مشکوۃ

Mishkat

نماز کا بیان

فضائل نماز کا بیان

بَاب فَضَائِل الصَّلَاة

عَن عمَارَة بن روبية قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَنْ يَلِجَ النَّارَ أَحَدٌ صَلَّى قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا» يَعْنِي الْفَجْرَ وَالْعصر. (رَوَاهُ مُسلم)

عمارہ بن رویبہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جو شخص طلوع آفتاب سے پہلے اور غروب آفتاب سے پہلے یعنی فجر اور نماز عصر پڑھے تو وہ جہنم میں نہیں جائے گا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «من صَلَّى الْبَرْدَيْنِ دَخَلَ الْجَنَّةَ»

ابوموسیٰ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص دو ٹھنڈی نمازیں (فجر و عصر) پڑھے گا وہ جنت میں داخل ہو گا ۔‘‘ متفق علیہ ۔

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم قَالَ: «يَتَعَاقَبُونَ فِيكُمْ مَلَائِكَةٌ بِاللَّيْلِ وَمَلَائِكَةٌ بِالنَّهَارِ وَيَجْتَمِعُونَ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ وَصَلَاةِ الْعَصْرِ ثُمَّ يَعْرُجُ الَّذِينَ بَاتُوا فِيكُمْ فَيَسْأَلُهُمْ رَبُّهُمْ وَهُوَ أَعْلَمُ بِهِمْ كَيْفَ تَرَكْتُمْ عِبَادِي فَيَقُولُونَ تَرَكْنَاهُمْ وَهُمْ يصلونَ وأتيناهم وهم يصلونَ»

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ رات اور دن کے وقت فرشتے یکے بعد دیگرے تمہارے پاس آتے رہتے ہیں اور وہ نماز فجر اور نماز عصر میں اکٹھے ہوتے ہیں ، پھر وہ فرشتے ، جنہوں نے تمہارے ہاں رات بسر کی ہوتی ہے ، اوپر چڑھتے ہیں ، ان کا رب ان سے پوچھتا ہے ، حالانکہ وہ ان کے متعلق بہتر جانتا ہے ، تم نے میرے بندوں کو کس حال (یعنی آخری عمل) پر چھوڑ کر آئے ہو ؟ وہ عرض کرتے ہیں ، جب ہم ان کے پاس سے آئے تو وہ اس وقت نماز پڑھ رہے تھے ، اور جب ان کے پاس گئے تھے تب بھی وہ نماز پڑھ رہے تھے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

وَعَن جُنْدُب الْقَسرِي قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ صَلَّى صَلَاةَ الصُّبْحِ فَهُوَ فِي ذِمَّةِ اللَّهِ فَلَا يَطْلُبَنَّكُمُ اللَّهُ مِنْ ذِمَّتِهِ بِشَيْءٍ فَإِنَّهُ مَنْ يَطْلُبْهُ مِنْ ذِمَّتِهِ بِشَيْءٍ يُدْرِكْهُ ثُمَّ يَكُبُّهُ عَلَى وَجْهِهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ» رَوَاهُ مُسْلِمٌ. وَفِي بَعْضِ نُسَخِ الْمَصَابِيحِ الْقشيرِي بدل الْقَسرِي

جندب قسری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص نماز فجر پڑھ لیتا ہے تو وہ اللہ کے عہدو امان میں آجاتا ہے ، چنانچہ تم ایسا کوئی کام نہ کرنا جس کی وجہ سے اللہ اپنے عہدو امان کے بارے میں تمہارا مؤاخذہ کرے ، کیونکہ وہ اپنے عہدو امان کے بارے میں جس شخص سے مؤاخذہ کرے گا تو وہ اسے پکڑ کر اوندھے منہ جہنم میں ڈال دے گا ۔ متفق علیہ ۔ اور مصابیح کے بعض نسخوں میں القسری کے بجائے القشیری مذکور ہے ۔

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِي النِّدَاءِ وَالصَّفِّ الْأَوَّلِ ثُمَّ لَمْ يَجِدُوا إِلَّا أَنْ يَسْتَهِمُوا عَلَيْهِ لَاسْتَهَمُوا وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِي التَّهْجِيرِ لَاسْتَبَقُوا إِلَيْهِ وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِي الْعَتَمَةِ وَالصُّبْحِ لأتوهما وَلَو حبوا»

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اگر لوگ اذان اور صف اول کی فضیلت کے بارے میں جان لیں پھر اگر انہیں اس کے حصول کے لیے قرعہ اندازی کرنی پڑے تو وہ ضرور قرعہ اندازی کریں ، اور اگر وہ نماز کے لیے جلدی آنے کی فضیلت کے بارے میں جان لیں تو وہ اس کی طرف ضرور سبقت حاصل کریں ، اور اگر انہیں نماز عشاء اور نماز فجر کی اہمیت کاپتہ چل جائے تو وہ انہیں پڑھنے کے لیے ضرور (مسجد میں) آئیں خواہ انہیں سرین یا پاؤں اور گھٹنوں کے بل چل کر آنا پڑے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَ صَلَاةً أَثْقَلَ عَلَى الْمُنَافِق مِنَ الْفَجْرِ وَالْعِشَاءِ وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِيهِمَا لأتوهما وَلَو حبوا»

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ نماز فجر اور نماز عشاء منافقوں پر سب سے زیادہ بھاری نمازیں ہیں ، لیکن اگر انہیں ان کے اجر و ثواب کا پتہ چل جائے تو وہ انہیں پڑھنے کے لیے ضرور (مسجد میں) آئیں ، خواہ انہیں سرین یا پاؤں اور گھٹنوں کے بل چل کر آنا پڑے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

وَعَنْ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عَلَيْهِ وَسلم: «مَنْ صَلَّى الْعِشَاءَ فِي جَمَاعَةٍ فَكَأَنَّمَا قَامَ نِصْفَ اللَّيْلِ وَمَنْ صَلَّى الصُّبْحَ فِي جَمَاعَةٍ فَكَأَنَّمَا صَلَّى اللَّيْل كُله» . رَوَاهُ مُسلم

عثمان ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص نے نماز عشاء با جماعت ادا کی تو گویا اس نے نصف شب کا قیام کیا اور جس نے نماز صبح با جماعت ادا کی تو گویا اس نے پوری رات کا قیام کیا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَغْلِبَنَّكُمُ الْأَعْرَابُ على اسْم صَلَاتكُمْ الْمغرب» . قَالَ: «وَتقول الْأَعْرَاب هِيَ الْعشَاء»

ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ دیہاتی لوگ ، تمہاری نماز مغرب کے نام کے بارے میں ، تم پر غالب نہ آ جائیں ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں : دیہاتی اسے عشاء کے نام سے موسوم کرتے ہیں ۔ صحیح ۔

وَقَالَ: لَا يَغْلِبَنَّكُمُ الْأَعْرَابُ عَلَى اسْمِ صَلَاتِكُمُ الْعِشَاءِ فَإِنَّهَا فِي كِتَابِ اللَّهِ الْعِشَاءُ فَإِنَّهَا تعتم بحلاب الْإِبِل. رَوَاهُ مُسلم

اور فرمایا :’’ دیہاتی لوگ ، تمہاری عشاء کے نام کے بارے میں تم پر غالب نہ آ جائیں ، کیونکہ اس کا نام تو اللہ تعالیٰ کی کتاب میں عشاء ہے ، کیونکہ وہ اونٹوں کا دودھ دھونے کی وجہ سے اسے عتمہ کہتے ہیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

عَن ابْن مَسْعُود وَسمرَة بن جُنْدُب قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صَلَاةُ الْوُسْطَى صَلَاةُ الْعَصْرِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

ابن مسعود اور سمرہ بن جندب ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ درمیانی نماز سے مراد نماز عصر ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی ۔

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: (إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا) قَالَ: «تَشْهَدُهُ مَلَائِكَةُ اللَّيْلِ وَمَلَائِكَةُ النَّهَارِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

ابوہریرہ ؓ ، اللہ تعالیٰ کے فرمان :’’ بے شک نماز فجر کا پڑھنا (فرشتوں کی) حاضری کا وقت ہے ۔‘‘ کے بارے میں نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ وہ رات اور دن کے فرشتوں کی حاضری کا وقت ہے ۔‘‘ صحیح رواہ الترمذی ۔

عَن زيد بن ثَابت وَعَائِشَة قَالَا: الصَّلَاةُ الْوُسْطَى صَلَاةُ الظُّهْرِ رَوَاهُ مَالِكٌ عَن زيد وَالتِّرْمِذِيّ عَنْهُمَا تَعْلِيقا

زید بن ثابت اور عائشہ ؓ بیان کرتے ہیں ، درمیان والی نماز سے مراد نماز ظہر ہے ۔ امام مالک ؒ نے زید ؓ سے اور امام ترمذی ؒ نے ان دونوں سے معلق روایت کیا ہے ۔ صحیح ۔

وَعَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الظُّهْرَ بِالْهَاجِرَةِ وَلَمْ يَكُنْ يُصَلِّي صَلَاةً أَشَدَّ عَلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهَا فَنَزَلَتْ (حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى) وَقَالَ إِنَّ قَبْلَهَا صَلَاتَيْنِ وَبَعْدَهَا صَلَاتَيْنِ. رَوَاهُ أَحْمد وَأَبُو دَاوُد

زید بن ثابت ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نماز ظہر بہت جلد پڑھا کرتے تھے ، رسول اللہ ﷺ کے صحابہ پر سب سے زیادہ پر مشقت نماز یہی تھی ، پس یہ آیت نازل ہوئی ،’’ نمازوں کی پابندی و حفاظت کرو اور بالخصوص نماز وسطیٰ کی ۔‘‘ راوی نے کہا : کیونکہ اس سے پہلے بھی دو نمازیں ہیں ، اور اس کے بعد بھی دو نمازیں ہیں ۔ صحیح ، رواہ احمد و ابوداؤد ۔

وَعَن مَالك بَلَغَهُ أَنَّ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ كَانَا يَقُولَانِ: الصَّلَاةُ الْوُسْطَى صَلَاة الصُّبْح. رَوَاهُ فِي الْمُوَطَّأ

امام مالک ؒ سے روایت ہے کہ انہیں علی بن ابی طالب ؓ اور عبداللہ بن عباس ؓ کے متعلق پتہ چلا کہ وہ کہا کرتے تھے کہ درمیان والی نماز سے مراد نماز فجر ہے ۔ ضعیف ۔

وَرَوَاهُ التِّرْمِذِيّ عَن ابْن عَبَّاس وَابْن عمر تَعْلِيقا

امام ترمذی ؒ نے ابن عباس ؓ اور ابن عمر ؓ سے اسے معلق روایت کیا ہے ۔ صحیح ، رواہ الترمذی ۔

وَعَنْ سَلْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ غَدَا إِلَى صَلَاةِ الصُّبْحِ غَدَا بِرَايَةِ الْإِيمَانِ وَمَنْ غَدَا إِلَى السُّوقِ غَدَا بِرَايَةِ إِبْلِيسَ» . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه

سلمان ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جو شخص نماز فجر کے لیے جاتا ہے تو وہ ایمان کا پرچم اٹھا کر جاتا ہے ، اور جو شخص بازار کی طرف جاتا ہے ، تو وہ ابلیس کا پرچم اٹھا کر جاتا ہے ۔‘‘ ضعیف ۔