مشکوۃ

Mishkat

نماز کا بیان

دوران نماز نا جائز اور مباح اعمال کا بیان

بَابُ مَا لَا يَجُوزُ مِنَ

عَن مُعَاوِيَة ابْن الْحَكَمِ قَالَ: بَيْنَا أَنَا أُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ عَطَسَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فَقُلْتُ: يَرْحَمُكَ اللَّهُ. فَرَمَانِي الْقَوْم بِأَبْصَارِهِمْ. فَقلت: وَا ثكل أُمِّيَاهُ مَا شَأْنُكُمْ تَنْظُرُونَ إِلَيَّ فَجَعَلُوا يَضْرِبُونَ بِأَيْدِيهِمْ عَلَى أَفْخَاذِهِمْ فَلَمَّا رَأَيْتُهُمْ يُصَمِّتُونَنِي لَكِنِّي سَكَتُّ فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبِأَبِي هُوَ وَأُمِّي مَا رَأَيْتُ مُعَلِّمًا قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ أَحْسَنَ تَعْلِيمًا مِنْهُ فَوَاللَّهِ مَا كَهَرَنِي وَلَا ضَرَبَنِي وَلَا شَتَمَنِي قَالَ: «إِنَّ هَذِهِ الصَّلَاةَ لَا يَصْلُحُ فِيهَا شَيْءٌ من كَلَام النَّاس إِنَّمَا هُوَ التَّسْبِيحُ وَالتَّكْبِيرُ وَقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ» أَوْ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قلت: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي حَدِيثُ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ وَقد جَاءَ اللَّهُ بِالْإِسْلَامِ وَإِنَّ مِنَّا رِجَالًا يَأْتُونَ الْكُهَّانَ. قَالَ: «فَلَا تَأْتِهِمْ» . قُلْتُ: وَمِنَّا رِجَالٌ يَتَطَيَّرُونَ. قَالَ: «ذَاكَ شَيْءٌ يَجِدُونَهُ فِي صُدُورِهِمْ فَلَا يَصُدَّنَّهُمْ» . قَالَ قُلْتُ وَمِنَّا رِجَالٌ يَخُطُّونَ. قَالَ: «كَانَ نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ يَخُطُّ فَمَنْ وَافَقَ خَطَّهُ فَذَاكَ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ قَوْلُهُ: لَكِنِّي سَكَتُّ هَكَذَا وُجِدَتْ فِي صَحِيحِ مُسْلِمٍ وَكِتَابِ الْحُمَيْدِيِّ وَصُحِّحَ فِي «جَامِعِ الْأُصُولِ» بِلَفْظَةِ كَذَا فَوْقَ: لكني

معاویہ بن حکم بیان کرتے ہیں ، میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھ رہا تھا کہ اس دوران لوگوں میں سے کسی آدمی نے چھینک مار دی ، تو میں نے (دوران نماز) کہہ دیا : اللہ تم پر رحم کرے ، لوگ مجھے آنکھوں کے اشارے سے روکنے لگے ، میں نے کہا : میری ماں مجھے گم پائے ، تمہیں کیا ہوا کہ تم مجھے اس طرح دیکھ رہے ہو ؟ انہوں نے اپنی رانوں پر اپنے ہاتھ مارنا شروع کر دیے ، چنانچہ جب میں نے انہیں دیکھا کہ وہ مجھے چپ کرا رہے ہیں تو میں خاموش ہو گیا ، جب رسول اللہ ﷺ نے نماز پڑھ لی ، میرے والدین آپ پر قربان ہوں ، میں نے آپ جیسا بہترین معلم آپ سے پہلے کوئی دیکھا ہے نہ آپ کے بعد ، اللہ کی قسم ! آپ نے مجھے ڈانٹا نہ مارا اور نہ ہی گالی دی ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ یہ جو نماز ہے اس میں لوگوں کا باتیں کرنا درست نہیں ، یہ تو صرف تسبیح و تکبیر اور قراءت قرآن ہے ۔‘‘ یا اس سے ملتے جلتے الفاظ رسول اللہ ﷺ نے فرمائے ۔ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں نیا نیا مسلمان ہوا ہوں ، اللہ نے ہمیں اسلام کی دولت سے نوازا ہے بے شک ہم میں کچھ ایسے لوگ ہیں جو کاہنوں کے پاس جاتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تم ان کے پاس نہ جانا ۔‘‘ میں نے عرض کیا ، ہم میں سے کچھ لوگ فال لیتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ یہ وہ چیز ہے جو وہ اپنے سینوں میں پاتے ہیں ، (اس کی کوئی دلیل نہیں) پس یہ چیز انہیں روکنے نہ پائے ۔‘‘ میں نے عرض کیا ، ہم میں سے کچھ لوگ لکیریں کھینچتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ایک نبی بھی خط کھینچا کرتے تھے ، پس جس کا خط ان کے موافق ہو گا تو وہ درست ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔ (مؤلف فرماتے ہیں) کہ راوی کا یہ کہنا :’’ لکنی سکت ‘‘ میں نے جملہ صحیح مسلم اور کتاب حمیدی میں اسی طرح دیکھا ہے ، اور جامع الاصول میں اس کے ساتھ کزا کا لفظ تصحیح کے طور پر لایا گیا ہے ۔

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: كُنَّا نُسَلِّمُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ فَيَرُدُّ عَلَيْنَا فَلَمَّا رَجَعْنَا مِنْ عِنْدِ النَّجَاشِيِّ سَلَّمْنَا عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْنَا فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ كُنَّا نُسَلِّمُ عَلَيْكَ فِي الصَّلَاةِ فَتَرُدُّ عَلَيْنَا فَقَالَ: إِنَّ فِي الصَّلَاةِ لَشُغْلًا

عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم دوران نماز نبی ﷺ کو سلام کیا کرتے تھے اور آپ ہمیں جواب دے دیا کرتے تھے پس جب ہم نجاشی کے پاس سے واپس آئے تو ہم نے آپ کو سلام عرض کیا ، لیکن آپ نے ہمیں جواب نہ دیا ، تو ہم نے عرض کیا : اللہ کے رسول ﷺ ! ہم آپ کو دوران نماز سلام عرض کیا کرتے تھے اور آپ ہمیں جواب دیا کرتے تھے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ بے شک نماز ایک طرح کی مشغولیت (لا تعلقی ) ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

وَعَنْ مُعَيْقِيبٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرَّجُلِ يُسَوِّي التُّرَابَ حَيْثُ يَسْجُدُ؟ قَالَ: «إِنْ كُنْتَ فَاعِلًا فَوَاحِدَةً»

معیقیب ؓ نبی ﷺ سے اس شخص کے بارے میں روایت کرتے ہیں ، جو سجدہ کی جگہ پر مٹی درست کرتا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اگر تم نے ضرور ہی کرنا ہے تو پھر ایک مرتبہ کر لے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَن الخصر فِي الصَّلَاة

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے دوران نماز پہلو پر ہاتھ رکھنے سے منع فرمایا ۔ متفق علیہ ۔

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الِالْتِفَاتِ فِي الصَّلَاةِ فَقَالَ: «هُوَ اختلاس يختلسه الشَّيْطَان من صَلَاة العَبْد»

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے نماز میں ادھر ادھر دیکھنے کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ وہ تو اچک لینا ہے ، شیطان بندے کی نماز سے اچک لیتا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيَنْتَهِيَنَّ أَقْوَامٌ عَنْ رَفْعِهِمْ أَبْصَارَهُمْ عِنْدَ الدُّعَاءِ فِي الصَّلَاةِ إِلَى السَّمَاءِ أَوْ لَتُخْطَفَنَّ أَبْصَارهم» . رَوَاهُ مُسلم

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ لوگوں کو دوران نماز ، دعا کے وقت اپنی آنکھیں آسمان کی طرف اٹھانے سے باز آ جانا چاہیے ، یا ان کی آنکھیں اچک لی جائیں گی ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

وَعَن أبي قَتَادَة قَالَتْ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَؤُمُّ النَّاسَ وَأُمَامَةُ بِنْتُ أَبِي الْعَاصِ عَلَى عَاتِقِهِ فَإِذَا رَكَعَ وَضَعَهَا وَإِذَا رَفَعَ مِنَ السُّجُودِ أَعَادَهَا

ابوقتادہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے نبی ﷺ کو لوگوں کی امامت کراتے ہوئے دیکھا جبکہ (آپ کی نواسی ) امامہ بنت ابی العاص آپ کے کندھے پر تھیں ، جب آپ رکوع کرتے تو انہیں (کندھے سے) اتار دیتے اور جب سجدوں سے سر اٹھاتے تو پھر انہیں اٹھا لیتے تھے ۔ متفق علیہ ۔

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا تَثَاءَبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَكْظِمْ مَا اسْتَطَاعَ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَدْخُلُ» . رَوَاهُ مُسلم

ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کسی شخص کو دوران نماز جمائی آئے تو جس قدر ہو سکے اسے روکے کیونکہ (منہ کھلا ہو تو) شیطان داخل ہو جاتا ہے ۔‘‘ اسے مسلم نے روایت کیا ہے ۔ رواہ مسلم ۔

وَفِي رِوَايَةِ الْبُخَارِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: إِذَا تَثَاءَبَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ فَلْيَكْظِمْ مَا اسْتَطَاعَ وَلَا يَقُلْ: هَا فَإِنَّمَا ذَلِكُمْ مِنَ الشَّيْطَان يضْحك مِنْهُ

اور ابوہریرہ ؓ سے مروی صحیح بخاری کی روایت میں ہے :’’ جب تم میں سے کسی شخص کو دوران نماز جمائی آئے ، تو جس قدر ہو سکے اسے روکے ، ہا ہا نہ کرے ، یہ تو محض شیطان کی طرف سے ہے ، وہ اس پر ہنستا ہے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ عِفْرِيتًا مِنَ الْجِنِّ تَفَلَّتَ الْبَارِحَةَ لِيَقْطَعَ عَلَيَّ صَلَاتِي فَأَمْكَنَنِي اللَّهُ مِنْهُ فَأَخَذْتُهُ فَأَرَدْتُ أَنْ أَرْبِطَهُ عَلَى سَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ حَتَّى تَنْظُرُوا إِلَيْهِ كُلُّكُمْ فَذَكَرْتُ دَعْوَةَ أَخِي سُلَيْمَانَ: (رَبِّ هَبْ لِي مُلْكًا لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي) فَرَدَدْتُهُ خَاسِئًا

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ گزشتہ رات اچانک ایک سرکش جن آیا تاکہ میری نماز خراب کر دے ، لیکن اللہ نے مجھے اس پر اختیار عطا فرمایا تو میں نے اسے مسجد کے ستون کے ساتھ باندھنے کا ارادہ کیا حتیٰ کہ تم سب اسے دیکھ لیتے ، تو پھر مجھے میرے بھائی سلیمان ؑ کی دعا یاد آ گئی : میرے رب ! مجھے ایسی بادشاہت عطا فرما جو میرے بعد کسی اور کے لائق نہ ہو ، پس میں نے اسے ذلیل کر کے بھگا دیا ۔‘‘ متفق علیہ ۔

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «مَنْ نَابَهُ شَيْءٌ فِي صَلَاتِهِ فَلْيُسَبِّحْ فَإِنَّمَا التَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ» وَفِي رِوَايَةٍ: قَالَ: «التَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ والتصفيق للنِّسَاء»

سہل بن سعد ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص کو نماز میں کوئی عارضہ پیش آ جائے تو وہ ’’ سبحان اللہ ‘‘ کہے ، ہاتھ پر ہاتھ مارنا تو خواتین کے لیے ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔ اور ایک دوسری روایت میں ہے : آپ ﷺ نے فرمایا :’’ سبحان اللہ کہنا مردوں کے لیے ہے جبکہ ہاتھ پر ہاتھ مارنا خواتین کے لیے ہے ۔‘‘

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: كُنَّا نُسَلِّمُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ قَبْلَ أَنْ نَأْتِيَ أَرْضَ الْحَبَشَةِ فَيَرُدُّ عَلَيْنَا فَلَمَّا رَجَعْنَا مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَةِ أَتَيْتُهُ فَوَجَدْتُهُ يُصَلِّي فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ حَتَّى إِذَا قَضَى صَلَاتَهُ قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ يُحْدِثُ مِنْ أَمْرِهِ مَا يَشَاءُ ن وَإِن مِمَّا أحدث أَن لَا تتكلموا فِي الصَّلَاة» . فَرد عَليّ السَّلَام

عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ہجرت حبشہ سے پہلے ہم نبی ﷺ کو حالت نماز میں سلام کیا کرتے تھے ، اور آپ ہمیں سلام کا جواب دیا کرتے تھے ، جب ہم سر زمین حبشہ سے واپس (مکہ) آئے تو میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ اس وقت نماز پڑھ رہے تھے ، میں نے آپ کو سلام کیا لیکن آپ نے مجھے سلام کا جواب نہ دیا ، حتیٰ کہ جب آپ ﷺ نماز مکمل کر چکے تو فرمایا :’’ اللہ جس طرح چاہتا ہے اپنا حکم ظاہر کرتا ہے ، اور اب جو نیا حکم آیا ہے وہ یہ ہے کہ تم نماز میں بات نہ کرو ۔‘‘ پھر آپ نے مجھے سلام کا جواب دیا ۔ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔

وَقَالَ: «إِنَّمَا الصَّلَاةُ لِقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ وَذِكْرِ اللَّهِ فَإِذا كنت فِيهَا ليكن ذَلِك شَأْنك» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

اور فرمایا :’’ نماز تو قراءت قرآن اور اللہ کے ذکر کے لیے ہے ، پس جب تم اس (نماز) میں ہو تو تمہارے پیش نظر بھی یہی کچھ ہونا چاہیے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قُلْتُ لِبِلَالٍ: كَيْفَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرُدُّ عَلَيْهِم حِين حانوا يُسَلِّمُونَ عَلَيْهِ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ؟ قَالَ: كَانَ يُشِيرُ بِيَدِهِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَفِي رِوَايَةِ النَّسَائِيِّ نَحوه وَعوض بِلَال صُهَيْب

ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے بلال ؓ سے پوچھا : جب صحابہ کرام نبی ﷺ کو حالت نماز میں سلام کیا کرتے تھے تو آپ انہیں کیسے جواب دیا کرتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا : آپ اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا کرتے تھے ۔ ترمذی ، نسائی کی روایت میں بھی اسی طرح ہے اور بلال کی جگہ صہیب کا ذکر کیا ۔ صحیح ، رواہ الترمذی و النسائی ۔

وَعَن رِفَاعَة بن رَافع قَالَ: صليت خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَطَسْتُ فَقلت الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ مُبَارَكًا عَلَيْهِ كَمَا يُحِبُّ رَبُّنَا وَيَرْضَى فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْصَرَفَ فَقَالَ: «مَنِ الْمُتَكَلِّمُ فِي الصَّلَاةِ؟» فَلَمْ يَتَكَلَّمْ أَحَدٌ ثُمَّ قَالَهَا الثَّانِيَةَ فَلَمْ يَتَكَلَّمْ أَحَدٌ ثُمَّ قَالَهَا الثَّالِثَةَ فَقَالَ رِفَاعَةُ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدِ ابْتَدَرَهَا بِضْعَةٌ وَثَلَاثُونَ مَلَكًا أَيُّهُمْ يَصْعَدُ بِهَا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ

رفاعہ بن رافع ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کے پیچھے نماز پڑھی تو مجھے چھینک آ گئی تو میں نے کہا : ہر قسم کی حمد اللہ کے لیے ہے ، حمد بہت زیادہ ، خالص اور با برکت ، جیسے ہمارے رب کو پسند اور محبوب ہے ، چنانچہ جب رسول اللہ ﷺ نے نماز پڑھ کر ہماری طرف رخ کیا تو فرمایا :’’ نماز میں بولنے والا کون تھا ؟‘‘ کسی نے جواب نہ دیا ، پھر آپ نے دوسری مرتبہ پوچھا : تو پھر کسی نے جواب نہ دیا پھر آپ نے تیسری مرتبہ پوچھا تو رفاعہ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں نے بات کی تھی ، تو نبی ﷺ نے فرمایا :’’ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! تیس سے کچھ زیادہ فرشتے سبقت لے جانے کی کوشش کر رہے تھے کہ ان میں سے کون انہیں اوپر لے کر چڑھتا ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی ۔

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «التَّثَاؤُبُ فِي الصَّلَاةِ مِنَ الشَّيْطَانِ فَإِذَا تَثَاءَبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَكْظِمْ مَا اسْتَطَاعَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَفِي أُخْرَى لَهُ وَلِابْنِ مَاجَهْ: «فَلْيَضَعْ يَدَهُ على فِيهِ»

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ دوران نماز جمائی آنا شیطان کی طرف سے ہے ، پس جب تم میں سے کسی کو جمائی آئے تو وہ مقدور بھر اسے روکنے کی کوشش کرے ۔‘‘ ترمذی اور اسی کی دوسری روایت اور ابن ماجہ میں ہے :’’ وہ اپنے منہ پر ہاتھ رکھ لے ۔‘‘ صحیح ۔

وَعَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُكُمْ فَأَحْسَنَ وُضُوءَهُ ثُمَّ خَرَجَ عَامِدًا إِلَى الْمَسْجِدِ فَلَا يُشَبِّكَنَّ بَيْنَ أَصَابِعِهِ فَإِنَّهُ فِي الصَّلَاة» . رَوَاهُ أَحْمد وَأَبُو دَاوُد وَالتِّرْمِذِيّ وَالنَّسَائِيّ والدارمي

کعب بن عجرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی شخص اچھی طرح وضو کر کے مسجد کے قصد سے روانہ ہو تو وہ (راستے میں) اپنے ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ میں داخل نہ کرے ، کیونکہ وہ (حکماً) نماز ہی میں ہے ۔‘‘ حسن ، رواہ احمد و الترمذی و ابوداؤد و النسائی و الدارمی ۔

وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَزَالُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مُقْبِلًا عَلَى الْعَبْدِ وَهُوَ فِي صَلَاتِهِ مَا لَمْ يَلْتَفِتْ فَإِذَا الْتَفَتَ انْصَرَفَ عَنْهُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَالدَّارِمِيُّ

ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب بندہ نماز میں ہوتا ہے تو جب تک وہ ادھر ادھر نہ دیکھے تو اللہ عزوجل اس پر اپنی توجہ مرکوز رکھتا ہے ، جب وہ ادھر ادھر دیکھتا ہے تو پھر وہ اس سے رخ موڑ لیتا ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد و ابوداؤد و النسائی و الدارمی ۔

وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَا أَنَسُ اجْعَلْ بَصَرَكَ حَيْثُ تَسْجُدُ» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي سُنَنِهِ الْكَبِيرِ مِنْ طَرِيق الْحسن عَن أنس يرفعهُ

انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ انس ! اپنے سجدہ کی جگہ پر نظر رکھو ۔‘‘ بیہقی نے حسن عن انس ؓ کی سند سے اپنی سنن الکبیر میں مرفوع روایت کیا ہے ۔ ضعیف ۔

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا بُنَيَّ إِيَّاكَ وَالِالْتِفَاتَ فِي الصَّلَاةِ فَإِنَّ الِالْتِفَاتَ فِي الصَّلَاةِ هَلَكَةٌ. فَإِنْ كَانَ لابد فَفِي التَّطَوُّع لَا فِي الْفَرْضِيَّة» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے مجھے فرمایا :’’ بیٹا ! نماز میں ادھر ادھر دیکھنے سے احتیاط کرو ، کیونکہ نماز میں ادھر ادھر دیکھنا باعث ہلاکت ہے ، پس اگر ضرور ہی دیکھنا ہو تو پھر نفل میں ہے لیکن فرض میں نہیں ۔‘‘ ضعیف ۔