لو ! وہ جہنمیوں میں سے ہے ۔‘‘ قریب تھا کہ بعض لوگ شک و شبہ کا شکار ہو جاتے ، وہ آدمی ابھی اسی کشمکش میں تھا کہ اس آدمی نے زخموں کی تکلیف محسوس کی اور اپنے ترکش کی طرف ہاتھ بڑھا کر ایک تیر نکالا اور اسے اپنے سینے میں پیوست کر لیا ، مسلمان یہ منظر دیکھ کر دوڑتے ہوئے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئے اور عرض کیا اللہ کے رسول ! اللہ نے آپ کی بات سچ کر دکھائی ، فلاں شخص نے اپنے سینے میں تیر پیوست کر کے خودکشی کر لی ہے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ اکبر ! میں گواہی دیتا ہوں کہ میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں ، بلال ! کھڑے ہو کر اعلان کر دو کہ جنت میں صرف مومن ہی جائیں گے ، بے شک اللہ اپنے دین کی مدد فاجر شخص سے بھی لے لیتا ہے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ پر جادو کر دیا گیا حتیٰ کہ آپ کو خیال گزرتا کہ آپ نے کوئی کام کر لیا ہے حالانکہ آپ نے اسے نہیں کیا ہوتا تھا ، حتیٰ کہ ایک روز آپ میرے ہاں تشریف فرما تھے ، آپ اللہ سے بار بار دعا کر رہے تھے ، پھر فرمایا :’’ عائشہ ! کیا تمہیں معلوم ہے کہ میں نے جس چیز کے بارے میں اللہ سے سوال کیا تھا اس نے وہ چیز مجھے دے دی ہے : دو آدمی میرے پاس آئے ، ان میں سے ایک میرے سرہانے بیٹھ گیا اور دوسرا میرے پاؤں کے پاس پھر ان میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا : انہیں کیا تکلیف ہے ؟ اس نے کہا : ان پر جادو کیا گیا ہے ، اس نے پوچھا : ان پر کس نے جادو کیا ہے ؟ اس نے کہا : لبید بن الاعصم یہودی نے ، اس نے کہا : کس چیز میں ؟ اس نے کہا : کنگھے اور بالوں میں اور نر کھجور کے خوشے میں ہے ، اس نے پوچھا : وہ کہاں ہے ؟ اس نے کہا : ذروان کے کنویں میں ۔‘‘ چنانچہ نبی ﷺ اپنے چند صحابہ ؓ کے ساتھ اس کنویں پر تشریف لے گئے اور فرمایا :’’ یہ وہ کنواں ہے جو مجھے دکھایا گیا ہے ، اور اس کا پانی مہندی کے عرق جیسا ہے اور اس کے کھجور کے درخت شیاطین کے سروں جیسے ہیں ۔‘‘ پس آپ ﷺ نے اسے نکلوا دیا ۔ متفق علیہ ۔
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر تھے اور رسول اللہ ﷺ مال غنیمت تقسیم فرما رہے تھے ، اتنے میں بنو تمیم قبیلے سے ذوالخویصرہ نامی شخص آیا اور اس نے کہا : اللہ کے رسول ! انصاف کریں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تجھ پر افسوس ! اگر میں عدل نہیں کروں گا تو پھر اور کون عدل کرے گا ، اگر میں عدل نہ کروں تو میں بھی خائب و خاسر ہو جاؤں ۔‘‘ عمر ؓ نے عرض کیا ، مجھے اجازت فرمائیں کہ میں اس کی گردن مار دوں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اسے چھوڑ دو کہ اس کے کچھ ساتھی ہوں گے تم میں سے کوئی اپنی نماز کو ان کی نماز کے مقابلے میں ، اپنے روزے ان کے روزوں کے مقابلے میں معمولی سمجھے گا ، وہ قرآن پڑھیں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا ، وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار سے پار ہو جاتا ہے ، اس (تیر) کے پیکان ، اس کے پٹھے پر جو کہ پیکان پر لپیٹا جاتا ہے اور تیر کے اس حصے کو جو کہ پر اور پیکان کے درمیان ہوتا ہے کو دیکھا جائے تو اس پر کوئی نشان نظر نہیں آئے گا ، حالانکہ وہ (تیر) گوبر اور خون میں سے گزرتا ہے ، ان کی نشانی یہ ہے کہ ایک سیاہ فام شخص ہے اس کا ایک بازو عورت کے پستان کی طرح (اٹھا ہوا) ہو گا یا ہلتے ہوئے گوشت کے ٹکڑے کی طرح ہو گا ، اور وہ لوگوں کے بہترین گروہ کے خلاف بغاوت کریں گے ۔‘‘ ابوسعید ؓ نے فرمایا : میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے یہ حدیث رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے ، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ علی بن ابی طالب ؓ نے ان سے لڑائی لڑی ہے اور میں علی ؓ کے ساتھ تھا ، اس شخص کے متعلق حکم دیا گیا تو اسے تلاش کیا گیا اور اسے لایا گیا حتیٰ کہ میں نے اسے دیکھا تو اس کا پورا حلیہ بالکل اسی طرح تھا جس طرح نبی ﷺ نے اس کا حلیہ بیان کیا تھا ۔ ایک دوسری روایت میں ہے ، ایک آدمی آیا ، اس کی آنکھیں دھنسی ہوئی تھیں ، پیشانی ابھری ہوئی تھی ، داڑھی گھنی تھی ، گالیں پھولی ہوئی تھیں ، سر منڈا ہوا تھا ، اس نے کہا ، محمد ! اللہ سے ڈر جائیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اگر میں اللہ کی نافرمانی کروں گا تو پھر اور کون اس سے ڈرے گا ، اللہ نے زمین والوں پر مجھے امین بنا کر بھیجا ہے جبکہ تم مجھے امین نہیں سمجھتے ہو ۔‘‘ ایک آدمی نے اسے قتل کرنے کی درخواست کی تو آپ ﷺ نے اسے روک دیا ، جب وہ واپس گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اس شخص کے نسب سے کچھ ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو قرآن پڑھیں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا ، وہ اسلام سے اس طرح خارج ہو جائیں گے جس طرح تیر شکار سے پار ہو جاتا ہے ، وہ اہل اسلام کو قتل کریں گے اور بت پرستوں کو چھوڑ دیں گے ، اگر میں نے انہیں پا لیا تو میں انہیں قوم عاد کی طرح قتل کروں گا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں اپنی مشرکہ والدہ کو اسلام کی دعوت پیش کرتا تھا ، ایک روز میں نے اسے دعوت پیش کی تو اس نے رسول اللہ ﷺ کی شان میں کچھ ایسے الفاظ کہے جو مجھے ناگوار گزرے ، میں روتا ہوا رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا ، اللہ کے رسول ! اللہ سے دعا فرمائیں کہ وہ ابوہریرہ کی والدہ کو ہدایت نصیب فرما دے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اے اللہ ! ابوہریرہ کی والدہ کو ہدایت عطا فرما ۔‘‘ میں نبی ﷺ کی دعا پر خوش ہوتا ہوا وہاں سے چلا ، جب میں دروازے پر پہنچا تو وہ بند تھا ، میری والدہ نے میرے قدموں کی آہٹ سن کر فرمایا : ابوہریرہ ! اپنی جگہ پر ٹھہر جاؤ ، میں نے پانی گرنے کی آواز سن لی تھی ، انہوں نے غسل کیا ، اپنی قمیص پہنی ، اور عجلت میں چادر بھی نہ لی اور دروازہ کھول کر فرمایا : ابوہریرہ ! میں گواہی دیتی ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، اور میں گواہی دیتی ہوں کہ محمد (ﷺ) اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں ، میں خوشی کے آنسو بہاتا ہوا رسول اللہ ﷺ کے پاس واپس آیا ، آپ ﷺ نے اللہ کا شکر ادا کیا اور دعائے خیر فرمائی ۔ رواہ مسلم ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، تم لوگ کہتے ہو کہ ابوہریرہ ، نبی ﷺ سے بہت زیادہ احادیث بیان کرتا ہے ۔ اللہ کی قسم ! ایک دن اللہ کے پاس جانا ہے ، میرے مہاجر بھائی بازاروں میں خرید و فروخت میں مشغول رہا کرتے تھے اور میرے انصار بھائی اپنے اموال (کھیتوں اور باغات) میں مشغول رہا کرتے تھے ، میں ایک مسکین آدمی تھا ، میں اپنا پیٹ بھرنے کے بعد پھر رسول اللہ ﷺ کے ساتھ رہتا ، ایک روز نبی ﷺ نے فرمایا :’’ تم میں سے جو شخص میری اس گفتگو کے پورا ہونے تک کپڑا بچھائے رکھے گا ، پھر اسے اپنے سینے کے ساتھ لگا لے گا تو وہ میرے فرامین میں سے کچھ بھی نہیں بھولے گا ۔‘‘ میں نے دھاری دار چادر بچھا دی اس کے علاوہ میرے پاس کوئی اور کپڑا نہیں رہتا تھا ، نبی ﷺ نے جب اپنی گفتگو مکمل فرمائی ، تو میں نے چادر کو اپنے سینے کے ساتھ لگا لیا ، اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ! میں اس روز سے آج تک آپ ﷺ کے فرامین سے کچھ نہیں بھولا ۔ متفق علیہ ۔
جریر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے مجھے فرمایا :’’ کیا تم مجھے ذوالخلصہ (بت) سے آرام نہیں پہنچاتے ؟‘‘ میں نے عرض کیا ، کیوں نہیں ، ضرور ، لیکن میں گھوڑے کی سواری اچھی طرح نہیں کر پاتا تھا ، میں نے نبی ﷺ سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے اپنا ہاتھ میرے سینے پر مارا حتیٰ کہ میں نے آپ کے ہاتھ کے اثرات اپنے سینے میں محسوس کئے ، اور آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اے اللہ ! اس کو (گھوڑے کی پشت پر) ثبات عطا فرما ، اسے ہدایت کی راہ دکھانے والا اور ہدایت یافتہ بنا ۔‘‘ وہ بیان کرتے ہیں ، اس کے بعد میں اپنے گھوڑے سے نہیں گرا ، وہ احمس قبیلے کے ڈیڑھ سو گھڑ سواروں کے ساتھ روانہ ہوئے اور اسے آگ کے ساتھ جلا دیا اور اسے توڑ دیا ۔ متفق علیہ ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی ﷺ کے لیے (وحی) لکھا کرتا تھا ، وہ اسلام سے مرتد ہو کر مشرکین سے جا ملا تو نبی ﷺ نے فرمایا :’’ زمین اسے قبول نہیں کرے گی ۔‘‘ ابوطلحہ ؓ نے مجھے بتایا کہ وہ شخص جس جگہ فوت ہوا تھا وہ وہاں گئے تو انہوں نے اسے سطح زمین پر پڑا ہوا دیکھا تو پوچھا : اس کا کیا معاملہ ہے ؟ انہوں نے بتایا کہ ہم نے اسے کئی مرتبہ دفن کیا مگر زمین (قبر) اسے قبول نہیں کرتی ۔ متفق علیہ ۔
ابوایوب ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ باہر تشریف لائے اس وقت سورج غروب ہو چکا تھا ، آپ نے ایک آواز سنی تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ یہودیوں کو ان کی قبروں میں عذاب دیا جا رہا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ ایک سفر سے واپس تشریف لائے ، جب آ پ مدینہ کے قریب پہنچے تو ایسی تند ہوا چلی ، قریب تھا کہ وہ سوار کو چھپا دیتی ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ یہ ہوا کسی منافق کی موت کے وقت چلائی گئی ہے ۔‘‘ آپ مدینہ پہنچے تو منافقوں کا ایک بڑا آدمی فوت ہو چکا تھا ۔ رواہ مسلم ۔
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم نبی ﷺ کے ساتھ روانہ ہوئے حتیٰ کہ ہم عسفان پہنچے تو آپ نے چند روز وہاں قیام فرمایا ، تو بعض (منافق) لوگوں نے کہا : یہاں تو ہم بلا مقصد ٹھہرے ہیں ، ہمارے اہل و عیال پیچھے ہیں ، ہمیں ان کا خطرہ ہے ، نبی ﷺ تک یہ بات پہنچی تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! مدینہ کی ہر گھاٹی اور ہر درے پر دو فرشتے پہرہ دے رہے ہیں حتیٰ کہ تم وہاں واپس چلے جاؤ ۔‘‘ پھر فرمایا :’’ کوچ کرو ۔‘‘ ہم نے کوچ کیا اور مدینہ کی طرف واپس پلٹے ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! جب ہم مدینہ میں داخل ہوئے تو ہم نے ابھی اپنا سامان نہیں اتارا تھا کہ بنو عبداللہ بن غطفان نے ہم پر حملہ کر دیا ، اس سے پہلے کوئی چیز انہیں آمادہ نہیں کرتی تھی ۔ رواہ مسلم ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ کے عہد میں لوگ قحط سالی کا شکار ہو گئے ، اس دوران کے نبی ﷺ خطبہ جمعہ ارشاد فرما رہے تھے ، ایک اعرابی کھڑا ہوا اور اس نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! مال مویشی ہلاک ہو گئے ، بال بچے بھوک کا شکار ہو گئے ، اللہ سے ہمارے لیے دعا فرمائیں ، آپ نے ہاتھ بلند فرمائے ، اس وقت ہم آسمان پر بادل کا ٹکڑا تک نہیں دیکھ رہے تھے ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! آپ نے ابھی انہیں نیچے نہیں کیا تھا کہ پہاڑوں کی طرح بادل چھا گئے ، پھر آپ اپنے منبر سے نیچے نہیں اترے تھے کہ میں نے بارش کے قطرے آپ کی داڑھی مبارک پر گرتے ہوئے دیکھے ، اس روز اگلے روز یہاں تک کہ دوسرے جمعے تک بارش ہوتی رہی پھر دوسرے جمعہ کو وہی اعرابی یا کوئی اور شخص کھڑا ہوا اور اس نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! مکان گر گئے ، مال ڈوب گیا ، آپ اللہ سے ہمارے لیے دعا فرمائیں ، آپ ﷺ نے ہاتھ اٹھائے اور دعا فرمائی :’’ اے اللہ ! ہمارے آس پاس بارش برسا ، ہم پر نہ برسا ۔‘‘ آپ بادلوں کے جس کونے کی طرف اشارہ فرماتے تو ادھر سے بادل چھٹ جاتا اور مدینہ حوض کی طرح بن چکا تھا ، جبکہ وادی قناۃ کا نالہ مہینہ بھر بہتا رہا ، اور مدینہ کے آس پاس سے جو بھی آتا وہ خوب سیرابی کی بات کرتا ۔ ایک دوسری روایت میں ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اے اللہ ہمارے آس پاس بارش برسا ، ہم پر نہ برسا ، اے اللہ ! ٹیلوں پر ، پہاڑوں پر ، وادیوں میں اور درختوں کے اگنے کی جگہوں پر بارش برسا ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، بارش تھم گئی اور ہم نکلے تو ہم دھوپ میں چل رہے تھے ۔ متفق علیہ ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، جب نبی ﷺ خطبہ ارشاد فرماتے تو آپ مسجد کے ستونوں میں سے کھجور کے تنے کے ساتھ ٹیک لگایا کرتے تھے ، جب آپ کے لیے منبر بنا دیا گیا تو آپ اس پر کھڑے ہو گئے ، چنانچہ آپ جس کھجور کے تنے کے پاس خطبہ ارشاد فرمایا کرتے تھے وہ چیخنے چلانے لگا : حتیٰ کہ قریب تھا کہ وہ پھٹ جاتا ، نبی ﷺ (منبر سے) نیچے اترے ، اسے پکڑا اور اسے اپنے ساتھ ملایا تو وہ اس بچے کی طرح رونے لگا جسے خاموش کرایا جاتا ہے ، حتیٰ کہ وہ خاموش ہو گیا ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ وہ جو ذکر سنا کرتا تھا اب وہ اس سے محروم ہو گیا ہے اس لیے وہ رویا تھا ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
سلمہ بن اکوع ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ کے پاس بائیں ہاتھ سے کھایا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اپنے دائیں ہاتھ سے کھاؤ ۔‘‘ اس نے کہا : میں طاقت نہیں رکھتا ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تو استطاعت نہ رکھے ۔‘‘ اس شخص کو تکبر ہی نے روکا تھا ، راوی بیان کرتے ہیں ، وہ پھر اس (دائیں ہاتھ) کو اپنے منہ تک نہیں اٹھا سکتا تھا ۔ رواہ مسلم ۔
انس ؓ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ مدینہ والے گھبراہٹ کا شکار ہو گئے ، نبی ﷺ ابوطلحہ کے گھوڑے پر ، جس پر زین نہیں تھی ، سوار ہو گئے ، وہ سست رفتار تھا ، جب آپ ﷺ واپس تشریف لائے تو فرمایا :’’ ہم نے تمہارے اس گھوڑے کو دریا (یعنی تیز رفتار) پایا ۔‘‘ پھر اس کے بعد یہ گھوڑا کسی دوسرے گھوڑے کو قریب پھٹکنے نہیں دیتا تھا ، ایک دوسری روایت میں ہے : اس روز کے بعد کوئی گھوڑا اس کے آگے نہیں بڑھ سکا ۔ رواہ البخاری ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں کہ جس وقت میرے والد فوت ہوئے تو وہ مقروض تھے ، میں نے ان کے قرض خواہوں کو پیش کش کی کہ وہ اس کے قرض کے برابر کھجوریں لے لیں ، لیکن انہوں نے انکار کر دیا ، میں نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا ، آپ جانتے ہی ہیں کہ میرے والد غزوۂ احد میں شہید کر دیے گئے تھے ، اور انہوں نے بہت سا قرض چھوڑا ہے ، اور میں چاہتا ہوں کہ وہ قرض خواہ آپ کو (میرے ہاں) دیکھ لیں ، آپ ﷺ نے مجھے فرمایا :’’ جاؤ ہر قسم کی کھجور الگ الگ جمع کرو ۔‘‘ میں نے ایسے ہی کیا ، پھر آپ کو دعوت دی ، جب قرض خواہوں نے آپ کی طرف دیکھا تو مجھ پر سخت ناراض ہوئے ، جب آپ نے ان کا طرز عمل دیکھا تو آپ نے سب سے بڑے ڈھیر کے گرد تین چکر لگائے پھر اس پر بیٹھ گئے ، پھر فرمایا :’’ اپنے قرض خواہوں کو بلاؤ ۔‘‘ آپ ﷺ انہیں ناپ کر ادا فرماتے رہے حتیٰ کہ اللہ نے میرے والد کا سارا قرض ادا کر دیا اور میں خوش تھا کہ اللہ نے میرے والد کا قرض ادا فرما دیا ، اور (میرا خیال تھا کہ) میں اپنی بہنوں کے لیے ایک کھجور بھی لے کر نہ جا سکوں گا ، لیکن اللہ نے سارے ڈھیر بچا دیے حتیٰ کہ میں اس ڈھیر کی طرف ، جس پر نبی ﷺ بیٹھے ہوئے تھے ، دیکھ رہا ہوں کہ وہ اسی طرح ہے کہ جس طرح اس سے ایک کھجور بھی کم نہیں ہوئی ۔ رواہ البخاری ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں کہ ام مالک ؓ اپنے ایک مشکیزے میں نبی ﷺ کی خدمت میں گھی کا ہدیہ پیش کیا کرتی تھیں ، ان کے بیٹے ان کے پاس آتے اور سالن مانگتے اور ان کے پاس کچھ نہ ہوتا تو وہ اس مشکیزے کا قصد کرتیں جس میں وہ نبی ﷺ کو ہدیہ بھیجا کرتی تھیں ، وہ اس میں گھی پاتیں ، اور ان کے گھر میں ہمیشہ ہی سالن رہا حتیٰ کہ اس نے اس (مشکیزے) کو نچوڑ لیا ، وہ نبی ﷺ کے پاس آئیں تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا تم نے اسے نچوڑ لیا ہے ؟‘‘ ام مالک ؓ نے عرض کیا : جی ہاں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اگر تم اسے چھوڑ دیتیں تو وہ ویسے ہی رہتا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔