ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ،رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص کا وضو ٹوٹ جائے تو جب تک وہ وضو نہ کرے اس کی نماز قبول نہیں ہوتی ۔‘‘ متفق علیہ ، رواہ البخاری (۱۳۵) و مسلم ۔
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ وضو کے بغیر نماز قبول کی جاتی ہے نہ مال حرام سے صدقہ ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
علی ؓ بیان کرتے ہیں : مجھے کثرت مذی آتی تھی ، لیکن میں نبی ﷺ سے مسئلہ دریافت کرتے ہوئے شرم محسوس کرتا تھا کیونکہ آپ میرے سسر تھے ، پس میں نے مقداد ؓ سے کہا تو انہوں نے آپ سے دریافت کیا ، تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ وہ شرم گاہ دھوئے اور وضو کرے ۔‘‘ متفق علیہ ، رواہ البخاری (۲۶۹) و مسلم ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے پر وضو کرو ۔‘‘ الشیخ الامام الاجل محی السنہ ؒ نے فرمایا : مذکورہ بالا حدیث ابن عباس ؓ سے مروی حدیث کی وجہ سے منسوخ ہے ۔ رواہ مسلم و فی مصابیح السنہ (۲۰۵) ۔
ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے بکری کے شانے کا گوشت کھایا ، پھر آپ ﷺ نے نماز پڑھی اور (نیا) وضو نہ کیا ۔ متفق علیہ ، رواہ البخاری (۲۰۷) و مسلم ۔
جابر بن سمرہ ؓ سے روایت ہے کہ کسی شخص نے رسول اللہ ﷺ سے مسئلہ دریافت کیا : کیا ہم بکری کا گوشت کھا کر وضو کریں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اگر تم چاہو وضو کرو اور اگر چاہو تو نہ کرو ۔‘‘ اس نے پھر دریافت کیا : کیا ہم اونٹ کا گوشت کھا کر وضو کریں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ہاں ، اونٹ کا گوشت کھا کر وضو کر ۔‘‘ اس شخص نے پوچھا : کیا بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھ لوں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ہاں ۔‘‘ اس نے پوچھا : اونٹوں کے باڑے میں نماز پڑھوں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ نہیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی شخص اپنے پیٹ میں کچھ گڑبڑ محسوس کرے اور اس پر معاملہ مشتبہ ہو جائے کہ آیا اس سے کوئی چیز نکلی ہے یا نہیں تو وہ مسجد سے نہ نکلے حتیٰ کہ وہ کوئی آواز سن لے یا بدبو محسوس کرلے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، کہ رسول اللہ ﷺ نے دودھ پیا تو کلی کی اور فرمایا :’’ اس میں چکناہٹ ہوتی ہے ۔‘‘ متفق علیہ ، رواہ البخاری (۲۱۱) و مسلم ۔
بریدہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فتح مکہ کے روز ایک وضو سے (متعدد) نمازیں پڑھیں اور موزوں پر مسح کیا ، تو عمر ؓ نے عرض کیا ، آپ نے اس طرح پہلے تو کبھی نہیں کیا تھا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ عمر ! میں نے عمداً ایسے کیا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
سوید بن نعمان ؓ سے روایت ہے کہ غزوہ خیبر کے موقع پر وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ روانہ ہوئے ، حتیٰ کہ خیبر کے زیریں علاقے صہبا پر پہنچے تو آپ ﷺ نے نماز عصر ادا کی ، پھر آپ نے زاد راہ طلب کیا تو صرف ستو آپ کی خدمت میں پیش کیے گئے آپ کے فرمان کے مطابق انہیں بھگو دیا گیا تو پھر رسول اللہ ﷺ نے اور ہم نے اسے کھایا ، پھر آپ نماز مغرب کے لیے کھڑے ہوئے تو کلی کی اور ہم نے بھی کلی کی ، پھر آپ نے نماز پڑھی اور (نیا) وضو نہ فرمایا ۔ رواہ البخاری (۲۰۹) ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ آواز یا بدبو (محسوس ہونے) کی صورت میں وضو واجب ہوتا ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ احمد (۲ /۴۱ ح ۹۳۰۱) و الترمذی (۷۴) و ابن ماجہ (۵۱۵) ۔
علی ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے مذی کے متعلق نبی ﷺ سے مسئلہ دریافت کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ مذی سے وضو اور منی سے غسل واجب ہوتا ہے ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۱۱۴) و ابن ماجہ (۵۰۴) و ابوداؤد (۲۱۰) و البخاری (۱۳۲ ، ۲۶۹) و مسلم یغنی عنہ ۔
علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ طہارت نماز کی چابی ، تکبیر (اللہ اکبر) اس کی تحریم (اس تکبیر سے نماز شروع کرنے سے پہلے جو کام مباح تھے وہ حرام ہو جاتے ہیں ) اور تسلیم (السلام علیکم ورحمۃ اللہ) اس کی تحلیل ہے :‘‘ (یعنی سلام پھیرنے سے نماز کی صورت میں حرام ہونے والے کام حلال ہو جاتے ہیں ) حسن ، رواہ ابوداؤد۶۱) و الترمذی (۳) و الدارمی (۱ /۱۷۵ ح ۶۹۳) و ابن ماجہ (۲۷۵) و البیھقی (۲ /۱۶) ۔
وَرَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ عَنْهُ وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ
ابن ماجہ نے علی ؓ اور ابوسعید ؓ سے روایت کیا ہے ۔ حسن ، رواہ ابن ماجہ (۲۷۶) ۔
علی بن طلق ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم میں کوئی آواز کے بغیر ہوا خارج کرے تو وہ وضو کرے ، اور تم عورتوں سے ان کی پیٹھ میں مجامعت نہ کرو ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی (۱۱۶۴) و ابوداود (۲۰۵) و ابن حبان (۲۰۳) ۔
معاویہ بن ابی سفیان ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ آنکھیں دبر کا تسمہ ہیں ، جب آنکھیں سو جاتی ہیں تو تسمہ کھل جاتا ہے ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ الدارمی (۱ /۱۸۴ ح ۷۲۸) ۔
علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ پیٹھ کا تسمہ دونوں آنکھیں ہیں ، پس جو شخص سو جائے تو وہ وضو کرے ۔‘‘ الشیخ الامام محی السنہ ؒ نے فرمایا : صحیح حدیث کی روشنی میں یہ حکم لیٹ کر سونے والے شخص کے لیے ہے ، (بیٹھے بیٹھے سو جانے والے کے لیے نہیں ہے) سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد (۲۰۳) و ابن ماجہ (۴۷۷) ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نمازِ عشاء کا انتظار کرتے رہتے حتیٰ کہ (نیند کی وجہ سے) ان کے سر جھک جاتے ، پھر وہ نماز پڑھتے لیکن وہ (نیا) وضو نہ کرتے ۔ البتہ امام ترمذی ؒ نے روایت میں انتظار کے بدلے سو جانے کا ذکر کیا ہے ، کہ وہ عشاء کے وقت بیٹھے سو جاتے حتیٰ کہ ان کے سر جھک جاتے ۔ صحیح ، رواہ ابوداؤد (۲۰۰) و الترمذی (۷۸) و مسلم ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ بے شک جو شخص چت لیٹ کر سو جائے ، اس پر وضو کرنا لازم ہے ، کیونکہ جب وہ چت لیٹ جاتا ہے تو اس کے جوڑ ڈھیلے ہو جاتے ہیں :‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۷۷) و ابوداؤد (۲۰۲) ۔
بسرہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی اپنی شرم گاہ کو ہاتھ لگائے تو وہ وضو کرے ۔‘‘ صحیح ، رواہ مالک (۱ /۴۲ ح ۸۸) و احمد (۶ / ۴۰۶ ، ۴۰۷ ح ۲۷۸۳۶ ، ۲۷۸۳۸) و ابوداؤد (۱۸۱) و الترمذی (۸۲) و النسائی (۱ / ۱۰۰ ح ۱۶۳) و ابن ماجہ (۴۷۹) و الدارمی (۱ / ۱۸۴ ح ۷۳۰) ۔