مشکوۃ

Mishkat

فضائل اور خصائل کا بیان

معجزوں کا بیان

بَاب فِي المعجزا

وَعَن أنسٍ قَالَ: قَالَ أَبُو طَلْحَةَ لِأُمِّ سُلَيْمٍ لَقَدْ سَمِعْتُ صَوْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَعِيفًا أَعْرِفُ فِيهِ الْجُوعَ فَهَلْ عِنْدَكِ من شَيْء؟ فَأَخْرَجَتْ أَقْرَاصًا مِنْ شَعِيرٍ ثُمَّ أَخْرَجَتْ خِمَارًا لَهَا فَلَفَّتِ الْخُبْزَ بِبَعْضِهِ ثُمَّ دَسَّتْهُ تَحْتَ يَدِي وَلَاثَتْنِي بِبَعْضِهِ ثُمَّ أَرْسَلَتْنِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَذَهَبْتُ بِهِ فَوَجَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ وَمَعَهُ النَّاسُ فَقُمْتُ عَلَيْهِمْ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَرْسَلَكَ أَبُو طَلْحَةَ؟» قُلْتُ نَعَمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَنْ مَعَهُ قُومُوا فَانْطَلَقَ وَانْطَلَقْتُ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ حَتَّى جِئْت أَبَا طَلْحَة فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ قَدْ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاسِ وَلَيْسَ عِنْدَنَا مَا نُطْعِمُهُمْ فَقَالَتْ اللَّهُ وَرَسُوله أعلم قَالَ فَانْطَلَقَ أَبُو طَلْحَةَ حَتَّى لَقِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو طَلْحَةَ مَعَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلُمِّي يَا أُمَّ سُلَيْمٍ مَا عِنْدَكِ فَأَتَتْ بذلك الْخبز فَأمر بِهِ ففت وعصرت أم سليم عكة لَهَا فأدمته ثمَّ قَالَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ ثُمَّ قَالَ ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ فَأَذِنَ لَهُمْ فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا ثُمَّ خَرَجُوا ثُمَّ قَالَ ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ فَأَذِنَ لَهُمْ فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا ثُمَّ خَرَجُوا ثُمَّ قَالَ ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ فَأَذِنَ لَهُمْ فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا ثمَّ خَرجُوا ثمَّ أذن لِعَشَرَةٍ فَأَكَلَ الْقَوْمُ كُلُّهُمْ وَشَبِعُوا وَالْقَوْمُ سَبْعُونَ أَوْ ثَمَانُونَ رَجُلًا. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ وَفِي رِوَايَةٍ لمُسلم أَنه قَالَ: «أذن لِعَشَرَةٍ» فَدَخَلُوا فَقَالَ: «كُلُوا وَسَمُّوا اللَّهَ» . فَأَكَلُوا حَتَّى فَعَلَ ذَلِكَ بِثَمَانِينَ رَجُلًا ثُمَّ أَكَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَهْلُ الْبَيْتِ وَتَرَكَ سُؤْرًا وَفِي رِوَايَةٍ لِلْبُخَارِيِّ قَالَ: «أَدْخِلْ عَلَيَّ عَشَرَةً» . حَتَّى عَدَّ أَرْبَعِينَ ثُمَّ أَكَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ هَلْ نَقَصَ مِنْهَا شَيْءٌ؟ وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ: ثُمَّ أَخَذَ مَا بَقِيَ فَجَمَعَهُ ثُمَّ دَعَا فِيهِ با لبركة فَعَاد كَمَا كَانَ فَقَالَ: «دونكم هَذَا»

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، ابوطلحہ ؓ نے ام سلیم ؓ سے کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کی آواز کمزور سی سنی ہے ، جس سے میں نے بھوک کا اندازہ لگایا ہے ، کیا تمہارے پاس کوئی چیز ہے ؟ انہوں نے کہا : جی ہاں ، انہوں نے جو کی چند روٹیاں نکالیں ، پھر اپنی اوڑھنی نکالی اور روٹیوں کو لپیٹ کر چادر کے ایک کونے میں باندھ کر میرے ہاتھ میں تھما دیا ، پھر مجھے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں بھیج دیا ، میں وہ لے کر چلا گیا ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو مسجد میں پایا اور آپ کے ساتھ کچھ لوگ بھی تھے ، میں نے انہیں سلام کیا تو رسول اللہ ﷺ نے مجھے فرمایا :’’ تجھے ابوطلحہ نے بھیجا ہے ؟‘‘ میں نے عرض کیا : جی ہاں ! آپ نے فرمایا :’’ کھانا دے کر ؟‘‘ میں نے عرض کیا : جی ہاں ! رسول اللہ ﷺ نے حاضرین سے فرمایا :’’ کھڑے ہو جاؤ ۔‘‘ آپ چلے اور میں ان کے آگے آگے چل رہا تھا حتیٰ کہ میں نے ابوطلحہ ؓ کے پاس پہنچ کر انہیں بتایا تو ابوطلحہ ؓ نے فرمایا : ام سُلیم ! رسول اللہ ﷺ چند ساتھیوں کے ساتھ تشریف لائے ہیں ، جبکہ ہمارے پاس تو ایسی کوئی چیز نہیں جو انہیں کھلانے کے لیے پیش کر سکیں ، انہوں نے فرمایا : اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں ، ابوطلحہ ؓ گئے حتیٰ کہ رسول اللہ ﷺ سے ملاقات کی ، پھر رسول اللہ ﷺ ابوطلحہ ؓ کے ساتھ تشریف لائے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ام سلیم ! تمہارے پاس جو کچھ ہے وہ لے آؤ ۔‘‘ وہ وہی روٹیاں لے آئیں ، رسول اللہ ﷺ کے فرمان پر ان روٹیوں کو چورا کیا گیا اور ام سلیم ؓ نے ان پر گھی کا مشکیزہ نچوڑا اور اسے سالن بنایا ، پھر رسول اللہ ﷺ نے اس کھانے کے بارے میں وہ دعا فرمائی جو اللہ تعالیٰ نے چاہی پھر فرمایا :’’ دس آدمیوں کو بلاؤ ، انہیں بلایا گیا انہوں نے سیر ہو کر کھانا کھایا ، پھر وہ چلے گئے ، پھر آپ ﷺ نے فرمایا :’’ دس کو بلاؤ ، اس طرح سب لوگوں نے سیر ہو کر کھانا کھایا ، وہ ستر یا اسّی افراد تھے ۔ اور صحیح مسلم کی روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ دس افراد کو بلاؤ ۔‘‘ وہ آئے تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ کا نام لے کر کھاؤ ۔‘‘ انہوں نے کھایا حتیٰ کہ آپ ﷺ نے اسّی افراد سے ایسے ہی فرمایا ، پھر نبی ﷺ اور گھر والوں نے کھایا اور کھانا بچ بھی گیا ۔ اور صحیح بخاری کی روایت میں ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ میرے پاس دس آدمی بھیجو ، حتیٰ کہ آپ نے چالیس افراد گنے ، پھر نبی ﷺ نے کھانا کھایا ، میں دیکھنے لگا کہ کیا اس میں کوئی کمی آتی ہے ؟ اور صحیح مسلم کی روایات میں ، پھر جو کھانا بچ گیا ، آپ ﷺ نے اسے اکٹھا کیا ، پھر اس کے لیے برکت کی دعا فرمائی تو وہ جتنا تھا اتنا ہی ہو گیا ، پھر آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اسے لے لو ۔‘‘ متفق علیہ ۔

وَعنهُ قا ل: أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِنَاءٍ وَهُوَ بِالزَّوْرَاءِ فَوَضَعَ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ فَجَعَلَ الْمَاءُ يَنْبُعُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ فَتَوَضَّأَ الْقَوْمُ قَالَ قَتَادَةُ: قُلْتُ لِأَنَسٍ: كَمْ كُنْتُمْ؟ قَالَ: ثلاثمائةٍ أَو زهاءَ ثلاثمائةٍ. مُتَّفق عَلَيْهِ

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ زوراء کے مقام پر تھے کہ ایک برتن آپ کی خدمت میں پیش کیا گیا ، آپ نے اپنا دست مبارک برتن میں رکھا تو آپ کی انگلیوں سے پانی پھوٹنے لگا ، صحابہ کرام ؓ نے اس سے وضو کیا ، قتادہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے انس ؓ سے پوچھا : تم کتنے تھے ؟ انہوں نے فرمایا ، تین سو یا تقریباً تین سو ۔ متفق علیہ ۔

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: كُنَّا نَعُدُّ الْآيَاتِ بَرَكَةً وَأَنْتُمْ تَعُدُّونَهَا تَخْوِيفًا كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَقَلَّ الْمَاءُ فَقَالَ: «اطْلُبُوا فَضْلَةً مِنْ مَاءٍ» فَجَاءُوا بِإِنَاءٍ فِيهِ مَاءٌ قَلِيلٌ فَأَدْخَلَ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ ثُمَّ قَالَ: «حَيَّ على الطَّهورِ الْمُبَارك وَالْبركَة من الله» فَلَقَد رَأَيْتُ الْمَاءَ يَنْبُعُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَقَد كُنَّا نَسْمَعُ تَسْبِيحَ الطَّعَامِ وَهُوَ يُؤْكَلُ. رَوَاهُ البُخَارِيّ

عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم تو آیات و معجزات کو باعث برکت شمار کیا کرتے تھے جبکہ تم انہیں باعث تخویف سمجھتے ہو ، ہم ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ شریک سفر تھے کہ پانی کم پڑ گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جو پانی بچ گیا ہے اسے لے کر آؤ ۔‘‘ وہ ایک برتن لائے جس میں تھوڑا سا پانی تھا ، آپ ﷺ نے اپنا دست مبارک برتن میں داخل فرمایا ، پھر فرمایا :’’ مبارک پانی حاصل کرو اور برکت اللہ کی طرف سے ہوئی ہے ۔‘‘ اور میں نے رسول اللہ ﷺ کی انگلیوں سے پانی پھوٹتے ہوئے دیکھا ، اور کھانا کھانے کے دوران ہم کھانے کی تسبیح سنا کرتے تھے ۔ رواہ البخاری ۔

وَعَن أبي قتادةَ قَالَ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّكُمْ تَسِيرُونَ عَشِّيَتَكُمْ وَلَيْلَتَكُمْ وَتَأْتُونَ الْمَاءَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ غَدًا فَانْطَلَقَ النَّاسُ لَا يَلْوِي أَحَدٌ عَلَى أَحَدٍ قَالَ أَبُو قَتَادَةَ فَبَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسِيرُ حَتَّى ابْهَارَّ اللَّيْلُ فَمَالَ عَنِ الطَّرِيقِ فَوَضَعَ رَأْسَهُ ثُمَّ قَالَ احْفَظُوا عَلَيْنَا صَلَاتَنَا فَكَانَ أَوَّلَ مَنِ اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالشَّمْسُ فِي ظَهْرِهِ ثُمَّ قَالَ ارْكَبُوا فَرَكِبْنَا فَسِرْنَا حَتَّى إِذَا ارْتَفَعَتِ الشَّمْسُ نَزَلَ ثُمَّ دَعَا بِمِيضَأَةٍ كَانَتْ معي فِيهَا شيءٌ من مَاء قَالَ فَتَوَضَّأَ مِنْهَا وُضُوءًا دُونَ وُضُوءٍ قَالَ وَبَقِيَ فِيهَا شَيْءٌ مِنْ مَاءٍ ثُمَّ قَالَ احْفَظْ عَلَيْنَا مِيضَأَتَكَ فَسَيَكُونُ لَهَا نَبَأٌ ثُمَّ أَذَّنَ بِلَالٌ بِالصَّلَاةِ فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ صَلَّى الْغَدَاةَ وَرَكِبَ وَرَكِبْنَا مَعَهُ فَانْتَهَيْنَا إِلَى النَّاسِ حِينَ امْتَدَّ النَّهَارُ وَحَمِيَ كُلُّ شَيْءٌ وَهُمْ يَقُولُونَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلَكْنَا وَعَطِشْنَا فَقَالَ لَا هُلْكَ عَلَيْكُمْ وَدَعَا بِالْمِيضَأَةِ فَجَعَلَ يَصُبُّ وَأَبُو قَتَادَةَ يَسْقِيهِمْ فَلَمْ يَعْدُ أَنْ رَأَى النَّاسُ مَاءً فِي الْمِيضَأَةِ تَكَابُّوا عَلَيْهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسِنُوا الْمَلَأَ كُلُّكُمْ سَيُرْوَى قَالَ فَفَعَلُوا فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُبُّ وَأَسْقِيهِمْ حَتَّى مَا بَقِيَ غَيْرِي وَغَيْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ صَبَّ فَقَالَ لِيَ اشْرَبْ فَقُلْتُ لَا أَشْرَبُ حَتَّى تَشْرَبَ يَا رَسُولَ الله قَالَ إِن ساقي الْقَوْم آخِرهم شربا قَالَ فَشَرِبْتُ وَشَرِبَ قَالَ فَأَتَى النَّاسُ الْمَاءَ جَامِّينَ رِوَاءً. رَوَاهُ مُسْلِمٌ هَكَذَا فِي صَحِيحِهِ وَكَذَا فِي كتاب الْحميدِي وجامع الْأُصُولِ وَزَادَ فِي الْمَصَابِيحِ بَعْدَ قَوْلِهِ آخِرُهُمْ لَفْظَة شربا

ابوقتادہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خطبہ ارشاد فرمایا تو اس میں فرمایا :’’ تم رات بھر سفر کرنے کے بعد ان شاء اللہ کل پانی تک پہنچ جاؤ گے ۔‘‘ صحابہ کرام ؓ چلتے گئے کوئی کسی طرف التفات نہیں کر رہا تھا ، ابوقتادہ ؓ نے فرمایا : رسول اللہ ﷺ سفر کر رہے تھے حتیٰ کہ آدھی رات ہو گئی تو آپ راستے سے ہٹ کر ایک جگہ سر مبارک رکھ کر سونے لگے اور فرمایا :’’ ہماری نماز کا خیال رکھنا ۔‘‘ سب سے پہلے رسول اللہ ﷺ ہی بیدار ہوئے اس وقت سورج طلوع ہو چکا تھا ، پھر آپ ﷺ نے فرمایا :’’ سواریوں پر سوار ہو جاؤ ۔‘‘ ہم سوار ہو گئے اور سفر شروع کر دیا حتیٰ کہ جب سورج بلند ہو گیا تو آپ نے پڑاؤ ڈالا ، پھر آپ نے پانی کا برتن منگایا جو کہ میرے پاس تھا ، اس میں کچھ پانی تھا ، آپ نے احتیاط کے ساتھ اس سے وضو فرمایا ، راوی بیان کرتے ہیں ، اس میں تھوڑا سا پانی بچ گیا ، پھر آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ہمارے لیے اس پانی کی حفاظت کرو ، عنقریب اس برتن کو بڑی عظمت حاصل ہو گی ۔‘‘ پھر بلال ؓ نے نماز کے لیے اذان دی تو رسول اللہ ﷺ نے دو رکعتیں پڑھیں ، پھر نماز فجر ادا کی ، آپ سوار ہوئے تو ہم بھی آپ کے ساتھ ہی سوار ہو گئے ، اور ہم لوگوں کے پاس پہنچے تو دن اچھی طرح چڑھ چکا تھا اور ہر چیز گرم ہو چکی تھی ، لوگ کہہ رہے تھے : اللہ کے رسول ! ہم (لُو کی وجہ سے) ہلاک ہو گئے اور پیاسے ہو گئے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تم ہلاک نہیں ہو گے ۔‘‘ آپ نے پانی کا برتن منگایا ، آپ انڈیل رہے تھے اور ابوقتادہ ؓ انہیں پلا رہے تھے ، لوگوں نے پانی کا برتن دیکھا تو وہ اس پر جھک گئے (امڈ آئے) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اپنے اخلاق سنوارو ، تم سب سیراب ہو جاؤ گے ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، انہوں نے تعمیل کی تو رسول اللہ ﷺ انڈیل رہے تھے اور میں انہیں پلا رہا تھا ، حتیٰ کہ میں اور رسول اللہ ﷺ ہی باقی رہ گئے ، پھر آپ نے پانی انڈیلا اور مجھے فرمایا :’’ پیو ۔‘‘ میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! میں آپ سے پہلے نہیں پیوں گا ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ لوگوں کو پلانے والا سب سے آخر پر پیتا ہے ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، میں نے پیا اور پھر آپ نے پیا ، راوی بیان کرتے ہیں ، لوگ سیراب ہو کر راحت کے ساتھ پانی پر آئے ۔ رواہ مسلم ۔ اسی طرح صحیح مسلم میں ہے اور کتاب الحمیدی اور جامع الاصول میں اسی طرح ہے ، اور مصابیح میں لفظ ((آخرھم)) کے بعد لفظ ((شربا)) کا اضافہ ہے ۔

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ غزوةِ تَبُوك أصابَ النَّاس مجاعةٌ فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُهُمْ بِفَضْلِ أَزْوَادِهِمْ ثُمَّ ادْعُ اللَّهَ لَهُمْ عَلَيْهًا بِالْبَرَكَةِ فَقَالَ: نعم قَالَ فَدَعَا بِنِطَعٍ فَبُسِطَ ثُمَّ دَعَا بِفَضْلِ أَزْوَادِهِمْ فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيءُ بِكَفِّ ذُرَةٍ وَيَجِيءُ الْآخَرُ بِكَفِّ تَمْرٍ وَيَجِيءُ الْآخَرُ بِكِسْرَةٍ حَتَّى اجْتَمَعَ عَلَى النِّطَعِ شَيْءٌ يَسِيرٌ فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَرَكَةِ ثُمَّ قَالَ خُذُوا فِي أوعيتكم فَأَخَذُوا فِي أَوْعِيَتِهِمْ حَتَّى مَا تَرَكُوا فِي الْعَسْكَر وعَاء إِلا ملؤوه قَالَ فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا وَفَضَلَتْ فَضْلَةٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ لَا يَلْقَى اللَّهَ بِهِمَا عَبْدٌ غَيْرُ شاكٍّ فيحجبَ عَن الْجنَّة» . رَوَاهُ مُسلم

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، غزوۂ تبوک کے موقع پر صحابہ کرام ؓ سخت بھوک کا شکار ہو گئے تو عمر ؓ نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! ان سے زائد زادِ راہ طلب فرمائیں پھر اللہ سے ان کے لیے اس میں برکت کی دعا فرمائیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ہاں ، ٹھیک ہے ۔‘‘ آپ نے چمڑے کا دسترخوان منگایا ، اسے بچھا دیا گیا ، پھر آپ نے ان سے بچا ہوا زادِ راہ طلب فرمایا ، کوئی آدمی مٹھی بھر مکئی لایا ، کوئی مٹھی بھر کھجور لایا ، اور کوئی روٹی کا ٹکڑا لایا ، حتیٰ کہ دسترخوان پر تھوڑی سی چیز جمع ہو گئی تو رسول اللہ ﷺ نے برکت کے لیے دعا فرمائی پھر آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اپنے برتن بھر لو ۔‘‘ انہوں نے اپنے برتن بھر لیے حتیٰ کہ انہوں نے لشکر کے تمام برتن بھر لیے ، راوی بیان کرتے ہیں ، انہوں نے خوب سیر ہو کر کھایا حتیٰ کہ کھانا بچ بھی گیا ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور یہ کہ میں اللہ کا رسول ہوں ، جو شخص یقین کے ساتھ شہادتین کا اقرار کرتا ہے تو وہ جنت سے نہیں روکا جائے گا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

وَعَن أَنَسٍ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَرُوسًا بِزَيْنَبَ فَعَمَدَتْ أُمِّي أُمُّ سُلَيْمٍ إِلَى تَمْرٍ وَسَمْنٍ وَأَقِطٍ فَصَنَعَتْ حَيْسًا فَجَعَلَتْهُ فِي تَوْرٍ فَقَالَتْ يَا أَنَسُ اذْهَبْ بِهَذَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْ بَعَثَتْ بِهَذَا إِلَيْكَ أُمِّي وَهِيَ تُقْرِئُكَ السَّلَامَ وَتَقُولُ إِنَّ هَذَا لَكَ مِنَّا قَلِيلٌ يَا رَسُولَ الله قَالَ فَذَهَبْتُ فَقُلْتُ فَقَالَ ضَعْهُ ثُمَّ قَالَ اذْهَبْ فَادْعُ لِي فُلَانًا وَفُلَانًا وَفُلَانًا رِجَالًا سَمَّاهُمْ وَادْعُ مَنْ لَقِيتَ فَدَعَوْتُ مَنْ سَمَّى وَمَنْ لَقِيتُ فَرَجَعْتُ فَإِذَا الْبَيْتُ غَاصٌّ بِأَهْلِهِ قِيلَ لأنس عدد كم كَانُوا؟ قَالَ زهاء ثَلَاث مائَة. فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَضَعَ يَدَهُ عَلَى تِلْكَ الْحَيْسَةِ وَتَكَلَّمَ بِمَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ جَعَلَ يَدْعُو عَشَرَةً عَشَرَةً يَأْكُلُونَ مِنْهُ وَيَقُول لَهُم: «اذْكروا اسْم الله وليأكلْ كُلُّ رَجُلٍ مِمَّا يَلِيهِ» قَالَ: فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا. فَخَرَجَتْ طَائِفَةٌ وَدَخَلَتْ طَائِفَةٌ حَتَّى أَكَلُوا كُلُّهُمْ قَالَ لِي يَا أَنَسُ ارْفَعْ. فَرَفَعْتُ فَمَا أَدْرِي حِينَ وَضَعْتُ كَانَ أَكْثَرَ أَمْ حِين رفعت. مُتَّفق عَلَيْهِ

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ کی زینب ؓ سے شادی ہوئی تو میری والدہ ام سلیم ؓ نے کھجور ، گھی اور پنیر لے کر حیس بنایا اور اسے ہنڈیا جیسے برتن میں رکھا ، اور فرمایا : انس ! اسے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لے جاؤ ، اور انہیں کہو : اسے میری والدہ نے آپ کی خدمت میں پیش کیا ہے اور وہ آپ کو سلام عرض کرتی ہیں ، اور انہوں نے یہ بھی عرض کیا ہے کہ اللہ کے رسول ! یہ ہماری طرف سے آپ کی خدمت میں قلیل (یعنی حقیر) سا ہدیہ ہے ، میں گیا ، اور عرض کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اسے رکھ دو ۔‘‘ پھر فرمایا :’’ جاؤ ! فلاں فلاں اور فلاں شخص کو بلا لاؤ ۔‘‘ اور آپ نے ان کے نام بھی بتائے ’’ اور جو بھی تجھے ملے اسے بلا لاؤ ۔‘‘ آپ نے جن کے نام بتائے تھے ، میں انہیں اور جو لوگ راستے میں مجھے ملے تو میں انہیں بلا لایا ، میں واپس آیا تو گھر بھر چکا تھا ، انس ؓ سے دریافت کیا گیا : تم کتنے لوگ تھے ؟ انہوں نے فرمایا : تقریباً تین سو ، میں نے نبی ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے اس حیسہ (حلوے) میں اپنا دست مبارک رکھا اور جو اللہ نے چاہا وہ دعا فرمائی ، پھر آپ دس دس آدمیوں کو بلاتے رہے اور وہ اس سے کھاتے رہے ، آپ ﷺ انہیں فرماتے :’’ اللہ کا نام لو ، اور ہر شخص اپنے سامنے سے کھائے ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، ان سب نے خوب سیر ہو کر کھا لیا ، ایک گروہ نکلتا تو دوسرا گروہ داخل ہو جاتا ، حتیٰ کہ ان سب نے کھا لیا ، آپ ﷺ نے مجھے فرمایا :’’ انس ! (اسے) اٹھا لو ۔‘‘ میں نے اٹھا لیا ، میں نہیں جانتا کہ جب میں نے (حیس) رکھا تھا تب زیادہ تھا یا جب میں نے اٹھایا تھا تب زیادہ تھا ۔ متفق علیہ ۔

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنا على نَاضِح لنا قَدْ أَعْيَا فَلَا يَكَادُ يَسِيرُ فَتَلَاحَقَ بِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لي مَا لبعيرك قلت: قدعيي فَتَخَلَّفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فزجره ودعا لَهُ فَمَا زَالَ بَيْنَ يَدَيِ الْإِبِلِ قُدَّامَهَا يسير فَقَالَ لي كَيفَ ترى بعيرك قَالَ قُلْتُ بِخَيْرٍ قَدْ أَصَابَتْهُ بَرَكَتُكَ قَالَ أَفَتَبِيعُنِيهِ بِوُقِيَّةٍ. فَبِعْتُهُ عَلَى أَنَّ لِي فَقَارَ ظَهْرِهِ حَتَّى الْمَدِينَةِ فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ غَدَوْتُ عَلَيْهِ بِالْبَعِيرِ فَأَعْطَانِي ثمنَهُ وردَّهُ عَليّ. مُتَّفق عَلَيْهِ

جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں ایک غزوہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ شریک تھا ، میں پانی لانے والے ایک اونٹ پر سوار تھا ، وہ تھک چکا تھا اور وہ چلنے کے قابل نہیں رہا تھا ، نبی ﷺ میرے پاس تشریف لائے تو فرمایا :’’ تیرے اونٹ کو کیا ہوا ہے ؟‘‘ میں نے عرض کیا ، وہ تھک چکا ہے ، رسول اللہ ﷺ پیچھے گئے اور اسے ڈانٹا اور اس کے لیے دعا فرمائی ، پھر وہ دوسرے اونٹوں کے آگے آگے چلتا رہا ، آپ ﷺ نے مجھے فرمایا :’’ تمہارے اونٹ کا کیا حال ہے ؟‘‘ میں نے عرض کیا : بہتر ہے ، آپ کی برکت کا اس پر اثر ہو گیا ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا تم اسے چالیس درہم کے بعوض بیچو گے ؟‘‘ میں نے اس شرط پر اسے بیچ دیا کہ مدینہ تک میں اسی پر سفر کروں گا ، جب رسول اللہ ﷺ مدینہ پہنچے تو اگلے روز میں اونٹ لے کر حاضر خدمت ہوا تو آپ ﷺ نے مجھے اس کی قیمت عطا فرما دی وہ اونٹ بھی مجھے واپس دے دیا ۔ متفق علیہ ۔

وَعَن أبي حميد السَّاعِدِيّ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ تَبُوكَ فَأَتَيْنَا وَادِيَ الْقُرَى عَلَى حَدِيقَةٍ لِامْرَأَةٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اخْرُصُوهَا» فَخَرَصْنَاهَا وَخَرَصَهَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشَرَةَ أَوْسُقٍ وَقَالَ: «أَحْصِيهَا حَتَّى نَرْجِعَ إِلَيْكِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ» وَانْطَلَقْنَا حَتَّى قَدِمْنَا تَبُوكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سَتَهُبُّ عَلَيْكُمُ اللَّيْلَةَ رِيحٌ شَدِيدَةٌ فَلَا يَقُمْ فِيهَا أَحَدٌ مِنْكُم فَمَنْ كَانَ لَهُ بَعِيرٌ فَلْيَشُدَّ عِقَالَهُ» فَهَبَّتْ رِيحٌ شَدِيدَةٌ فَقَامَ رَجُلٌ فَحَمَلَتْهُ الرِّيحُ حَتَّى أَلْقَتْهُ بِجَبَلَيْ طَيِّئٍ ثُمَّ أَقْبَلْنَا حَتَّى قَدِمْنَا وَادِيَ الْقُرَى فَسَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَرْأَةُ عَنْ حَدِيقَتِهَا كَمْ بَلَغَ ثَمَرهَا فَقَالَت عشرَة أوسق. مُتَّفق عَلَيْهِ

ابوحمید ساعدی ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم غزوۂ تبوک میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ روانہ ہوئے ، ہم وادی قریٰ میں ایک عورت کے باغ کے پاس پہنچے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اس (کے پھلوں) کا اندازہ لگاؤ ۔‘‘ ہم نے اندازہ لگایا اور رسول اللہ ﷺ نے اس کا دس وسق کا اندازہ لگایا ، اور آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اس کو یاد رکھنا حتیٰ کہ اگر اللہ نے چاہا تو ہم تمہارے پاس واپس آئیں گے ۔‘‘ اور ہم چلتے گئے حتیٰ کہ ہم تبوک پہنچ گئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ آج رات بڑے زور کی آندھی چلے گی ، اس میں کوئی شخص کھڑا نہ ہو اور جس شخص کے پاس اونٹ ہو تو وہ اسے باندھ لے ۔‘‘ زور کی آندھی چلی ، ایک آدمی کھڑا ہوا تو آندھی نے اسے اٹھا کر جبل طیئ پر جا پھینکا ۔ پھر ہم واپس آئے حتیٰ کہ ہم وادی قریٰ پہنچے تو رسول اللہ ﷺ نے اس عورت سے اس کے باغ کے پھل کے متعلق پوچھا کہ ’’ اس کے پھل کتنے ہوئے تھے ؟‘‘ اس نے عرض کیا : دس وسق ۔ متفق علیہ ۔

وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّكُمْ سَتَفْتَحُونَ مِصْرَ وَهِيَ أَرْضٌ يُسَمَّى فِيهَا الْقِيرَاطُ فَإِذَا فَتَحْتُمُوهَا فَأَحْسِنُوا إِلَى أَهْلِهَا فَإِنَّ لَهَا ذِمَّةً وَرَحِمًا أَوْ قَالَ: ذِمَّةً وَصِهْرًا فَإِذَا رَأَيْتُمْ رَجُلَيْنِ يَخْتَصِمَانِ فِي مَوْضِعِ لَبِنَةٍ فَاخْرُجْ مِنْهَا . قَالَ: فَرَأَيْتُ عَبْدَ الرَّحْمَن بن شُرَحْبِيل بن حَسَنَة وأخاه يَخْتَصِمَانِ فِي مَوْضِعِ لَبِنَةٍ فَخَرَجْتُ مِنْهَا. رَوَاهُ مُسلم

ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تم عنقریب مصر فتح کرو گے ، اور وہ ایسی سرزمین ہے جس کی کرنسی قراط ہے ۔ جب تم اسے فتح کر لو تو وہاں کے باشندوں سے حسن سلوک کرنا ۔ کیونکہ انہیں حرمت اور قرابت کا حق حاصل ہے ۔‘‘ یا فرمایا :’’ انہیں حرمت اور رشتہ سسرال کا حق حاصل ہے ۔ اور جب تم دو آدمیوں کو اینٹ برابر جگہ پر جھگڑا کرتے ہوئے دیکھو تو وہاں سے کوچ کر جانا ۔‘‘ اور میں نے عبد الرحمن بن شرحبیل بن حسنہ اور اس کے بھائی ربیعہ کو ایک اینٹ برابر پر جھگڑا کرتے ہوئے دیکھا تو میں وہاں سے نکل آیا ۔ رواہ مسلم ۔

وَعَنْ حُذَيْفَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فِي أَصْحَابِي وَفِي رِوَايَة قا ل: فِي أُمَّتِي اثْنَا عَشَرَ مُنَافِقًا لَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ وَلَا يَجِدُونَ رِيحَهَا حَتَّى يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سم الْخياط ثَمَانِيَة مِنْهُم تَكُ (فيهم الدُّبَيْلَةُ: سِرَاجٌ مِنْ نَارٍ يَظْهَرُ فِي أَكْتَافِهِمْ حَتَّى تَنْجُمَ فِي صُدُورِهِمْ . رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَسَنَذْكُرُ حَدِيثَ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ: «لَأُعْطِيَنَّ هَذِهِ الرَّايَةَ غَدًا» فِي «بَابِ مَنَاقِبِ عَلِيٍّ» رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَحَدِيثَ جَابِرٍ «مَنْ يَصْعَدُ الثَّنِيَّةَ» فِي «بَابِ جَامِعِ الْمَنَاقِبِ» إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى

حذیفہ ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ میرے صحابہ میں ۔‘‘ ایک روایت میں ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ میری امت میں بارہ منافق ہوں گے وہ جنت میں داخل ہوں گے نہ اس کی خوشبو پائیں گے ، حتیٰ کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں سے گزر جائے ۔ ان میں سے آٹھ کو تو وہ پھوڑا ہی کافی ہے ، (اس کے علاوہ) آگ کا ایک شعلہ جو ان کے کندھوں کے درمیان ظاہر ہو گا حتیٰ کہ اس کی حرارت کا اثر ان کے سینوں (یعنی دلوں) پر محسوس ہو گا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔ اور ہم سہل بن سعد ؓ سے مروی حدیث : ((لأ عطین ھذا الرأیۃ غدا)) باب مناقب علی ؓ اور جابر ؓ سے مروی حدیث ((من یصعد الشنیۃ)) باب جامع المناقب میں ان شاء اللہ تعالیٰ ذکر کریں گے ۔

عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: خَرَجَ أَبُو طَالِبٍ إِلَى الشَّام وَخرج مَعَه النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَشْيَاخٍ مِنْ قُرَيْشٍ فَلَمَّا أَشْرَفُوا عَلَى الرَّاهِبِ هَبَطُوا فَحَلُّوا رِحَالَهُمْ فَخَرَجَ إِلَيْهِمُ الرَّاهِبُ وَكَانُوا قَبْلَ ذَلِكَ يَمُرُّونَ بِهِ فَلَا يَخْرُجُ إِلَيْهِمْ قَالَ فَهُمْ يَحُلُّونَ رِحَالَهُمْ فَجَعَلَ يَتَخَلَّلُهُمُ الرَّاهِبُ حَتَّى جَاءَ فَأَخَذَ بِيَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ هَذَا سَيِّدُ الْعَالَمِينَ هَذَا رسولُ ربِّ الْعَالِمِينَ يَبْعَثُهُ اللَّهُ رَحْمَةً لِلْعَالِمِينَ فَقَالَ لَهُ أَشْيَاخٌ مِنْ قُرَيْشٍ مَا عِلْمُكَ فَقَالَ إِنَّكُمْ حِينَ أَشْرَفْتُمْ مِنَ الْعَقَبَةِ لَمْ يَبْقَ شَجَرٌ وَلَا حَجَرٌ إِلَّا خَرَّ سَاجِدًا وَلَا يَسْجُدَانِ إِلَّا لِنَبِيٍّ وَإِنِّي أَعْرِفُهُ بِخَاتَمِ النُّبُوَّةِ أَسْفَلَ مِنْ غُضْرُوفِ كَتِفِهِ مِثْلَ التُّفَّاحَةِ ثُمَّ رَجَعَ فَصَنَعَ لَهُمْ طَعَامًا فَلَمَّا أَتَاهُمْ بِهِ وَكَانَ هُوَ فِي رِعْيَةِ الْإِبِلِ فَقَالَ أَرْسِلُوا إِلَيْهِ فَأَقْبَلَ وَعَلَيْهِ غَمَامَةٌ تُظِلُّهُ فَلَمَّا دَنَا مِنَ الْقَوْم وجدهم قد سَبَقُوهُ إِلَى فَيْء الشَّجَرَة فَلَمَّا جَلَسَ مَالَ فَيْءُ الشَّجَرَةِ عَلَيْهِ فَقَالَ انْظُرُوا إِلَى فَيْءِ الشَّجَرَةِ مَالَ عَلَيْهِ فَقَالَ أنْشدكُمْ بِاللَّه أَيُّكُمْ وَلِيُّهُ قَالُوا أَبُو طَالِبٍ فَلَمْ يَزَلْ يُنَاشِدُهُ حَتَّى رَدَّهُ أَبُو طَالِبٍ وَبَعَثَ مَعَهُ أَبُو بَكْرٍ بِلَالًا وَزَوَّدَهُ الرَّاهِبُ مِنَ الْكَعْكِ وَالزَّيْت. (علق الشَّيْخ أَن ذكر بِلَال فِي الحَدِيث خطأ إِذْ لم يكن خلق بعد)

ابوموسی ؓ بیان کرتے ہیں ابوطالب ، نبی ﷺ کے ساتھ قریش کے اکابرین کی معیت میں شام کے لیے روانہ ہوئے ، جب وہ راہب کے پاس پہنچے تو انہوں نے اس کے ہاں پڑاؤ ڈال کر اپنی سواریوں کے کجاوے کھول دیے ، اتنے میں راہب ان کے پاس آیا ، وہ اس سے پہلے بھی یہاں سے گزرا کرتے تھے ، لیکن وہ ان کے پاس نہیں آتا تھا ، راوی بیان کرتے ہیں ، وہ اپنی سواریوں کے کجاوے اتار رہے تھے تو راہب ان کے درمیان کسی کو تلاش کرتا پھر رہا تھا حتیٰ کہ وہ رسول اللہ ﷺ تک پہنچ گیا ، اس نے آپ کا دست مبارک پکڑ کر کہا : یہ سید العالمین ہیں ، یہ رب العالمین کے رسول ہیں ، اللہ انہیں رحمتہ للعالمین بنا کر مبعوث فرمائے گا ۔ اس پر اکابرین قریش نے پوچھا : تمہارے علم کی بنیاد کیا ہے ؟ اس نے کہا : جب تم گھاٹی پر چڑھے تو ہر شجر و حجر آپ کے سامنے جھک گیا ، اور وہ صرف کسی نبی کی خاطر ہی جھکتے ہیں ، اور میں مہر نبوت سے بھی انہیں پہچانتا ہوں جو ان کے شانے کی ہڈی کے نیچے سیب کی مانند ہے ، پھر وہ واپس گیا اور ان کے لیے کھانے کا اہتمام کیا ، جب وہ کھانا لے کر ان کے پاس آیا تو اس وقت آپ ﷺ اونٹوں کی چراگاہ میں تھے ، اس نے کہا : انہیں بلا بھیجو ، جب آپ تشریف لائے تو بادل کا ٹکڑا آپ پر سایہ فگن تھا ، جب آپ اکیلے قوم کے پاس آئے تو وہ لوگ آپ سے پہلے ہی درخت کے سایہ میں جا چکے تھے ۔ جب آپ بیٹھ گئے تو درخت کا سایہ جھک گیا ، اس نے کہا : درخت کے سائے کو دیکھو کہ وہ ان پر جھک گیا ہے ، اس نے کہا : میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ تم میں سے ان کا سرپرست کون ہے ؟ انہوں نے بتایا ، ابوطالب ، وہ مسلسل ان کو قسم دیتا رہا (کہ آپ انہیں واپس لے جائیں) حتیٰ کہ ابوطالب نے انہیں واپس بھیج دیا ، اور ابوبکر نے بلال کو آپ کے ساتھ روانہ کیا ، اور راہب نے روٹی اور زیتون بطور زادراہ آپ ﷺ کو عطا کیا ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِالْبُرَاقِ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ مُلْجَمًا مُسْرجاً فاستصعب عَلَيْهِ فَقَالَ لَهُ جِبْرِيل: أَبِمُحَمَّدٍ تَفْعَلُ هَذَا؟ قَالَ: فَمَا رَكِبَكَ أَحَدٌ أَكْرَمُ عَلَى اللَّهِ مِنْهُ قَالَ: فَارْفَضَّ عَرَقًا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ

انس ؓ سے روایت ہے کہ معراج کی رات نبی ﷺ کے پاس براق لائی گئی جسے لگام ڈالی گئی تھی اور اس پر زین سجائی گئی تھی ، اس نے آپ کے بیٹھنے میں رکاوٹ پیدا کی تو جبریل ؑ نے اسے فرمایا : کیا تم محمد ﷺ کے ساتھ یہ سلوک کرتی ہو ؟ اللہ کے ہاں ان سے بڑھ کر معزز کسی شخصیت نے تجھ پر سواری نہیں کی ہو گی ۔ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ (یہ سن کر) وہ (براق) پسینے سے شرابور ہو گئی ۔ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَمَّا انْتَهَيْنَا إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ قَالَ جِبْرِيل بِأُصْبُعِهِ فَخَرَقَ بِهَا الْحَجَرَ فَشَدَّ بِهِ الْبُرَاقَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

بریدہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب ہم بیت المقدس پہنچے تو جبریل نے اپنی انگلی سے اشارہ فرمایا تو اس کے ساتھ پتھر میں سوراخ کر دیا اور اس کے ساتھ براق کو باندھ دیا ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔

وَعَن يعلى بن مرَّةَ الثَّقفي قَالَ ثَلَاثَةُ أَشْيَاءَ رَأَيْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَا نَحْنُ نَسِيرُ مَعَه إِذ مَرَرْنَا بِبَعِير يُسْنَى عَلَيْهِ فَلَمَّا رَآهُ الْبَعِيرُ جَرْجَرَ فَوَضَعَ جِرَانَهُ فَوَقَفَ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَيْنَ صَاحِبُ هَذَا الْبَعِيرِ فَجَاءَهُ فَقَالَ بِعْنِيهِ فَقَالَ بَلْ نَهَبُهُ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَإِنَّهُ لِأَهْلِ بَيْتٍ مَا لَهُمْ مَعِيشَةٌ غَيْرُهُ قَالَ أَمَا إِذْ ذَكَرْتَ هَذَا مِنْ أَمْرِهِ فَإِنَّهُ شَكَا كَثْرَةَ الْعَمَلِ وَقِلَّةَ العلفِ فَأحْسنُوا إِلَيْهِ قَالَ ثمَّ سرنا فنزلنا مَنْزِلًا فَنَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَتْ شَجَرَةٌ تَشُقُّ الْأَرْضَ حَتَّى غَشِيَتْهُ ثُمَّ رَجَعَتْ إِلَى مَكَانِهَا فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذُكِرَتْ لَهُ فَقَالَ هِيَ شجرةٌ استأذَنَتْ ربّها عز وَجل أَنْ تُسَلِّمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَذِنَ لَهَا قَالَ ثُمَّ سِرْنَا فَمَرَرْنَا بِمَاءٍ فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ بِابْنٍ لَهَا بِهِ جِنَّةٌ فَأَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بمنخره فَقَالَ اخْرُج إِنِّي مُحَمَّد رَسُول الله قَالَ ثمَّ سرنا فَلَمَّا رَجعْنَا من سفرنا مَرَرْنَا بِذَلِكَ الْمَاءِ فَسَأَلَهَا عَنِ الصَّبِيِّ فَقَالَتْ وَالَّذِي بَعثك بِالْحَقِّ مَا رأَينا مِنْهُ رَيباً بعْدك. رَوَاهُ فِي شرح السّنة

یعلی بن مرہ ثقفی ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ سے تین معجزات دیکھے ، ہم سفر کر رہے تھے کہ ہم ایک اونٹ کے پاس سے گزرے اس پر پانی لایا جاتا تھا ، جب اس اونٹ نے آپ ﷺ کو دیکھا تو وہ بلبلا اٹھا اور اپنی گردن (زمین پر) رکھ دی ، نبی ﷺ وہاں ٹھہر گئے اور فرمایا :’’ اس اونٹ کا مالک کہاں ہے ؟‘‘ وہ آپ کی خدمت میں آیا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اسے مجھے فروخت کر دو ۔‘‘ اس نے عرض کیا ، نہیں ، ہم اللہ کے رسول ! آپ کو ویسے ہی ہبہ کر دیتے ہیں ، لیکن عرض یہ ہے کہ یہ جس گھرانے کا ہے ان کی معیشت کا انحصار صرف اسی پر ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ سن لے جب تو نے اس کی یہ صورت بیان کی تو اس نے کثرت عمل اور قلت خوراک کی شکایت کی تھی تم اس کے ساتھ اچھا سلوک کرو ۔‘‘ پھر ہم نے سفر شروع کیا حتیٰ کہ ہم نے ایک جگہ قیام کیا تو نبی ﷺ سو گئے ، ایک درخت زمین پھاڑتا ہوا آیا حتیٰ کہ اس نے آپ کو ڈھانپ لیا ، اور پھر واپس اپنی جگہ پر چلا گیا ، جب رسول اللہ ﷺ بیدار ہوئے تو میں نے آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ یہ وہ درخت ہے جس نے اپنے رب سے اجازت طلب کی کہ وہ رسول اللہ ﷺ کو سلام کرے لہذا اسے اجازت دی گئی ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں : پھر ہم نے سفر شروع کیا تو ہم پانی کے قریب سے گزرے وہاں ایک عورت اپنے مجنون بیٹے کو لے کر آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی ۔ نبی ﷺ نے اسے اس کی ناک سے پکڑ کر فرمایا :’’ نکل جا ، کیونکہ میں محمد (ﷺ) اللہ کا رسول ہوں ۔‘‘ پھر ہم نے سفر شروع کر دیا ، جب ہم واپس آئے اور اسی پانی کے مقام سے گزرے تو آپ نے اس عورت سے اس بچے کے متعلق دریافت فرمایا تو اس نے عرض کیا ، اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ! ہم نے آپ ﷺ کے بعد اس کی طرف سے کوئی ناگوار چیز نہیں دیکھی ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ فی شرح السنہ ۔

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: إِنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ بابنٍ لَهَا إِلى رَسُول اللَّهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يارسول اللَّهِ إِنَّ ابْنِي بِهِ جُنُونٌ وَأَنَّهُ لَيَأْخُذُهُ عِنْدَ غَدَائِنَا وَعَشَائِنَا (فَيَخْبُثُ عَلَيْنَا) فَمَسَحَ رَسُولُ اللَّهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدْرَهُ وَدَعَا فَثَعَّ ثَعَّةً وَخَرَجَ مِنْ جَوْفِهِ مِثْلُ الجرو الْأسود يسْعَى. رَوَاهُ الدَّارمِيّ

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک عورت اپنا بیٹا لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی تو اس نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! میرے بیٹے کو جنون ہے ، اور اسے صبح و شام اس کا دورہ پڑتا ہے ۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کے سینے پر ہاتھ پھیرا اور دعا فرمائی تو اس نے ایک زور دار قے کی تو اس کے پیٹ سے کالے کتے کا پلا دوڑتا ہوا نکل گیا ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الدارمی ۔

وَعَن أنس بن مَالك قَالَ جَاءَ جِبْرِيلُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ جَالس حَزِين وَقد تخضب بِالدَّمِ من فعل أهل مَكَّة من قُرَيْش فَقَالَ جِبْرِيل يَا رَسُول الله هَل تحب أَن أريك آيَةً قَالَ نَعَمْ فَنَظَرَ إِلَى شَجَرَةٍ مِنْ وَرَائِهِ فَقَالَ ادْعُ بِهَا فَدَعَا بِهَا فَجَاءَتْ وَقَامَت بَيْنَ يَدَيْهِ فَقَالَ مُرْهَا فَلْتَرْجِعْ فَأَمَرَهَا فَرَجَعَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حسبي حسبي. رَوَاهُ الدَّارمِيّ

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، جبریل ؑ نبی ﷺ کے پاس تشریف لائے جبکہ آپ غمگین بیٹھے ہوئے تھے اور آپ مکہ والوں کے ناروا سلوک سے خون سے رنگین ہو چکے تھے ، انہوں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! کیا آپ پسند کرتے ہیں کہ ہم آپ کو ایک نشانی دکھائیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ہاں ۔‘‘ جبریل ؑ نے آپ کے پیچھے سے ایک درخت دیکھا ، اور فرمایا : اسے بلائیں ، آپ نے اسے بلایا تو وہ آیا اور آپ کے سامنے کھڑا ہو گیا ، پھر آپ نے کہا : اسے واپس جانے کا حکم فرمائیں ، انہوں نے اسے حکم فرمایا تو وہ واپس چلا گیا ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میرے لیے کافی ہے ، میرے لیے کافی ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الدارمی ۔

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَأَقْبَلَ أَعْرَابِي فَلَمَّا دنا مِنْهُ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولَهُ قَالَ وَمَنْ يَشْهَدُ عَلَى مَا تَقُولُ؟ قَالَ: «هَذِهِ السَّلَمَةُ» فَدَعَاهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِشَاطِئِ الْوَادِي فَأَقْبَلَتْ تَخُدُّ الْأَرْضَ حَتَّى قَامَتْ بَيْنَ يَدَيْهِ فَاسْتَشْهِدْهَا ثَلَاثًا فَشَهِدَتْ ثَلَاثًا أَنَّهُ كَمَا قَالَ ثُمَّ رجعتْ إِلى منبتِها. رَوَاهُ الدَّارمِيّ

ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم ایک سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے ، ایک اعرابی آیا ، جب وہ قریب آ گیا تو رسول اللہ ﷺ نے اسے فرمایا :’’ کیا تم گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، وہ یکتا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں اور یہ کہ محمد (ﷺ) اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں ۔‘‘ اس نے کہا ، آپ جو فرما رہے ہیں اس پر کون گواہی دیتا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ یہ خار دار درخت ۔‘‘ رسول اللہ ﷺ نے اسے بلایا اور وہ وادی کے کنارے پر تھا ، وہ زمین پھاڑتا ہوا آیا حتیٰ کہ وہ آپ کے سامنے کھڑا ہو گیا ۔ آپ نے اس سے تین مرتبہ گواہی طلب کی تو اس نے تین مرتبہ گواہی دی کہ آپ کی شان وہی ہے جیسے کہ آپ ﷺ نے فرمایا ہے ، پھر وہ اپنی اگنے کی جگہ پر چلا گیا ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الدارمی ۔

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: بِمَا أَعْرِفُ أَنَّكَ نَبِيٌّ؟ قَالَ: «إِنْ دَعَوْتَ هَذَا الْعِذْقَ مِنْ هَذِهِ النَّخْلَةِ يَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ» فَدَعَاهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ يَنْزِلُ مِنَ النَّخْلَةِ حَتَّى سَقَطَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ: «ارْجِعْ» فَعَادَ فَأَسْلَمَ الْأَعْرَابِيُّ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَصَححهُ

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک اعرابی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضرہوا اور اس نے عرض کیا ، مجھے کس طرح پتہ چلے کہ آپ نبی ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اگر میں کھجور کے اس درخت سے اس خوشے کو بلاؤں اور وہ گواہی دے کہ میں اللہ کا رسول ہوں (تو پھر ٹھیک ہے) ۔‘‘ رسول اللہ ﷺ نے اسے بلایا تو وہ کھجور کے درخت سے اتر کر نبی ﷺ کی خدمت میں پیش ہو گیا ، پھر آپ ﷺ نے فرمایا :’’ واپس چلے جاؤ ۔‘‘ وہ واپس چلا گیا ، اور اعرابی نے اسلام قبول کر لیا ۔ ترمذی ، اور انہوں نے اسے صحیح قرار دیا ہے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

وَعَن أبي هريرةَ قَالَ جَاءَ ذِئْبٌ إِلَى رَاعِي غَنَمٍ فَأَخَذَ مِنْهَا شَاةً فَطَلَبَهُ الرَّاعِي حَتَّى انْتَزَعَهَا مِنْهُ قَالَ فَصَعِدَ الذئبُ على تل فأقعى واستذفر فَقَالَ عَمَدت إِلَى رزق رزقنيه الله عز وَجل أخذتُه ثمَّ انتزعتَه مِنِّي فَقَالَ الرَّجُلُ تَاللَّهِ إِنْ رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ ذئبا يَتَكَلَّمُ فَقَالَ الذِّئْبُ أَعْجَبُ مِنْ هَذَا رَجُلٌ فِي النَّخَلَاتِ بَيْنَ الْحَرَّتَيْنِ يُخْبِرُكُمْ بِمَا مَضَى وَبِمَا هُوَ كَائِن بعدكم وَكَانَ الرجل يَهُودِيّا فجَاء الرجل إِلَى النَّبِي صلى الله عَلَيْهِ وَسلم فَأسلم وَخَبره فَصَدَّقَهُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهَا أَمارَة من أَمَارَاتٌ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ قَدْ أَوْشَكَ الرَّجُلُ أَن يخرج فَلَا يرجع حَتَّى تحدثه نعلاه وَسَوْطه مَا أَحْدَثَ أَهْلُهُ بَعْدَهُ . رَوَاهُ فِي شَرْحِ السُّنَّةِ

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک بھیڑیا بکریوں کے ریوڑ کے چرواہے کے پاس آیا اور اس نے وہاں سے ایک بکری اٹھا لی ، چرواہے نے اس کا پیچھا کیا حتیٰ کہ اس کو اس سے چھڑا لیا ، راوی بیان کرتے ہیں ، بھیڑیا ایک ٹیلے پر چڑھ گیا ، اور وہاں سرین کے بل بیٹھ گیا اور دم دونوں پاؤں کے درمیان داخل کر لی ، پھر اس نے کہا : میں نے روزی کا قصد کیا جو اللہ نے مجھے عطا کی تھی اور میں نے اسے حاصل کر لیا تھا ، مگر تو نے اسے مجھ سے چھڑا لیا ۔ اس آدمی نے کہا : اللہ کی قسم ! میں نے آج کے دن کی طرح کوئی بھیڑیا بولتے ہوئے نہیں دیکھا ، بھیڑیے نے کہا : اس سے بھی عجیب بات یہ ہے کہ آدمی (محمد ﷺ) جو دو پہاڑوں کے درمیان واقع نخلستان (مدینہ) میں رہتا ہے ، وہ تمہیں ماضی اور حال کے واقعات کے متعلق بتاتا ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں ، وہ شخص یہودی تھا ، وہ نبی ﷺ کے پاس آیا تو اس نے اس واقعہ کے متعلق آپ کو بتایا اور اسلام قبول کر لیا ۔ نبی ﷺ نے اس کی تصدیق فرمائی ، پھر نبی ﷺ نے فرمایا :’’ یہ قیامت سے پہلے کی نشانیاں ہیں ، قریب ہے کہ آدمی (گھر سے) نکلے ، پھر وہ واپس آئے تو اس کے جوتے اور اس کا کوڑا اسے ان حالات کے متعلق بتائیں جو اس کے بعد اس کے اہل خانہ کے ساتھ پیش آئے ہوں ۔‘‘ صحیح ، رواہ فی شرح السنہ ۔