TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 1250 مشکوۃ

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 10 of 12 in this chapter
بَاب الْقَصْد فِي الْعَمَل
عمل میں میانہ روی کا بیان
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ طَاهِرًا وَذَكَرَ اللَّهِ حَتَّى يُدْرِكَهُ النُّعَاسُ لَمْ يَتَقَلَّبْ سَاعَةً مِنَ اللَّيْلِ يَسْأَلُ اللَّهَ فِيهَا خَيْرًا مِنْ خَيْرِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ» . ذَكَرَهُ النَّوَوِيُّ فِي كِتَابِ الْأَذْكَارِ بِرِوَايَةِ ابْنِ السّني
ابوامامہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے نبی ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جو شخص با وضو بستر پر لیٹے اور اللہ کا ذکر کرتے ہوئے سو جائے تو پھر وہ رات کو جب بھی کروٹ بدلتے ہوئے اللہ سے دنیا و آخرت کی خیر طلب کرے تو اللہ اسے وہی عطا فرما دیتا ہے ۔‘‘ امام نووی ؒ نے ابن سنی کی روایت سے ’’ کتاب اذکار ‘‘ میں روایت کیا ہے ۔ ضعیف ۔
1250
Zaeef
Bookmark
Status: Zaeef
:حکم حدیث ضعیف
Reference
حوالہ حکم
(ضَعِيف)
Conclusion
تخریج
ضعیف ، ذکرہ النووی فی الاذکار (ص ۸۸) و رواہ ابن السنی (۷۱۹ ، ونسخہ الشیخ سلیم الھلالی : ۷۲۱) [و الترمذی (۳۵۲۶ وقال : حسن غریب)] * روایۃ اسماعیل بن عیاش عن الحجازیین ضعیفۃ و للحدیث شواھد دون قولہ :’’ ذکر اللہ حتی یدرکہ النعاس ‘‘ ۔

Related Chapters

151
1
Chapter: What Has Been Related Concerning Being Moderate In Loving And Hating
باب: محبت اور نفرت میں میانہ روی اختیار کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
2
بوریت کے ڈر سے قراء ت ِ قرآن میںمیانہ روی اختیار کرنے کا، نیز اس چیز کا بیان کہ کتنے دنوں میں قرآن مجید کی تکمیل کی جائے
Musnad Ahmad
3
اعمال میں میانہ روی اور اعتدال کا بیان
Musnad Ahmad
4
وعظ ونصیحت میںمیانہ روی اختیار کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
5
معیشت میں میانہ روی اختیار کرنا
Musnad Ahmad
6
(36) CHAPTER. Purchasing of camel suffering from skin disease or disease causing severe thirts.
۔ ( ہیم ) بیمار یا خارشی اونٹ خریدنا ، ہیم ہائم کی جمعہ ہے ہائم اعتدال ( میانہ روی ) سے گزرنے والا
Sahih Bukhari
7
CHAPTER: The Command To Pray It Moderately
نماز میں میانہ روی اختیار کرنے کا حکم ہے ۔
Sunnan Abu Dawood
8
وضو میں میانہ روی کی فضیلت اور حد سے تجاوز کرنے کی کراہت کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
9
سجدے میں اعتدال اور میانہ روی
Sunnan Ibn e Maja
10
روزی کمانے میں میانہ روی اپنانے کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
11
کھانے میں میانہ روی کا بیان اور بھر پیٹ کھانے کی کراہت
Sunnan Ibn e Maja
12
خطبہ میں میانہ روی کا بیان۔
Sunnan Nisai
13
Chapter: Something Else About That
باب: امام کی پیروی سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
14
Chapter: What Has Been Related About Deeds During The Ten Days (Of Dhul-Hijjah)
باب: ذی الحجہ کے پہلے عشرے (ابتدائی دس دن) کے عمل کے ثواب کا بیان
Jam e Tirmazi
15
Chapter: Which Deed Is The Most Virtuous ?
باب: کون سا عمل سب سے افضل اور بہتر ہے؟
Jam e Tirmazi
16
Chapter: What Has Been Related About The Parable Of The Son Of Adam, His Family, His Children, His Wealth, And His Deeds
باب: مال و دولت، اہل و عیال، رشتہ دار اور عمل کی مثال کا بیان
Jam e Tirmazi
17
Chapter: The Secret Deed
باب: چھپا کر نیک عمل کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
18
باب: رویت باری تعالیٰ سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
19
اسلام اور ہجرت کا پہلے والے گناہوں کو مٹا دینے، دورِ جاہلیت کے اعمال کی وجہ سے مؤاخذہ ہونے اور مسلمان ہو جانے والے کافر کے پہلے والے عمل کے حکم کا بیان
Musnad Ahmad
20
تقدیر کے ساتھ عمل کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
21
علم حاصل کرنے کے بعد اس کو چھپا لینے والے یا اس پر عمل نہ کرنے والے یا کسی غیر اللہ کے لیے وہ علم حاصل کرنے والی کی مذمت کابیان
Musnad Ahmad
22
آپ کے ارشاد تم پہلے لوگوں کے طریقوں کی پیروی کرو گے کا بیان
Musnad Ahmad
23
سیدنا عثمان بن عفانؓسے مروی کیفیت
Musnad Ahmad
24
سیدنا علی بن ابو طالبؓسے مروی حدیث کا بیان
Musnad Ahmad
25
سیدنا علی اور سیدنا عثمانؓکے علاوہ دوسرے صحابہ سے وضو کے بارے مروی احادیث
Musnad Ahmad
26
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی بعض بیویوں سے اس موضوع سے متعلقہ بیان کی گئی مرویات کا بیان
Musnad Ahmad
27
اس مستحاضہ کا بیان جو خون میں فرق کر کے عمل کرتی ہے
Musnad Ahmad
28
نماز کو اس کے وقت پر ادا کرنے اور اس کا سب سے افضل عمل ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
29
اس کے الفاظ کے بارے میں ثابت ہونے والے مواد کا بیان فَصْلٌ فِیْمَا رُوِیَ فِیْ ذٰلِکِ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ فصل: سیدناعبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ سے مروی تشہد
Musnad Ahmad
30
سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌سے مروی وہ حدیث، جس میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رات کی نماز کی کیفیت بیان کی گئی
Musnad Ahmad
31
ام المومنین سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی حدیث جس میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رات کی نماز بیان کی گئی ہے
Musnad Ahmad
32
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رات کی نماز کے بارے میں سیدنا عبد اللہ بن عباس اور سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے علاوہ دوسرے صحابہ سے مروی احادیث
Musnad Ahmad
33
موت کی تمنا کے مکروہ ہونے اور نیک عمل والی طویل عمر کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
34
نیک عمل والی طویل عمر اور اجنبیت والی موت مرنے والے کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
35
نیک لوگوں کو صدقہ دینے کے مستحبّ ہونے اور بے عمل لوگوں کو دینے کے مکروہ ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
36
ماہِ رمضان اور اس میں کیے گئے عمل کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
37
سیدنا کعب بن عجرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ سے مروی حدیث اور اس کے متعدد طرق کا بیان
Musnad Ahmad
38
مسجد ِ اقصی میں نماز کی ادائیگی کی نذر ماننے کو یہ عمل کافی ہو گا کہ وہ مسجد ِ حرام یا مسجد ِ نبوی میں نماز پڑھ لے
Musnad Ahmad
39
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر درود بھیجنے کی فضیلت اور یہ عمل کرنے والے کے اجر کا کئی گناہ تک بڑھنا
Musnad Ahmad
40
گروی میں رکھی ہوئی سواری پر اس کے خرچ کے عوض سواری کر لینے کا بیان
Musnad Ahmad
41
فصل: ارویٰ بنت اویس اور سیدنا سعید بن زیدbکا واقعہ
Musnad Ahmad
42
اس چیز کا بیان کہ حدود میں فدیہ قبول نہ کرنے کا عمل گناہوں کا کفارہ بنتا ہے
Musnad Ahmad
43
اس شخص کا بیان جو مَحرم عورت سے منہ کالا کرے یا کسی چوپائے سے برائی کرے یا قومِ لوط والا عمل کر بیٹھے
Musnad Ahmad
44
(قرآن پاک پڑھنے اور اس پر عمل کرنے کی فضیلت)
Musnad Ahmad
45
حفظ کر لینے کے بعد مکمل قرآن مجید کو یا بعض حصے کو بھلانے والے، یا اپنی قراء ت کی وجہ سے ریاکاری کرنے والا، یا اس کے ذریعے کھانے والا، یا اس پر عمل نہ کرنے والے کے لیے سخت وعید کا بیان
Musnad Ahmad
46
عمل میں اخلاص اور اس کی وجہ سے اجر کے بڑھ جانے کا بیان
Musnad Ahmad
47
راست روی اور نیکی کے ساتھ فقیری کی ترغیب کا بیان
Musnad Ahmad
48
اس چیز کا بیان کہ جس آدمی کو بیماری نیک عمل کرنے سے روک دے، اس کے لیے اس عمل کا ثواب لکھا جاتا ہے
Musnad Ahmad
49
مطلق طور پر مریض کی عیادت کرنے کی ترغیب اور اس عمل کے ثواب کا بیان
Musnad Ahmad
50
نسب پر بھروسہ کرتے ہوئے عمل چھوڑ دینے سے ترہیب کا بیان
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

61
Jam e Tirmazi
3526
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ مَنْ أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ طَاهِرًا يَذْكُرُ اللَّهَ حَتَّى يُدْرِكَهُ النُّعَاسُ، ‏‏‏‏‏‏لَمْ يَنْقَلِبْ سَاعَةً مِنَ اللَّيْلِ يَسْأَلُ اللَّهَ شَيْئًا مِنْ خَيْرِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رُوِيَ هَذَا أَيْضًا عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَبِي ظَبْيَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْسَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
Abu Umamah Al-Bahili said: “I heard the Messenger of Allah (ﷺ) saying: “Whoever goes to his bed while in a state of purity and remembering Allah, until slumber overtakes him, he shall not get up at any hour of the night and ask Allah for something from the good of the world and the Hereafter except that Allah shall grant it to him.’”
ابوامامہ باہلی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو شخص اپنے بستر پر پاک و صاف ہو کر سونے کے لیے جائے اور اللہ کا ذکر کرتے ہوئے اسے نیند آ جائے تو رات کے جس کسی لمحے میں بھی بیدار ہو کر وہ دنیا و آخرت کی جو کوئی بھی بھلائی، اللہ سے مانگے گا اللہ اسے وہ چیز ضروری عطا کرے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ۲- یہ حدیث شہر بن حوشب سے بطریق: «أبي ظبية عن عمرو بن عبسة عن النبي صلى الله عليه وسلم» مروی ہے۔
Mishkat
2414
وَعَنْ عَبْدُ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَصْبَحَ قَالَ: «أَصْبَحْنَا وَأَصْبَحَ الْمُلْكُ لِلَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَالْكِبْرِيَاءُ وَالْعَظَمَةُ لِلَّهِ وَالْخَلْقُ وَالْأَمْرُ وَاللَّيْلُ وَالنَّهَارُ وَمَا سَكَنَ فِيهِمَا لِلَّهِ اللَّهُمَّ اجْعَلْ أَوَّلَ هَذَا النَّهَارِ صَلَاحًا وَأَوْسَطَهُ نَجَاحًا وَآخِرَهُ فَلَاحًا يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ» . ذَكَرَهُ النَّوَوِيُّ فِي كِتَابِ الْأَذْكَارِ بِرِوَايَةِ ابْنِ السّني
عبداللہ بن ابی اوفی ؓ بیان کرتے ہیں ، جب رسول اللہ ﷺ صبح کرتے تو یہ دعا پڑھا کرتے تھے :’’ ہم نے اور اللہ کے ملک نے صبح کی ، ہر قسم کی تعریف اللہ کے لئے ہے ، کبریائی و عظمت اللہ کے لئے ہے ، خلق و امر ، لیل و نہار اور جو چیزیں ان میں ہیں اللہ کے لئے ہیں ، اے اللہ ! اس دن کے اول حصے کو صلاح بنا دے ، اس کے اوسط کو نجاح اور آخر کو فلاح بنا دے ، اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے ۔‘‘ امام نووی نے ابن السنی کی روایت سے اسے کتاب الاذکار میں روایت کیا ہے ۔ اسنادہ ضعیف جذا ۔
Jam e Tirmazi
1425
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَنْ نَفَّسَ عَنْ مُؤْمِنٍ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ الدُّنْيَا،‏‏‏‏ نَفَّسَ اللَّهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ الْآخِرَةِ،‏‏‏‏ وَمَنْ سَتَرَ عَلَى مُسْلِمٍ،‏‏‏‏ سَتَرَهُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ،‏‏‏‏ وَاللَّهُ فِي عَوْنِ الْعَبْدِ مَا كَانَ الْعَبْدُ فِي عَوْنِ أَخِيهِ . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب،‏‏‏‏ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ،‏‏‏‏ وَابْنِ عُمَرَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ،‏‏‏‏ هَكَذَا رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ،‏‏‏‏ عَنْ الْأَعْمَشِ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي صَالِحٍ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،‏‏‏‏ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ رِوَايَةِ أَبِي عَوَانَةَ،‏‏‏‏ وَرَوَى أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ،‏‏‏‏ عَنْ الْأَعْمَشِ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ حُدِّثْتُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،‏‏‏‏ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ،‏‏‏‏ وَكَأَنَّ هَذَا أَصَحُّ مِنَ الْحَدِيثِ الْأَوَّلِ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا بِذَلِكَ عُبَيْدُ بْنُ أَسْبَاطَ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي أَبِي،‏‏‏‏ عَنْ الْأَعْمَشِ،‏‏‏‏ بِهَذَا الْحَدِيثِ.
Narrated Abu Hurairah: That the Messenger of Allah (ﷺ) said: Whoever relieves a Muslim of a burden from the burdens of the world, Allah will relieve him of a burden from the burdens of the Hereafter. And whoever covers (the faults of) a Muslim, Allah will cover (his faults) for him in the world and the Hereafter. And Allah is engaged in helping the worshipper as long as the worshipper is engaged in helping his brother.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی مومن سے دنیا کی تکلیفوں میں سے کوئی تکلیف دور کی اللہ اس کے آخرت کی تکلیفوں میں سے کوئی تکلیف دور کرے گا، اور جس نے کسی مسلمان کی پردہ پوشی کی تو اللہ دنیا و آخرت میں اس کی پردہ پوشی فرمائے گا، اللہ بندے کی مدد میں لگا رہتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں لگا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث پہلی حدیث سے زیادہ صحیح ہے، ۲- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث کو اسی طرح کئی لوگوں نے بطریق: «الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم»،‏‏‏‏ اور اسباط بن محمد نے اعمش سے روایت کی ہے، وہ کہتے ہیں کہ مجھ سے ابوصالح کے واسطہ سے بیان کیا گیا ہے، انہوں نے ابوہریرہ سے اور ابوہریرہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہے، ۳- ہم سے اسے عبید بن اسباط بن محمد نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ مجھ سے میرے والد نے اعمش کے واسطہ سے یہ حدیث بیان کی، ۴- اس باب میں عقبہ بن عامر اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Jam e Tirmazi
1930
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ أَسْبَاطِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنِ الْأَعْمَشِ، قَالَ:‏‏‏‏ حُدِّثْتُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ مَنْ نَفَّسَ عَنْ مُسْلِمٍ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ الدُّنْيَا نَفَّسَ اللَّهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ يَسَّرَ عَلَى مُعْسِرٍ فِي الدُّنْيَا يَسَّرَ اللَّهُ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ سَتَرَ عَلَى مُسْلِمٍ فِي الدُّنْيَا سَتَرَ اللَّهُ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَاللَّهُ فِي عَوْنِ الْعَبْدِ مَا كَانَ الْعَبْدُ فِي عَوْنِ أَخِيهِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏وَعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رَوَى أَبُو عَوَانَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَغَيْرُ وَاحِدٍ هَذَا الْحَدِيثَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الْأَعْمَشِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي صَالِحٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏نَحْوَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَلَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ:‏‏‏‏ حُدِّثْتُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ.
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah said: : Whoever relieves a Muslim of a burden from the burdens of the world, Allah will relieve him of a burden from the burdens on the Day of Judgement. And whoever helps ease a difficulty in the world, Allah will grant him ease from a difficulty in the world and in the Hereafter. And whoever covers (the faults of) a Muslim, Allah will cover (his faults) for him in the world and the Hereafter. And Allah is engaged in helping the worshipper as long as the worshipper is engaged in helping his brother.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی مسلمان کی کوئی دنیاوی تکلیف دور کی، اللہ تعالیٰ اس کی قیامت کی تکلیفوں میں سے کوئی تکلیف دور فرما دے گا، جس نے دنیا میں کسی تنگ دست کے ساتھ آسانی کی اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ دنیا اور آخرت دونوں میں آسانی کرے گا، اور جس نے دنیا میں کسی مسلمان کے عیب کی پردہ پوشی کی اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اس کے عیب کی پردہ پوشی کرے گا، جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں لگا رہتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی مدد میں ہوتا ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اس حدیث کو ابو عوانہ اور کئی لوگوں نے «عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے، لیکن اس میں «حدثت عن أبي صالح» کے الفاظ نہیں بیان کیے ہیں، ۳- اس باب میں ابن عمر اور عقبہ بن عامر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Jam e Tirmazi
2945
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَنْ نَفَّسَ عَنْ أَخِيهِ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ الدُّنْيَا نَفَّسَ اللَّهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَهُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ يَسَّرَ عَلَى مُعْسِرٍ يَسَّرَ اللَّهُ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَاللَّهُ فِي عَوْنِ الْعَبْدِ مَا كَانَ الْعَبْدُ فِي عَوْنِ أَخِيهِ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَلْتَمِسُ فِيهِ عِلْمًا سَهَّلَ اللَّهُ لَهُ طَرِيقًا إِلَى الْجَنَّةِ، ‏‏‏‏‏‏وَمَا قَعَدَ قَوْمٌ فِي مَسْجِدٍ يَتْلُونَ كِتَابَ اللَّهِ وَيَتَدَارَسُونَهُ بَيْنَهُمْ إِلَّا نَزَلَتْ عَلَيْهِمُ السَّكِينَةُ، ‏‏‏‏‏‏وَغَشِيَتْهُمُ الرَّحْمَةُ، ‏‏‏‏‏‏وَحَفَّتْهُمُ الْمَلَائِكَةُ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ أَبْطَأَ بِهِ عَمَلُهُ لَمْ يُسْرِعْ بِهِ نَسَبُهُ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَكَذَا رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الْأَعْمَشِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي صَالِحٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ هَذَا الْحَدِيثِ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، قَالَ:‏‏‏‏ حُدِّثْتُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ بَعْضَ هَذَا الْحَدِيثِ.
Narrated Abu Hurairah: that the Messenger of Allah (ﷺ) said: Whoever alleviates a burden among the burdens of the world for his brother, Allah alleviates a burden among the burdens of the Day of Judgement for him. And whoever covers (the faults) of a Muslim, Allah covers him in the world and in the Hereafter. And whoever makes things easy for one in dire straits, Allah makes things easy for him in the world and the Hereafter. Allah is helping as long as the (His) Slave is helping his brother. And whoever takes a path to gain knowledge, Allah makes a path to Paradise easy for him. And no people sit in a Masjid reciting Allah's Book, studying it among themselves, except that tranquility descends upon them and they are enveloped in the mercy, and surrounded by the angels. And whoever is slow in his deeds, his lineage shall not speed him up.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اپنے بھائی کی کوئی دنیاوی مصیبت دور کی تو اللہ تعالیٰ اس کی قیامت کے دن کوئی نہ کوئی مصیبت دور فرمائے گا۔ اور جس نے کسی مسلمان کی پردہ پوشی کی۔ تو اللہ اس کی دنیا و آخرت میں پردہ پوشی کرے گا، اور جس نے کسی تنگ دست کے ساتھ آسانی کی، تو اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس کے لیے آسانی پیدا فرمائے گا۔ اللہ اپنے بندے کی مدد میں ہوتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد کرتا رہتا ہے، اور جو ایسی راہ چلتا ہے جس میں اسے علم کی تلاش ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کا راستہ ہموار کر دیتا ہے اور جب قوم ( لوگ ) مسجد میں بیٹھ کر کلام اللہ ( قرآن ) کی تلاوت کرتے ہیں اور اسے پڑھتے پڑھاتے ( سمجھتے سمجھاتے ) ہیں تو ان پر سکینت نازل ہوتی ہے، انہیں رحمت الٰہی ڈھانپ لیتی ہے۔ ملائکہ انہیں اپنے گھیرے میں لیے رہتے ہیں، جس کے عمل نے اسے پیچھے کر دیا تو آخرت میں اس کا نسب اسے آگے نہیں بڑھا سکتا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ایسے ہی کئی رواۃ نے اسی حدیث کی طرح اعمش سے اعمش نے ابوصالح کے واسطہ سے، اور ابوصالح نے ابوہریرہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے، ۲- اسباط بن محمد نے بھی اعمش سے روایت کی ہے، ( اس روایت میں ہے کہ ) اعمش کہتے ہیں: مجھ سے بیان کیا گیا ہے ۲؎ ابوصالح کے واسطہ سے اور ابوصالح نے ابوہریرہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں پھر اس حدیث کا بعض حصہ ذکر کیا۔
Jam e Tirmazi
3419
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي لَيْلَى، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنْ دَاوُدَ بْنِ عَلِيٍّ هُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَيْلَةً حِينَ فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ رَحْمَةً مِنْ عِنْدِكَ تَهْدِي بِهَا قَلْبِي وَتَجْمَعُ بِهَا أَمْرِي وَتَلُمُّ بِهَا شَعَثِي وَتُصْلِحُ بِهَا غَائِبِي وَتَرْفَعُ بِهَا شَاهِدِي وَتُزَكِّي بِهَا عَمَلِي وَتُلْهِمُنِي بِهَا رُشْدِي وَتَرُدُّ بِهَا أُلْفَتِي وَتَعْصِمُنِي بِهَا مِنْ كُلِّ سُوءٍ، ‏‏‏‏‏‏اللَّهُمَّ أَعْطِنِي إِيمَانًا وَيَقِينًا لَيْسَ بَعْدَهُ كُفْرٌ، ‏‏‏‏‏‏وَرَحْمَةً أَنَالُ بِهَا شَرَفَ كَرَامَتِكَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، ‏‏‏‏‏‏اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْفَوْزَ فِي الْعَطَاءِ وَيُرْوَى فِي الْقَضَاءِ، ‏‏‏‏‏‏وَنُزُلَ الشُّهَدَاءِ، ‏‏‏‏‏‏وَعَيْشَ السُّعَدَاءِ، ‏‏‏‏‏‏وَالنَّصْرَ عَلَى الْأَعْدَاءِ، ‏‏‏‏‏‏اللَّهُمَّ إِنِّي أُنْزِلُ بِكَ حَاجَتِي وَإِنْ قَصُرَ رَأْيِي وَضَعُفَ عَمَلِي افْتَقَرْتُ إِلَى رَحْمَتِكَ، ‏‏‏‏‏‏فَأَسْأَلُكَ يَا قَاضِيَ الْأُمُورِ وَيَا شَافِيَ الصُّدُورِ كَمَا تُجِيرُ بَيْنَ الْبُحُورِ أَنْ تُجِيرَنِي مِنْ عَذَابِ السَّعِيرِ وَمِنْ دَعْوَةِ الثُّبُورِ وَمِنْ فِتْنَةِ الْقُبُورِ، ‏‏‏‏‏‏اللَّهُمَّ مَا قَصَّرَ عَنْهُ رَأْيِي وَلَمْ تَبْلُغْهُ نِيَّتِي وَلَمْ تَبْلُغْهُ مَسْأَلَتِي مِنْ خَيْرٍ وَعَدْتَهُ أَحَدًا مِنْ خَلْقِكَ أَوْ خَيْرٍ أَنْتَ مُعْطِيهِ أَحَدًا مِنْ عِبَادِكَ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنِّي أَرْغَبُ إِلَيْكَ فِيهِ وَأَسْأَلُكَهُ بِرَحْمَتِكَ رَبَّ الْعَالَمِينَ، ‏‏‏‏‏‏اللَّهُمَّ ذَا الْحَبْلِ الشَّدِيدِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْأَمْرِ الرَّشِيدِ أَسْأَلُكَ الْأَمْنَ يَوْمَ الْوَعِيدِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْجَنَّةَ يَوْمَ الْخُلُودِ مَعَ الْمُقَرَّبِينَ الشُّهُودِ، ‏‏‏‏‏‏الرُّكَّعِ السُّجُودِ، ‏‏‏‏‏‏الْمُوفِينَ بِالْعُهُودِ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّكَ رَحِيمٌ وَدُودٌ وَأَنْتَ تَفْعَلُ مَا تُرِيدُ، ‏‏‏‏‏‏اللَّهُمَّ اجْعَلْنَا هَادِينَ مُهْتَدِينَ غَيْرَ ضَالِّينَ وَلَا مُضِلِّينَ، ‏‏‏‏‏‏سِلْمًا لِأَوْلِيَائِكَ وَعَدُوًّا لِأَعْدَائِكَ، ‏‏‏‏‏‏نُحِبُّ بِحُبِّكَ مَنْ أَحَبَّكَ وَنُعَادِي بِعَدَاوَتِكَ مَنْ خَالَفَكَ، ‏‏‏‏‏‏اللَّهُمَّ هَذَا الدُّعَاءُ وَعَلَيْكَ الْاسْتِجَابَةُ، ‏‏‏‏‏‏وَهَذَا الْجُهْدُ وَعَلَيْكَ التُّكْلَانُ، ‏‏‏‏‏‏اللَّهُمَّ اجْعَلْ لِي نُورًا فِي قَبْرِي وَنُورًا فِي قَلْبِي وَنُورًا مِنْ بَيْنِ يَدَيَّ وَنُورًا مِنْ خَلْفِي وَنُورًا عَنْ يَمِينِي وَنُورًا عَنْ شِمَالِي وَنُورًا مِنْ فَوْقِي وَنُورًا مِنْ تَحْتِي وَنُورًا فِي سَمْعِي وَنُورًا فِي بَصَرِي وَنُورًا فِي شَعْرِي وَنُورًا فِي بَشَرِي وَنُورًا فِي لَحْمِي وَنُورًا فِي دَمِي وَنُورًا فِي عِظَامِي، ‏‏‏‏‏‏اللَّهُمَّ أَعْظِمْ لِي نُورًا وَأَعْطِنِي نُورًا وَاجْعَلْ لِي نُورًا، ‏‏‏‏‏‏سُبْحَانَ الَّذِي تَعَطَّفَ الْعِزَّ وَقَالَ بِهِ، ‏‏‏‏‏‏سُبْحَانَ الَّذِي لَبِسَ الْمَجْدَ وَتَكَرَّمَ بِهِ، ‏‏‏‏‏‏سُبْحَانَ الَّذِي لَا يَنْبَغِي التَّسْبِيحُ إِلَّا لَهُ، ‏‏‏‏‏‏سُبْحَانَ ذِي الْفَضْلِ وَالنِّعَمِ، ‏‏‏‏‏‏سُبْحَانَ ذِي الْمَجْدِ وَالْكَرَمِ، ‏‏‏‏‏‏سُبْحَانَ ذِي الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رَوَى شُعْبَةُ،‏‏‏‏ وَسُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْضَ هَذَا الْحَدِيثِ، ‏‏‏‏‏‏وَلَمْ يَذْكُرْهُ بِطُولِهِ.
Ibn Abbas said: “One night, when he (ﷺ) exited his Salat, I heard the Messenger of Allah saying: ‘O Allah, I ask You of Your mercy, that You guide by it my heart, and gather by it my affair, and bring together that which has been scattered of my affairs, and correct with it that which is hidden from me, and raise by it that which is apparent from me, and purify by it my actions, and inspire me by it with that which contains my guidance, and protect me by it from that which I seek protection, and protect me by it from every evil. O Allah give me faith and certainty after which there is no disbelief, and mercy, by which I may attain the high level of Your generosity in the world and the Hereafter. O Allah, I ask You for success [in that which You grant, and relief] in the Judgment, and the positions of the martyrs, and the provision of the successful, and aid against the enemies. O Allah, I leave to You my need, and my actions are weak, I am in need of Your mercy, so I ask You, O Decider of the affairs, and O Healer of the chests, as You separate me from the punishment of the blazing flame, and from seeking destruction, and from the trial of the graves. O Allah, whatever my opinion has fallen short of, and my intention has not reached it, and my request has not encompassed it, of good that You have promised to anyone from Your creation, or any good You are going to give to any of Your slaves, then indeed, I seek it from You and I ask You for it, by Your mercy, O Lord of the Worlds. O Allah, Possessor of the strong rope, and the guided affair, I ask You for security on the Day of the Threat, and Paradise on the Day of Immortality along with the witnesses, brought-close, who bow and prostrate, who fulfill the covenants, You are Merciful, Loving, and indeed, You do what You wish. O Allah, make us guided guiders and not misguided misguiders, an ally to Your friends, an enemy to Your enemies. We love due to Your love, those who love You, and hate, due to Your enmity those who oppose You. O Allah, this is the supplication (that we are capable of), and it is upon You to respond, and this is the effort (that we are capable of), and upon You is the reliance. O Allah, appoint a light in my heart for me, and a light in my grave, and light in front of me, and light behind me, and light on my right, and light on my left, and light above me, and light below me, and light in my hearing, and light in my vision, and light in my hair, and light in my skin, and light in my flesh, and light in my blood, and light in my bones. O Allah, magnify for me light, and appoint for me a light. Glory is to the One who wears Glory and grants by it. Glory is to the One for Whom glorification is not fitting except for Him, the Possessor of Honor and Bounties, Glory is to the Possessor of Glory and Generosity, Glory is to the Possessor of Majesty and Honor’ (Allāhumma innī as'aluka raḥmatan min `indika tahdī bihā qalbī, wa tajma`u bihā amrī, wa talummu bihā sha`athī, wa tuṣliḥu bihā ghā'ibī, wa tarfa`u bihā shāhidī, wa tuzakkī bihā `amalī, wa tulhimunī bihā rushdī, wa taruddu bihā ulfatī, wa ta`ṣimunī bihā min kulli sū'in. Allāhumma a`ṭinī īmānan wa yaqīnan laisa ba`adahu kufr, wa raḥmatan anālu bihā sharafa karāmatika fid-dunyā wal-ākhira. Allāhumma innī as'alukal-fawza [fil-`atā'i wa yurwa] fil-qaḍā'i, wa nuzulash-shuhadā'i wa `aishas-su`adā'i, wan-naṣra `alal-a`dā'. Allāhumma innī unzilu bika ḥājatī, wa in qaṣura ra'yī wa ḍa`ufa `amalī iftaqartu ilā raḥmatik, fa as'aluka yā qāḍiyal-umūr, wa yā shāfiyas-ṣudūr, kamā tujīru bainal-buḥūr, an tujīranī min `adhābis-sa`īr, wa min da`watith-thubūr, wa min fitnatil-qubūr. Allāhumma mā qaṣṣara `anhu ra'yī wa lam tablughhu niyyatī wa lam tablughhu mas'alatī min khairin wa`adtahu aḥadan min khalqika aw khairin anta mu`ṭīhi aḥadan min `ibādika fa innī arghabu ilaika fīhi, wa as'alukahu bi-raḥmatika rabbal-`ālamīn. Allāhumma dhal-ḥablish-shadīd, wal-amrir-rashīd, as'aluka al-amna yawm al-wa`īd, wal-jannata yawmal-khulūd ma`al-muqarrabīnash-shuhūd, ar-rukka`is-sujūd, al-mūfīna bil-`uhūd, anta rahīmun wadūd, wa innaka taf`alu ma turīd. Allāhummaj`alnā hādīna muhtadīna, ghaira ḍallīna wa la muḍillīna, silman li-awliyā'ika wa `aduwwan li a`dā'ika, nuḥibbu biḥubbika man aḥabbaka wa nu`ādī bi`adāwatika man khālafak. Allāhumma hādhad-du`ā'u wa `alaikal-ijābatu, wa hādhal-juhdu wa `alaikat-tuklān. Allāhummaj`allī nūran fi qalbī wa nūran fi qabrī, wa nūran min baini yadayya, wa nūran min khalfī, wa nūran `an yamīnī, wa nūran `an shimālī, wa nūran min fawqī, wa nūran min taḥtī, wa nūran fi sam`ī, wa nūran fi baṣarī, wa nūran fi sha`rī, wa nūran fi basharī, wa nūran fi laḥmī, wa nūran fi damī, wa nūran fi `iẓamī. Allāhumma a`ẓim lī nūran, wa a`ṭinī nūran, waj`allī nūran. Subḥānal-ladhī ta`aṭṭafal-`izza wa qāla bihi, subḥānal-ladhī labisal-majda wa takarrama bihi, subḥānal-ladhī lā yanbaghit-tasbīḥu illā lahu, subḥāna dhil-faḍli wan-ni`am, subḥāna dhil-majdi wal-karam, subḥāna dhil-jalāli wal-ikrām.).”
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک رات نماز ( تہجد ) سے فارغ ہو کر پڑھتے ہوئے سنا ( آپ پڑھ رہے تھے ) : «اللهم إني أسألك رحمة من عندك تهدي بها قلبي وتجمع بها أمري وتلم بها شعثي وتصلح بها غائبي وترفع بها شاهدي وتزكي بها عملي وتلهمني بها رشدي وترد بها ألفتي وتعصمني بها من كل سوء اللهم أعطني إيمانا ويقينا ليس بعده كفر ورحمة أنال بها شرف كرامتك في الدنيا والآخرة اللهم إني أسألك الفوز في العطاء ونزل الشهداء وعيش السعداء والنصر على الأعداء اللهم إني أنزل بك حاجتي وإن قصر رأيي وضعف عملي افتقرت إلى رحمتك فأسألك يا قاضي الأمور ويا شافي الصدور كما تجير بين البحور أن تجيرني من عذاب السعير ومن دعوة الثبور ومن فتنة القبور اللهم ما قصر عنه رأيي ولم تبلغه نيتي ولم تبلغه مسألتي من خير وعدته أحدا من خلقك أو خير أنت معطيه أحدا من عبادك فإني أرغب إليك فيه وأسألكه برحمتك رب العالمين اللهم ذا الحبل الشديد والأمر الرشيد أسألك الأمن يوم الوعيد والجنة يوم الخلود مع المقربين الشهود الركع السجو د الموفين بالعهود إنك رحيم ودود وأنت تفعل ما تريد اللهم اجعلنا هادين مهتدين غير ضالين ولا مضلين سلما لأوليائك وعدوا لأعدائك نحب بحبك من أحبك ونعادي بعداوتك من خالفك اللهم هذا الدعا وعليك الإجابة وهذا الجهد وعليك التكلان اللهم اجعل لي نورا في قلبي ونورا في قبري ونورا من بين يدي ونورا من خلفي ونورا عن يميني ونورا عن شمالي ونورا من فوقي ونورا من تحتي ونورا في سمعي ونورا في بصري ونورا في شعري ونورا في بشري ونورا في لحمي ونورا في دمي ونورا في عظامي اللهم أعظم لي نورا وأعطني نورا واجعل لي نورا سبحان الذي تعطف العز وقال به سبحان الذي لبس المجد وتكرم به سبحان الذي لا ينبغي التسبيح إلا له سبحان ذي الفضل والنعم سبحان ذي المجد والكرم سبحان ذي الجلال والإكرام» ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے اور ہم اسے ابن ابی لیلیٰ کی روایت سے اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- شعبہ اور سفیان ثوری نے سلمہ بن کہیل سے، سلمہ نے کریب سے، اور کریب نے ابن عباس رضی الله عنہما کے واسطہ سے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حدیث کے بعض حصوں کی روایت کی ہے، انہوں نے یہ پوری لمبی حدیث ذکر نہیں کی ہے۔ فائدہ ۱؎: ”اے اللہ! میں تجھ سے ایسی رحمت کا طالب ہوں، جس کے ذریعہ تو میرے دل کو ہدایت عطا کر دے، اور جس کے ذریعہ میرے معاملے کو مجتمع و مستحکم کر دے، میرے پراگندہ امور کر درست فرما دے، اور اس کے ذریعہ میرے باطن کی اصلاح فرما دے، اور اس کے ذریعہ میرے ظاہر کو بلند کر دے، اور اس کے ذریعہ میرے عمل کو صاف ستھرا بنا دے، اس کے ذریعہ سیدھی راہ کی طرف میری رہنمائی فرما، اس کے ذریعہ ہماری باہمی الفت و چاہت کو لوٹا دے، اور اس کے ذریعہ ہر برائی سے مجھے بچا لے، اے اللہ! تو ہمیں ایسا ایمان و یقین دے کہ پھر اس کے بعد کفر کی طرف جانا نہ ہو، اے اللہ! تو ہمیں ایسی رحمت عطا کر جس کے ذریعہ میں دنیا و آخرت میں تیری کرامت کا شرف حاصل کر سکوں، اے اللہ! میں تجھ سے «عطاء» ( بخشش ) اور «قضاء» ( فیصلے ) میں کامیابی مانگتا ہوں، میں تجھ سے شہدا کی سی مہمان نوازی، نیک بختوں کی سی خوش گوار زندگی اور دشمنوں کے خلاف تیری مدد کا خواستگار ہوں، اور میں اگرچہ کم سمجھ اور کمزور عمل کا آدمی ہوں مگر میں اپنی ضروریات کو لے کر تیرے ہی پاس پہنچتا ہوں، میں تیری رحمت کا محتاج ہوں، اے معاملات کے نمٹانے و فیصلہ کرنے والے! اے سینوں کی بیماریوں سے شفاء دینے والے تو مجھے بچا لے جہنم کی آگ سے، تباہی و بربادی کی پکار ( نوحہ و ماتم ) سے، اور قبروں کے فتنوں عذاب اور منکر نکیر کے سوالات سے اسی طرح بچا لے جس طرح کہ تو سمندروں میں ( گھرے اور طوفانوں کے اندر پھنسے ہوئے لوگوں کو ) بچاتا ہے، اے اللہ! جس چیز تک پہنچنے سے میری رائے عقل قاصر رہی، جس چیز تک میری نیت و ارادے کی بھی رسائی نہ ہو سکی، جس بھلائی کا تو نے اپنی مخلوق میں سے کسی سے وعدہ کیا اور میں اسے تجھ سے مانگ نہ سکا، یا جو بھلائی تو از خود اپنے بندوں میں سے کسی بندے کو دینے والا ہے میں بھی اسے تجھ سے مانگنے اور پانے کی خواہش اور آرزو کرتا ہوں، اور اے رب العالمین! سارے جہاں کے پالنہار، تیری رحمت کے سہارے تجھ سے اس چیز کا سوالی ہوں، اے اللہ بڑی قوت والے اور اچھے کاموں والے، میں تجھ سے وعید کے دن یعنی قیامت کے دن امن و چین چاہتا ہوں، میں تجھ سے ہمیشہ کے لیے تیرے مقرب بندوں، تیرے کلمہ گو بندوں، تیرے آگے جھکنے والے بندوں، تیرے سامنے سجدہ ریز ہونے والے بندوں، تیرے وعدہ و اقرار کے پابند بندوں کے ساتھ جنت میں جانے کی دعا مانگتا ہوں، ( اے رب! ) تو رحیم ہے ( بندوں پر رحم کرنے والا ) تو ودود ہے ( اپنے بندوں سے محبت فرمانے والا ) تو ( بااختیار ہے ) جو چاہتا ہے کرتا ہے، اے اللہ! تو ہمیں ہدایت دینے والا بنا مگر ایسا جو خود بھی ہدایت یافتہ ہو جو نہ خود گمراہ ہو، نہ دوسروں کو گمراہ بنانے والا ہو، تیرے دوستوں کے لیے صلح جو ہو، اور تیرے دشمنوں کے لیے دشمن، جو شخص تجھ سے محبت رکھتا ہو ہم اس شخص سے تجھ سے محبت رکھنے کے سبب محبت رکھیں، اور جو شخص تیرے خلاف کرے ہم اس شخص سے تجھ سے دشمنی رکھنے کے سبب دشمنی رکھیں، اے اللہ یہ ہماری دعا و درخواست ہے، اور اس دعا کو قبول کرنا بس تیرے ہی ہاتھ میں ہے، یہ ہماری کوشش ہے اور بھروسہ بس تیری ہی ذات پر ہے، اے اللہ! تو میری قبر میں نور ( روشنی ) کر دے، اے اللہ! تو میرے قلب میں نور بھر دے، اے اللہ! تو میرے آگے اور سامنے نور پھیلا دے، اے اللہ تو میرے پیچھے نور کر دے، میرے آگے اور سامنے نور پھیلا دے، اے اللہ تو میرے پیچھے نور کر دے، نور میرے داہنے بھی نور میرے بائیں بھی، نور میرے اوپر بھی اور نور میرے نیچے بھی، نور میرے کانوں میں بھی نور میری آنکھوں میں بھی، نور میرے بالوں میں بھی نور میری کھال میں بھی نور، میرے گوشت میں بھی، نور میرے خون میں بھی اور نور میں اضافہ فرما دے، میرے لیے نور بنا دے، پاک ہے وہ ذات جس نے عزت کو اپنا اوڑھنا بنایا، اور عزت ہی کو اپنا شعار بنانے کا حکم دیا، پاک ہے وہ ذات جس نے مجد و شرف کو اپنا لباس بنایا اور جس کے سبب سے وہ مکرم و مشرف ہوا، پاک ہے وہ ذات جس کے سوا کسی اور کے لیے تسبیح سزاوار نہیں، پاک ہے فضل اور نعمتوں والا، پاک ہے مجد و کرم والا، پاک ہے عظمت و بزرگی والا“۔
Jam e Tirmazi
3512
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ وَرْدَانَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏أَيُّ الدُّعَاءِ أَفْضَلُ ؟، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَلْ رَبَّكَ الْعَافِيَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَالْمُعَافَاةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أَتَاهُ فِي الْيَوْمِ الثَّانِي، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏أَيُّ الدُّعَاءِ أَفْضَلُ ؟ فَقَالَ لَهُ:‏‏‏‏ مِثْلَ ذَلِكَ ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أَتَاهُ فِي الْيَوْمِ الثَّالِثِ:‏‏‏‏ فَقَالَ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَإِذَا أُعْطِيتَ الْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَأُعْطِيتَهَا فِي الْآخِرَةِ فَقَدْ أَفْلَحْتَ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ سَلَمَةَ بْنِ وَرْدَانَ.
Anas bin Malik narrated that a man came to the Prophet (ﷺ) and said: “O Messenger of Allah, which supplication is the best?” He (ﷺ) said: “Ask Your Lord For Al-`Āfiyah and Al-Mu`āfāh in this world and in the Hereafter.” Then he came to him on the second day and said: “O Messenger of Allah, which supplication is the best?” So he (ﷺ) said to him similar to that. Then he came to him on the third day, so he (ﷺ) said to him similar to that. He (ﷺ) said: “So when you have been given Al-`Āfiyah in this world, and you have been given it in the Hereafter, then you have succeeded.”
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! کون سی دعا افضل ( سب سے اچھی ) ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اپنے رب سے دنیا و آخرت میں بلاؤں و مصیبتوں سے بچا دینے کی دعا کرو“، پھر آپ کے پاس وہی شخص دوسرے دن بھی آیا، اور آپ سے پھر پوچھا: ”کون سی دعا افضل ہے؟“ آپ نے اسے ویسا ہی جواب دیا جیسا پہلے جواب دیا تھا، وہ شخص تیسرے دن بھی آپ کے پاس حاضر ہوا، اس دن بھی آپ نے اسے ویسا ہی جواب دیا، مزید فرمایا: ”جب تمہیں دنیا و آخرت میں عافیت مل جائے تو سمجھ لو کہ تم نے کامیابی حاصل کر لی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ہم اسے صرف سلمہ بن وردان کی روایت سے جانتے ہیں۔
Jam e Tirmazi
3514
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، قَالَ:‏‏‏‏ قُلْتُ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏عَلِّمْنِي شَيْئًا أَسْأَلُهُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَلِ اللَّهَ الْعَافِيَةَ ، ‏‏‏‏‏‏فَمَكَثْتُ أَيَّامًا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ جِئْتُ فَقُلْتُ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏عَلِّمْنِي شَيْئًا أَسْأَلُهُ اللَّهَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لِي:‏‏‏‏ يَا عَبَّاسُ يَا عَمَّ رَسُولِ اللَّهِ سَلِ اللَّهَ الْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ قَدْ سَمِعَ مِنَ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ.
Al-`Abbas bin `Abdul-Muttalib said: “I said: ‘O Messenger of Allah, teach me something that I may ask Allah, [Mighty and Sublime] for.’ He (ﷺ) said: ‘Ask Allah for Al-`Āfiyah.’ Then I remained for a day, then I came and said: ‘O Messenger of Allah, teach me something that I may ask Allah for.’ So he (ﷺ) said to me: “O Abbas, O uncle of the Messenger of Allah! Ask Allah for Al-`Āfiyah in the world and in the Hereafter.”
عباس بن عبدالمطلب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: اللہ کے رسول! مجھے کوئی ایسی چیز سکھائیے جسے میں اللہ رب العزت سے مانگتا رہوں، آپ نے فرمایا: ”اللہ سے عافیت مانگو“، پھر کچھ دن رک کر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور عرض کیا: مجھے کوئی ایسی چیز بتائیے جسے میں اللہ سے مانگتا رہوں، آپ نے فرمایا: ”اے عباس! اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا! دنیا و آخرت میں عافیت طلب کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث صحیح ہے، ۲- عبداللہ بن حارث بن نوفل نے عباس بن عبدالمطلب رضی الله عنہ سے سنا ہے ( یعنی ان کا ان سے سماع ثابت ہے ) ۔
Jam e Tirmazi
3594
حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْكُوفِيُّ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْيَمَانِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ زَيْدٍ الْعَمِّيِّ، عَنْ أَبِي إِيَاسٍ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ الدُّعَاءُ لَا يُرَدُّ بَيْنَ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ فَمَاذَا نَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ سَلُوا اللَّهَ الْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَسَنٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ زَادَ يَحْيَى بْنُ الْيَمَانِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ هَذَا الْحَرْفَ قَالُوا:‏‏‏‏ فَمَاذَا نَقُولُ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ سَلُوا اللَّهَ الْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ .
Anas bin Malik narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “The supplication is not rejected between the Adhan and the Iqamah.” They said: “So what should we say, O Messenger of Allah (ﷺ)?” He said: “Ask Allah for Al-`Afiyah in the world and in the Hereafter.”
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اذان اور اقامت کے درمیان مانگی جانے والی دعا لوٹائی نہیں جاتی“، ( یعنی قبول ہو جاتی ہے ) لوگوں نے پوچھا: اس دوران ہم کون سی دعا مانگیں، اے اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”دنیا اور آخرت ( دونوں ) میں عافیت مانگو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے، یحییٰ بن ابان نے اس حدیث میں اس عبارت کا اضافہ کیا ہے کہ ان لوگوں نے عرض کیا کہ ہم کیا کہیں؟ آپ نے فرمایا: ”دنیا و آخرت میں عافیت ( یعنی امن و سکون ) مانگو“۔