TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

بَاب السِّوَاك مسواک کرنے کا بیان

Chapter 3 of پاکیزگی کا بیان in Mishkat. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 3 of 13 · 15 Hadith
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ بِتَأْخِيرِ الْعشَاء وبالسواك عِنْد كل صَلَاة»
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں انہیں نماز عشاء تاخیر سے پڑھنے اور ہر نماز کے ساتھ مسواک کرنے کا حکم فرماتا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۸۸۷) و مسلم (۴۲ / ۲۵۲) ۔
376
Sahih
وَعَن شُرَيْح بن هَانِئ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ: بِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ يَبْدَأُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دخل بَيته؟ قَالَت: بِالسِّوَاكِ. رَوَاهُ مُسلم
شریح بن ہانی ؒ بیان کرتے ہیں ، میں نے عائشہ ؓ سے دریافت کیا ، جب رسول اللہ ﷺ گھر تشریف لاتے تو آپ سب سے پہلے کون سا کام کیا کرتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا : مسواک ۔ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۴۳ / ۲۵۳) ۔ 590
377
Sahih
وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ لِلتَّهَجُّدِ مِنَ اللَّيْلِ يَشُوصُ فَاهُ بِالسِّوَاكِ
حذیفہ ؓ بیان کرتے ہیں ، جب نبی ﷺ رات تہجد کے لیے اٹھتے تو آپ مسواک سے اپنے منہ کو صاف کرتے ۔ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۲۴۵) و مسلم (۴۶ / ۲۵۵) ۔ 593
378
Sahih
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَشْرَ مِنَ الْفِطْرَةِ: قَصُّ الشَّارِبِ وَإِعْفَاءُ اللِّحْيَةِ وَالسِّوَاكُ وَاسْتِنْشَاقُ الْمَاءِ وَقَصُّ الْأَظْفَارِ وَغَسْلُ الْبَرَاجِمِ وَنَتْفُ الْإِبِطِ وَحَلْقُ الْعَانَةِ وَانْتِقَاصُ الْمَاءِ) يَعْنِي الِاسْتِنْجَاءَ - قَالَ الرَّاوِي: ونسيت الْعَاشِرَة إِلَّا أَن تكون الْمَضْمَضَة. رَوَاهُ مُسلم وَفِي رِوَايَةٍ «الْخِتَانُ» بَدَلَ «إِعْفَاءُ اللِّحْيَةِ» لَمْ أَجِدْ هَذِهِ الرِّوَايَةَ فِي «الصَّحِيحَيْنِ» وَلَا فِي كِتَابِ الْحُمَيْدِيِّ وَلَكِنْ ذَكَرَهَا صَاحِبُ «الْجَامِعِ» وَكَذَا الْخطابِيّ فِي «معالم السّنَن» :
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ دس خصلتیں فطرت سے ہیں : موچھیں کترنا ، داڑھی بڑھانا ، مسواک کرنا ، ناک میں پانی چڑھانا ، ناخن کترنا ، انگلیوں کے جوڑ دھونا ، بغلوں کے بال اکھیڑنا ، زیر ناف بال مونڈنا اور استنجا کرنا ، راوی بیان کرتے ہیں ، دسویں خصلت میں بھول گیا ہوں ، ممکن ہے وہ کلی کرنا ہو ۔ ایک روایت میں داڑھی بڑھانے کے بجائے ختنوں کا ذکر ہے ۔ میں نے یہ روایت صحیحین میں پائی ہے نہ کتاب الحمیدی میں ، لیکن صاحب ’’الجامع‘‘ اور اسی طرح الخطابی نے ’’معالم السنن‘‘ میں اسے ذکر کیا ہے ۔ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۵۶ / ۲۶۱) ۔ 604
379
Sahih
عَن أبي دَاوُد بِرِوَايَة عمار بن يَاسر
ابوداؤد نے عمار بن یاسر ؓ کی روایت سے ذکر کیا ہے ۔ ضعیف ۔
Takhreej
ضعیف ، رواہ ابوداؤد (۵۴) * علی بن زید بن جدعان ضعیف ضعفہ الجمھور ۔
380
Zaeef
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «السِّوَاكُ مَطْهَرَةٌ لِلْفَمِ مَرْضَاةٌ لِلرَّبِّ» . رَوَاهُ الشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَالدَّارِمِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَرَوَاهُ البُخَارِيّ فِي صَحِيحه بِلَا إِسْنَاد
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ مسواک منہ کو صاف کرنے والی اور رب کی رضا مندی کا باعث ہے ۔‘‘ شافعی ، احمد ، دارمی ، نسائی اور امام بخاری نے اسے اپنی صحیح میں معلق بیان کیا ہے ۔ صحیح ۔
Takhreej
صحیح ، رواہ الشافعی فی الام (۱ / ۲۳) و احمد (۶ / ۴۷ ح ۲۴۷۰۷) و الدارمی (۱ / ۱۷۴ ح ۶۹۰) و النسائی (۱ / ۱۰ ح ۵) و البخاری (کتاب الصوم باب : ۲۷ قبل ح ۱۹۳۴ معلقاً) ۔
381
Sahih
وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَرْبَعٌ مِنْ سُنَنِ الْمُرْسَلِينَ: الْحَيَاءُ وَيُرْوَى الْخِتَانُ وَالتَّعَطُّرُ وَالسِّوَاكُ وَالنِّكَاحُ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
ابوایوب ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ چار چیزیں تمام رسولوں کی سنت ہیں : حیا ، کسی روایت میں ختنے کا ذکر ہے ، عطر لگانا ، مسواک کرنا اور نکاح کرنا ۔‘‘ ضعیف ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۱۰۸۰ وقال : حسن غریب) * حجاج بن ارطاۃ : مدلس و عنعن و ابو الشمائل : مجھول ، و للحدیث شواھد ضعیفۃ ۔
382
Zaeef
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَرْقُدُ مِنْ لَيْلٍ وَلَا نَهَارٍ فَيَسْتَيْقِظُ إِلَّا يَتَسَوَّكُ قَبْلَ أَنْ يَتَوَضَّأَ. رَوَاهُ أَحْمد وَأَبُو دَاوُد
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، نبی ﷺ رات یا دن کے کسی حصے میں سوتے تو آپ بیدار ہو کر وضو کرنے سے پہلے مسواک کیا کرتے تھے ۔ ضعیف ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد (۶ / ۱۶۰ ح ۲۵۷۸۷) و ابوداؤد (۵۷) * علی بن زید بن جدعان ضعیف و ام محمد : لم اجد من و ثقھا ۔
383
Zaeef
وَعَنْهَا قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَاكُ فَيُعْطِينِي السِّوَاكَ لِأَغْسِلَهُ فَأَبْدَأُ بِهِ فَأَسْتَاكُ ثُمَّ أَغْسِلُهُ وَأَدْفَعُهُ إِلَيْهِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
عائشہ بیان کرتی ہیں ، نبی ﷺ مسواک کیا کرتے تھے ، پھر آپ مسواک مجھے دے دیتے تاکہ میں اسے دھو دوں تو میں دھونے سے پہلے خود مسواک کرتی ، پھر اسے دھو کر آپ کو لوٹا دیتی ۔‘‘ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
Takhreej
حسن ، رواہ ابوداؤد (۵۲) ۔
384
Sahih
عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَرَانِي فِي الْمَنَامِ أَتَسَوَّكُ بِسِوَاكٍ فَجَاءَنِي رَجُلَانِ أَحَدُهُمَا أَكْبَرُ مِنَ الْآخَرِ فَنَاوَلْتُ السِّوَاكَ الْأَصْغَرَ مِنْهُمَا فَقِيلَ لي: كبر فَدَفَعته إِلَى الْأَكْبَر مِنْهُمَا
ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ میں نے اپنے آپ کو خواب میں مسواک کرتے ہوئے دیکھا چنانچہ اس دوران دو آدمی میرے پاس آئے ، ان میں سے ایک دوسرے سے بڑا تھا ، میں نے ان میں سے چھوٹے کو مسواک دے دی ، تو مجھے کہا گیا : بڑے کو دو ، چنانچہ میں نے بڑے کو دے دی ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۲۴۶) و مسلم (۲۴۶ / ۲۲۷۱) ۔
385
Sahih
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا جَاءَنِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَطُّ إِلَّا أَمَرَنِي بِالسِّوَاكِ لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ أُحْفِيَ مُقَدِّمَ فِيَّ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ
ابوامامہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جبریل جب بھی میرے پاس تشریف لاتے تو آپ مجھے مسواک کرنے کا حکم فرماتے ، مجھے تو اندیشہ ہوا کہ میں کہیں اپنے منہ کا سامنا حصہ نہ چھیل دوں ۔‘‘ ضعیف ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ احمد (۵ / ۲۶۳ ح ۲۲۶۲۵) * علی بن یزید الالھانی : ضعیف جدًا ، و عبیداللہ بن زخر : ضعیف ، ضعفہ الجمھور ۔
386
Zaeef
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَقَدْ أَكْثَرْتُ عَلَيْكُمْ فِي السِّوَاك» رَوَاهُ البُخَارِيّ
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میں نے تمہیں مسواک کے بارے میں بہت مرتبہ کہا ہے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
Takhreej
رواہ البخاری (۸۸۸) ۔
387
Sahih
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَنُّ وَعِنْدَهُ رَجُلَانِ أَحَدُهُمَا أَكْبَرُ مِنَ الْآخَرِ فَأُوحِيَ إِلَيْهِ فِي فَضْلِ السِّوَاكِ أَنْ كَبِّرْ أَعْطِ السِّوَاك أكبرهما. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ مسواک کر رہے تھے اور آپ کے پاس دو آدمی تھے ، ان میں سے ایک دوسرے سے بڑا تھا ، چنانچہ آپ ﷺ نے چھوڑی ہوئی مسواک کے بارے میں آپ کی طرف وحی آئی کہ یہ بڑے کو دے دیں ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
Takhreej
سندہ صحیح ، رواہ ابوداؤد (۵۰) ۔
388
Sahih
وَعَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَفْضُلُ الصَّلَاةُ الَّتِي يُسْتَاكُ لَهَا عَلَى الصَّلَاةِ الَّتِي لَا يُسْتَاكُ لَهَا سَبْعِينَ ضعفا» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيّ فِي شعب الْإِيمَان
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ مسواک کر کے پڑھی گئی نماز ، مسواک کے بغیر پڑھی گئی نماز سے ستر گنا افضل ہے ۔‘‘ ضعیف ۔
Takhreej
ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان (۲۷۷۴ ، ۲۷۷۳) و السنن الکبریٰ (۱ / ۳۸) * فیہ معاویۃ بن یحیی الصدفی ضعیف ، و محمد بن اسحاق مدلس و عنعن و للحدیث شواھد ضعیفۃ جدًا ۔
389
Zaeef
وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ وَلَأَخَّرْتُ صَلَاةَ الْعِشَاءِ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ» قَالَ فَكَانَ زَيْدُ بْنُ خَالِدٍ يَشْهَدُ الصَّلَوَاتِ فِي الْمَسْجِدِ وَسِوَاكُهُ عَلَى أُذُنِهِ مَوْضِعَ الْقَلَمِ مِنْ أُذُنِ الْكَاتِبِ لَا يَقُومُ إِلَى الصَّلَاةِ إِلَّا اسْتَنَّ ثُمَّ رَدَّهُ إِلَى مَوْضِعِهِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ: «وَلَأَخَّرْتُ صَلَاةَ الْعِشَاءِ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ» . وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ حسن صَحِيح
ابوسلمہ ؒ ، زید بن خالد جہنی ؓ سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا اور نماز عشاء کو تہائی رات تک مؤخر کرتا ۔‘‘ زید بن خالد مسجد میں نمازیں پڑھنے کے لیے آتے تو کاتب کے قلم کی طرح ان کی مسواک ان کے کان پر ہوتی تھی ، اور وہ جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو مسواک کرتے اور پھر اسے اس کی جگہ (کان) پر رکھ دیتے ۔ ترمذی ، ابوداؤد ، البتہ انہوں نے ’’میں نماز عشاء کو تہائی رات تک مؤخر کرتا کے الفاظ ذکر نہیں کیے ۔ امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ ضعیف ۔
Takhreej
سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۲۳) و ابوداؤد (۴۷) * محمد بن اسحاق مدلس و عنعن و الحدیث المرفوع صحیح ، انظر مسند الامام احمد (۴ / ۱۱۶ ح ۱۷۰۴۸) ۔
390
Zaeef