مشکوۃ

Mishkat

جنازوں کا بیان

مریض کی عیادت اور مرض کے ثواب کا بیان

بَابُ عِيَادَةِ الْمَرِيضِ وَثَوَابِ الْمَرَضِ

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِالْمَوْتِ وَعِنْدَهُ قَدَحٌ فِيهِ مَاءٌ وَهُوَ يُدْخِلُ يَدَهُ فِي الْقَدَحِ ثُمَّ يَمْسَحُ وَجْهَهُ ثُمَّ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى مُنْكَرَاتِ الْمَوْتِ أَوْ سَكَرَاتِ الْمَوْتِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے نبی ﷺ کو نزع کے عالم میں دیکھا ، آپ کے پاس پانی کا ایک پیالہ تھا ، آپ ﷺ اپنا ہاتھ پیالے میں ڈالتے ، پھر اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرتے اور فرماتے :’’ اے اللہ ! موت کی ناگواریوں اور موت کی بے ہوشیوں پر میری مدد فرما ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ ۔

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا أَرَادَ اللَّهُ تَعَالَى بِعَبْدِهِ الْخَيْرَ عَجَّلَ لَهُ الْعُقُوبَةَ فِي الدُّنْيَا وَإِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِعَبْدِهِ الشَّرَّ أَمْسَكَ عَنْهُ بِذَنْبِهِ حَتَّى يُوَافِيَهُ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے خیرو بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے تو اسے اس کے گناہوں کی سزا دنیا ہی میں دے دیتا ہے ، اور جب اپنے بندے سے شر کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کے گناہ کے معاملے کو مؤخر فرما دیتا ہے حتیٰ کہ وہ اس کے بدلے میں روز قیامت اسے پورا پورا بدلہ دے گا ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ عِظَمَ الْجَزَاءِ مَعَ عِظَمِ الْبَلَاءِ وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا أَحَبَّ قَوْمًا ابْتَلَاهُمْ فَمَنْ رَضِيَ فَلَهُ الرِّضَا وَمَنْ سَخِطَ فَلَهُ السَّخَطُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ بے شک بڑی جزا بڑی آزمائش کے ساتھ ہے ، کیونکہ اللہ عزوجل جب کسی قوم سے محبت کرتا ہے تو وہ انہیں آزماتا ہے ، جو شخص اس پر راضی ہو تو اسے رضا مندی حاصل ہو جاتی ہے ، اور جو شخص ناراضی کا اظہار کرے تو وہ اس کی ناراضی کا مستحق ٹھہرتا ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ ۔

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَزَالُ الْبَلَاءُ بِالْمُؤْمِنِ أَوِ الْمُؤْمِنَةِ فِي نَفْسِهِ وَمَالِهِ وَوَلَدِهِ حَتَّى يَلْقَى اللَّهَ تَعَالَى وَمَا عَلَيْهِ مِنْ خَطِيئَةٍ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَرَوَى مَالِكٌ نَحْوَهُ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيح

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ مومن پر اس کی جان و مال اور اس کی اولاد کے بارے میں آزمائش آتی رہتی ہے حتیٰ کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرتا ہے تو اس کے ذمے کوئی خطا نہیں ہوتی ۔‘‘ ترمذی ، امام مالک نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ اسنادہ حسن ۔

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ خَالِدٍ السُّلَمِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا سَبَقَتْ لَهُ مِنَ اللَّهِ مَنْزِلَةٌ لَمْ يَبْلُغْهَا بِعَمَلِهِ ابتلاه الله فِي جسده أَفِي مَالِهِ أَوْ فِي وَلَدِهِ ثُمَّ صَبَّرَهُ عَلَى ذَلِكَ يُبَلِّغُهُ الْمَنْزِلَةَ الَّتِي سَبَقَتْ لَهُ مِنَ الله» . رَوَاهُ أَحْمد وَأَبُو دَاوُد

محمد بن خالد سلمی اپنے والد سے اور وہ اس کے دادا سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ بے شک بندے کے لیے اللہ کے ہاں کوئی مقام و مرتبہ مقدر ہوتا ہے جہاں وہ اپنے عمل کے ذریعے نہیں پہنچ سکتا تو اللہ اسے اس کے جسم یا اس کے مال یا اس کی اولاد کے بارے میں آزماتا ہے ، پھر اس کو اس پر صبر کرنے کی توفیق عطا فرماتا ہے حتیٰ کہ وہ اسے اس مقام و مرتبہ تک پہنچا دیتا ہے جو اللہ کی طرف سے اس کے لیے مقدر کیا ہوتا ہے ۔‘‘ حسن ، رواہ احمد و ابوداؤد ۔

وَعَن عبد الله بن شخير قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مُثِّلَ ابْنُ آدَمَ وَإِلَى جَنْبِهِ تِسْعٌ وَتِسْعُونَ مَنِيَّةً إِنْ أَخْطَأَتْهُ الْمَنَايَا وَقَعَ فِي الْهَرَمِ حَتَّى يَمُوتَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ

عبداللہ بن شخیر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ابن آدم کو اس حال میں تخلیق کیا جاتا ہے کہ اس کے پہلو میں ننانوے مہلک بلائیں ہوتی ہیں ، اگر وہ ان سے بچ بھی جاتا ہے تو وہ بڑھاپے میں مبتلا ہو جاتا ہے ، حتیٰ کہ وہ فوت ہو جاتا ہے ۔‘‘ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ ضعیف ۔

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَوَدُّ أَهْلُ الْعَافِيَةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حِينَ يُعْطَى أَهْلُ الْبَلَاءِ الثَّوَابَ لَوْ أَنَّ جُلُودَهُمْ كَانَتْ قُرِضَتْ فِي الدُّنْيَا بِالْمَقَارِيضِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب آزمائش سے دوچار لوگوں کو روز قیامت جزا دی جائے گی تو اہل عافیت خواہش کریں گے کہ کاش دنیا میں ان کی جلدوں کو قینچیوں سے کاٹ دیا جاتا ۔‘‘ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ ضعیف ۔

وَعَن عَامر الرام قَالَ: ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَسْقَامَ فَقَالَ: «إِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا أَصَابَهُ السقم ثمَّ أَعْفَاهُ الله مِنْهُ كَانَ كَفَّارَةً لِمَا مَضَى مِنْ ذُنُوبِهِ وَمَوْعِظَةً لَهُ فِيمَا يَسْتَقْبِلُ. وَإِنَّ الْمُنَافِقَ إِذَا مرض ثمَّ أعفي كَانَ كالبعير عَقَلَهُ أَهْلُهُ ثُمَّ أَرْسَلُوهُ فَلَمْ يَدْرِ لِمَ عقلوه وَلم يدر لم أَرْسَلُوهُ» . فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا الْأَسْقَامُ؟ وَاللَّهِ مَا مَرِضْتُ قَطُّ فَقَالَ: «قُمْ عَنَّا فلست منا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

عامر رام ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے امراض (اور ان کے ثواب) کا ذکر کیا تو فرمایا :’’ جب مومن کو کوئی بیماری لاحق ہوتی ہے اور پھر اللہ عزوجل اسے اس سے عافیت و صحت عطا فرما دیتا ہے تو وہ (مرض) اس کے سابقہ گناہوں کا کفارہ اور مستقبل کے بارے میں وعظ و نصیحت بن جاتی ہے ، اور جب منافق بیمار ہوتا ہے پھر اسے عافیت عطا کر دی جاتی ہے تو وہ اس اونٹ کی طرح ہوتا ہے جسے اس کے گھر والوں نے باندھ رکھا ہو اور پھر انہوں نے اسے چھوڑ دیا ہو اسے پتہ نہیں ہوتا کہ انہوں نے اسے کیوں باندھا تھا اور کیوں چھوڑا ہے ۔‘‘ کسی شخص نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! بیماریاں کیا ہوتی ہیں ؟ اللہ کی قسم ! میں تو کبھی بیمار نہیں ہوا ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ہمارے پاس سے چلے جاؤ ، تم ہم میں سے نہیں ہو ۔‘‘ ضعیف ۔

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا دَخَلْتُمْ عَلَى الْمَرِيضِ فَنَفِّسُوا لَهُ فِي أَجَلِهِ فَإِنَّ ذَلِكَ لَا يَرُدُّ شَيْئًا وَيُطَيِّبُ بِنَفْسِهِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ

ابوسعید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم مریض کے پاس جاؤ تو اس کی درازی عمر کی بات کرو بلاشبہ یہ تقدیر تو نہیں بدل سکتا لیکن اس کا دل خوش ہو جائے گا ۔‘‘ ترمذی ، ابن ماجہ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ ضعیف ۔

وَعَن سُلَيْمَان بن صرد قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «مَنْ قَتَلَهُ بَطْنُهُ لَمْ يُعَذَّبْ فِي قَبْرِهِ» رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ

سلیمان بن صرد ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص کو اس کا پیٹ (پیٹ کی کوئی بیماری) ہلاک کر دے ، اسے قبر میں عذاب نہیں دیا جائے گا ۔‘‘ احمد ، ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ صحیح ، رواہ احمد و الترمذی ۔

عَن أنس قَالَ: كَانَ غُلَامٌ يَهُودِيٌّ يَخْدُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَرِضَ فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ فَقَعَدَ عِنْدَ رَأْسِهِ فَقَالَ لَهُ: «أَسْلِمْ» . فَنَظَرَ إِلَى أَبِيهِ وَهُوَ عِنْدَهُ فَقَالَ: أَطِعْ أَبَا الْقَاسِمِ. فَأَسْلَمَ. فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ: «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَنْقَذَهُ مِنَ النَّارِ» . رَوَاهُ البُخَارِيّ

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک یہودی لڑکا نبی ﷺ کی خدمت کیا کرتا تھا ، وہ بیمار ہو گیا تو نبی ﷺ اس کی عیادت کے لیے تشریف لائے ، آپ ﷺ نے اس کے سرہانے بیٹھ کر اسے فرمایا :’’ مسلمان ہو جا ۔‘‘ اس نے اپنے پاس بیٹھے ہوئے اپنے والد کی طرف دیکھا تو اس نے کہا : ابو القاسم (ﷺ) کی بات مان لے ، پس وہ مسلمان ہو گیا ، تو نبی ﷺ یہ فرماتے ہوئے وہاں سے تشریف لائے :’’ ہر قسم کی حمد و تعریف اور شکر اللہ کے لیے ہے جس نے اس کو جہنم سے بچا لیا ۔‘‘ رواہ البخاری ۔

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ عَادَ مَرِيضًا نَادَى مُنَادٍ فِي السَّمَاءِ: طِبْتَ وَطَابَ مَمْشَاكَ وَتَبَوَّأْتَ مِنَ الْجَنَّةِ مَنْزِلًا . رَوَاهُ ابْن مَاجَه

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص مریض کی عیادت کرتا ہے تو آسمان سے آواز دینے والا اعلان کرتا ہے : آپ اچھے رہے اور آپ کا چلنا بھی اچھا رہا اور آپ نے جنت میں ایک گھر بنا لیا ۔‘‘ ضعیف ۔

وَعَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ قَالَ: قَالَ لي ابْن عَبَّاس رَضِي الله عَنهُ: أَلا أريك امْرَأَة من أهل الْجنَّة؟ فَقلت: بَلَى. قَالَ: هَذِهِ الْمَرْأَةُ السَّوْدَاءُ أَتَتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: إِنِّي أصرع وَإِنِّي أتكشف فَادع الله تَعَالَى لي. قَالَ: «إِنْ شِئْتِ صَبَرْتِ وَلَكِ الْجَنَّةُ وَإِنْ شِئْتِ دَعَوْت الله تَعَالَى أَنْ يُعَافِيَكَ» فَقَالَتْ: أَصْبِرُ فَقَالَتْ: إِنِّي أَتَكَشَّفُ فَادْعُ اللَّهَ أَنْ لَا أَتَكَشَّفَ فَدَعَا لَهَا

عطاء بن ابی رباح بیان کرتے ہیں ، ابن عباس ؓ نے مجھے فرمایا :’’ کیا میں تمہیں خاتون جنت نہ دکھاؤں ؟ میں نے کہا : کیوں نہیں ، ضرور دکھائیں ، انہوں نے فرمایا : یہ سیاہ فام خاتون ، نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی تو اس نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! مجھے مرگی کا دورہ پڑتا ہے تو میرا ستر کھل جاتا ہے ۔ آپ اللہ سے دعا فرمائیں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اگر تو چاہے تو صبر کر اور تیرے لیے جنت ہے اور اگر تو چاہے تو میں اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ تمہیں صحت عطا فرمائے ۔‘‘ اس خاتون نے عرض کیا ، میں صبر کروں گی ، پھر اس نے عرض کیا : کیونکہ میرا ستر کھل جاتا ہے ، لہذا آپ اللہ سے دعا فرمائیں کہ میرا ستر نہ کھلا کرے ، آپ ﷺ نے اس کے لیے دعا فرمائی ۔ متفق علیہ ۔

وَعَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ قَالَ: إِنَّ رَجُلًا جَاءَهُ الْمَوْتُ فِي زَمَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رجل: هيئا لَهُ مَاتَ وَلَمْ يُبْتَلَ بِمَرَضٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَيْحَكَ وَمَا يُدْرِيكَ لَوْ أَنَّ اللَّهَ ابْتَلَاهُ بِمَرَضٍ فَكَفَّرَ عَنهُ من سيئاته» . رَوَاهُ مَالك مُرْسلا

یحیی بن سعید ؒ بیان کرتے ہیں کہ کسی آدمی کو رسول اللہ ﷺ کے دور میں موت آئی تو کسی آدمی نے کہا ، اس کی خوش نصیبی ہے کہ وہ کسی مرض میں مبتلا ہوئے بغیر فوت ہو گیا ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تجھ پر افسوس ! تمہیں کیا معلوم ؟ کہ اگر اللہ اسے کسی مرض میں مبتلا کرتا تو وہ اس کے گناہ مٹا دیتا ۔‘‘ امام مالک ؒ نے اسے مرسل روایت کیا ہے ۔ ضعیف ۔

وَعَن شَدَّاد بن أَوْس والصنابحي أَنَّهُمَا دَخَلَا عَلَى رَجُلٍ مَرِيضٍ يَعُودَانِهِ فَقَالَا لَهُ: كَيفَ أَصبَحت قَالَ أَصبَحت بِنِعْمَة. فَقَالَ لَهُ شَدَّادٌ: أَبْشِرْ بِكَفَّارَاتِ السَّيِّئَاتِ وَحَطِّ الْخَطَايَا فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ إِذَا أَنَا ابْتَلَيْتُ عَبْدًا مِنْ عِبَادِي مُؤْمِنًا فَحَمِدَنِي عَلَى مَا ابْتَلَيْتُهُ فَإِنَّهُ يَقُومُ مِنْ مَضْجَعِهِ ذَلِكَ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ مِنَ الْخَطَايَا. وَيَقُولُ الرَّبُّ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: أَنَا قَيَّدْتُ عَبْدِي وَابْتَلَيْتُهُ فَأَجْرُوا لَهُ مَا كُنْتُمْ تُجْرُونَ لَهُ وَهُوَ صَحِيح . رَوَاهُ احْمَد

شداد بن اوس ؓ اور صنا بحی ؒ سے روایت ہے کہ وہ کسی مریض کی عیادت کے لیے گئے تو انہوں نے اس سے کہا : تمہارا کیا حال ہے ؟ اس نے کہا : مجھ پر نعمت و فضل ہے ، اس پر شداد ؓ نے فرمایا : گناہوں اور خطاؤں کے معاف ہو جانے پر خوش ہو جاؤ ، کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ بے شک اللہ عزوجل فرماتا ہے : جب میں اپنے کسی مومن بندے کو آزماتا ہوں تو وہ میرے اس آزمانے پر میری حمد اور شکر بجا لاتا ہے تو وہ اپنے اس بستر سے اس روز کی طرح گناہوں سے پاک صاف اٹھتا ہے جس روز اس کی والدہ نے اسے جنم دیا تھا ، اور رب تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : میں نے اپنے بندے کو روکے رکھا اور اسے آزمائش میں ڈالا ، تم اسے ویسے ہی اجر عطا کر دو جس طرح تم اسے اس کے صحت مند ہونے کی صورت میں اجر دیا کرتے تھے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد ۔

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا كَثُرَتْ ذُنُوبُ الْعَبْدِ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ مَا يُكَفِّرُهَا مِنَ الْعَمَلِ ابْتَلَاهُ اللَّهُ بِالْحَزَنِ لِيُكَفِّرَهَا عَنهُ» . رَوَاهُ أَحْمد

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب بندے کے گناہ بہت زیادہ ہو جاتے ہیں اور اس کا ایسا کوئی عمل نہیں ہوتا جو ان گناہوں کا کفارہ بن جائے تو اللہ اسے حزن و غم میں مبتلا کر دیتا ہے تاکہ وہ اس کے گناہوں کا کفارہ بن جائے ۔‘‘ ضعیف ۔

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ عَادَ مَرِيضًا لَمْ يَزَلْ يَخُوضُ الرَّحْمَةَ حَتَّى يَجْلِسَ فَإِذَا جَلَسَ اغتمس فِيهَا» . رَوَاهُ مَالك وَأحمد

جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص کسی مریض کی عیادت کرتا ہے تو وہ رحمت میں داخل ہوتا چلا جاتا ہے ۔ حتیٰ کہ وہ (اس کے پاس) بیٹھ جاتا ہے ، پس جب وہ بیٹھ جاتا ہے تو وہ اس (رحمت) میں غوطہ زن ہو جاتا ہے ۔‘‘ ضعیف ۔

وَعَنْ ثَوْبَانَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا أَصَابَ أَحَدَكُمُ الْحُمَّى فَإِنَّ الْحمى قِطْعَة من النَّار فليطفها عَنْهُ بِالْمَاءِ فَلْيَسْتَنْقِعْ فِي نَهْرٍ جَارٍ وَلْيَسْتَقْبِلْ جِرْيَتَهُ فَيَقُولُ: بِسْمِ اللَّهِ اللَّهُمَّ اشْفِ عَبْدَكَ وَصدق رَسُولك بعد صَلَاة الصُّبْح وَقبل طُلُوعِ الشَّمْسِ وَلْيَنْغَمِسْ فِيهِ ثَلَاثَ غَمْسَاتٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فَإِنْ لَمْ يَبْرَأْ فِي ثَلَاثٍ فَخَمْسٍ فَإِنْ لَمْ يَبْرَأْ فِي خَمْسٍ فَسَبْعٍ فَإِنْ لَمْ يَبْرَأْ فِي سَبْعٍ فَتِسْعٍ فَإِنَّهَا لَا تَكَادَ تُجَاوِزُ تِسْعًا بِإِذْنِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ

ثوبان ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کسی کو بخار ہو جائے ، کیونکہ بخار آگ کا ایک ٹکڑا ہے ۔ تو اسے پانی کے ذریعے ٹھنڈا کرے ، وہ کسی نہر رواں میں داخل ہو جائے اور جدھر سے پانی آ رہا ہے اس طرف منہ کرے ، اور یہ دعا پڑھے : اللہ کے نام کے ساتھ ، اے اللہ ! اپنے بندے کو شفا عطا فرما ، اور اپنے رسول (ﷺ) کی تصدیق فرما ، اور یہ عمل طلوع صبح کے بعد سے طلوع آفتاب سے پہلے پہلے کرے ، اور تین دن اس میں تین غوطے لگائے ، اگر تین دن میں ٹھیک نہ ہو تو پانچ دن ، اگر پانچ دن میں ٹھیک نہ ہو تو پھر سات دن اور اگر سات دن میں ٹھیک نہ ہو تو پھر نو دن ، اور اللہ عزوجل کے حکم سے نو دن سے زیادہ نہیں ہو گا ۔‘‘ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ ضعیف ۔