مشکوۃ

Mishkat

كتاب المناقب

عشرہ مبشرہ ؓ کے مناقب کا بیان

بَابُ مَنَاقِبِ الْعَشَرَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ

وَعَن قيس بن حازِم قَالَ: رَأَيْتُ يَدَ طَلْحَةَ شَلَّاءَ وَقَى بِهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ. رَوَاهُ البُخَارِيّ

قیس بن ابی حازم ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے طلحہ ؓ کا ہاتھ شل دیکھا جس کے ساتھ انہوں نے غزوۂ احد میں نبی ﷺ کو (دشمن کے وار سے) بچایا تھا ۔ رواہ البخاری ۔

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ يَأْتِينِي بِخَبَرِ الْقَوْمِ يَوْمَ الْأَحْزَابِ؟» قَالَ الزُّبَيْرُ: أَنَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيَّاً وحَوَاريَّ الزبيرُ» مُتَّفق عَلَيْهِ

جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ نے غزوۂ احزاب کے روز فرمایا :’’ کون شخص میرے پاس لشکر کی خبر لائے گا ؟‘‘ زبیر ؓ نے عرض کیا : میں ! نبی ﷺ نے فرمایا :’’ ہر نبی کا ایک حواری (مخلص معاون) ہوتا ہے اور میرے حواری زبیر ؓ ہیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔

وَعَنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ يَأْتِي بَنِي قُرَيْظَةَ فَيَأْتِينِي بِخَبَرِهِمْ؟» فَانْطَلَقْتُ فَلَمَّا رَجَعْتُ جَمَعَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَوَيْهِ فَقَالَ: «فَدَاكَ أَبِي وَأُمِّي» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ

زبیر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ کون شخص بنو قریظہ جائے اور ان کے متعلق خبر میرے پاس لائے ؟‘‘ میں گیا ، اور جب میں واپس آیا تو رسول اللہ ﷺ نے میرے لیے فرمایا :’’ تجھ پر میرے والدین فدا ہوں ۔‘‘ متفق علیہ ۔

وَعَن عليٍّ قَالَ: مَا سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ أَبَوَيْهِ لِأَحَدٍ إِلَّا لِسَعْدِ بْنِ مَالِكٍ فَإِنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ يَوْمَ أُحُدٍ: «يَا سَعْدُ ارْمِ فَدَاكَ أَبِي وَأُمِّي» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ

علی ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے نبی ﷺ کو سعد بن مالک ؓ کے علاوہ کسی اور شخص کے لیے اپنے والدین کو ایک ساتھ جمع کرتے (یعنی میرے ماں باپ تجھ پر فدا ہوں) نہیں سنا ، کیونکہ غزوۂ احد کے موقع پر میں نے آپ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ سعد ! تیر اندازی کرو ، میرے والدین تم پر قربان ہوں ۔‘‘ متفق علیہ ۔

وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ: إِنِّي لَأَوَّلُ الْعَرَبِ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيل الله. مُتَّفق عَلَيْهِ

سعد بن ابی وقاص ؓ بیان کرتے ہیں ، اللہ کی راہ میں تیر چلانے والا میں پہلا عربی شخص ہوں ۔ متفق علیہ ۔

وَعَن عَائِشَة قَالَتْ: سَهِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقْدِمَهُ الْمَدِينَةَ لَيْلَةً فَقَالَ: «لَيْتَ رَجُلًا صَالِحًا يَحْرُسُنِي» إِذْ سَمِعْنَا صَوْتَ سِلَاحٍ فَقَالَ: «مَنْ هَذَا؟» قَالَ: أَنَا سَعْدٌ قَالَ: «مَا جَاءَ بِكَ؟» قَالَ: وَقَعَ فِي نَفْسِي خَوْفٌ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجِئْتُ أَحْرُسُهُ فَدَعَا لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ نَامَ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ (کسی غزوہ سے واپس) مدینہ آئے تو رات بھر جاگتے رہے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کاش کوئی مرد صالح میرے لیے پہرہ دیتا ، اتنے میں ہم نے ہتھیاروں کی آواز (جھنکار) سنی ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ یہ کون ہے ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : میں سعد ہوں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ آپ یہاں کیسے آئے ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : میرے دل میں رسول اللہ ﷺ کے متعلق خوف سا پیدا ہوا تو میں آپ کے لیے پہرہ دینے آیا ہوں ، رسول اللہ ﷺ نے ان کے لیے دعا فرمائی پھر سو گئے ۔ متفق علیہ ۔

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لِكُلِّ أُمَّةٍ أَمِينٌ وَأَمِينُ هَذِهِ الْأُمَّةِ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجراح. مُتَّفق عَلَيْهِ

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ہر امت کے لیے ایک امین ہوتا ہے اور اس امت کے امین ابوعبیدہ بن جراح ہیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔

وَعَن ابْن أبي مليكَة قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ وَسُئِلَتْ: مَنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْتَخْلِفًا لَوِ اسْتَخْلَفَهُ؟ قَالَت: أَبُو بكر. فَقيل: ثُمَّ مَنْ بَعْدَ أَبِي بَكْرٍ؟ قَالَتْ: عُمَرُ. قِيلَ: مَنْ بَعْدَ عُمَرَ؟ قَالَتْ: أَبُو عُبَيْدَةَ بن الْجراح. رَوَاهُ مُسلم

ابن ابی ملیکہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے عائشہ ؓ سے اس وقت سنا جب ان سے یہ سوال کیا گیا کہ اگر رسول اللہ ﷺ کسی کو خلیفہ نامزد کرتے تو آپ کسے نامزد فرماتے ؟ انہوں نے فرمایا : ابوبکر ؓ ، پوچھا گیا : پھر ابوبکر ؓ کے بعد کون ؟ انہوں نے فرمایا : عمر ؓ ، پوچھا گیا : عمر ؓ کے بعد کون ؟ انہوں نے فرمایا : ابوعبیدہ بن جراح ؓ ۔ رواہ مسلم ۔

وَرَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ

ابن ماجہ ؒ نے اسے سعید بن زید ؓ سے روایت کیا ہے ۔ صحیح ، رواہ ابن ماجہ ۔

وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَرْحَمُ أُمَّتِي بِأُمَّتِي أَبُو بَكْرٍ وَأَشَدُّهُمْ فِي أَمْرِ اللَّهِ عُمَرُ وَأَصْدَقُهُمْ حَيَاءً عُثْمَانُ وَأَفْرَضُهُمْ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَأَقْرَؤُهُمْ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ وَأَعْلَمُهُمْ بِالْحَلَالِ وَالْحَرَامِ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ وَلِكُلِّ أُمَّةٍ أَمِينٌ وَأَمِينُ هَذِهِ الْأُمَّةِ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ» رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيح وروى مَعْمَرٍ عَنْ قَتَادَةَ مُرْسَلًا وَفِيهِ: «وَأَقْضَاهُمْ عَلِيٌّ»

انس ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ میری امت میں سے میری امت پر سب سے زیادہ مہربان ابوبکر ہیں ، اللہ کے دین کے معاملے میں سب سے زیادہ سخت عمر ہیں ، ان میں سے سب سے زیادہ با حیا عثمان ہیں ، علم میراث کے سب سے بڑے عالم زید بن ثابت ہیں ، سب سے بڑے قاری ابی بن کعب ہیں ، حلال و حرام کے متعلق سب سے زیادہ علم رکھنے والے معاذ بن جبل ہیں ، اور ہر امت کا ایک امین ہوتا ہے اور اس امت کے امین ابوعبیدہ بن جراح ہیں ۔‘‘ احمد ، ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ احمد و الترمذی ۔ اور معمر سے قتادہ کی سند سے مرسل روایت ہے ، اور اس میں ہے : قضا میں سب سے زیادہ عالم علی ؓ ہیں ۔‘‘

وَعَنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: كَانَ عَلَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ دِرْعَانِ فَنَهَضَ إِلَى الصَّخْرَةِ فَلَمْ يَسْتَطِعْ فَقَعَدَ طَلْحَةُ تَحْتَهُ حَتَّى اسْتَوَى عَلَى الصَّخْرَةِ فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «أَوْجَبَ طَلْحَةُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

زبیر ؓ بیان کرتے ہیں ، غزوۂ احد کے موقع پر نبی ﷺ نے دو زرہیں پہنی ہوئی تھیں ، آپ ایک چٹان کی طرف متوجہ ہوئے لیکن آپ اس پر چڑھ نہ سکے تو طلحہ ؓ آپ کے نیچے بیٹھ گئے حتیٰ کہ آپ اس چٹان پر پہنچ گئے ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ طلحہ نے (جنت کو) واجب کر لیا ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی ۔

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: نَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ: «مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى رَجُلٍ يَمْشِي عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ وَقَدْ قَضَى نَحْبَهُ فَلْيَنْظُرْ إِلَى هَذَا» . وَفِي رِوَايَةٍ: «مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى شَهِيدٍ يَمْشِي عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ فَلْيَنْظُرْ إِلَى طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ الله» رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے طلحہ بن عبیداللہ ؓ کی طرف دیکھا تو فرمایا :’’ جو شخص یہ پسند کرتا ہو کہ وہ روئے زمین پر چلتے ہوئے ایسے شخص کو دیکھے جو اپنا عہد نبھا چکا تو وہ اس شخص کو دیکھ لے ۔‘‘ ایک دوسری روایت میں ہے :’’ جو شخص روئے زمین پر چلتے پھرتے شہید کو دیکھنا چاہے تو وہ طلحہ بن عبیداللہ ؓ کو دیکھ لے ۔‘‘ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ أُذُنِي مِنْ فِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «طَلْحَةُ وَالزُّبَيْرُ جَارَايَ فِي الْجَنَّةِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ

علی ؓ بیان کرتے ہیں ، میرے کانوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ طلحہ اور زبیر جنت میں میرے ہمسائے ہیں ۔‘‘ ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَئِذٍ يَعْنِي يَوْمَ أُحُدٍ: «اللَّهُمَّ اشْدُدْ رَمْيَتَهُ وَأَجِبْ دعوتَه» . رَوَاهُ فِي «شرح السّنة»

سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے غزوۂ احد کے موقع پر فرمایا :’’ اے اللہ ! اس (سعد ؓ) کو تیر اندازی میں قوی بنا اور اس کی دعا قبول فرما ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ فی شرح السنہ ۔

وَعَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «اللَّهُمَّ اسْتَجِبْ لِسَعْدٍ إِذَا دَعَاكَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اے اللہ ! سعد جب تجھ سے دعا کرے تو تو اس کی دعا قبول فرما ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: مَا جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَاهُ وَأُمَّهُ إِلَّا لِسَعْدٍ قَالَ لَهُ يَوْمَ أُحُدٍ: «ارْمِ فَدَاكَ أَبِي وَأُمِّي» وَقَالَ لَهُ: «ارْمِ أَيهَا الْغُلَام الحزور» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے صرف سعد ؓ کے لیے اپنے والدین کو (فدا ہونے پر) اکٹھا ذکر کیا ، آپ ﷺ نے غزوۂ احد کے موقع پر انہیں فرمایا :’’ میرے ماں باپ تجھ پر فدا ہوں تیر اندازی کرو ۔‘‘ اور آپ ﷺ نے انہیں فرمایا :’’ قوی نوجوان ! تیر پھینکو ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

وَعَن جَابر قَالَ: أَقْبَلَ سَعْدٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَذَا خَالِي فَلْيُرِنِي امْرُؤٌ خَالَهُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: كَانَ سَعْدٌ مِنْ بَنِي زهرَة وَكَانَتْ أُمُّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَنِي زُهْرَةَ فَلِذَلِكَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَذَا خَالِي» . وَفِي «الْمَصَابِيحِ» : «فلْيُكرمَنَّ» بدل «فَلْيُرني»

جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، سعد ؓ آئے تو نبی ﷺ نے فرمایا :’’ یہ میرے ماموں ہیں ، کوئی مجھے ان جیسا اپنا ماموں دکھائے ۔‘‘ امام ترمذی ؒ نے فرمایا : سعد ؓ بنو زہرہ قبیلے سے تھے ، اور نبی ﷺ کی والدہ محترمہ بھی بنو زہرہ قبیلے سے تھیں ، اسی لیے نبی ﷺ نے فرمایا :’’ یہ میرے ماموں ہیں ۔‘‘ اور مصابیح میں ((فَلْیُرِنِیْ)) کے بجائے : ((فَلْیُکْرِمَنَّ)) کے الفاظ ہیں ۔ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔