ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں انہیں نماز عشاء تاخیر سے پڑھنے اور ہر نماز کے ساتھ مسواک کرنے کا حکم فرماتا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۸۸۷) و مسلم (۴۲ / ۲۵۲) ۔
شریح بن ہانی ؒ بیان کرتے ہیں ، میں نے عائشہ ؓ سے دریافت کیا ، جب رسول اللہ ﷺ گھر تشریف لاتے تو آپ سب سے پہلے کون سا کام کیا کرتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا : مسواک ۔ رواہ مسلم ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ دس خصلتیں فطرت سے ہیں : موچھیں کترنا ، داڑھی بڑھانا ، مسواک کرنا ، ناک میں پانی چڑھانا ، ناخن کترنا ، انگلیوں کے جوڑ دھونا ، بغلوں کے بال اکھیڑنا ، زیر ناف بال مونڈنا اور استنجا کرنا ، راوی بیان کرتے ہیں ، دسویں خصلت میں بھول گیا ہوں ، ممکن ہے وہ کلی کرنا ہو ۔ ایک روایت میں داڑھی بڑھانے کے بجائے ختنوں کا ذکر ہے ۔ میں نے یہ روایت صحیحین میں پائی ہے نہ کتاب الحمیدی میں ، لیکن صاحب ’’الجامع‘‘ اور اسی طرح الخطابی نے ’’معالم السنن‘‘ میں اسے ذکر کیا ہے ۔ رواہ مسلم ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ مسواک منہ کو صاف کرنے والی اور رب کی رضا مندی کا باعث ہے ۔‘‘ شافعی ، احمد ، دارمی ، نسائی اور امام بخاری نے اسے اپنی صحیح میں معلق بیان کیا ہے ۔ صحیح ۔
Takhreej
صحیح ، رواہ الشافعی فی الام (۱ / ۲۳) و احمد (۶ / ۴۷ ح ۲۴۷۰۷) و الدارمی (۱ / ۱۷۴ ح ۶۹۰) و النسائی (۱ / ۱۰ ح ۵) و البخاری (کتاب الصوم باب : ۲۷ قبل ح ۱۹۳۴ معلقاً) ۔
ابوایوب ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ چار چیزیں تمام رسولوں کی سنت ہیں : حیا ، کسی روایت میں ختنے کا ذکر ہے ، عطر لگانا ، مسواک کرنا اور نکاح کرنا ۔‘‘ ضعیف ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۱۰۸۰ وقال : حسن غریب) * حجاج بن ارطاۃ : مدلس و عنعن و ابو الشمائل : مجھول ، و للحدیث شواھد ضعیفۃ ۔
عائشہ بیان کرتی ہیں ، نبی ﷺ مسواک کیا کرتے تھے ، پھر آپ مسواک مجھے دے دیتے تاکہ میں اسے دھو دوں تو میں دھونے سے پہلے خود مسواک کرتی ، پھر اسے دھو کر آپ کو لوٹا دیتی ۔‘‘ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ میں نے اپنے آپ کو خواب میں مسواک کرتے ہوئے دیکھا چنانچہ اس دوران دو آدمی میرے پاس آئے ، ان میں سے ایک دوسرے سے بڑا تھا ، میں نے ان میں سے چھوٹے کو مسواک دے دی ، تو مجھے کہا گیا : بڑے کو دو ، چنانچہ میں نے بڑے کو دے دی ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۲۴۶) و مسلم (۲۴۶ / ۲۲۷۱) ۔
ابوامامہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جبریل جب بھی میرے پاس تشریف لاتے تو آپ مجھے مسواک کرنے کا حکم فرماتے ، مجھے تو اندیشہ ہوا کہ میں کہیں اپنے منہ کا سامنا حصہ نہ چھیل دوں ۔‘‘ ضعیف ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ احمد (۵ / ۲۶۳ ح ۲۲۶۲۵) * علی بن یزید الالھانی : ضعیف جدًا ، و عبیداللہ بن زخر : ضعیف ، ضعفہ الجمھور ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ مسواک کر رہے تھے اور آپ کے پاس دو آدمی تھے ، ان میں سے ایک دوسرے سے بڑا تھا ، چنانچہ آپ ﷺ نے چھوڑی ہوئی مسواک کے بارے میں آپ کی طرف وحی آئی کہ یہ بڑے کو دے دیں ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ مسواک کر کے پڑھی گئی نماز ، مسواک کے بغیر پڑھی گئی نماز سے ستر گنا افضل ہے ۔‘‘ ضعیف ۔
Takhreej
ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان (۲۷۷۴ ، ۲۷۷۳) و السنن الکبریٰ (۱ / ۳۸) * فیہ معاویۃ بن یحیی الصدفی ضعیف ، و محمد بن اسحاق مدلس و عنعن و للحدیث شواھد ضعیفۃ جدًا ۔
ابوسلمہ ؒ ، زید بن خالد جہنی ؓ سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا اور نماز عشاء کو تہائی رات تک مؤخر کرتا ۔‘‘ زید بن خالد مسجد میں نمازیں پڑھنے کے لیے آتے تو کاتب کے قلم کی طرح ان کی مسواک ان کے کان پر ہوتی تھی ، اور وہ جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو مسواک کرتے اور پھر اسے اس کی جگہ (کان) پر رکھ دیتے ۔ ترمذی ، ابوداؤد ، البتہ انہوں نے ’’میں نماز عشاء کو تہائی رات تک مؤخر کرتا کے الفاظ ذکر نہیں کیے ۔ امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ ضعیف ۔
Takhreej
سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۲۳) و ابوداؤد (۴۷) * محمد بن اسحاق مدلس و عنعن و الحدیث المرفوع صحیح ، انظر مسند الامام احمد (۴ / ۱۱۶ ح ۱۷۰۴۸) ۔