جابر بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ ام سائب ؓ کے پاس تشریف لے گئے تو فرمایا :’’ آپ کیوں کانپ رہی ہیں ؟‘‘ انہوں نے بتایا : بخار ہے ، اللہ اسے برکت نہ دے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ بخار کو برا بھلا نہ کہو ، کیونکہ وہ بنی آدم کے گناہوں کو اس طرح ختم کر دیتا ہے جس طرح بھٹی لوہے کی میل کچیل دور کر دیتی ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابوموسی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب بندہ بیمار ہو جائے یا وہ سفر پر ہو تو اس کے لیے اتنا ہی عمل (ثواب) لکھ دیا جاتا ہے جتنا وہ حالت قیام اور حالت صحت میں کیا کرتا تھا ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ طاعون مسلمان کی شہادت ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ شہداء پانچ قسم کے ہیں ، طاعون کے مرض سے ، پیٹ کے مرض سے ، ڈوب جانے سے فوت ہونے والا ، کسی دیوار وغیرہ کے نیچے دب کر مر جانے والا اور اللہ کی راہ میں شہید ہو جانے والا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ سے طاعون کے بارے میں دریافت کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ وہ تو ایک طرح کا عذاب ہے ، اللہ جس پر چاہتا ہے اسے مسلط کر دیتا ہے ، اور اللہ نے اسے مومنوں کے لیے رحمت بنایا ہے ، جو شخص طاعون کی وبا آ جانے پر صبر اور ثواب کی امید کرتے ہوئے اور یہ جانتے ہوئے کہ اللہ نے جو اس کے متعلق لکھ دیا ہے وہ اسے پہنچ کر رہے گا ، اپنے شہر میں ٹھہر جاتا ہے تو اس کے لیے شہید کے مثل اجر و ثواب ہے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
اسامہ بن زید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ طاعون ایک طرح کا عذاب ہے جو بنی اسرائیل کے ایک گروہ پر یا تم سے پہلے لوگوں پر بھیجا گیا تھا ، جب تم کسی ملک میں اس کے پھیل جانے کے متعلق سنو تو تم اس ملک کی طرف پیش قدمی نہ کرو اور جب کسی سر زمین پر پھیل جائے اور تم وہاں موجود ہو تو پھر وہاں سے راہ فرار اختیار نہ کرو ۔‘‘ متفق علیہ ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے نبی ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے فرمایا : جب میں اپنے بندے کو اس کی دو چیزوں یعنی دونوں آنکھوں سے محروم کر کے آزماتا ہوں اور وہ اس پر صبر کرتا ہے تو میں ان کے عوض اسے جنت عطا کرتا ہوں ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
علی ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جو مسلمان کسی مسلمان کی صبح کے وقت عیادت کرتا ہے تو شام ہونے تک ستر ہزار فرشتے اس پر رحمتیں بھیجتے رہتے ہیں اور اگر وہ شام کے وقت اس کی عیادت کرتا ہے تو صبح ہونے تک ستر ہزار فرشتے اس کے لیے دعا کرتے رہتے ہیں اور اس کے لیے جنت میں ایک باغ تیار کر دیا جاتا ہے ۔‘‘ ضعیف ۔
زید بن ارقم ؓ بیان کرتے ہیں ، میری آنکھوں میں تکلیف تھی تو نبی ﷺ نے میری عیادت فرمائی ۔ اسنادہ حسن ، رواہ احمد و ابوداؤد ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص اچھی طرح وضو کر کے ثواب کی نیت سے اپنے مسلمان بھائی کی عیادت کرتا ہے تو اسے ساٹھ سال کی مسافت کے برابر جہنم سے دور کر دیا جاتا ہے ۔‘‘ ضعیف ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو مسلمان کسی مسلمان کی عیادت کے وقت سات مرتبہ یہ دعا پڑھے : میں اللہ عظیم ، رب عرش عظیم سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ تمہیں شفا عطا فرمائے ، تو اللہ تعالیٰ اسے شفا عطا فرما دیتا ہے بشرطیکہ کہ اس کی موت کا وقت نہ آ چکا ہو ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد و الترمذی ۔
ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ بخار اور ہر قسم کی تکلیف کے متعلق انہیں یہ دعا سکھایا کرتے تھے :’’ اللہ کبیر کے نام کے ساتھ میں ہر جوش مارنے والی رگ کے شر اور آگ کی حرارت کے شر سے اللہ عظیم کی پناہ چاہتا ہوں ۔‘‘ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے یہ صرف ابراہیم بن اسماعیل کی سند سے معروف ہے جبکہ اسے حدیث میں ضعیف قرار دیا گیا ہے ۔ ضعیف ۔
ابودرداء ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ تم میں سے کسی شخص کو کوئی تکلیف پہنچے یا اس کے بھائی کو کوئی تکلیف پہنچے تو وہ یوں دعا کرے تو وہ ٹھیک ہو جائے گا : ہمارا رب اللہ ہے جو کہ آسمانوں میں ہے ، تیرا نام پاک ہے ، زمین و آسمان پر تیرا امر ایسے ہی ہے جیسے تیری رحمت آسمان میں ہے ، پس زمین پر بھی اپنی رحمت فرما ، ہمارے کبیرہ گناہ اور خطائیں معاف فرما ، تو (گناہوں سے) پاک لوگوں کا رب ہے ، اپنی رحمت سے رحمت نازل فرما ، اور اس تکلیف پر اپنی شفا سے شفا نازل فرما ۔ ضعیف ۔
عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب آدمی کسی مریض کی عیادت کے لیے آئے تو یوں دعا کرے : اے اللہ ! اپنے بندے کو شفا عطا فرما ، وہ تیری رضا کی خاطر دشمن سے جہاد کرے گا یا تیری رضا کی خاطر جنازے کے لیے جائے گا ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
علی بن زید ؒ امیہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے اللہ عزوجل کے اس فرمان :’’ خواہ تم دل کی باتوں کو ظاہر کرو یا پوشیدہ رکھو ، اللہ تم سے ضرور اس کا محاسبہ کرے گا ۔‘‘ نیز ’’ اور جو کوئی برا کام کرے گا تو اس کا اسے بدلہ دیا جائے گا ۔‘‘ کے متعلق عائشہ ؓ سے دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا : جب سے میں نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا اس کے متعلق مجھ سے کسی نے دریافت نہیں کیا ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ بندے کو بخار اور مصیبت وغیرہ آتی ہے تو یہ اللہ کی طرف سے مؤاخذہ ہے حتیٰ کہ اگر وہ اپنی قمیض کی جیب میں کچھ رقم رکھ کر اسے گم کر بیٹھتا ہے اور اس پر وہ پریشان ہوتا ہے (تو یہ بھی اس کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے) حتیٰ کہ بندہ اپنے گناہوں سے اس طرح صاف ہو جاتا ہے جس طرح سرخ سونا بھٹی سے صاف ہو کر نکلتا ہے ۔‘‘ ضعیف ۔
ابوموسی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ بندے کو چھوٹی بڑی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ اس کے گناہوں کی وجہ سے پہنچتی ہے ، اور جن سے اللہ تعالیٰ درگزر فرماتا ہے وہ تو کہیں زیادہ ہیں ۔‘‘ اور آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی :’’ اور تمہیں جو مصیبت پہنچتی ہے وہ تمہارے اپنے ہی اعمال کا نتیجہ ہوتی ہے اور وہ اکثر برائیاں معاف کر دیتا ہے ۔‘‘ ضعیف ۔
عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب بندہ اچھے انداز میں عبادت کرتا ہے اور پھر وہ بیمار ہو جاتا ہے تو اس پر مقرر کیے ہوئے فرشتے سے کہا جاتا ہے : اس کے عمل ویسے ہی لکھتے جاؤ جیسے یہ حالت صحت میں عمل کیا کرتا تھا حتیٰ کہ میں اسے صحت یاب کر دوں یا اسے اپنے پاس بلا لوں ۔‘‘ حسن ، رواہ البغوی فی شرح السنہ ۔
انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب مسلمان کسی جسمانی آزمائش سے دوچار ہو جاتا ہے تو فرشتے سے کہہ دیا جاتا ہے : اس کے وہ صالح عمل لکھتے چلے جاؤ جو وہ پہلے حالت صحت میں کیا کرتا تھا ، اگر وہ اسے شفا بخش دے تو وہ اسے گناہوں سے پاک صاف کر دیتا ہے ، اور اگر اس کی روح قبض کر لے تو وہ اسے معاف فرما دیتا ہے اور وہ اس پر رحمت فرماتا ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ البغوی فی شرح السنہ ۔
جابر بن عتیک ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ کی راہ میں شہید ہونے کے علاوہ شہادت کی سات قسمیں ہیں : طاعون کے مرض سے ، ڈوب جانے سے ، نمونیے کے مرض سے ، پیٹ کے مرض سے ، جل کر وفات پانے والے اور کسی بوجھ تلے دب کر مرنے والے شہید ہیں اور بچے کی پیدائش پر فوت ہو جانے والی عورت بھی شہید ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ مالک و ابوداؤد و النسائی ۔
سعد ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ سے دریافت کیا گیا کن لوگوں پر سب سے زیادہ مصائب آتے ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ انبیا علیہم السلام پھر جو ان کے بعد افضل ہیں ، پھر جو ان کے بعد افضل ہیں ، آدمی کو اس کے دین کے حساب ہی سے آزمایا جاتا ہے ، اگر تو وہ اپنے دین میں پختہ ہو تو اس کی آزمائش بھی سخت ہوتی ہے ۔ اور اگر وہ دین میں نرم اور کمزور ہو تو اس کی آزمائش بھی سہل ہوتی ہے ، یہ معاملہ اسی طرح چلتا رہتا ہے حتیٰ کہ وہ سطح زمین پر اس طرح چلتا ہے کہ اس کے ذمے کوئی گناہ نہیں ہوتا ۔‘‘ ترمذی ، ابن ماجہ ، دارمی ، اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ حسن ۔