مشکوۃ

Mishkat

نماز کا بیان

نماز عیدین کا بیان

بَاب صَلَاة الْعِيدَيْنِ


عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَلَهُمْ يَوْمَانِ يَلْعَبُونَ فِيهِمَا فَقَالَ: «مَا هَذَانِ الْيَوْمَانِ؟» قَالُوا: كُنَّا نَلْعَبُ فِيهِمَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَدْ أَبْدَلَكُمُ اللَّهُ بِهِمَا خَيْرًا مِنْهُمَا: يَوْمَ الْأَضْحَى وَيَوْمَ الْفِطْرِ . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ مدینہ تشریف لائے تو ان (اہل مدینہ) کے دو دن تھے جن میں وہ کھیل کود کیا کرتے تھے ۔ آپ نے دریافت فرمایا :’’ یہ دو دن کیا ہیں ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : ہم دور جاہلیت میں ان دو دنوں میں کھیل کود کیا کرتے تھے ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ نے ان کے بدلے میں تمہیں دو بہترین دن عید الاضحی اور عید الفطر کے عطا فرما دیے ہیں ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔

Status: Sahih
حکمِ حدیث: صحیح
Reference
حوالہ حکم
(صَحِيح)
Conclusion
تخریج
اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد (۱۱۳۴) [و النسائی (۳ / ۱۷۹ ۔ ۱۸۰ ح ۱۵۵۷) و صححہ الحاکم علی شرط مسلم (۱ / ۲۹۴) و وافقہ الذھبی] ۔