مشکوۃ

Mishkat

نماز کا بیان

نبی ﷺ پر درود و سلام بھیجنے اور اس کی فضیلت کا بیان

بَابُ الصَّلَاةُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وفضلها


وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْبَخِيلُ الَّذِي ذُكِرْتُ عِنْدَهُ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيَّ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَرَوَاهُ أَحْمَدُ عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ

علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص کے پاس میرا ذکر کیا جائے اور وہ مجھ پر درود نہ بھیجے تو وہ بخیل ہے ۔‘‘ ترمذی ، امام احمد نے حسین بن علی کی سند سے روایت کیا ہے اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ۔ اسنادہ حسن ۔

Status: Sahih
حکمِ حدیث: صحیح
Reference
حوالہ حکم
(صَحِيح)
Conclusion
تخریج
اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی (۳۵۴۶ وقال : حسن غریب صحیح) و احمد (۱ / ۲۰۱ ح ۱۷۳۶) [و صححہ ابن حبان (۲۳۸۸) و الحاکم (۱ / ۵۴۹) و وافقہ الذھبی] ۔