مشکوۃ

Mishkat

پاکیزگی کا بیان

نجاست دور کرنے کا بیان

بَاب تَطْهِير النَّجَاسَات

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا شَرِبَ الْكَلْبُ فِي إِنَاء أحدكُم فليغسله سبع مَرَّات» وَفِى رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ: «طَهُورُ إِنَاءِ أَحَدِكُمْ إِذَا وَلَغَ فِيهِ الْكَلْبُ أَنْ يَغْسِلَهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ أولَاهُنَّ بِالتُّرَابِ»

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب کتا تمہارے کسی شخص کے برتن میں سے پی لے تو اسے سات مرتبہ دھوؤ ۔‘‘ بخاری ، مسلم ۔ متفق علیہ ۔ اور مسلم کی روایت میں ہے :’’ جب کتا تمہارے کسی شخص کے برتن میں منہ ڈال دے تو اس برتن کی پاکیزگی اس طرح حاصل ہو گی کہ اسے سات مرتبہ دھویا جائے ، ان میں سے پہلی مرتبہ مٹی سے صاف کیا جائے ۔‘‘

وَعَنْهُ قَالَ: قَامَ أَعْرَابِيٌّ فَبَالَ فِي الْمَسْجِدِ فَتَنَاوَلَهُ النَّاسُ فَقَالَ لَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «دَعُوهُ وَهَرِيقُوا عَلَى بَوْلِهِ سَجْلًا مِنْ مَاءٍ أَوْ ذَنُوبًا مِنْ مَاءٍ فَإِنَّمَا بُعِثْتُمْ مُيَسِّرِينَ وَلَمْ تُبْعَثُوا مُعَسِّرِينَ» . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک دیہاتی کھڑا ہوا تو اس نے مسجد میں پیشاب کر دیا ، لوگ اسے ڈانٹنے لگے ، نبی ﷺ نے فرمایا :’’ اسے کچھ نہ کہو ، اور اس کے پیشاب پر ایک ڈول پانی بہا دو ، کیونکہ تمہیں تو آسانی کے لیے بھیجا گیا ، تنگی پیدا کرنے کے لیے نہیں ۔‘‘ رواہ البخاری ۔

وَعَن أنس قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ فِي الْمَسْجِدِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ فَقَامَ يَبُولُ فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَهْ مَه قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَزْرِمُوهُ دَعُوهُ» فَتَرَكُوهُ حَتَّى بَالَ ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَاهُ فَقَالَ لَهُ: «إِنَّ هَذِهِ الْمَسَاجِدَ لَا تصلح لشَيْء من هَذَا الْبَوْل وَلَا القذر إِنَّمَا هِيَ لذكر الله عز وَجل وَالصَّلَاةِ وَقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ» أَوْ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَأمر رَجُلًا مِنَ الْقَوْمِ فَجَاءَ بِدَلْوٍ مِنْ مَاءٍ فسنه عَلَيْهِ

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ اس اثنا میں ایک اعرابی آیا اور وہ کھڑا ہو کر مسجد میں پیشاب کرنے لگا ، رسول اللہ ﷺ کے صحابہ نے کہا : رک جا ، رک جا ، جبکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اس کا پیشاب نہ روکو ، اسے کچھ نہ کہو چھوڑ دو ۔‘‘ چنانچہ انہوں نے اسے چھوڑ دیا حتیٰ کہ اس نے پیشاب کر لیا ، پھر رسول اللہ ﷺ نے اسے بلا کر فرمایا :’’ یہ جو مساجد ہیں یہ پیشاب اور گندگی وغیرہ کے لیے موزوں نہیں ، یہ تو اللہ کے ذکر ، نماز اور قراءت قرآن کے لیے ہیں ۔‘‘ یا پھر جیسے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ، راوی بیان کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے ان لوگوں میں سے کسی شخص کو حکم فرمایا تو وہ پانی کا ڈول لے آیا تو آپ نے وہ اس (پیشاب) پر بہا دیا ۔ متفق علیہ ۔

وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ الصّديق أَنَّهَا قَالَتْ: سَأَلَتِ امْرَأَةٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إحدانا إِذا أصَاب ثوبها الدَّم من الْحَيْضَة كَيْفَ تَصَنُّعُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذا أصَاب ثوب إحداكن الدَّم مِنَ الْحَيْضَةِ فَلْتَقْرُصْهُ ثُمَّ لِتَنْضَحْهُ بِمَاءٍ ثُمَّ لتصلي فِيهِ»

اسماء بنت ابی بکر ؓ بیان کرتی ہیں ، ایک عورت نے رسول اللہ ﷺ سے مسئلہ دریافت کرتے ہوئے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! مجھے بتائیں کہ اگر ہم میں سے کسی کے کپڑے کو حیض کا خون لگ جائے تو وہ کیا کرے ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کسی کے کپڑے کو حیض کا خون لگ جائے تو وہ اسے ناخنوں سے کھرچ لے پھر اسے پانی کے ساتھ دھوئے اور پھر اس (کپڑے) میں نماز پڑھے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

وَعَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنِ الْمَنِيِّ يُصِيبُ الثَّوْبَ فَقَالَتْ كُنْتُ أَغْسِلُهُ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَخْرُجُ إِلَى الصَّلَاةِ وَأَثَرُ الْغَسْلِ فِي ثَوْبه بقع المَاء

سلیمان بن یسار ؒ بیان کرتے ہیں ، میں نے کپڑے کو لگ جانے والی منی کے بارے میں عائشہ ؓ سے مسئلہ دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا : میں اسے رسول اللہ ﷺ کے کپڑے سے دھو دیا کرتی تھی ، پس آپ نماز کے لیے تشریف لے جاتے ، جبکہ دھونے کا نشان آپ کے کپڑے میں ہوتا ۔ متفق علیہ ۔

وَعَن الْأسود وَهَمَّام عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كُنْتُ أَفْرُكُ الْمَنِيَّ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ مُسلم

اسود اور ہمام ؒ عائشہؓ سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے فرمایا : میں رسول اللہ ﷺ کے کپڑے سے منی رگڑ دیا کرتی تھی ۔ رواہ مسلم ۔

وَبِرِوَايَةِ عَلْقَمَةَ وَالْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ نَحْوَهُ وَفِيهِ: ثمَّ يُصَلِّي فِيهِ

علقمہ بن اسود ؒ کی سند سے عائشہ ؓ سے اسی طرح مروی ہے ، نیز اس روایت میں یہ بھی ہے : پھر آپ اس (کپڑے) میں نماز پڑھتے ۔ رواہ مسلم ۔

وَعَن أم قيس بنت مُحصن: أَنَّهَا أَتَتْ بِابْنٍ لَهَا صَغِيرٍ لَمْ يَأْكُلِ الطَّعَامَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَجْلَسَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حِجْرِهِ فَبَالَ عَلَى ثَوْبِهِ فَدَعَا بِمَاء فنضحه وَلم يغسلهُ

ام قیس بنت محصن ؓ سے روایت ہے کہ وہ اپنے چھوٹے شیر خوار بیٹے کو لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی ، تو رسول اللہ ﷺ نے اسے اپنی گود میں بٹھا لیا ، اس نے آپ کے کپڑے پر پیشاب کر دیا ، تو آپ ﷺ نے پانی منگا کر اس پر چھڑک دیا اور اسے دھویا نہیں ۔ متفق علیہ ۔

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم يَقُول: «إِذَا دُبِغَ الْإِهَابُ فَقَدْ طَهُرَ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جب چمڑے کو رنگ دیا جاتا ہے تو وہ پاک ہو جاتا ہے ۔ رواہ مسلم ۔

وَعَن ابْن عبَّاس قَالَ: تُصُدِّقَ عَلَى مَوْلَاةٍ لِمَيْمُونَةَ بِشَاةٍ فَمَاتَتْ فَمَرَّ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «هَلَّا أَخَذْتُمْ إِهَابَهَا فَدَبَغْتُمُوهُ فَانْتَفَعْتُمْ بِهِ» فَقَالُوا: إِنَّهَا مَيْتَةٌ فَقَالَ: «إِنَّمَا حُرِّمَ أكلهَا»

عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، میمونہ ؓ کی آزاد کردہ لونڈی کو صدقہ کے طور پر ایک بکری دی گئی ، پس وہ مر گئی ، رسول اللہ ﷺ اس کے پاس سے گزرے تو فرمایا :’’ تم نے اس کی کھال کیوں نہ اتار لی ، پس تم اسے رنگ دیتے اور اس سے فائدہ اٹھاتے ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا ، یہ تو مردار ہے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ صرف اس کا کھانا حرام قرار دیا گیا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

وَعَنْ سَوْدَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: مَاتَتْ لَنَا شَاةٌ فَدَبَغْنَا مَسْكَهَا ثُمَّ مَا زِلْنَا نَنْبِذُ فِيهِ حَتَّى صَارَ شنا. رَوَاهُ البُخَارِيّ

نبی ﷺ کی زوجہ محترمہ سودہ ؓ بیان کرتی ہیں ، ہماری بکری مر گئی تو ہم نے اس کی کھال کو رنگ لیا ، پھر ہم اس میں نبیذ تیار کرتے رہے حتیٰ کہ وہ بوسیدہ ہو گئی ۔ رواہ البخاری ۔

عَن لبَابَة بنت الْحَارِث قَالَتْ: كَانَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فِي حِجْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم فَبَال عَلَيْهِ فَقُلْتُ الْبَسْ ثَوْبًا وَأَعْطِنِي إِزَارَكَ حَتَّى أَغْسِلَهُ قَالَ: «إِنَّمَا يُغْسَلُ مِنْ بَوْلِ الْأُنْثَى وَيُنْضَحُ مِنْ بَوْلِ الذَّكَرِ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْن مَاجَه

لبابہ بنت حارث ؓ بیان کرتی ہیں ، حسین بن علی ؓ رسول اللہ ﷺ کی گود میں تھے ، انہوں نے آپ کے کپڑے پر پیشاب کر دیا ، میں نے عرض کیا ، آپ دوسرا کپڑا پہن لیں ، اور اپنا ازار مجھے دے دیں تاکہ میں اسے دھو دوں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ صرف لڑکی کے پیشاب سے کپڑا دھویا جاتا ہے ، اور لڑکے کے پیشاب سے کپڑے پر چھینٹے مارے جاتے ہیں ۔‘‘ صحیح ، رواہ احمد و ابوداؤد و ابن ماجہ ۔

وَفِي رِوَايَةٍ لِأَبِي دَاوُدَ وَالنَّسَائِيِّ عَنْ أَبِي السَّمْحِ قَالَ: يُغْسَلُ مِنْ بَوْلِ الْجَارِيَةِ وَيُرَشُّ من بَوْل الْغُلَام

ابوداؤد اور نسائی میں ابوالسمح ؓ سے مروی روایت میں ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ بچی کے پیشاب سے کپڑا دھویا جاتا ہے جبکہ لڑکے کے پیشاب سے کپڑے پر چھینٹے مارے جاتے ہیں ۔‘‘ صحیح ۔

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا وَطِئَ أَحَدُكُمْ بِنَعْلِهِ الْأَذَى فَإِنَّ التُّرَابَ لَهُ طَهُورٌ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ. وَلِابْنِ مَاجَه مَعْنَاهُ

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کسی شخص کے جوتے کو گندگی لگ جائے تو مٹی اسے پاک کر دیتی ہے ۔‘‘ ابوداؤد اور ابن ماجہ میں بھی اسی کے ہم معنی ہے ۔ ضعیف ۔

وَعَن أم سَلمَة قَالَتْ لَهَا امْرَأَةٌ: إِنِّي امْرَأَةٌ أُطِيلُ ذَيْلِي وَأَمْشِي فِي الْمَكَانِ الْقَذِرِ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يُطَهِّرُهُ مَا بَعْدَهُ» . رَوَاهُ مَالِكٌ وَأَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالدَّارِمِيُّ وَقَالا: الْمَرْأَة أم ولد لإِبْرَاهِيم ابْن عبد الرَّحْمَن بن عَوْف

ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک عورت نے انہیں کہا : میں اپنے کپڑے کا دامن لمبا رکھتی ہوں ، جبکہ میں ناپاک جگہ سے گزرتی ہوں ، انہوں نے بتایا ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو اس (نا پاک جگہ) کے بعد ہے وہ اسے پاک کر دے گی ۔‘‘ مالک ، احمد ، ترمذی ، ابوداؤد ، دارمی ۔ امام ابوداؤد اور امام دارمی نے بتایا کہ وہ عورت ابراہیم بن عبدالرحمن بن عوف کی ام ولد تھیں ۔ حسن ۔

وَعَن الْمِقْدَام بن معدي كرب قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لُبْسِ جُلُودِ السِّبَاعِ وَالرُّكُوبِ عَلَيْهَا. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ

مقدام بن معدیکرب ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے درندوں کی کھال پہننے اور ان پر سواری کرنے سے منع فرمایا ہے ۔ حسن ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔

وَعَنْ أَبِي الْمَلِيحِ بْنِ أُسَامَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَهَى عَنْ جُلُودِ السِّبَاعِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيّ وَزَاد التِّرْمِذِيّ والدارمي: أَن تفترش

ابوالملیح بن اسامہ اپنے والد سے اور وہ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، نبی ﷺ نے درندوں کی کھالوں (کے استعمال) سے منع فرمایا ہے ۔ احمد ، ابوداؤد ، نسائی ۔ امام ترمذی اور دارمی نے اضافہ نقل کیا ہے : یہ کہ ان کا بستر بنایا جائے ۔ حسن ۔

وَعَن أبي الْمليح: أَنه ذكره ثمن جُلُود السبَاع. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ فِي اللبَاس من جَامعه وَسَنَده جيد

ابوالملیح سے روایت ہے کہ آپ نے درندوں کی کھالوں کی قیمت (یعنی بیع) کو ناپسند فرمایا ہے ۔ اس روایت کو امام ترمذی نے ’’ آپ نے درندوں کے چمڑے کو ناپسند فرمایا ہے ‘‘ کہ الفاظ کے ساتھ ذکر کیا ہے اور اس کی سند جید ہے ۔ حسن ۔

وَعَن عبد الله بن عكيم قَالَ: أَتَانَا كِتَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنْ لَا تَنْتَفِعُوا مِنَ الْمَيْتَةِ بِإِهَابٍ وَلَا عَصَبٍ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ

عبداللہ بن عکیم ؒ بیان کرتے ہیں ہمیں رسول اللہ ﷺ کا خط موصول ہوا کہ ’’ مردار کے چمڑے سے فائدہ اٹھاؤ نہ اس کے اعصاب (پٹھوں) سے ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی و ابن ماجہ ۔

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمَرَ أَنْ يُسْتَمْتَعَ بِجُلُودِ الْمَيْتَةِ إِذَا دُبِغَتْ. رَوَاهُ مَالِكٌ وَأَبُو دَاوُد

عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حکم فرمایا کہ ’’ جب مردار کا چمڑا رنگا جائے تب اس سے فائدہ حاصل کیا جائے ۔‘‘ حسن ، رواہ مالک و ابوداؤد ۔