عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے خواب میں دیکھا کہ گویا میرے ہاتھ میں ریشم کا ایک ٹکڑا ہے ، میں جنت میں جس جگہ جانے کا قصد کرتا ہوں تو وہ مجھے اڑا کر وہاں لے جاتا ہے ، میں نے حفصہ ؓ سے اس کا ذکر کیا تو حفصہ ؓ نے نبی ﷺ سے اس کا ذکر کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تمہارا بھائی نیک آدمی ہے ۔‘‘ یا فرمایا :’’ عبداللہ نیک آدمی ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
حذیفہ ؓ بیان کرتے ہیں ، چال ڈھال اور سیرت و ہدایات میں رسول اللہ ﷺ سے سب سے زیادہ مشابہ ابن ام عبد (عبداللہ بن مسعود ؓ) ہیں ، اور ان کے گھر سے نکلنے سے لے کر واپس گھر جانے تک یہی صورت رہتی ہے ، جب وہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ خلوت میں ہوتے ہیں تو معلوم نہیں وہ کیا کرتے ہیں ۔ رواہ البخاری ۔
ابوموسیٰ اشعری ؓ بیان کرتے ہیں ، میں اور میرا بھائی یمن سے واپس آئے تو کچھ مدت تک ہم یہی سمجھتے رہے کہ عبداللہ بن مسعود ؓ نبی ﷺ کے اہل بیت کے ایک فرد ہیں ۔ وہ اس لیے کہ ان کا اور ان کی والدہ کا بکثرت نبی ﷺ کے پاس آنا جانا ہم دیکھا کرتے تھے ۔ متفق علیہ ۔
عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ چار حضرات ، عبداللہ بن مسعود ، ابوحذیفہ کے آزاد کردہ غلام سالم ، ابی بن کعب اور معاذ بن جبل سے قرآن کی تعلیم حاصل کرو ۔‘‘ متفق علیہ ۔
علقمہ ؒ بیان کرتے ہیں ، میں شام پہنچا تو میں نے دو رکعت نماز پڑھ کر دعا کی : اے اللہ ! مجھے کسی صالح ساتھی کی ہم نشینی نصیب فرما ، میں لوگوں کے پاس آیا اور ان کے پاس بیٹھ گیا ، چنانچہ ایک بزرگ آئے اور وہ میرے پہلو میں بیٹھ گئے ، میں نے کہا : یہ کون صاحب ہیں ؟ انہوں نے بتایا : ابودرداء ہیں ، میں نے کہا : میں نے اللہ سے دعا کی تھی کہ وہ مجھے کسی صالح شخص کی ہم نشینی نصیب فرمائے تو اس نے مجھے آپ کی ہم نشینی عطا فرمائی ۔ انہوں نے مجھ سے پوچھا : آپ کون ہیں ؟ میں نے کہا : کوفی ہوں ، انہوں نے کہا : کیا تمہارے ہاں ابن ام عبد (عبداللہ بن مسعود ؓ) صاحب النعلین صاحب و سادہ و مطہرہ (نبی ﷺ کے نعلین اٹھانے والے ، آپ کا بستر درست کرنے والے اور آپ کے وضو کے لیے پانی کا اہتمام کرنے والے) نہیں ہیں ؟ اور تم میں وہ بھی ہیں جنہیں اللہ نے اپنے نبی کی دعا کے ذریعے شیطان سے پناہ دے دی ہے یعنی عمار بن یاسر ، کیا تم میں راز دان نہیں ہیں ؟ ان رازوں کو ان کے سوا کوئی نہیں جانتا یعنی حذیفہ ؓ ۔ رواہ البخاری ۔
جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ مجھے جنت دکھائی گئی ، میں نے ابوطلحہ ؓ کی اہلیہ دیکھیں ، اور اپنے آگے بلال کے جوتوں کی آواز سنی ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
سعد ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم چھ افراد نبی ﷺ کے ساتھ تھے ، مشرکین نے نبی ﷺ سے کہا کہ ان لوگوں کو یہاں سے دور کر دو اور یہ ہماری موجودگی میں آنے کی جرأت نہ کریں ، راوی بیان کرتے ہیں (ان میں) میں ، ابن مسعود ، ہذیل قبیلے کا ایک آدمی ، بلال اور دو آدمی اور تھے جن کا میں نام نہیں لیتا ، اللہ نے جو چاہا رسول اللہ ﷺ کے دل میں خیال آیا اور آپ نے اپنے دل میں کوئی بات سوچی تو اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی :’’ آپ ان لوگوں کو دور نہ کریں جو صبح و شام اپنے رب کو ، اس کی رضا مندی کے حصول کے لیے پکارتے رہتے ہیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابوموسی ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے انہیں فرمایا :’’ ابوموسیٰ ! آپ کو آل داؤد کی سی خوش الحانی عطا کی گئی ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ کے عہد میں چار افراد نے قرآن کو جمع کر لیا تھا : ابی بن کعب ، معاذ بن جبل ، زید بن ثابت اور ابوزید ؓ ، انس ؓ سے پوچھا گیا : ابوزید کون ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : میرے ایک چچا ہیں ۔ متفق علیہ ۔
خباب بن ارت ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہجرت کی ، ہم اللہ کی رضا مندی چاہتے تھے ، چنانچہ ہمارا اجر اللہ کے ہاں ثابت ہو گیا ، ہم میں سے کچھ (جلد) وفات پا گئے اور انہوں نے اپنے (دنیوی) اجر (مال غنیمت وغیرہ) سے کچھ نہ پایا ، مصعب بن عمیر ؓ بھی انہی میں سے ہیں ، وہ غزوۂ احد میں شہید ہو گئے تھے ، انہیں کفن دینے کے لیے صرف ایک دھاری دار چادر میسر آئی ، جب ہم ان کا سر ڈھانپتے تو ان کے دونوں پاؤں ننگے ہو جاتے اور جب ہم ان کے دونوں پاؤں ڈھانپتے تو ان کا سر ننگا ہو جاتا ، نبی ﷺ نے فرمایا :’’ اس سے ان کا سر ڈھانپ دو اور ان کے پاؤں پر گھاس ڈال دو ۔‘‘ اور ہم میں سے وہ بھی ہیں کہ ان کے لیے پھل پک چکے ہیں اور وہ انہیں چن رہے ہیں ۔ (قتوحات کے بعد دنیوی فوائد بھی حاصل کر رہے ہیں) متفق علیہ ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے نبی ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ سعد بن معاذ ؓ کی وفات پر عرش ہل گیا تھا ۔‘‘ ایک دوسری روایت میں ہے :’’ سعد بن معاذ ؓ کی موت پر رحمن کا عرش ہل گیا تھا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
براء ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ریشمی جوڑا بطور ہدیہ پیش کیا گیا تو صحابہ اسے چھونے لگے اور اس کی ملائمیت پر تعجب کرنے لگے تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تم اس کی ملائمیت پر تعجب کرتے ہو ۔ سعد بن معاذ کے جنت میں رومال اس سے زیادہ بہتر ہیں اور زیادہ ملائم ہیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ام سلیم ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! انس ؓ آپ کا خادم ہے ، اس کے لیے اللہ سے دعا فرمائیں : آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اے اللہ ! اس کے مال و اولاد میں اضافہ فرما ، اور تو نے جو اسے عطا فرمایا ہے اس میں برکت فرما ۔‘‘ انس ؓ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! میرا مال بہت زیادہ ہے ، اور آج میرے بیٹے اور میرے پوتے سو سے زیادہ ہیں ۔ متفق علیہ ۔
سعد بن ابی وقاص ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے عبداللہ بن سلام ؓ کے علاوہ روئے زمین پر چلنے والے کسی اور شخص کے بارے میں نبی ﷺ کو فرماتے ہوئے نہیں سنا کہ ’’ وہ اہل جنت میں سے ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
قیس بن عباد ؓ بیان کرتے ہیں ، میں مدینہ کی مسجد میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک آدمی آیا اس کے چہرے پر خشوع کے آثار تھے ۔ حاضرین نے کہا : یہ آدمی اہل جنت میں سے ہے ، چنانچہ اس نے اختصار کے ساتھ دو رکعتیں پڑھیں ، پھر وہ چلا گیا ۔ میں اس کے پیچھے پیچھے گیا ، تو میں نے کہا : جس وقت آپ مسجد میں تشریف لائے تھے تو لوگوں نے کہا تھا کہ یہ آدمی اہل جنت میں سے ہے ۔ اس آدمی نے کہا : اللہ کی قسم ! کسی شخص کے لیے مناسب نہیں کہ وہ ایسی بات کہے جسے وہ جانتا نہیں ، میں تمہیں بتاتا ہوں کہ ایسے کیوں ہے میں نے رسول اللہ ﷺ کے دور میں خواب دیکھا تو میں نے اسے آپ سے بیان کیا : میں نے دیکھا کہ گویا میں ایک باغ میں ہوں ، انہوں نے اس کی وسعت اور اس کی شادابی کا ذکر کیا ، اس کے وسط میں لوہے کا ستون ہے ، اس کا نچلا حصہ زمین میں ہے اور اس کا اوپر والا حصہ آسمان میں ہے ، اس کی چوٹی پر ایک حلقہ (کڑا) ہے ، مجھے کہا گیا : اس پر چڑھو ، میں نے کہا : میں استطاعت نہیں رکھتا ، میرے پاس ایک خادم آیا اس نے پیچھے سے میرے کپڑے اٹھائے تو میں اوپر چڑھ گیا ، حتیٰ کہ میں نے اس کی چوٹی پر پہنچ کر حلقے (کڑے) کو پکڑ لیا ، مجھے کہا گیا : مضبوطی کے ساتھ پکڑ لو ، میں اسے پکڑے ہوئے تھا کہ میں بیدار ہو گیا ، میں نے اسے نبی ﷺ سے بیان کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ وہ باغ اسلام ہے ، اور وہ ستون اسلام کا ستون ہے اور وہ حلقہ مضبوط حلقہ ہے تم تا دم مرگ اسلام پر رہو گے ۔‘‘ اور وہ آدمی عبداللہ بن سلام ؓ تھے ۔ متفق علیہ ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، جب سورۂ جمعہ نازل ہوئی تو ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ، جب یہ آیت (وَاخَرِیْنَ مِنْھُمْ لَمَّا یَلْحَقُوْا بِھِمْ) نازل ہوئی تو ہم نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! ان سے کون لوگ مراد ہیں ؟ راوی بیان کرتے ہیں ، سلمان فارسی ؓ ہمارے درمیان موجود تھے ، نبی ﷺ نے سلمان ؓ پر اپنا دست مبارک رکھ کر فرمایا :’’ اگر ایمان ثریا پر بھی ہو گا تو تب بھی ان لوگوں میں سے کچھ حضرات اس تک پہنچ جائیں گے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اے اللہ ! اپنے اس بندے یعنی ابوہریرہ اور ان کی والدہ کو اپنے مومن بندوں کا محبوب بنا دے اور مومنوں کو ان کا محبوب بنا دے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
عائذ بن عمرو سے روایت ہے کہ ابوسفیان سلمان ، صہیب اور بلال ؓ کے پاس سے گزرے اس وقت اور صحابہ کرام بھی موجود تھے ، انہوں نے کہا : اللہ کی تلواروں نے اللہ کے دشمن کی گردن سے اپنا حق وصول نہیں کیا ۔ ابوبکر ؓ نے فرمایا : کیا تم ایسی بات قریش کے معتبر اور سردار شخص کے بارے میں کہتے ہو ؟ ابوبکر ؓ نبی ﷺ کے پاس آئے اور انہیں بتایا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ابوبکر ! شاید کہ تم نے انہیں ناراض کر دیا ہے ، اگر تم نے انہیں ناراض کیا تو تم نے اپنے رب کو ناراض کر دیا ۔‘‘ وہ ان کے پاس آئے اور کہا : بھائیو ! کیا میں نے تمہیں ناراض کر دیا ہے ؟ انہوں نے کہا : نہیں ، بھائی ! اللہ آپ کی مغفرت فرمائے ۔ رواہ مسلم ۔
انس ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ انصار سے محبت علامت ایمان ہے ، اور عداوت انصار علامت نفاق ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔