TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

بَابُ الصَّلَاةُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وفضلها نبی ﷺ پر درود و سلام بھیجنے اور اس کی فضیلت کا بیان

Chapter 16 of نماز کا بیان in Mishkat. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 16 of 53 · 20 Hadith
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ: لَقِيَنِي كَعْبُ بْنُ عُجْرَةَ فَقَالَ أَلَا أُهْدِي لَكَ هَدِيَّةً سَمِعْتُهَا مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ بَلَى فَأَهْدِهَا لِي فَقَالَ سَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ الصَّلَاةُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ عَلَّمَنَا كَيْفَ نُسَلِّمُ عَلَيْكُم قَالَ: «قُولُوا اللَّهُمَّ صل عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حُمَيْدٌ مجيد اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّك حميد مجيد» . إِلَّا أَنَّ مُسْلِمًا لَمْ يَذْكُرْ عَلَى إِبْرَاهِيمَ فِي الْمَوْضِعَيْنِ
عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ بیان کرتے ہیں ، کعب بن عجرہ مجھے ملے تو انہوں نے فرمایا : کیا میں تمہیں ایک ہدیہ پیش نہ کروں جسے میں نے نبی ﷺ سے سنا تھا ، میں نے کہا : کیوں نہیں ، ضرور پیش فرمائیں ، انہوں نے فرمایا : ہم نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کرتے ہوئے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! ہم آپ کے اہل بیت پر کیسے درود بھیجیں ؟ کیونکہ اللہ نے ہمیں یہ تو سکھا دیا ہے کہ ہم آپ پر کیسے سلام بھیجیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ یوں کہو ، الٰہی ، رحمت فرما محمد پر اور آل محمد پر جس طرح تو نے رحمت فرمائی ابراہیم اور آل ابراہیم پر ، بے شک تو تعریف والا اور بزرگی والا ہے ، اے اللہ ! برکت فرما محمد پر اور آل محمد پر جس طرح تو نے برکت فرمائی ابراہیم اور آل ابراہیم پر ، بے شک تو تعریف والا بزرگی والا ہے ۔‘‘ بخاری ، مسلم ۔ البتہ امام مسلم ؒ نے دو جگہوں پر ((علی ابراہیم)) ذکر نہیں کیا ۔ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۳۳۷۰) و مسلم (۶۶ / ۴۰۶) ۔ 908
919
Sahih
وَعَن أبي حميد السَّاعِدِيِّ قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ نصلي عَلَيْك؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قُولُوا: اللَّهُمَّ صلى الله عَلَيْهِ وَسلم عَلَى مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حُمَيْدٌ مجيد
ابوحمید ساعدی بیان کرتے ہیں ، صحابہ نے عرض کیا اللہ کے رسول ! ہم آپ پر کیسے درود بھیجیں ؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ کہو ، اے اللہ ! محمد پر ، ان کی ازواج پر اور ان کی اولاد پر رحمت فرما جس طرح تو نے آل ابراہیم پر رحمت فرمائی ، اور محمد پر ، آپ کی ازواج اور آپ کی اولاد پر برکت فرما جس طرح تو نے آل ابراہیم پر برکت فرمائی ، بے شک تو تعریف والا بزرگی والا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۶۳۶۰) و مسلم (۶۹ / ۴۰۷) ۔ 911
920
Sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ صَلَّى عَلَيَّ وَاحِدَةً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ عشرا» . رَوَاهُ مُسلم
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے تو اللہ اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۷۰ / ۴۰۸) ۔ 912
921
Sahih
عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ صَلَّى عَلَيَّ صَلَاةً وَاحِدَةً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ عَشْرَ صَلَوَاتٍ وَحُطَّتْ عَنْهُ عَشْرُ خَطِيئَاتٍ وَرُفِعَتْ لَهُ عَشْرُ دَرَجَاتٍ» . رَوَاهُ النَّسَائِيّ
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود پڑھتا ہے تو اللہ اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے ، اس کے دس گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں ، اور اس کے دس درجات بلند کر دیے جاتے ہیں ۔‘‘ صحیح ، رواہ النسائی ۔
Takhreej
اسنادہ صحیح ، رواہ النسائی (۳ / ۵۰ ح ۱۲۹۸) [و صححہ ابن حبان (۲۳۹۰) و الحاکم (۱ / ۵۵۰) و وافقہ الذھبی] ۔
922
Sahih
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «أَوْلَى النَّاسِ بِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَكْثَرُهُمْ عَلَيَّ صَلَاة» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ مجھ پر سب سے زیادہ درود بھیجنے والا شخص روز قیامت میرے سب سے زیادہ قریب ہو گا ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔
Takhreej
اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی (۴۸۴ وقال : حسن غریب) [و صححہ ابن حبان (۲۳۸۹) و حسنہ البغوی فی شرح السنۃ (۳ / ۱۹۶ ، ۱۹۷ ح ۶۸۶)] و للحدیث شاھد ۔ * عبداللہ بن کیسان : و ثقہ البغوی و ابن حبان فھو حسن الحدیث ۔
923
Sahih
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ لِلَّهِ مَلَائِكَةً سَيَّاحِينَ فِي الْأَرْضِ يُبَلِّغُونِي مِنْ أُمَّتِيَ السَّلَامَ» . رَوَاهُ النَّسَائِيّ والدارمي
عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ بے شک اللہ کے کچھ فرشتے زمین پر چلتے رہتے ہیں ، وہ میری امت کی طرف سے مجھ پر سلام پہنچاتے ہیں ۔‘‘ صحیح ، رواہ النسائی و الدارمی ۔
Takhreej
اسنادہ صحیح ، رواہ النسائی (۳/ ۴۳ ح ۱۲۸۳) و الدارمی (۲ / ۳۱۷ ح ۲۷۷۷) [و صححہ ابن حبان (۲۳۹۲) و الحاکم (۲ / ۴۲۱) و وافقہ الذھبی] * سفیان الثوری صرح بالسماع ۔
924
Sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ أَحَدٍ يُسَلِّمُ عَلَيَّ إِلَّا رَدَّ اللَّهُ عَلَيَّ رُوحِي حَتَّى أَرُدَّ عَلَيْهِ السَّلَامُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي الدَّعَوَاتِ الْكَبِيرِ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ،رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب کوئی شخص مجھ پر سلام بھیجتا ہے تو اللہ میری روح مجھ پر لوٹا دیتا ہے حتیٰ کہ میں اس کے سلام کا جواب دیتا ہوں ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
Takhreej
اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد (۲۰۴۱) و البیھقی فی الدعوات الکبیر (۱ / ۱۲۰ ح ۱۵۸ ، و السنن : ۵ / ۲۴۵) * یزید بن عبداللہ بن قسیط ثبت سماعہ من ابی ھریرۃ عند البیھقی (۱ / ۱۲۲) ۔
925
Sahih
وَعَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا تَجْعَلُوا بُيُوتَكُمْ قُبُورًا وَلَا تَجْعَلُوا قَبْرِي عِيدًا وَصَلُّوا عَلَيَّ فَإِنَّ صَلَاتكُمْ تبلغني حَيْثُ كُنْتُم» . رَوَاهُ النَّسَائِيّ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ اپنے گھروں کو قبرستان بناؤ نہ میری قبر کو عید (زیارت گاہ) بنانا ، اور مجھ پر درود بھیجو ، کیونکہ تم جہاں بھی ہو تمہارا درود مجھ تک پہنچا دیا جاتا ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ النسائی ۔
Takhreej
اسنادہ حسن ، رواہ النسائی (لم اجدہ فی الصغریٰ ولا فی الکبریٰ) [و ابوداؤد : ۲۰۴۲] ۔
926
Sahih
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «رَغِمَ أَنْفُ رَجُلٍ ذُكِرْتُ عِنْدَهُ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيَّ وَرَغِمَ أَنْفُ رَجُلٍ دَخَلَ عَلَيْهِ رَمَضَانُ ثُمَّ انْسَلَخَ قَبْلَ أَنْ يُغْفَرَ لَهُ وَرَغِمَ أَنْفُ رَجُلٍ أَدْرَكَ عِنْدَهُ أَبَوَاهُ الْكبر أَو أَحدهمَا فَلم يدْخلَاهُ الْجنَّة» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اس شخص کی ناک خاک آلود ہو جس کے سامنے میرا ذکر کیا جائے لیکن وہ مجھ پر درود نہ پڑھے ، اس شخص کی ناک خاک آلود ہو جس کے پاس رمضان آ کر چلا گیا لیکن اس کی مغفرت نہ ہو سکے ، اور اس شخص کی ناک بھی خاک آلود ہو جس کی زندگی میں اس کے والدین یا ان میں سے کوئی ایک بڑھاپے کو پہنچ جائے لیکن (ان کی خدمت) پھر بھی اسے جنت میں داخل نہ کروا سکے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔
Takhreej
اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی (۳۵۴۵ وقال : حسن غریب) [و صححہ ابن حبان (الاحسان : ۹۰۵) ولہ شواھد عند مسلم (۲۵۵۱) و ابن حبان (الموارد : ۲۳۸۷ ، ۲۰۲۸) و ابن خزیمۃ (۱۸۸۸) و الحاکم (۴ / ۱۵۳) و غیرھم] ۔
927
Sahih
وَعَن أبي طَلْحَة أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ ذَاتَ يَوْمٍ وَالْبِشْرُ فِي وَجْهِهِ فَقَالَ: إِنَّهُ جَاءَنِي جِبْرِيلُ فَقَالَ: إِنَّ رَبَّكَ يَقُولُ أَمَا يُرْضِيكَ يَا مُحَمَّدُ أَنْ لَا يُصَلِّيَ عَلَيْكَ أَحَدٌ مِنْ أُمَّتِكَ إِلَّا صَلَّيْتُ عَلَيْهِ عَشْرًا وَلَا يُسَلِّمُ عَلَيْكَ أَحَدٌ مِنْ أُمَّتِكَ إِلَّا سَلَّمْتُ عَلَيْهِ عَشْرًا؟ . رَوَاهُ النَّسَائِيُّ وَالدَّارِمِيُّ
ابوطلحہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک روز رسول اللہ ﷺ بڑے خوش تشریف لائے تو فرمایا :’’ جبریل ؑ میرے پاس تشریف لائے تو انہوں نے فرمایا : آپ کا رب فرماتا ہے : محمد (ﷺ) ! کیا یہ بات آپ کے لیے باعث مسرت نہیں کہ جب آپ کی امت میں سے کوئی شخص ایک مرتبہ آپ پر درود بھیجے تو میں اس پر دس رحمتیں بھیجوں اور آپ کی امت میں سے جو شخص ایک مرتبہ آپ پر سلام بھیجے تو میں اس پر دس مرتبہ سلامتی بھیجوں ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ النسائی و الدارمی ۔
Takhreej
اسنادہ حسن ، رواہ النسائی (۳ / ۵۰ ح ۱۲۹۶) و الدارمی (۲ / ۳۱۷ ح ۲۷۷۶) [و صححہ ابن حبان (۲۳۹۱) و الحاکم (۲ / ۴۲۰) و وافقہ الذھبی] * سلیمان مولی الحسن : حسن الحدیث و للحدیث شواھد ۔
928
Sahih
وَعَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أُكْثِرُ الصَّلَاةَ عَلَيْكَ فَكَمْ أَجْعَلُ لَكَ مِنْ صَلَاتِي؟ فَقَالَ: «مَا شِئْتَ» قُلْتُ: الرُّبُعَ؟ قَالَ: «مَا شِئْتَ فَإِنْ زِدْتَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ» . قُلْتُ: النِّصْفَ؟ قَالَ: «مَا شِئْتَ فَإِنْ زِدْتَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ» قُلْتُ: فَالثُّلُثَيْنِ؟ قَالَ: «مَا شِئْتَ فَإِنْ زِدْتَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ» قُلْتُ: أَجْعَلُ لَكَ صَلَاتِي كُلَّهَا؟ قَالَ: «إِذا يكفى همك وَيكفر لَك ذَنْبك» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
ابی بن کعب ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ﷺ ! میں آپ پر بہت زیادہ درود بھیجتا ہوں ، میں اپنی دعا کا کتنا حصہ آپ پر درود و سلام کے لیے وقف کر دوں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جتنا تم چاہو ۔‘‘ میں نے عرض کیا : چوتھائی ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جتنا تم چاہو ، اگر تم زیادہ کر لو تو وہ تمہارے لیے بہتر ہے ۔‘‘ میں نے عرض کیا ، نصف ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جتنا تم چاہو ، اگر تم زیادہ کر لو تو وہ تمہارے لیے بہتر ہے ۔‘‘ میں نے عرض کیا : دو تہائی ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جتنا تم چاہو ، اگر زیادہ کر لو تو وہ تمہارے لیے بہتر ہے ۔‘‘ میں نے عرض کیا : میں اپنی پوری دعا آپ (پر درود و سلام) کے لیے وقف کر دیتا ہوں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ پھر تو تمہاری ساری مرادیں پوری ہو جائیں گی اور تمہارے گناہ معاف کر دیے جائیں گے ۔‘‘ ضعیف ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۲۴۵۷ وقال : حسن) * عبداللہ بن محمد بن عقیل ضعیف و سفیان الثوری مدلس و عنعن ۔
929
Zaeef
وَعَن فضَالة بن عُبَيْدٍ قَالَ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدٌ إِذْ دَخَلَ رَجُلٌ فَصَلَّى فَقَالَ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَجِلْتَ أَيُّهَا الْمُصَلِّي إِذَا صَلَّيْتَ فَقَعَدْتَ فَاحْمَدِ اللَّهَ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ وَصَلِّ عَلَيَّ ثُمَّ ادْعُهُ» . قَالَ: ثُمَّ صَلَّى رَجُلٌ آخَرُ بَعْدَ ذَلِكَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَصَلَّى عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيُّهَا الْمُصَلِّي ادْعُ تُجَبْ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَرَوَى أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيّ نَحوه
فضالہ بن عبید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ تشریف فرما تھے تو ایک آدمی آیا ، اس نے نماز پڑھی اور دعا کی : اے اللہ ! مجھے بخش دے اور مجھ پر رحم فرما ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ نمازی شخص ! تم نے جلد بازی کی ، جب تم نماز پڑھ کر (تشہد کے لیے) بیٹھو تو اللہ کی ، اس کی شان کے لائق ، حمد بیان کرو ، مجھ پر درود بھیجو ، پھر اللہ تعالیٰ سے دعا کرو ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، پھر اس کے بعد ایک اور آدمی نے نماز پڑھی تو اس نے اللہ کی حمد بیان کی ، نبی پر درود بھیجا تو نبی ﷺ نے اسے فرمایا :’’ نمازی شخص ! دعا کرو ، تمہاری دعا قبول ہو گی ۔‘‘ ترمذی ۔ ابوداؤد اور نسائی نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے ۔ حسن ۔
Takhreej
حسن ، رواہ الترمذی (۳۴۷۶ وقال : حدیث حسن) و ابوداؤد (۱۴۸۱) و النسائی (۳ / ۴۴ ح ۱۲۸۵) ۔
930
Sahih
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: كُنْتُ أُصَلِّي وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ مَعَهُ فَلَمَّا جَلَسْتُ بَدَأْتُ بِالثَّنَاءِ عَلَى اللَّهِ تَعَالَى ثُمَّ الصَّلَاةُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ دَعَوْتُ لِنَفْسِي فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سَلْ تعطه سل تعطه» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نماز پڑھ رہا تھا ، جبکہ نبی ﷺ ، ابوبکر ؓ اور عمر ؓ کے ساتھ تشریف فرما تھے ، جب میں بیٹھا تو میں نے سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کی ثنا بیان کی ، پھر نبی ﷺ پر درود بھیجا ، پھر اپنے لیے دعا کی تو نبی ﷺ نے فرمایا :’’ مانگو ! دیا جائے گا ، مانگو ! دیا جائے گا ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی ۔
Takhreej
حسن ، رواہ الترمذی (۵۹۳ وقال : حسن صحیح) * و للحدیث شواھد ۔
931
Sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَكْتَالَ بِالْمِكْيَالِ الْأَوْفَى إِذَا صَلَّى عَلَيْنَا أَهْلَ الْبَيْتِ فَلْيَقُلْ اللَّهُمَّ صَلِّ على مُحَمَّد وَأَزْوَاجِهِ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ وَذُرِّيَّتِهِ وَأَهْلِ بَيْتِهِ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حُمَيْدٌ مَجِيدٌ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص کو پسند ہو کہ اسے پورا پورا اجر و ثواب دیا جائے تو پھر جب وہ ہم اہل بیت پر درود پڑھے تو وہ یوں کہے : اے اللہ ! محمد ، نبی اُمی پر ، آپ کی ازواج مطہرات ، مؤمنوں کی ماؤں پر ، آپ کی اولاد اور آپ کے اہل خانہ پر رحمتیں نازل فرما جیسے تو نے آل ابراہیم پر رحمتیں نازل فرمائیں ، بے شک تو تعریف والا ، بزرگی والا ہے ۔‘‘ ضعیف ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد (۹۸۲) * حبان بن یسار ضعفہ ابوحاتم و غیرہ و اختلط بآخرہ کما قال الصلت بن محمد و غیرہ و فی السند علۃ أخری عند العقیلی فی الضعفاء (۱ / ۳۱۸) ۔
932
Zaeef
وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْبَخِيلُ الَّذِي ذُكِرْتُ عِنْدَهُ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيَّ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَرَوَاهُ أَحْمَدُ عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ
علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص کے پاس میرا ذکر کیا جائے اور وہ مجھ پر درود نہ بھیجے تو وہ بخیل ہے ۔‘‘ ترمذی ، امام احمد نے حسین بن علی کی سند سے روایت کیا ہے اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ۔ اسنادہ حسن ۔
Takhreej
اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی (۳۵۴۶ وقال : حسن غریب صحیح) و احمد (۱ / ۲۰۱ ح ۱۷۳۶) [و صححہ ابن حبان (۲۳۸۸) و الحاکم (۱ / ۵۴۹) و وافقہ الذھبی] ۔
933
Sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ صَلَّى عَلَيَّ عِنْدَ قَبْرِي سَمِعْتُهُ وَمَنْ صَلَّى عَلَيَّ نَائِيًا أُبْلِغْتُهُ» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شعب الْإِيمَان
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص میری قبر کے پاس مجھ پر درود پڑھتا ہے تو میں اسے خود سنتا ہوں ، اور جو شخص دور سے مجھ پر درود بھیجتا ہے تو وہ مجھے پہنچا دیا جاتا ہے ۔‘‘ ضعیف ۔
Takhreej
ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان (۱۵۸۳) فیہ محمد بن مروان السدی کذاب ولہ طریق آخر ضعیف عند ابی الشیخ فی کتاب الثواب ، فیہ عبد الرحمن بن احمد الاعرج : مجھول الحال و سلیمان الاعمش مدلس و عنعن و فیہ علۃ أخری فالحدیث ضعیف ۔
934
Zaeef
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: مَنْ صَلَّى عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاحِدَةً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَمَلَائِكَتُهُ سَبْعِينَ صَلَاةً. رَوَاهُ أَحْمد
عبداللہ بن عمرو ؓ نے فرمایا : جو شخص نبی ﷺ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے تو اللہ اور اس کے فرشتے اس پر ستر رحمتیں نازل فرماتے ہیں ۔ ضعیف ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد (۲ / ۱۸۷ ح ۶۷۵۴) * عبداللہ بن لھیعۃ مدلس و ضعیف لاختلاطہ ولم یحدث بہ قبل اختلاطہ ۔
935
Zaeef
وَعَن رويفع أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ صَلَّى عَلَى مُحَمَّدٍ وَقَالَ: اللَّهُمَّ أَنْزِلْهُ الْمَقْعَدَ الْمُقَرَّبَ عِنْدَكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَجَبَتْ لَهُ شَفَاعَتِي . رَوَاهُ أَحْمد
رویفع ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص نے محمد (ﷺ) پر درود بھیجا اور دعا کی : اے اللہ ! روز قیامت انہیں اپنے پاس مقام محمود عطا فرما ، اس کے لیے میری شفاعت واجب ہو گئی ۔‘‘ ضعیف ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد (۴ / ۱۰۸ ح ۱۷۱۱۶) * ابن لھیعۃ ضعیف لاختلاطہ ، و وفاء الحضرمی لم یوثقہ غیر ابن حبان ۔
936
Zaeef
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى دَخَلَ نَخْلًا فَسَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودَ حَتَّى خَشِيتُ أَنْ يَكُونَ اللَّهُ تَعَالَى قَدْ تَوَفَّاهُ. قَالَ: فَجِئْتُ أَنْظُرُ فَرَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ: «مَا لَكَ؟» فَذَكَرْتُ لَهُ ذَلِكَ. قَالَ: فَقَالَ: إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام قَالَ لي: أَلا أُبَشِّرك أَن اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ لَكَ مَنْ صَلَّى عَلَيْكَ صَلَاةً صَلَّيْتُ عَلَيْهِ وَمَنْ سَلَّمَ عَلَيْكَ سلمت عَلَيْهِ . رَوَاهُ أَحْمد
عبدالرحمن بن عوف ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ باہر تشریف لائے حتیٰ کہ کھجوروں کے باغ میں تشریف لے گئے ، آپ نے بہت طویل سجدہ کیا حتیٰ کہ مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں اللہ تعالیٰ نے آپ کی روح قبض نہ کر لی ہو ، وہ بیان کرتے ہیں ، میں آپ کو دیکھنے کے لیے آیا تو آپ ﷺ نے اپنا سر اٹھایا تو فرمایا :’’ آپ کو کیا ہوا ؟‘‘ پس میں نے آپ سے وہ خدشہ بیان کر دیا ، راوی بیان کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جبریل نے مجھے فرمایا : کیا میں آپ کو بشارت نہ دوں کہ اللہ عزوجل آپ سے فرماتا ہے : جو شخص آپ پر درود بھیجتا ہے تو میں اس پر رحمتیں نازل کرتا ہوں ، اور جو آپ پر سلام بھیجتا ہے تو میں اس پر سلامتی بھیجتا ہوں ۔‘‘ ضعیف ۔
Takhreej
سندہ ضعیف ، رواہ احمد (۱ / ۱۹۱ ح ۱۶۶۲) * فی سماع عبدالواحد بن محمد بن عبد الرحمن بن عوف من جدہ نظر فالسند ضعیف للانقطاع ۔
937
Zaeef
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: إِنَّ الدُّعَاءَ مَوْقُوفٌ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ لَا يَصْعَدُ مِنْهُ شَيْءٌ حَتَّى تُصَلِّيَ عَلَى نبيك. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
عمر بن خطاب ؓ بیان کرتے ہیں ، جب تک تم اپنے نبی ﷺ پر درود نہ بھیجو تو تمہاری دعا آسمان اور زمین کے درمیان موقوف رہتی ہے اور اس میں سے کوئی چیز بھی اوپر نہیں چڑھتی ۔ ضعیف ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۴۸۶) * فیہ ابو قرۃ الاسدی : مجھول ۔
938
Zaeef

Chapters

53
01
بَاب الْمَوَاقِيت
نماز کے اوقات کا بیان
6 Hadith
02
بَاب تَعْجِيل الصَّلَوَات
اول وقت نماز پڑھنے کا بیان
37 Hadith
03
بَاب فَضَائِل الصَّلَاة
فضائل نماز کا بیان
17 Hadith
04
بَاب الْأَذَان
اذان کا بیان
13 Hadith
05
بَابُ فَضْلِ الْأَذَانِ وَإِجَابَةِ الْمُؤَذِّنِ
اذان دینے اور اذان کا جواب دینے کی فضیلت
26 Hadith
06
بَاب تَأْخِير الْأَذَان
اذان کے بعض احکام کا بیان
9 Hadith
07
بَاب الْمَسَاجِد ومواضع الصَّلَاة
مساجد اور نماز پڑھنے کے مقامات کا بیان
65 Hadith
08
بَاب السّتْر
ستر کا بیان
18 Hadith
09
بَاب الستْرَة
سترہ کا بیان
18 Hadith
10
بَاب صفة الصَّلَاة
نماز پڑھنے کا بیان
22 Hadith
11
بَابُ مَا يُقْرَأُ بَعْدَ التَّكْبِيرِ
تکبیر تحریمہ کے بعد پڑھی جانے والی چیزوں کا بیان
10 Hadith
12
بَاب الْقِرَاءَة فِي الصَّلَاة
نماز میں قراءت کا بیان
46 Hadith
13
بَاب الرُّكُوع
رکوع کا بیان
19 Hadith
14
بَاب السُّجُود وفضله
سجود اور ان کی فضیلت کا بیان
19 Hadith
15
بَاب التَّشَهُّد
تشہد کا بیان
13 Hadith
16
بَابُ الصَّلَاةُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وفضلها
نبی ﷺ پر درود و سلام بھیجنے اور اس کی فضیلت کا بیان
20 Hadith
17
بَاب الدُّعَاء فِي التَّشَهُّد
تشہد کی دعا کا بیان
20 Hadith
18
بَاب الذّكر بعد الصَّلَاة
نماز کے بعد ذکر کا بیان
19 Hadith
19
بَابُ مَا لَا يَجُوزُ مِنَ
دوران نماز نا جائز اور مباح اعمال کا بیان
36 Hadith
20
بَاب السَّهْو
۔ (نماز میں) بھول جانے کا بیان
9 Hadith
21
بَاب سُجُود الْقُرْآن
سجدۂ تلاوت کا بیان
16 Hadith
22
بَاب أَوْقَات النَّهْي
نماز کے لیے ممنوعہ اوقات کا بیان
13 Hadith
23
بَاب الْجَمَاعَة وفضلها
با جماعت نماز اور اس کی فضیلت کا بیان
33 Hadith
24
بَاب تَسْوِيَة الصَّفّ
صفیں برابر کرنے کا بیان
21 Hadith
25
بَاب الْموقف
(نماز میں) کھڑے ہونے کی جگہ کا بیان
11 Hadith
26
بَاب الْإِمَامَة
امامت کا بیان
12 Hadith
27
بَاب مَا على الإِمَام
امام کی ذمہ داری کا بیان
7 Hadith
28
بَابُ مَا عَلَى الْمَأْمُومِ مِنَ الْمُتَابَعَةِ وَحُكْمِ الْمَسْبُوق
مقتدی کے لیے امام کی متابعت اور مسبوق کے حکم کا بیان
14 Hadith
29
بَابُ مَنْ صَلَّى صَلَاةً مَرَّتَيْنِ
دو مرتبہ نماز پڑھنے والے آدمی کا بیان
9 Hadith
30
بَاب السّنَن وفضائلها
سنتوں اور ان کی فضیلت کا بیان
29 Hadith
31
بَاب صَلَاة اللَّيْل
نماز تہجد کا بیان
23 Hadith
32
بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ
نماز تہجد کے اذکار
8 Hadith
33
بَابُ التَّحْرِيضِ عَلَى قِيَامِ اللَّيْلِ
رات کے قیام پر رغبت دلانے کا بیان
22 Hadith
34
بَاب الْقَصْد فِي الْعَمَل
عمل میں میانہ روی کا بیان
12 Hadith
35
بَاب الْوتر
وتر کا بیان
35 Hadith
36
بَاب الْقُنُوت
قنوت کا بیان
7 Hadith
37
بَاب قيام شهر رَمَضَان
ماہ رمضان کے قیام کا بیان
14 Hadith
38
بَاب صَلَاة الضُّحَى
نماز چاشت کا بیان
13 Hadith
39
بَاب التَّطَوُّع
نفل نماز کا بیان
6 Hadith
40
بَاب صَلَاة التَّسْبِيح
نماز تسبیح کا بیان
5 Hadith
41
بَاب صَلَاة السّفر
نماز سفر کا بیان
21 Hadith
42
بَاب الْجُمُعَة
جمعہ کا بیان
16 Hadith
43
بَاب وُجُوبهَا
وجوب جمعہ کا بیان
11 Hadith
44
بَاب التَّنْظِيف والتبكير
نظافت اور اول وقت آنے کا بیان
20 Hadith
45
بَاب الْخطْبَة وَالصَّلَاة
خطبہ اور نماز جمعہ کا بیان
19 Hadith
46
بَاب صَلَاة الْخَوْف
نماز خوف کا بیان
6 Hadith
47
بَاب صَلَاة الْعِيدَيْنِ
نماز عیدین کا بیان
27 Hadith
48
بَاب فِي الْأُضْحِية
قربانی کا بیان
24 Hadith
49
بَاب فِي العتيرة
عتیرہ کا بیان
3 Hadith
50
باب صلٰوۃ الخسوف
نماز خسوف کا بیان
14 Hadith
51
بَابٌ فِي سُجُودِ الشُّكْرِ
سجدۂ شکر کا بیان
3 Hadith
52
بَاب الاسْتِسْقَاء
نماز استسقا کا بیان
14 Hadith
53
بَاب فِي الرِّيَاح
آندھیوں کا بیان
12 Hadith
No chapter matched that.