مشکوۃ

Mishkat

كتاب المناقب

رسول اللہ ﷺ کے گھر والوں کے مناقب کا بیان

بَابِ مَنَاقِبِ أَهْلِ

وَعَنْ جُمَيْعِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ عَمَّتِي عَلَى عَائِشَةَ فَسَأَلْتُ: أَيُّ النَّاسِ كَانَ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ: فَاطِمَةُ. فَقِيلَ: مِنَ الرِّجَالِ؟ قَالَتْ: زَوْجُهَا إِنْ كَانَ مَا عَلِمْتُ صَوَّامًا قَوَّامًا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

جمیع بن عمیر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں اپنی پھوپھی کے ساتھ عائشہ ؓ کے پاس گیا تو میں نے پوچھا : رسول اللہ ﷺ کو سب سے زیادہ کس سے محبت تھی ؟ انہوں نے فرمایا : فاطمہ ؓ سے ، پوچھا گیا : مردوں میں سے ؟ انہوں نے فرمایا : ان کے شوہر (علی ؓ) سے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

إِلَّا الْجُمْلَة الْأَخِيرَة فصحيحة) وَعَنْ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ رَبِيعَةَ أَنَّ الْعَبَّاسَ دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُغْضَبًا وَأَنَا عِنْدَهُ فَقَالَ: «مَا أَغْضَبَكَ؟» قَالَ: يَا رَسُول الله مَا لَنَا وَلِقُرَيْشٍ إِذَا تَلَاقَوْا بَيْنَهُمْ تَلَاقَوْا بِوُجُوهٍ مُبْشَرَةٍ وَإِذَا لَقُونَا لَقُونَا بِغَيْرِ ذَلِكَ؟ فَغَضِبَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى احْمَرَّ وَجْهُهُ ثُمَّ قَالَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يَدْخُلُ قَلْبَ رَجُلٍ الْإِيمَانُ حَتَّى يحبكم لله وَلِرَسُولِهِ» ثمَّ قَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ مَنْ آذَى عَمِّي فَقَدْ آذَانِي فَإِنَّمَا عَمُّ الرَّجُلِ صِنْوُ أَبِيهِ» رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ. وَفِي «المصابيح» عَن الْمطلب

عبد المطلب بن ربیعہ سے روایت ہے کہ عباس ؓ غصے کی حالت میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، میں اس وقت آپ کے پاس ہی تھا ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ آپ کو کس نے ناراض کیا ؟‘‘ انہوں نے فرمایا : اللہ کے رسول ! ہمارا (بنو ہاشم) اور باقی قریشیوں کا کیا معاملہ ہے ؟ جب وہ آپس میں ملتے ہیں تو بڑی خندہ پیشانی سے ملتے ہیں ، اور جب ہم سے ملتے ہیں تو اس طرح نہیں ملتے ، چنانچہ رسول اللہ ﷺ بھی غصے میں آ گئے حتیٰ کہ آپ کا چہرہ مبارک سرخ ہو گیا ۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! کسی شخص کے دل میں ایمان داخل نہیں ہو سکتا حتیٰ کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی خاطر تم سے محبت کرے ۔‘‘ پھر فرمایا :’’ لوگو ! جس نے میرے چچا کو اذیت پہنچائی اس نے مجھے اذیت پہنچائی ، آدمی کا چچا اس کے باپ کے مانند ہوتا ہے ۔‘‘ ترمذی ، اور مصابیح میں مطلب سے مروی ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْعَبَّاسُ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ» رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ عباس مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

وَزِيَادَة رزين مُنكرَة) وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْعَبَّاسِ: «إِذَا كَانَ غَدَاةَ الِاثْنَيْنِ فَأْتِنِي أَنْتَ وَوَلَدُكَ حَتَّى أَدْعُوَ لَهُمْ بِدَعْوَةٍ يَنْفَعُكَ اللَّهُ بِهَا وَوَلَدَكَ» فَغَدَا وَغَدَوْنَا مَعَهُ وَأَلْبَسَنَا كِسَاءَهُ ثُمَّ قَالَ: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْعَبَّاسِ وَوَلَدِهِ مَغْفِرَةً ظَاهِرَةً وَبَاطِنَةً لَا تُغَادِرُ ذَنْبًا اللَّهُمَّ احْفَظْهُ فِي وَلَدِهِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَزَادَ رَزِينٌ: «وَاجْعَلِ الْخِلَافَةَ بَاقِيَةً فِي عَقِبِهِ» وَقَالَ التِّرْمِذِيّ: هَذَا حَدِيث غَرِيب

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے عباس ؓ سے فرمایا :’’ جب پیر کا دن ہو تو آپ اور آپ کی اولاد میرے پاس آنا ، میں تمہارے لیے دعا کروں گا جس کے ذریعے اللہ تمہیں اور تمہاری اولاد کو فائدہ پہنچائے گا ۔‘‘ ہم ان کے ساتھ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، آپ ﷺ نے ہمیں اپنی چادر میں لے کر دعا فرمائی :’’ اے اللہ ! عباس اور اس کی اولاد کی تمام ظاہری و باطنی لغزشیں معاف فرما ، ان کا کوئی گناہ باقی نہ چھوڑ ، اے اللہ ! ان کا سایہ ان کی اولاد پر قائم فرما ۔‘‘ اور رزین نے یہ اضافہ نقل کیا ہے :’’ اور ان کی اولاد میں خلافت باقی رکھ ۔‘‘ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی و رزین ۔ْ

وَعنهُ أَنه رأى جِبْرِيل مَرَّتَيْنِ وَدَعَا لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مرَّتَيْنِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے جبریل کو دو مرتبہ دیکھا ہے ۔ نیز رسول اللہ ﷺ نے ان کے حق میں دو مرتبہ دعا فرمائی ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

وَعَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: دَعَا لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُؤْتِيَنِي اللَّهُ الْحِكْمَة مرَّتَيْنِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے دو مرتبہ ان کے حق میں دعا فرمائی کہ اللہ مجھے حکمت عطا فرمائے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كَانَ جَعْفَرٌ يُحِبُّ الْمَسَاكِينَ وَيَجْلِسُ إِلَيْهِمْ وَيُحَدِّثُهُمْ وَيُحَدِّثُونَهُ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَنِّيهِ بِأَبِي الْمَسَاكِين. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، جعفر ؓ مساکین سے محبت کیا کرتے تھے ، ان کے ہاں بیٹھا کرتے تھے اور وہ ان سے بات چیت کیا کرتے تھے ۔ اور رسول اللہ ﷺ نے ان کی کنیت ’’ابوالمساکین‘‘ رکھی تھی ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «رَأَيْتُ جَعْفَرًا يَطِيرُ فِي الْجَنَّةِ مَعَ الْمَلَائِكَةِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میں نے جعفر کو جنت میں فرشتوں کے ساتھ پرواز کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔‘‘ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ حسن ، رواہ الترمذی ۔

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ سَيِّدَا شباب أهل الْجنَّة» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

ابوسعید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ حسن و حسین اہل جنت کے جوانوں کے سردار ہیں ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی ۔

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ هُمَا رَيْحَانَيَّ مِنَ الدُّنْيَا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَدْ سبَق فِي الْفَصْل الأول

ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ حسن و حسین دونوں دنیا میں میرے دو پھول ہیں ۔‘‘ ترمذی ۔ یہ حدیث فصل اول میں بھی گزر چکی ہے ۔ صحیح ، رواہ الترمذی ۔

وَعَن أسامةَ بنِ زيدٍ قَالَ: طَرَقْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فِي بَعْضِ الْحَاجَةِ فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُشْتَمِلٌ عَلَى شَيْء وَلَا أَدْرِي مَا هُوَ فَلَمَّا فَرَغْتُ مِنْ حَاجَتِي قُلْتُ: مَا هَذَا الَّذِي أَنْتَ مُشْتَمِلٌ عَلَيْهِ؟ فَكَشَفَهُ فَإِذَا الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ عَلَى وَرِكَيْهِ. فَقَالَ: «هَذَانِ ابْنَايَ وَابْنَا ابْنَتِي اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُمَا فأحبهما وَأحب من يحبهما» رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

اسامہ بن زید ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک رات کسی ضرورت کے تحت میں نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، نبی ﷺ باہر تشریف لائے تو آپ کسی چیز کو چھپائے ہوئے تھے ، میں نہیں جانتا تھا کہ وہ کیا چیز تھی ؟ جب میں اپنے کام سے فارغ ہوا تو میں نے عرض کیا : آپ نے یہ کیا چیز چھپا رکھی ہے ؟ آپ نے کپڑا اٹھایا تو آپ کے دونوں کولہوں پر حسن و حسین ؓ تھے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ یہ دونوں میرے بیٹے ہیں ، اور میری بیٹی کے بیٹے ہیں ، اے اللہ ! میں انہیں محبوب رکھتا ہوں ، تو بھی ان سے محبت فرما ، اور ان سے محبت رکھنے والے سے بھی محبت فرما ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی ۔

وَعَنْ سَلْمَى قَالَتْ: دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ وَهِي تبْكي فَقلت: مَا بيكيك؟ قَالَتْ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَعْنِي فِي الْمَنَامِ - وَعَلَى رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ التُّرَابُ فَقُلْتُ: مَا لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «شَهِدْتُ قَتْلَ الْحُسَيْنِ آنِفًا» رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ

سلمی بیان کرتی ہیں کہ میں ام سلمہ ؓ کے پاس گئی تو وہ رو رہی تھیں ، میں نے کہا : آپ کیوں رو رہی ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : میں نے خواب میں رسول اللہ ﷺ کو دیکھا تو آپ کے سر مبارک اور داڑھی پر مٹی تھی ۔ میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! آپ کا کیا حال ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ میں ابھی ابھی حسین کی شہادت کے واقعہ میں حاضر ہوا تھا ۔‘‘ ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَي بَيْتِكَ أَحَبُّ إِلَيْكَ؟ قَالَ: «الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ» وَكَانَ يَقُولُ لِفَاطِمَةَ: «ادْعِي لِي ابْنَيَّ» فَيَشُمُّهُمَا وَيَضُمُّهُمَا إِلَيْهِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا گیا ، آپ کے اہل بیت میں سے کون سا شخص آپ کو سب سے زیادہ محبوب ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ حسن و حسین ۔‘‘ آپ ﷺ فاطمہ ؓ سے فرمایا کرتے تھے :’’ میرے بیٹوں کو بلاؤ ۔‘‘ آپ انہیں چومتے اور انہیں اپنے گلے سے لگاتے ۔‘‘ ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُنَا إِذْ جَاءَ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ عَلَيْهِمَا قَمِيصَانِ أَحْمَرَانِ يَمْشِيَانِ وَيَعْثُرَانِ فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ الْمِنْبَرِ فَحَمَلَهُمَا وَوَضَعَهُمَا بَيْنَ يَدَيْهِ ثُمَّ قَالَ: «صَدَقَ اللَّهُ [إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ] نَظَرْتُ إِلَى هَذَيْنِ الصَّبِيَّيْنِ يَمْشِيَانِ وَيَعْثُرَانِ فَلَمْ أَصْبِرْ حَتَّى قَطَعْتُ حَدِيثِي وَرَفَعْتُهُمَا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ

بریدہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ ہمیں خطاب فرما رہے تھے کہ اچانک حسن و حسین ؓ آئے ، انہوں نے سرخ قمیصیں پہن رکھی تھیں ، وہ چلتے اور گر پڑتے تھے ، رسول اللہ ﷺ منبر سے اترے ، انہیں اٹھایا اور انہیں اپنے سامنے بٹھایا ، پھر فرمایا :’’ اللہ نے سچ فرمایا :’’ تمہارے اموال و اولاد باعث فتنہ ہیں ۔‘‘ میں نے ان دو بچوں کو چلتے اور گرتے ہوئے دیکھا تو میں صبر نہ کر سکا حتیٰ کہ میں نے اپنی بات کاٹ کر انہیں اٹھا لیا ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی ۔

وَعَن يعلى بن مرَّة قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «حُسَيْنٌ مِنِّي وَأَنَا مِنْ حُسَيْنٍ أَحَبَّ اللَّهُ مَنْ أَحَبَّ حُسَيْنًا حُسَيْنٌ سِبَطٌ مِنَ الأسباط» رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

یعلی بن مرہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ حسین مجھ سے ہیں اور میں حسین سے ہوں ، جو شخص حسین سے محبت کرتا ہے تو اللہ اس سے محبت کرے اور حسین میری اولاد سے ہیں ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔

وَعَن حُذَيْفَة قَالَ: قُلْتُ لِأُمِّي: دَعِينِي آتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُصَلِّي مَعَهُ الْمَغْرِبَ وَأَسْأَلُهُ أَنْ يَسْتَغْفِرَ لِي وَلَكِ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّيْتُ مَعَهُ الْمَغْرِبَ فَصَلَّى حَتَّى صَلَّى الْعِشَاءَ ثُمَّ انْفَتَلَ فَتَبِعْتُهُ فَسَمِعَ صَوْتِي فَقَالَ: «مَنْ هَذَا؟ حُذَيْفَةُ؟» قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ: «مَا حَاجَتُكَ؟ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ وَلِأُمِّكِ إِنَّ هَذَا مَلَكٌ لَمْ يَنْزِلِ الْأَرْضَ قَطُّ قَبْلَ هَذِهِ اللَّيْلَةِ اسْتَأْذَنَ رَبَّهُ أَنْ يُسَلِّمَ عَلَيَّ وَيُبَشِّرَنِي بِأَنَّ فَاطِمَةَ سَيِّدَةُ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَأَنَّ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ» رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ

حذیفہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے اپنی والدہ سے کہا : مجھے چھوڑ دیں کہ میں نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ کے ساتھ نماز مغرب ادا کروں ، اور آپ سے درخواست کروں کہ آپ تمہارے لیے اور میرے لیے دعائے مغفرت فرمائیں ، میں نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، آپ کے ساتھ نماز مغرب ادا کی ، آپ (نفل) نماز پڑھتے رہے حتیٰ کہ آپ نے نماز عشاء ادا کی ، پھر آپ واپس گھر جانے لگے تو میں بھی آپ کے پیچھے پیچھے چل دیا ، آپ ﷺ نے میری آواز سنی تو فرمایا :’’ کون ہے ؟ کیا حذیفہ ہے ؟‘‘ میں نے عرض کیا ، جی ہاں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ تمہاری اور تمہاری والدہ کی مغفرت فرمائے ، کیا کام ہے ؟ (پھر فرمایا) یہ ایک فرشتہ ہے ، جو اس رات سے پہلے کبھی زمین پر نہیں اترا ، اس نے اپنے رب سے اجازت طلب کی کہ وہ مجھے سلام کرے اور مجھے بشارت سنائے کہ فاطمہ اہل جنت کی خواتین کی سردار ہیں ۔ اور حسن و حسین اہل جنت کے جوانوں کے سردار ہیں ۔‘‘ ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَامِلًا الْحَسَنَ بْنَ عليٍّ على عَاتِقه فَقَالَ رَجُلٌ: نِعْمَ الْمَرْكَبُ رَكِبْتَ يَا غُلَامُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَنِعْمَ الرَّاكِبُ هُوَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ حسن بن علی ؓ کو اپنے کندھے پر اٹھائے ہوئے تھے تو کسی آدمی نے کہا : اے لڑکے ! کیا خوب سواری ہے جس پر تو سوار ہے ! نبی ﷺ نے فرمایا :’’ سوار بھی کیا خوب ہے !‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

وَعَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ فَرَضَ لِأُسَامَةَ فِي ثَلَاثَةِ آلَافٍ وَخَمْسِمِائَةٍ وَفَرَضَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فِي ثَلَاثَةِ آلَافٍ. فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ لِأَبِيهِ: لِمَ فَضَّلْتَ أُسَامَة عَليّ؟ فو الله مَا سَبَقَنِي إِلَى مَشْهَدٍ. قَالَ: لِأَنَّ زَيْدًا كَانَ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَبِيكَ وَكَانَ أُسَامَةُ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْكَ فَآثَرْتُ حِبُّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى حبي. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

عمر ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے اسامہ ؓ کے لیے ساڑھے تین ہزار وظیفہ مقرر کیا ، اور (اپنے بیٹے) عبداللہ بن عمر ؓ کے لیے تین ہزار وظیفہ مقرر فرمایا تو عبداللہ بن عمر ؓ نے اپنے والد سے عرض کیا : آپ نے اسامہ ؓ کو مجھ پر کیوں فوقیت دی ہے ؟ اللہ کی قسم ! انہوں نے کسی معرکے میں مجھ سے سبقت حاصل نہیں کی ۔ انہوں نے فرمایا : اس لیے کہ زید ؓ رسول اللہ ﷺ کو تمہارے والد سے زیادہ محبوب تھے ، اور اسامہ ؓ رسول اللہ ﷺ کو تم سے زیادہ محبوب تھے لہذا میں نے رسول اللہ ﷺ کے محبوب کو اپنے محبوب پر ترجیح دی ہے ۔ حسن ، رواہ الترمذی ۔

وَعَن جبلة بن حارثةَ قَالَ: قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ابْعَثْ مَعِي أَخِي زَيْدًا. قَالَ: «هُوَ ذَا فَإِنِ انْطَلَقَ مَعَكَ لَمْ أَمْنَعْهُ» قَالَ زَيْدٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ لَا أَخْتَارُ عَلَيْكَ أَحَدًا. قَالَ: فَرَأَيْتُ رَأْيَ أَخِي أَفْضَلَ مِنْ رَأْيِي. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

جبلہ بن حارثہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا ، اللہ کے رسول ! میرے بھائی زید کو میرے ساتھ بھیج دیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ وہ حاضر ہے ، اگر وہ تمارے ساتھ جانا چاہے تو میں اسے منع نہیں کروں گا ۔‘‘ زید ؓ نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! میں آپ پر کسی کو ترجیح نہیں دیتا ۔ انہوں نے کہا : میں نے اپنے بھائی کی رائے کو اپنی رائے سے افضل پایا ۔ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔