مشکوۃ

Mishkat

كتاب المناقب

رسول اللہ ﷺ کے گھر والوں کے مناقب کا بیان

بَابِ مَنَاقِبِ أَهْلِ

وَعَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: لَمَّا ثَقُلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَبَطْتُ وَهَبَطَ النَّاسُ الْمَدِينَةَ فَدَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أُصْمِتَ فَلَمْ يَتَكَلَّمْ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضَعُ عَليّ يَدَيْهِ وَيَرْفَعُهُمَا فَأَعْرِفُ أَنَّهُ يَدْعُو لِي. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ

اسامہ بن زید ؓ بیان کرتے ہیں ، کہ جب رسول اللہ ﷺ (بیماری کی وجہ سے) ضعیف ہو گئے تو میں نے اور صحابہ کرام نے مدینہ میں رہائش اختیار کر لی ، چنانچہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس وقت آپ خاموش تھے اور کسی سے کوئی بات نہیں کر رہے تھے ، رسول اللہ ﷺ مجھ پر اپنے ہاتھ مبارک رکھتے اور انہیں اٹھا لیتے میں نے جان لیا کہ آپ میرے لیے دعا کر رہے ہیں ۔ ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: أَرَادَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُنَحِّي مُخَاطَ أُسَامَةَ. قَالَتْ عَائِشَةُ: دَعْنِي حَتَّى أَكُونَ أَنَا الَّذِي أَفْعَلُ. قَالَ: «يَا عَائِشَةُ أَحِبِّيهِ فَإِنِّي أُحِبُّهُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے اسامہ ؓ کی ناک صاف کرنا چاہی تو عائشہ ؓ نے عرض کیا : مجھے اجازت فرمائیں میں صاف کر دیتی ہوں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ عائشہ اس سے محبت کیا کرو کیونکہ اس سے میں محبت کرتا ہوں ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔

وَعَن أُسَامَة قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا إِذْ جَاءَ عَلِيٌّ وَالْعَبَّاسُ يستأذنان فَقَالَا لِأُسَامَةَ: اسْتَأْذِنْ لَنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ الله عَلِيٌّ وَالْعَبَّاسُ يَسْتَأْذِنَانِ. فَقَالَ: «أَتَدْرِي مَا جَاءَ بهما؟» قلت: لَا. قَالَ: «لكني أَدْرِي فَأذن لَهما» فدخلا فَقَالَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ جِئْنَاكَ نَسْأَلُكَ أَيُّ أَهْلِكَ أَحَبُّ إِلَيْكَ؟ قَالَ: «فَاطِمَةُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ» فَقَالَا: مَا جِئْنَاكَ نَسْأَلُكَ عَنْ أَهْلِكَ قَالَ: أَحَبُّ أَهْلِي إِلَيَّ مَنْ قَدْ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَأَنْعَمْتُ عَلَيْهِ: أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ قَالَا: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: «ثُمَّ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ» فَقَالَ الْعَبَّاسُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ جَعَلْتَ عَمَّكَ آخِرَهُمْ؟ قَالَ: «إِنَّ عَلِيًّا سَبَقَكَ بِالْهِجْرَةِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَذَكَرَ أَنَّ عَمَّ الرَّجُلِ صِنْوُ أَبِيهِ فِي «كتاب الزَّكَاة»

اسامہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں (باب رسالت پر) بیٹھا ہوا تھا کہ علی اور عباس ؓ اجازت طلب کرنے کے لیے تشریف لائے تو انہوں نے اسامہ ؓ سے فرمایا : رسول اللہ ﷺ سے ہمیں اجازت لے دیں ، میں نے (اندر جا کر) عرض کیا ، اللہ کے رسول ! علی اور عباس ؓ اندر آنے کی اجازت طلب کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا تم جانتے ہو کہ وہ کیوں آئے ہیں ؟ میں نے عرض کیا ، نہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ لیکن میں جانتا ہوں ، ان دونوں کو اجازت دے دو ۔‘‘ وہ دونوں اندر آئے تو عرض کیا ، اللہ کے رسول ! ہم آپ کی خدمت میں یہ دریافت کرنے کے لیے حاضر ہوئے ہیں کہ آپ کو اپنے اہل خانہ میں سے کس سے زیادہ محبت ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ فاطمہ بنت محمد (ﷺ) ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا : ہم آپ کی خدمت میں آپ کے اہل خانہ کے متعلق پوچھنے نہیں آئے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ میرے اہل (یعنی مردوں) میں سے وہ شخص مجھے زیادہ محبوب ہے جس پر اللہ نے انعام فرمایا اور میں نے انعام کیا ، اسامہ بن زید ؓ ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا ، پھر کون ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ پھر علی بن ابی طالب ؓ ۔‘‘ عباس ؓ نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! آپ نے اپنے چچا کو ان سے مؤخر کر دیا ۔ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اس لیے کہ علی ؓ نے آپ سے پہلے ہجرت کی ہے ۔‘‘ ترمذی ۔ اور یہ بات :’’ آدمی کا چچا اس کے والد کی مانند ہوتا ہے ۔‘‘ کتاب الزکوۃ میں گزر چکی ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔

عَن عقبةَ بن الْحَارِث قَالَ: صَلَّى أَبُو بَكْرٍ الْعَصْرَ ثُمَّ خَرَجَ يَمْشِي وَمَعَهُ عَلِيٌّ فَرَأَى الْحَسَنَ يَلْعَبُ مَعَ الصِّبْيَانِ فَحَمَلَهُ عَلَى عَاتِقِهِ. وَقَالَ: بِأَبِي شَبِيهٌ بِالنَّبِيِّ لَيْسَ شَبِيهًا بِعَلِيٍّ وَعَلِيٌّ يَضْحَكُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ

عقبہ بن حارث ؓ بیان کرتے ہیں ، ابوبکر ؓ نے نماز عصر پڑھی ، پھر باہر نکلے تو علی ؓ بھی ان کے ساتھ چل رہے تھے ، ابوبکر ؓ نے حسن ؓ کو بچوں کے ساتھ کھیلتا ہوا دیکھا تو انہیں اپنے کندھے پر اٹھا لیا ، اور فرمایا : میرے والد قربان ہوں ، اس کی نبی ﷺ سے مشابہت ہے ، علی ؓ سے مشابہت نہیں ، (یہ بات سن کر) علی ؓ مسکرا دیئے ۔ رواہ البخاری ۔

وَعَن أنس قَالَ: أَتَى عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ بِرَأْسِ الْحُسَيْنِ فَجُعِلَ فِي طَسْتٍ فَجَعَلَ يَنْكُتُ وَقَالَ فِي حُسْنِهِ شَيْئًا قَالَ أَنَسٌ: فَقُلْتُ: وَاللَّهِ إِنَّهُ كَانَ أَشْبَهَهُمْ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ مَخْضُوبًا بِالْوَسِمَةِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَفِي رِوَايَةِ التِّرْمِذِيِّ قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ زِيَادٍ فَجِيءَ بِرَأْسِ الْحُسَيْنِ فَجَعَلَ يَضْرِبُ بِقَضِيبٍ فِي أَنْفِهِ وَيَقُولُ: مَا رَأَيْتُ مِثْلَ هَذَا حسنا. فَقلت: أما إِنَّهُ كَانَ أَشْبَهَهُمْ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ حَسَنٌ غَرِيب

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، حسین ؓ کے سر کو عبیداللہ بن زیاد کے پاس لایا گیا تو اسے ایک طشت میں رکھ دیا گیا ، وہ (چھڑی کے ساتھ) مارنے لگا اور اس نے ان کے حسن کے بارے میں کچھ کہا ، انس ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے کہا : اللہ کی قسم ! وہ سب سے زیادہ رسول اللہ ﷺ کے مشابہ تھے ، اور اس وقت ان کے سر مبارک پر وسمہ لگا ہوا تھا ۔ ترمذی کی روایت میں ہے ، انہوں نے کہا : میں ابن زیاد کے پاس تھا کہ حسین ؓ کا سر لایا گیا ، تو وہ آپ کی ناک پر چھڑی مارنے لگا ، اور کہنے لگا : میں نے ایسا حسن نہیں دیکھا ، میں نے کہا : سن لے ! یہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سب سے زیادہ مشابہت رکھتے تھے ۔ انہوں نے فرمایا : یہ حدیث صحیح حسن غریب ہے ۔ رواہ البخاری و الترمذی ۔

وَعَن أمِّ الْفضل بنت الْحَارِث أَنَّهَا دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي رَأَيْتُ حُلْمًا مُنْكَرًا اللَّيْلَةَ. قَالَ: «وَمَا هُوَ؟» قَالَتْ: إِنَّهُ شَدِيدٌ قَالَ: «وَمَا هُوَ؟» قَالَتْ: رَأَيْتُ كَأَنَّ قِطْعَةً مِنْ جَسَدِكَ قُطِعَتْ وَوُضِعَتْ فِي حِجْرِي. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «رَأَيْتِ خَيْرًا تَلِدُ فَاطِمَةُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ غُلَامًا يَكُونُ فِي حِجْرِكِ» . فَوَلَدَتْ فَاطِمَةُ الْحُسَيْنَ فَكَانَ فِي حِجْرِي كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَدَخَلْتُ يَوْمًا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَضَعْتُهُ فِي حِجْرِهِ ثُمَّ كَانَتْ مِنِّي الْتِفَاتَةٌ فَإِذَا عَيْنَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَهْرِيقَانِ الدُّمُوعَ قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا نبيَّ الله بِأبي أَنْت وَأمي مَالك؟ قَالَ: أَتَانِي جِبْرِيل عَلَيْهِ السَّلَامُ فَأَخْبَرَنِي أَنَّ أُمَّتِي سَتَقْتُلُ ابْنِي هَذَا فَقُلْتُ: هَذَا؟ قَالَ: نَعَمْ وَأَتَانِي بِتُرْبَةٍ من تربته حَمْرَاء

ام الفضل بنت حارث ؓ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا ، اللہ کے رسول ! میں نے رات ایک عجیب سا خواب دیکھا ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ وہ کیا ہے ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : وہ بہت شدید ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ وہ کیا ہے ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : میں نے دیکھا کہ گویا گوشت کا ایک ٹکڑا ہے جو آپ کے جسم اطہر سے کاٹ کر میری گود میں رکھ دیا گیا ہے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تم نے خیر دیکھی ہے ، ان شاء اللہ فاطمہ بچے کو جنم دیں گی اور وہ تمہاری گود میں ہو گا ۔‘‘ فاطمہ ؓ نے حسین ؓ کو جنم دیا اور وہ میری گود میں تھا جیسے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا ۔ ایک روز میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی تو میں نے حسین ؓ کو آپ کی گود میں رکھ دیا ۔ پھر میں کسی اور طرف متوجہ ہو گئی ، اچانک دیکھا تو رسول اللہ ﷺ کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے ، وہ بیان کرتی ہیں ، میں نے عرض کیا ، اللہ کے نبی ! میرے والدین آپ پر قربان ہوں ! آپ کو کیا ہوا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جبریل ؑ میرے پاس تشریف لائے اور انہوں نے مجھے بتایا کہ میری امت عنقریب میرے اس بیٹے کو شہید کر دے گی ۔ میں نے کہا : اس (بچے) کو ؟ انہوں نے کہا : ہاں ! اور انہوں نے مجھے اس (جگہ) کی سرخ مٹی لا کر دی ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی دلائل النبوۃ ۔

وَعَن ابْن عَبَّاس قَالَ: رَأَيْت النَّبِي صلى الله عَلَيْهِ وسل فِيمَا يَرَى النَّائِمُ ذَاتَ يَوْمٍ بِنِصْفِ النَّهَارِ أَشْعَثَ أَغْبَرَ بِيَدِهِ قَارُورَةٌ فِيهَا دَمٌ فَقُلْتُ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي مَا هَذَا؟ قَالَ: «هَذَا دَمُ الْحُسَيْنِ وَأَصْحَابِهِ وَلَمْ أَزَلْ أَلْتَقِطُهُ مُنْذُ الْيَوْم» فأحصي ذَلِك الْوَقْت فأجد قبل ذَلِكَ الْوَقْتِ. رَوَاهُمَا الْبَيْهَقِيُّ فِي «دَلَائِلِ النُّبُوَّةِ» وَأحمد الْأَخير

ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا : میں نے ایک روز نصف النہار کے وقت نبی ﷺ کو خواب میں دیکھا کہ آپ کے بال پراگندہ ہیں اور جسم اطہر غبار آلود ہے ، آپ کے ہاتھ میں خون کی بوتل ہے ، میں نے عرض کیا ، میرے والدین آپ پر قربان ہوں ، یہ کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ یہ حسین اور ان کے ساتھیوں کا خون ہے ، میں آج صبح سے اسے اکٹھا کر رہا ہوں ۔‘‘ میں نے اس وقت کو یاد رکھا اور بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ اسی وقت انہیں شہید کیا گیا تھا ۔ دونوں احادیث کو بیہقی نے دلائل النبوۃ میں روایت کیا ہے اور آخری حدیث کو امام احمد نے بھی روایت کیا ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ البیھقی فی دلائل النبوۃ و احمد ۔

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَحِبُّوا اللَّهَ لِمَا يَغْذُوكُمْ مِنْ نِعَمِهِ فَأَحِبُّونِي لِحُبِّ اللَّهِ وَأَحِبُّوا أَهْلَ بَيْتِي لحبِّي» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ سے محبت کرو کہ اس نے تمہیں نعمتوں سے نوازا ہے ، اور اللہ کی محبت کی خاطر مجھ سے محبت کرو اور میری محبت کی خاطر میرے اہل بیت سے محبت کرو ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔

وَعَن أبي ذرٍ أَنَّهُ قَالَ وَهُوَ آخِذٌ بِبَابِ الْكَعْبَةِ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «أَلَا إِنَّ مِثْلَ أَهْلِ بَيْتِي فِيكُمْ مِثْلُ سَفِينَةِ نُوحٍ مَنْ رَكِبَهَا نَجَا وَمَنْ تَخَلَّفَ عَنْهَا هلك» . رَوَاهُ أَحْمد

ابوذر ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا : اس حال میں کہ وہ کعبہ کے دروازے کو پکڑے ہوئے تھے ، میں نے نبی ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ سن لو ! تم میں میرے اہل بیت کی مثال کشتی نوح کی طرح ہے ، جو اس میں سوار ہو گیا وہ نجات پا گیا اور جو اس سے رہ گیا وہ ہلاک ہو گیا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد فی فضائل الصحابۃ ۔